کوئٹہ میں خودکش دھماکہ، دس ہلاک
صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے سول ہسپتال کے باہر ایک خودکش حملے میں ڈی ایس پی سمیت دس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق یہ خودکش حملہ اس وقت ہوا جب جمعہ کی صبح کوئٹہ میں بینک مینجر ارشد زیدی کی لاش کو، جن کو فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا تھا، سول ہسپتال لائی گئی جہاں بڑی تعداد میں مشتعل افراد بھی جمع ہو گئے تھے۔
ارشد زیدی کی ہلاکت کو ٹارگٹ کلنگ کہا جا رہا ہے۔

ہمارے نامہ نگار ایوب ترین نے بتایا کہ یہ دھماکہ سول ہسپتال کے شعبہ حادثات کے دروازے پر ہوا جس میں میں دس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس خودکش حملے میں ڈی ایس پی سمیت آٹھ افراد ہلاک ہوئے۔
ارشد زیدی بلوچستان شیعہ کانفرنس کے صدر کے صاحبزادے تھے۔ جب ان کی میت سول ہسپتال کوئٹہ پہنچائی گئی تو اس دوران شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد بھی ہسپتال پہنچ گئی جن میں پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والےرکن قومی اسمبلی آغا ناصر شاہ بھی شامل تھے۔
حملہ آورنے پہلے شعبہ حادثات میں آغا ناصر شاہ پرفائرنگ کی اور بعد میں خود کو اڑا دیا۔
ہلاک ہونے والوں میں سماء ٹی وی کا کیمرہ مین ملک عارف اور ڈی ایس پی نثار کاظمی بھی شامل ہیں جبکہ رکن قومی اسمبلی آغا ناصر، دنیا ٹی وی کے رپورٹر فرید احمد، سماء ٹی وی کے رپورٹر نورالٰہی بگٹی اور ایکسپریس نیوز کے رپورٹر خلیل احمد بھی زخمیوں میں شامل ہیں۔
واقعہ کے بعد پولیس اور فرنٹیئر کور کی ایک بڑی تعدادہسپتال پہنچ گئی۔ شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والوں ہسپتال میں توڑ پھوڑ کرنے کے علاوہ جناح روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کردیا جبکہ خوف کی وجہ سے شہر کی اکثردکانیں اور تعلیمی ادارے بند ہوگئے اور شہر میں کشیدگی برقرار ہے۔



