ایندھن کی قیمتیں: پیٹرول کی قیمتیں کچھ ممالک میں دیگر ملکوں سے زیادہ کیوں ہیں؟

Brazilian rideshare driver Ana Paula de Oliveira
،تصویر کا کیپشناینا پاؤلا ڈی اولیویرا کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتیں برازیل میں رائیڈ شیئر ڈرائیور کے طور پر ان کی کمائی کو شدید متاثر کر رہی ہیں۔

برازیل کے سب سے بڑے شہر ساؤ پاؤلو میں رائڈ شیئر کمپنی اوبر کے ڈرائیور کی حیثیت سے کام کرنے والی 38 سالہ انا پولا ڈی الیورا ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بارے میں اپنی پریشانی کے اظہار کو روک نہیں پائی۔ کیونکہ یہ قیمیتں ان کی ملازمت کو متاثر کر رہی ہیں۔

برازیل کے ادارہ برائے جیوگرافی و شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق یوکرین کی جنگ سے قبل ہی ملک میں گذشتہ برس ایندھن کی قیمتوں میں 47 فیصد اضافہ ہوا تھا۔

سنہ 2016 سے بطور ڈرائیور کام کرتے ہوئے انا پولا نے سوچا تھا کہ کورونا کی وبا ان کی پیشہ وارانہ زندگی کا سب سے مشکل اور برا وقت تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ 'اس وبا کے بعد کے اثرات اب سامنے آنا شروع ہوئے ہیں۔‘

وہ اپنے معاشی مشکلات کے باعث مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے وہ بیان کرتی ہیں کہ 'ایسا لگتا ہے کہ آپ کا قطبی ستارہ کہیں گم ہو گیا ہے اور آپ اپنی سمت کھو چکے ہیں۔'

یہ صرف اضافہ نہیں ہے

Graphic of gasoline prices

یاد رہے کہ برازیل میں ایندھن کی قیمتیں دنیا میں سب سے زیادہ نہیں ہیں۔ گلوبل پیٹرول پرائسز ڈاٹ کام نامی ایک ویب سائٹ جو تقریباً دنیا کے 150 ممالک میں ایندھن کی قیمتوں کا ڈیٹا بیس رکھتی ہے کہ مطابق برازیل میں بیس جون کے ہفتے کے دوران فی لیٹر پیٹرول کے اوسط قیمت تقریباً 1.39 ڈالر تھی۔

مہنگائی اور اخراجاتِ زندگی: مزید پڑھیے

یقیناً یہ وینزویلا کے دو سینٹ فی لیٹر کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے لیکن یہ ہانگ کانگ کے مقابلے میں بہت کم ہے جہاں تین ڈالر فی لیٹر ہے۔

درحقیقت یہ دونوں ممالک ایندھن کی قیمتوں سے متعلق عالمی رینکنگ میں ایک دوسرے سے بہت دور ہیں۔ بہرحال انا پولا جیسے برازیلین کو یہ اضافہ پھر بھی تکلیف دے رہا ہے۔

انا پولا طلاق یافتہ اور دو بچوں کی ماں ہیں اور بطور ڈرائیور وہ رات آٹھ بجے سے صبح آٹھ بجے تک نائٹ شفٹ کا کام کرتی ہیں۔

ان کاروزانہ کا ایندھن کا خرچہ تقریباً 23 ڈالر ہیں جس کا مطلب ہے کہ اگر وہ ویک اینڈ پر کام نہ بھی کریں پھر بھی وہ مہینے میں 500 ڈالر سے زائد کا ایندھن استعمال کرتی ہیں۔

A filling station attendant changes fuel prices at a business in Pakistan

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیڈ نامی ملازمت کی تلاش کے پلیٹ فارم کے مطابق برازیل میں کسی رائیڈ شیئر کمپنی میں کام کرنے والے ڈرائیور اوسطاً مہینے کے 450 ڈالر کماتے ہیں۔

وہ اپنے پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ 'یہ محض اضافہ نہیں ہے۔‘

ایندھن کی قیمتوں کے بڑھنے کی وجہ کیا ہے؟

پیٹرول کی قیمتوں کا دارومدار اس بات پر ہے کہ خام تیل کتنا مہنگا ہے۔ خام تیل سے صفائی کے بعد ہی پیٹرول اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات بنتی ہیں۔

تیل کی قیمتوں پر صنعتی عوامل کے ساتھ ساتھ دیگر عوامل بھی اثر انداز ہوتے ہیں جیسا کہ طلب و مانگ میں فرق، یا جنگ اور وبا وغیرہ

تیل کے فی بیرل کی قیمت پہلے ہی کورونا وبا کے اثرات سے نکلنے کے بعد عالمی سطح پر بڑھ رہی تھی۔ کیونکہ کورونا وبا کے دوران دنیا بھر میں تیل کی مانگ کم ہوئی تھی اور اس پر اثر پڑا تھا۔

لیکن رواں برس فروری میں روس کی جانب سے یوکرین پر حملے نے اس میں مزید اضافہ کر دیا اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتنا اضافہ سنہ 2011 میں عرب سپرنگ کے بعد سے نہیں دیکھا گیا۔

A trader at the New York Sotck Exchange

،تصویر کا ذریعہGetty Images

روس دنیا میں تیل کی پیداوار کرنے والا ایک اہم ملک ہے اور اس کی جانب سے یوکرین پر حملہ کرنے کے بعد عالمی منڈی میں یہ خدشات پیدا ہو گئے تھے کہ اس کی تیل کی رسد اب متاثر ہو گی۔

فرانس کی یونیورسٹی سائنسز پو پیرس کے پروفیسر اور ماہر تیل و گیس تھیرے بروس بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی وجہ ماضی میں ہونے والے اضافے سے مختلف ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ اس میں بنیادی فرق یہ ہے کہ اب دنیا موسمیاتی تبدیلیوں کو کم کرنے کی کوششوں میں تیل اور فوسل فیول کا استعمال کم کرتے ہوئے اس سے دور جا رہی ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ 'اب ہمارے پاس تیل کی طلب اور رسد میں اس لیے کمی ہے کیونکہ کمپنیاں تیل کی پیداوار میں بہتری کے لیے مزید سرمایہ کاری کرنے سے گریزاں ہیں اور بہت سے ممالک توانائی کی صاف ذریعے کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔'

یورپی یونین بھی درحقیقت سنہ 2035 سے پیٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی کاروں پر پابندی لگانے پر بحث کر رہی ہے۔

پروفیسر بروس مزید کہتے ہیں کہ 'اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ اب کمپنیوں کو تیل کی صفائی میں بہتری لانے کی صلاحیت بڑھانے کے فوائد نہیں ہیں۔'

کیا ہمیں پیٹرول کے خاتمے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے؟

کچھ ممالک میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مانگ نے تیل کی قلت پیدا کی ہے۔جیسا کہ جون میں سری لنکا میں دیکھنے میں آیا جب ملک شدید معاشی مشکلات کے باعث عالمی منڈی سے تیل خریدنے سے قاصر رہا اور ملک رک کر رہ گیا۔

گذشتہ برس مئی میں جرمن جریدے ڈیر سپیگل کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے عالمی توانائی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول نے کہا تھا کہ یورپی ممالک کو صرف موسم گرما میں مانگ میں اضافے کے باعث تیل کی قلت کا سامنا ہو گا۔

A long line of lorries and engine-powered rickshaws outside a filling station in Colombo, the Sri Lankan capital

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یہ بھی پڑھیے

لیکن دنیا کے مختلف ممالک میں پیٹرول کی قیمتوں میں اتنا فرق کیوں ہے؟

ویسے تو جن ممالک کو تیل درآمد کرنا پڑتا ہے وہاں لاگت بڑھ جاتی ہے اور نتیجتاً وہاں پیٹرول کی قیمت زیادہ ہوتی ہے۔

اگر ہم گلوبل پیٹرول پرائسز ڈاٹ کام پر تیل کی پیداوار کرنے والے ممالک کا جائزہ لیں تو وینزویلا، لبیا اور ایران گاڑی کی پیٹرول کی ٹینکی فل کروانے کے لیے سستے ترین ممالک ہیں۔

کچھ ممالک خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں بھی پیٹرول کی قیمتیں حکومتی سبسڈیز کی بدولت کم ہیں۔ سبسڈیز وہ اقدامات ہوتے ہیں جو مختلف ممالک کی حکومتیں مصنوعی طور پر چیزوں قیمتوں کو کم رکھنے کے لیے اٹھاتی ہیں۔

لیکن دیگر ممالک میں اس کے نتائج برعکس ہیں، ان ممالک میں حکومتی سبسڈیز کی بجائے تیل کی قیمتوں پر بھاری ٹیکس اور ڈیوٹیز عائد کی جاتی ہیں جس سے صارفین کے لیے پیٹرول کی قیمت میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ راک فاؤنڈیشن کی ایک تحقیق کے مطابق برطانیہ میں پیٹرول کی قیمت میں یہ اضافہ تقریباً 45 فیصد تک ہے۔

پروفیسر بروس کہتے ہیں کہ ' یہ ایک بنیادی وجہ ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں پیٹرول کی قیمتوں میں فرق کیوں ہے، یہ فرق ہر حکومت کی جانب سے پیٹرول پر ٹیکسز عائد کرنے یا سبسڈیز دینے سے آتا ہے۔‘

A gas station in Hong Kong

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ہر ملک کے مقامی حالات بھی اس پر اثرات مرتب کرتے ہیں کہ ہم تیل کی قیمت کے لیے کتنی ادائیگی کرتے ہیں۔ ہانگ کانگ میں، مقامی اخبار ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ نے پچھلے سال رپورٹ کیا تھا کہ جس زمین پر فلنگ سٹیشن بنائے گئے ہیں ان کی قیمت 2010 اور 2020 کے درمیان 400 فیصد سے زیادہ بڑھ گئی۔ یہ وجہ بھی آئل کمپنیوں کو قیمتیں بڑھانے پر مجبور کرتی ہے اور صارفین کو زیادہ مہنگا تیل خریدنا پڑتا ہے۔

اور آخر میں اس ملک کی مقامی کرنسی اور ڈالر کے ایکسچینج ریٹ کا بھی عمل دخل ہے کیونکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت ڈالر کے حساب سے طے کی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے سینٹرل افریقن رپبلک جس کی مقامی کرنسی فرانک کی ڈالر کے مقابلے میں قدر انتہائی کم ہے اور وپ تیل کی پیداوار کرنے والا ملک بھی نہیں ہے وہاں دنیا کا مہنگا ترین پیٹرول ہے جہاں فی لیٹر کی قیمت 2.39 ڈالر ہے۔

تیل کی قیمتیں ہمیں کیسے متاثر کرتی ہیں؟

تیل کی زیادہ قیمت کے اثرات صرف اس بات تک محدود نہیں ہیں کہ ہم پیٹرول پمپ پر براہ راست کتنے پیسے ادا کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر پیٹرول کی زیادہ قیمت کا اثر خوراک کی قیمتوں پر بھی پڑتا ہے کیونکہ ان کی ٹرانسپورٹ کی لاگت بڑھ جاتی ہے، اس طرح پبلک ٹرانسپورٹ اور جہاز کے کرایوں میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔

اور برازیل میں شہریوں کی اوسط آمدن کے مقابلے میں پیٹرول کی قیمت سے ہمیں یہ پتا چلتا ہے کہ کیسے یہ اضافہ انھیں تکلیف دے رہا ہے۔

ہیٹی میں شاید دنیا کے بہت سے ممالک سے پیٹرول کی قیمت کم ہے جو تقریباً 0.54 ڈالر فی لیٹر ہے لیکن یہاں کی کم از کم یومیہ اجرت پانچ ڈالر سے بھی کم ہے۔

A woman shopping for vegetables in China

،تصویر کا ذریعہGetty Images

دوسری جانب ناروے میں رہنے والے افراد کے لیے حالات بہتر ہیں کیونکہ گلوبل پیٹرول پرائسز ڈاٹ کام کے لیے وہاں اس وقت فی لیٹر پیٹرول کی قیمت 2.71 ڈالر ہے جبکہ تعاون و اقتصادی ترقی کی تنظیم کے مطابق یہاں کے شہری اوسطاً 150 ڈالر یومیہ سے زائد کماتے ہیں۔

اس ے علاوہ ناروے میں تیزی سے الیکٹرک کاروں کے استعمال کا رحجان ہے اور ناروجین روڈ فیڈریشن کے مطابق سنہ 2021 میں نئی کاروں کی سیلز میں تقریباً 65 فیصد الیکٹرک کاریں شامل تھیں۔

پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کب آئے گی؟

پروفیسر بروس لوگوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ اس بات کا انتظار نہ کریں، روس یوکرین تنازعے کے ختم ہونے کا کوئی عندیہ موجود نہ ہونے اور طلب کے معاملات میں بہتری نہ آنے کے باعث یہ بحران ابھی کچھ عرصے تک چلے گا۔'

وہ کہتے ہیں کہ 'میرے خیال میں ابھی کچھ وقت کے لیے قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، ہمیں ایندھن کی مہنگی قیمت کے ساتھ ہی رہنا پڑے گا۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ تیل کے استعمال کو ختم کر دینا اتنا آسان نہیں ہے۔'

اس خبر کے لیے اضافی رپورٹنگ بی بی سی نیوز برازیل کے نامہ نگار تھائس کارانکا نے کی ہے۔