پاکستان ترکی کارگو ریل کا افتتاح

کنٹینر شپ
،تصویر کا کیپشن,اس کنٹینر سروس پر بحری ذرائع کی نسبت کم خرچہ آئے گا
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

وزیراعظم پاکستان نے ترکی اور پاکستان کے درمیان ریلوے کنٹینر سروس کا افتتاح کیا ہے

وزیراعظم نے جمعہ کو اسلام آباد کے مارگلہ ریلوے سٹیشن پر کنٹینر سروس کا افتتاح ریل گاڑی خود چلا کر کیا۔

یہ ریل سروس ای سی او ممالک یعنی باہمی تعاون کی تنظیم سے وابستہ ممالک کے مابین شروع کی گئی ہے جس سے پاکستان کو یورپ کی منڈیوں تک رسائی حاصل ہو جائے گی۔ یہ ریل گاڑی اسلام آباد سے ایران کے راستے استنبول تک جائے گی اور قریباً ساڑھے چھ ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرے گی۔

اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ اس ریل گاڑی سے وسطی ایشیا اور یورپ تک پاکستان کے لیے راستے کھل جائیں گے جس سے ان ممالک اور علاقے کے لوگوں میں بہتر تعلقات استوار ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایران اور ترقی کے درمیان قائم باہمی تعاون کی تنظیم نے اس ریل گاڑی کے آغاز میں اہم کردار ادا کیا ہے اور آگے چل کر اس میں مزید بہتری لائی جائے گی اور بعد ازاں مسافر ریل گاڑی بھی شروع کی جائے گی۔

یہ ریل گاڑی اسلام آباد سے لاہور اور سکھر کے راستے کوئٹہ پہنچے گی جہاں سے آگے پاکستان کے سرحدی شہر تفتان سے ہوتی ہوئی ایران کے شہر زاہدان جائے گا۔

کوئٹہ میں موجود ریلوے کے ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ مقبول احمد مگسی نے بتایا ہے کہ ریل کی پٹڑی کو بہتر کیا گیا ہے خاص طور پر کوئٹہ اور زاہدان کے درمیان جہاں کچھ مقامات پر کمزوریاں پائی جاتی تھیں وہاں کام کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد سے زاہدان تک ایک طرح کی ریل کی پٹڑی ہے جبکہ زاہدان سے آگے استنبول تک پھر سٹینڈرڈ گیج کی پٹڑی ہوتی ہے اس لیے زاہدان کے مقام پر ایران کے ریلوے کا محکمے کے حکام کنٹینر اپنی ریل گاڑی میں منتقل کر دیں گے جو پھر استنبول تک جائے گی۔

ریلوے حکام کے مطابق بحری جہازوں کے زریعے یورپ یا ترکی تک سامان پہنچنے میں کئی مہینے لگ جاتے ہیں لیکن اس ریل گاڑی سے اب ابتدائی طور پر انیس دن میں سامان ترکی پہنچ جایا کرے گا لیکن مستقبل میں اسے بہتر بنایا جائے گا اور کم سے کم وقت میں یہ فاصلہ طے کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ حکام کے مطابق تاجر برادری نے اس ریل گاڑی میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے کیونکہ اس کنٹینر سروس کا خرچہ کم ہوگا اور کم وقت میں سامان یورپ کی منڈیوں تک پہنچایا جا سکے گا۔

پاکستان سے یوریا اور چاول کے علاوہ دیگر سامان کی یورپ کی منڈیوں میں کافی مانگ ہے۔