کیا پاکستانی بینک ملک میں ڈالر کی قدر میں ’مصنوعی‘ اضافے کا باعث بنے؟

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, تنویر ملک
- عہدہ, صحافی، کراچی
’یہ اس سال جولائی کے مہینے کا آخری ہفتہ تھا جب ہمیں خام تیل منگوانے کے لیے پانچ کروڑ ڈالر کی ضرورت تھی۔ جب ہم نے بینک سے ایل سی کھولنے کے لیے رابطہ کیا تو بینک کے ٹریژری ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے کہا گیا کہ ڈالر 240 روپے کی قیمت پر مل سکتے ہیں جب کہ اس وقت ایک ڈالر کی قیمت انٹر بینک میں 232 روپے پر تھی۔‘
’ہم نے جب مارکیٹ ریٹ سے زیادہ پر ڈالر کی فراہمی کے بارے میں سوال کیا تو بینک کے عملے کی جانب سے بتایا گیا کہ ان کے پاس اس وقت اتنے ڈالر میسر نہیں ہیں اور انھیں یہ ڈالر برآمد کنندگان سے حاصل کرنے پڑیں گے اور وہ اس کی قیمت زیادہ مانگ رہے ہیں۔‘
پاکستان میں پٹرولیم کے شعبے میں کام کرنے والی ایک کمپنی کے چیف ایگزیگٹو نعیم طاہر (فرضی نام) نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اپنی کمپنی کی درآمدی ضروریات کے لیے ڈالر کے حصول میں مشکلات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ 'ہمیں درآمدات کے لیے ڈالر کی ضرورت تھی اور جس ریٹ پر بینک ہمیں یہ ڈالر آفر کر رہے تھے وہ ہماری مجبوری بنا ہوا تھا۔'
انھوں نے کہا کہ 'پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی ضرورت پوری کرنے اور کمپنی کا بزنس جاری رکھنے کے لیے خام تیل کی درآمد بہت ضروری تھی اور بینک اس صورتحال سے فائدہ اٹھا رہے تھے۔'
ان کا مزید کہنا تھا کہ 'مارکیٹ کے 232 روپے کے ریٹ اور جس پر ہم یہ ڈالر خرید رہے تھے یعنی 240 روپے کے درمیان آٹھ روپے کا فرق بہت زیادہ تھا۔ عموماً بینک ایک روپے کے منافع پر درآمدات کے لیے ڈالر فراہم کرتے ہیں۔
'اب یہ معلوم نہیں تھا کہ بینک واقعی برآمد کنندگان سے ڈالر خرید کر اسے منافع پر دے رہا تھا یا پھر خود ہی زیادہ منافع کما رہا تھا۔'
تیل کمپنی کے چیف ایگزیکٹو سے حاصل کی گئ معلومات گذشتہ چند مہینوں میں ڈالر کی قیمت میں ہونے والے بے تحاشا اضافے کے پس منظر میں حاصل کی گئی ہیں جب حکومت کی جانب سے ڈالر کی قیمت میں ہونے والے اضافے پر یہ بیان سامنے آیا کہ آٹھ بینک ڈالر کے ریٹ کو مصنوعی طور پر اوپر لے جانے میں مبینہ طور پر ملوث ہیں۔
واضح رہے کہ بینکوں کی جانب سے ڈالر کے ریٹ کو مبینہ طور پر مصنوعی طریقے سے اوپر لے جانے کا انکشاف سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کیا تھا اور اس کے بعد اس پر پارلیمان کی کمیٹی میں بینکوں کے نمائندوں کو بلا کر ان سے اس سلسلے میں جانچ پڑتال بھی کی گئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
ڈالر کے ریٹ کے ساتھ کیا ہوا تھا؟
پاکستان میں ڈالر کا ریٹ 28 جولائی 2022 کو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا جب ایک ڈالر کی قیمت تقریباً 240 روپے کی سطح پر پہنچ گئی تھی تاہم اس کے بعد ڈالر کی قیمت میں کمی دیکھی گئی اور اگست کے وسط میں ڈالر کی قیمت 213 روپے تک گر گئی تھی۔
سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بی بی سی کو بتایا کہ 'بینکوں سے جولائی کے مہینے میں ڈالر کے ریٹ کو منصوعی طریقے سے اوپر لے جانے پر شو کاز نوٹس ایشو کیے گئے ہیں۔'
انھوں نے کہا کہ بلاشبہ بینک تجارتی سرگرمی کرتے ہیں اور اس پر پیسے کماتے ہیں لیکن 'جس طرح ڈالر کا ریٹ مصنوعی طور پر اوپر لے جایا گیا تھا یہ غیر مناسب تھا اور اسی لیے بینکوں کو شو کاز نوٹس جاری کیے گئے تھے کہ وہ اپنی وضاحت پیش کریں۔'
انھوں نے کہا کہ 'منافع کمانا صحیح ہے تاہم جن حالات میں پاکستان تھا اس وقت ایکسچینج ریٹ میں اتنا زیادہ رد و بدل کرنا بینکوں کی جانب سے صحیح نہ تھا اس لیے ان بینکوں کے خلاف شو کاز نوٹس نکالے گئے۔''
بی بی سی کی جانب سے تحقیقات کے لیے جب بینکوں میں ٹریژری ڈیپارٹمنٹ میں فون کیے تو ان میں سے اکثر نے بات کرنے سے انکار کر دیا تاہم ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کچھ معلومات فراہم کیں اور اس کے ساتھ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے ساتھ اس مسئلے پر ڈیل کرنے والے ایک حکومتی فرد نے بھی نام ظاہر کرنے کی شرط پر کچھ معلومات فراہم کیں

بینکوں کی جانب سے ڈالر کی قیمت کو مصنوعی طریقے سے کیسے بڑھایا گیا؟
حکومتی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جب حکومت کو اس سلسلے میں شکایات موصول ہوئیں کہ بینک ڈالر کی قیمت مارکیٹ ریٹ سے زیادہ پر وصول کرر ہے ہیں تو سٹیٹ بینک نے اس سلسلے میں نگرانی شروع کر دی۔
انھوں نے کہا کہ 'اس سلسلے میں یہ پالیسی اختیار کی گئی کہ ہر پانچ منٹ کے بعد ڈالر کی قیمت کو دیکھا جائے گا۔
انھوں نے بتایا کہ اگر ڈالر کی قیمت 225 روپے تھی اور پانچ منٹ بعد اس میں کچھ پیسے یا ایک روپے تک کا بھی رد و بدل ہوتا تو یہ زیادہ فکرمندی کی بات نہیں تھی تاہم جب نگرانی کی گئی تو یہ معلوم ہوا کہ پانچ منٹ میں ڈالر کی قیمت میں پانچ سے دس روپے کا فرق نظر آیا۔
انھوں نے کہا پانچ منٹ میں اتنا درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ نہیں آتا کہ ایک ڈالر پانچ سے دس روپے اچانک بڑھ جائے، ہم نے ہر بینک کے ٹریژری ڈیپارٹمنٹ میں ڈالر کے ریٹ کو چیک کیا۔
انھوں نے کہا کہ اس کے بعد حکومت کی جانب سے یہ انکشاف کیا گیا کہ کچھ بینک ڈالر کی قیمت کو مصنوعی طریقے سے اوپر لے جا رہے ہیں اور اس کے بعد ان بینکوں کو پارلیمان کی ایک کمیٹی کے سامنے بھی پیش ہونا پڑا۔
خیال رہے کہ پارلیمان کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں جانچ پڑتال کی غرض بلائے گئے بینکوں میں نیشنل بینک، الائیڈ بینک، بینک الحبیب، سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک، میزان بینک، حبیب بینک، حبیب میٹرو بینک اور یونائیٹڈ بینک شامل ہیں جنھیں بلا کر ان سے اس بارے میں جانچ پڑتال کی گئی تھی۔
حکومتی اہلکار نے بتایا کہ بے شک اس وقت ڈالر کی قلت تھی اور طلب بھی زیادہ تھی تاہم یہ طلب اتنی زیادہ نہ تھی کہ ایک دن میں انٹرا ڈے ٹریڈنگ میں ڈالر کی قیمت پانچ دس روپے اوپر نیچے ہوتی ہو اور اوسطاً ایک دن میں ڈالر کی قیمت تین چار روپے اوپر بند ہو رہا تھا۔
ایک بینک کے ٹریژری شعبے کے ایک افسر نے بی بی سی کو نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ تو حقیقت ہے کہ اس وقت ڈالر کی قیمت میں بہت زیادہ اضافہ ہو رہا تھا تاہم اس کی وجہ ڈالر کی کم سپلائی اور اس کی زیادہ طلب تھی۔
'بینکوں کے پاس ڈالر نہیں تھے اور برآمد کنندگان نے بھی ڈالر اپنے پاس روک کر رکھے ہوئے تھے تاکہ زیادہ قیمت وصول ہو سکے اور ہمیں درآمدی ادائیگیوں کے لیے ایکسپورٹرز سے زیادہ مہنگے داموں ڈالر خریدنے پڑتے تھے۔
تاہم تیل کمپنی کے چیف ایگزیکٹو نے اس سلسلے میں کہا کہ بلاشبہ اس وقت ڈالر کی قلت تھی تاہم بینک بھی بہت زیادہ منافع کما رہے تھے جو بینکوں کی جانب سے زیادہ فارن ایکسچینج انکم سے بھی ظاہر ہے۔

بینکوں کے خلاف کیا کاروائی ہو سکتی ہے؟
بینکوں کی جانب سے ڈالر کے ریٹ کو مصنوعی طور پر اوپر لے جانے اور درآمدات کے لیے مارکیٹ ریٹ سے زیادہ قیمت وصول کرنے پر پارلیمان کی کمیٹی اور حکومت کی جانب سے نوٹس لیے جانے کے بعد بینکوں کو شو کاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں کہ وہ اس سسلے میں اپنی وضاحت دیں۔
پاکستان میں فارن کرنسی بشمول ڈالر فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ 1947 کے تحت ریگولیٹ کی جاتی ہے جو سٹیٹ بینک کی نگرانی میں ہوتا ہے۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ترجمان عابد قمر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں تحقیقات جاری ہیں اور ان کا کوئی نتیجہ برآمد ہونے پر ہی کچھ بتایا جا سکتا ہے۔
کراچی میں مالیاتی امور کے سینیئر صحافی شاہد اقبال کے مطابق شو کاز نوٹس تو ایشو ہو گئے ہیں تاہم ان کے خیال میں 'اس کا کوئی خاص نتیجہ نکلنے والا نہیں ہے۔'
انھوں نے کہا کہ 'بینکوں کا موقف ہے کہ انھوں نے فری مارکیٹ ایکسچینج ریٹ میکنزم کے مطابق کام کیا کہ ڈالر کی طلب و رسد پر قیمت میں اضافہ ہوا۔'
تاہم حکومتی فرد نے اس سلسلے میں بتایا کہ 'جب مفتاح اسماعیل وزیر خزانہ تھے تو انھوں نے فیصلہ کیا کہ بینکوں کا ریگولیٹر سٹیٹ بینک آف پاکستان ہے اور اسے یہ ایکشن لینا چاہیے۔
'مفتاح نے اس سلسلے میں سٹیٹ بینک پر اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کی تاہم انھوں نے سٹیٹ بینک کو تجویز دی کہ ڈالر کی قیمت کو مصنوعی طریقے سے بڑھانے میں جو بینک ملوث ہیں ان پر جرمانہ عائد ہونا چاہیے اور یہ جرمانہ اتنا زیادہ عائد ہونا چاہیے کہ بینکوں نے فارن ایکسچینج انکم کی مد میں ڈالر کی مصنوعی قیمت کے ذریعے جو بہت زیادہ منافع کمایا اس پر بڑے جرمانے کی صورت میں کمی واقع ہو۔'












