’فوج آئین کی پاسداری کرے نا کہ سیاست‘

افتخار محمد چودھری
،تصویر کا کیپشنچیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ فوج کی مداخلت کی وجہ سے ملک کے جمہوری ادارے کمزور ہوئے۔

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ مسلح افواج حلف نامے کے تحت اس بات کی پابند ہے کہ وہ آئین کی پاسداری کرے اور سیاسی سرگرمیوں سے دور رہے۔

انھوں نے ان خیالات کا اظہار سپریم کورٹ آڈیٹوریم ہال میں کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کے تربیتی کورس کے افسران سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ’مسلح افواج کا ہر جوان اپنے حلف کے تحت اس بات کا پابند ہے کہ وہ پاکستان کا وفادار اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کا پاسدار رہے گا جو لوگوں کی منشا کی ترجمانی کرتا ہے۔ علاوہ ازیں وہ اس بات کا بھی پابند ہے کہ خواہ کچھ بھی ہو وہ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے گا اور ایمانداری اور اخلاص کے ساتھ ملک کی خدمت کرے گا‘۔

انھوں نے کہا کہ آئین کی دفعہ 245 میں واضع طور پر فوج کے کردار کا تعین کیا گیا ہے جس کے تحت مسلح افواج وفاقی حکومت کی ہدایت کی روشنی میں پاکستان کا بیرونی جارحیت یا خطرے کے خلاف دفاع کرے گی اور اگر قانون اجازت دیتا ہو تو وہ (فوج) سول حکومت کے کہنے پر ان کی مدد کرے گی۔

انھوں نے کہا کہ آئین کے تحت فوج کی بنیادی ذمہ داری کسی بھی ممکنہ بیرونی خطرے یا جارحیت کے خلاف ملک کا دفاع کرنا ہے اور سپریم کورٹ پر آئین کی بالادستی کا دفاع کرنے کی ذمہ داری ہے۔

افتخار چودھری نے کہا کہ آئین میں مسلح افواج کے لیے جس دائرہ کار کا تعین کردیا گیا ہے انھیں اس کی حدود میں رہتے ہوئے اپنے فرائض انجام دینے ہوتے ہیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ایسے کئی فیصلے موجود ہیں جن کی روح سے فوجی ہو یا عام شہری ان کی حیثیت یکساں ہے۔ آئین کی پاسداری اور اس پر عمل درآمد کرنے کے دونوں پابند ہیں۔

انھوں نے کہا کہ آئین کے تحت منتخب ہونے والی حکومت ہی اپنے فرائض انجام دے سکتی ہے اور حالت جنگ یا امن تمام صورتوں میں وہ سول حکام کو فوج سے بالادست نہ کہ تابع بنا کر آئین کی شقوں کی پاسداری کر سکتی ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ ملک کا کمزور سیاسی نظام اور اور مسلح افواج کے مضبوط منظم ادارے کے درمیان ہونے والے تنازعات کا اختتام فوج کے اقتدار پر قبضے پر منتج ہوا جس کے باعث سیاسی نظام کمزور اور فوجی حکمرانی طوالت اختیار کرتی رہی اور ریاست کو بہت نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔

افتخار محمد چودھری نے کہا کہ ’فوج کی مداخلت کی وجہ سے ملک کے جمہوری ادارے کمزور ہوئے اور اس کی وجہ سے ملک کی آئینی اور قانونی ترقی پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے اور جمہوری حکومتیں بھی جمہوری اداروں کے استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہیں اور اچھی حکمرانی، قانون کی بالادستی اور معاشتی ترقی کے حصول میں کامیاب نہیں ہوسکیں‘۔

انھوں نے کہا کہ غیر منتخب حکومتوں اور اداروں کی وجہ سے پارلیمنٹ اور انتظامی ادارے کمزور ہوئے۔