’پاکستان محفوظ ترین ملکوں میں شامل‘

،تصویر کا ذریعہPA

وفاقی وزیر خوراک و زراعت نذر محمد گوندل نے کہا ہے کہ پاکستان خوراک کے معاملے خود کفیل ہے کیونکہ ملک میں خوراک کے وافر ذخائر موجود ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کا فوڈ سکیورٹی کے لحاظ سے محفوظ ترین ملکوں میں شمار ہونے لگا ہے۔

غذائی تحفظ کے موضوع پر تحقیق کرنے والے اداروں کا البتہ کہنا ہے کہ حکومت کا یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ اسے فوڈ سیکیورٹی سے متلق بنیادی امور سے آگاہی ہی نہیں ہے۔

اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار آصف فاروقی نے بتایا کہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خوراک و زراعت نذر محمد گوندل نے کہا کہ پاکستان میں متوسط طبقے کی اہم خوراک میں گندم، چاول، دالیں اور آلو شامل ہے۔

نذر محمد گوندل نے کہا کہ اس سال ملک میں ان تمام اجناس کی اچھی فصلیں ہوئی ہیں اور پہلے سے موجود ذخائر کو ملا کر یہ سب اجناس اتنی وافر مقدار میں موجود ہیں جو مقامی ضرورت سے بھی زیادہ ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اسی بنا پر حکومت نے گندم اور چاول برآمد کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

’لہٰذا میں نہایت اطمینان کے ساتھ یہ اعلان کر رہا ہوں کہ پاکستان فوڈ سیکیورٹی کے حوالے سے اس وقت دنیا کا محفوظ ترین ملک ہے۔‘

پاکستان میں کئی سال سے غذائی تحفظ اور اس کے مختلف پہلوؤں پر تحقیق کرنے والے عالمی ادارے خوراک کے اہلکار صاحب حق نے وفاقی وزیر خوراک کے اس دعوے کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان کی وزارت خوراک فوڈ ان سیکیورٹی یا غذائی عدم تحفظ کے معنی ہی سے آگاہ نہیں ہے۔

’ہم کئی بار وزارت خوراک کو فوڈ ان سیکیورٹی کے بین الاقوامی ترجمے سے آگاہ کر چکے ہیں لیکن معلوم ہوتا ہے کہ حکومت پاکستان اس مسئلے کو سنجیدگی سے سمجھنے کے لیے تیار ہی نہیں ہے۔‘

صاحب حق کا کہنا تھا کہ غذائی عدم تحفظ یا فوڈ ان سیکیورٹی کا معنی یہ نہیں ہے کہ حکومت کے پاس خوراک کے ذخائر کتنے ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ عام آدمی کی اس خوراک تک رسائی ممکن ہے بھی یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ غذائی تحفظ سے مراد ہے کہ کسی ملک کے تمام شہریوں کو ہر قسم کی خوراک ہر وقت دستیاب ہو۔

’پاکستان میں مہنگائی نے حالیہ کچھ سالوں کے دوران خوراکی اشیا کی قیمتیں اس قدر بڑھا دی ہیں کہ غریب آدمی کے لیے چاول، دالیں، دودھ اور گوشت خریدنا ممکن ہی نہیں رہا۔ ایسے میں ان اجناس کے ذخائر عام آدمی کے کس کام کے ہیں؟‘

صاحب حق نے کہا کہ پاکستانی عوام کے لیے افسوسناک خبر ہی یہ ہے کہ ان کی حکومت غذائی عدم تحفظ کے تصور سے ہی آگاہ نہیں ہے، ایسے میں وہ اس مسئلے کے حل کے لیے کوشش کیسے کرے گی۔

عالمی ادارہ خوراک کے ماہر کے مطابق غذائی تحفظ کے عالمی معیار کے مطابق پاکستان پسماندہ ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے اور چند افریقی ممالک ہی اس فہرست میں پاکستان سے کم درجے پر فائز ہیں۔

وزیر خوراک و زراعت نذر محمد گوندل نے پریس کانفرنس کے دوران عالمی اداروں کی ان رپورٹس کا ذکر ہونے پر کہا کہ یہ عالمی ادارے پاکستان کے خوراک کے ذخائر کے اعداد و شمار سے آگاہی حاصل کیے بغیر اس قسم کے تبصرے کر رہے ہیں۔

’میں آپ کے توسط سے ریڈ کراس اور دیگر اداروں کے تجزیہ کاروں سے یہ درخواست کروں گا کہ وہ پاکستان میں غذا کے بحران کے بارے میں کوئی بھی بات کرنے سے پہلے خوراک کے موجود ذخائر کا جائزہ لے لیا کریں۔‘