کوئٹہ: دھماکہ اور ٹارگٹ کلنگ، دو ہلاک

زخمی ڈرائیور کو مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا کوئٹہ میں بم دھماکے اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعے میں بلوچستان تعلیمی بورڈ کے سابق سربراہ پروفیسر فضل باری سمیت دو افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے ہیں۔

کوئٹہ اور صوبہ بلوچستان کے مختلف حصوں میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ٹارگٹ کلنگ اور دھماکوں میں دس سے زیادہ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق گولیمار چوک میں پیر کو ہونے والے بم دھماکے کا نشانہ ایک ریڑھی بان بنا۔

ڈی آئی جی آپریشن کوئٹہ حامد شکیل نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ دھماکہ ٹائم بم سے ہواہے اور بم سڑک پر کھڑے ایک رکشے کے قریب رکھا گیا تھا۔ ڈی آئی جی کے مطابق دھماکہ کے بعد پولیس نے علاقے کی ناکہ بندی کر کے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔

اس دھماکے میں چار افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں بولان میڈیکل کمپلیکس منتقل کر دیا گیا ہے۔

اس سے قبل ہدف بنا کر ہلاک کرنے کے ایک واقعے میں کوئٹہ کے جنوب مشرف میں تختانی بائی پاس کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے پروفیسر فضل باری کی گاڑی پر فائرنگ کر کے انہیں ہلاک کر دیا۔

اس حملے میں پروفیسر باری کا ڈرائیور زخمی ہوگیا جسے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

پروفیسر فضل باری بلوچستان تعلیمی بورڈ کے سابق چیئرمین تھے اور اس وقت وہ ایک تعمیرِ نو کالج نامی ایک نجی تعلیمی ادارے میں بطور پرنسپل اپنے فرائضِ منصبی سرانجام دے رہے تھے۔

اس واقعے کے بعد پرفیسر باری کی لاش کو اسی کالج میں لایا گیا جہاں ان کی ہلاکت کی خبر عام ہونے کے بعد طلباء کی ایک بڑی تعداد جمع تھی۔ ان طلباء نے پروفیسر باری کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کیا اور ٹائر بھی جلائے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ایک برس کے دوران صوبہ بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور اس دوران ٹارگٹ کلنگ کے تین سو سے زیادہ واقعات پیش آئے ہیں جن میں سینکڑوں افراد مارے جا چکے ہیں۔