پاکستان قرضوں کی ری شیڈولنگ کے لیے پیرس کلب کیوں نہیں جا رہا؟

پاکستان

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@PakPMO

    • مصنف, محمد ارسلان
    • عہدہ, صحافی

پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے حالیہ دنوں میں قرضے کی ری شیڈولنگ کے لیے پیرس کلب سے رجوع نہ کرنے کے فیصلے پر متعدد بار بیانات دیے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ پاکستان کے مالی معاملات اور قرضوں کی بروقت ادائیگی کے لیے پالیسی مرتب کی جا چکی ہے۔

تاہم گذشتہ چھ ماہ سے جاری اقتصادی بھنور، جسے حالیہ سیلاب کی تباہ کاری اور معاشی اثرات نے مزید بڑھا دیا ہے، کے پیش نظر اسحاق ڈار کا یہ فیصلہ حکومت کی اس پالیسی سے متصادم ہے جسے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل لے کر چل رہے تھے۔

اسحاق ڈار سے پہلے پی ڈی ایم حکومت کے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کہتے رہے کہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات کی وجہ سے پاکستان پیرس کلب سے قرضوں کی ری شیڈولنگ چاہتا ہے۔

اس خواہش کی بازگشت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف کی شرکت کے موقع پر بھی سنائی دی۔ اقوام متحدہ کے ایک پالیسی نوٹ میں بھی سیلاب کی وجہ سے پاکستان کے قرضوں کی ری شیڈولنگ کی بات کی گئی۔

واضح رہے کہ پاکستان نے پیرس کلب کے قرضوں کی مد میں تقریبا 10 ارب ڈالرز ادا کرنا ہیں جن میں سے 1.1 ارب ڈالرز کی ادائیگیاں رواں مالی سال کے دوران کرنی ہیں۔

پیرس کلب ترقی یافتہ ممالک کا ایسا گروہ ہے جو قرضوں میں ادائیگی کی مشکلات کا سامنا کرتے ممالک کے لیے راستے نکالتا ہے، جس میں امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا، جاپان، ناروے، سویڈن جیسے ممالک شامل ہیں۔

پاکستان پیرس کلب سے قرضوں کی ری شیڈولنگ کیوں نہیں چاہتا؟

ایک ایسے وقت میں جب اسحاق ڈار آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے مذاکرات کے لیے امریکہ روانہ ہوئے ہیں، سوال یہ ہے کہ ایسا کیا ہوا کہ پاکستان پیرس کلب کے پاس قرضوں کی ری شیڈولنگ کے لیے نہیں جانا چاہتا؟

ماضی میں دو مواقع پر، سنہ 2001 اور کچھ عرصہ پہلے کورونا وبا میں، پاکستان اس سہولت کا فائدہ اٹھا چکا ہے۔ حالیہ سیلاب کے تناظر میں اس سہولت سے فائدہ اٹھانے سے سیلاب زدگان کی مدد اور بحالی کے لیے کچھ نا کچھ مالی گنجائش پیدا کی جا سکتی تھی۔

سیلاب

،تصویر کا ذریعہFIDA HUSSAIN

ڈاکٹر خاقان نجیب کے مطابق، جو پاکستان کی وزارت خزانہ میں مشیر کے عہدے پر کام کر چکے ہیں، حکومت سمجھتی ہے کہ پیرس کلب کے پاس جانے سے مارکیٹ میں ایک منفی تاثر جائے گا۔

’حکومت یہ سمجھتی ہے کہ پیرس کلب کے پاس قرضوں کی ری شیڈولنگ کے لیے جانے سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ متاثر ہو گی جو کہ بانڈز مارکیٹ میں پاکستان کی ساکھ کو متاثر کرے گی اور اس کے ساتھ ساتھ سرمایہ کار بھی پاکستان آنے سے گھبرائیں گے۔ اسی لیے پاکستان نے پیرس کلب نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

پی ٹی آئی کے دور حکومت میں وزیر خزانہ رہنے والے سینیٹر شوکت ترین نے بھی اسحاق ڈار کے اس فیصلے کی حمایت کی ہے۔ ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کا پیرس کلب کے پاس نہ جانے کا فیصلہ درست قدم ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے ہی موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو ایک پوائنٹ کم کرتے ہوئے B3 سے Caa1 کر دیا تھا جسے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے پیرس کلب جانے کی باتوں کو اس تنزلی کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

سینیئر صحافی خرم حسین سمجھتے ہیں کہ حکومت کا یہ فیصلہ کمرشل کریڈٹرز کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے اور حکومت نہیں چاہتی کہ کسی قسم کا منفی تاثر مارکیٹ میں جائے۔

’کمرشل کریڈٹرز میں پاکستان کو لیکر کافی فکر تھی اور حکومت کے اس فیصلے سے ان کو ایک مثبت اشارہ ضرور ملا ہو گا۔‘

پاکستان کے ایک ارب ڈالرز کے بانڈز کی مدت دسمبر میں پوری ہو رہی ہے اور وزیر خزانہ نے اعلان کیا ہے کہ ادائیگی وقت پر کی جائے گی۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ ادائیگی بھی کریڈٹ مارکیٹ میں پاکستان سے متعلق مثبت رجحان پیدا کرنے کا باعث بنے گی۔

اسحاق ڈار

،تصویر کا ذریعہMinistry of Finance

’حکومت نان پیرس کلب ممالک کے پاس جا سکتی ہے‘

تاہم پاکستان کو رواں مالی سال میں قرضوں کی ادائیگیوں اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو پورا کرنے کی مد میں تقریباً 35 ارب ڈالرز کی ضرورت ہے اور جب پوری دنیا عالمی کساد بازاری کے خطرے سے دوچار ہے تو ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے حکومت کے پاس کیا راستہ ہے؟

خرم حسین سمجھتے ہیں کہ ’حکومت کو کہیں نہ کہیں سے تو ریلیف لینا پڑے گا، اس کے بغیر کوئی دوسرا راستہ نظر نہیں آتا۔‘

’ایسے میں حکومت نان پیرس کلب ممالک کے پاس جا سکتی ہے۔ پیرس کلب کے ہم نے تقریباً 10 ارب ڈالر دینے ہیں جس میں سے 1.1 ارب اس سال ادا کرنے ہیں جبکہ باقی ادائیگیاں نان پیرس کلب کی ہیں جن میں چین اور سعودی عرب جیسے ممالک شامل ہیں جن کے پاکستان نے سب سے زیادہ قرضے ادا کرنے ہیں۔‘

’صرف چین کے پاکستان نے 23 ارب ڈالرز ادا کرنے ہیں۔ تو میرا خیال ہے کہ اب حکومت ان ممالک سے کسی قسم کی سہولت حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔‘

خیال رہے کہ امریکہ نے حال ہی میں پاکستان پر زور دیا کہ وہ چین سے قرضوں کی چھوٹ اور ان کی ری سٹرکچرنگ کرنے کی کوشش کرے۔

امریکہ

،تصویر کا ذریعہMinistry of Finance

خرم حسین سمجھتے ہیں کہ اسحاق ڈار صاحب آئی ایم ایف سے بھی نرمی اور ریلیف کی توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں اور اسی لیے حکومت نے پیرس کلب کے پاس نہ جانے کا فیصلہ کیا۔

ڈاکٹر خاقان نجیب کے خیال میں پاکستان کے پاس مختلف آپشنز موجود ہیں جن کا استعمال کر کے پاکستان اس صورتحال سے نکل سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’سب سے پہلے تو پاکستان کو ہر حال میں آئی ایم ایف پروگرام میں رہنا ہو گا تاکہ دنیا کا پاکستان پر اعتماد بنا رہے ۔اس کے بعد پاکستان کو اپنے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو سنبھالنے کی ضرورت ہو گی تاکہ ادائیگیوں کا توازن خراب نہ ہو۔ پاکستان کو ایک ارب ڈالر کے بانڈز کی ری فائنانسنگ کی طرف بھی جانا چاہیے جو کہ اس سال دسمبر میں میچور ہو رہا ہے۔‘

’اس کے ساتھ پاکستان اپنے شراکت داروں (Bilateral Partners) کے ساتھ موجود سات ارب ڈالرز کے قرض کے رول اوور کی طرف بھی دیکھ سکتا ہے۔ ان اقدامات سے وقتی طور پر سہارا مل سکتا ہے۔‘

کیا یہ اقدامات بحران کو وقتی طور پر ٹالنے کی ایک کوشش ہیں؟

اسحاق ڈار اپنے حالیہ بیانات میں کہتے آئے ہیں کہ حکومت پائیدار معیشت بنانے کی کوشش کر رہی ہے تو کیا حکومتی پالیسی اور حالیہ فیصلے بھی اس طرف اشارہ کر رہے ہیں؟

خرم حسین یہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت حکومتی پالیسی معاشی بحران کو صرف کسی طرح وقتی طور پر ٹالنے کی کوشش ہے۔

’حکومت چاہ رہی ہے کہ سنہ 2023 کے الیکشن تک کسی طرح گزارہ ہو جائے اور سارے حکومتی اقدامات بھی اسی طرف اشارہ کرتے ہیں۔‘

’حکومت الیکشن سے پہلے عوام کو کچھ نہ کچھ ریلیف دینا چاہتی ہے اور اس لیے ابھی طویل المدتی معاشی استحکام کی منصوبہ بندی کے اقدامات کا فقدان نظر آتا ہے۔‘