کوئٹہ کی 20 سالہ آمنہ بی بی جن کی پڑھائی کی خواہش جان لیوا ثابت ہوئی

قتل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

’میری بیٹی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھی۔ اس جائز خواہش کو ماننے کے بجائے شوہر پہلے تشدد کا نشانہ بناتا رہا پھر گولی مار کر اس کی جان تک لے لی۔‘

یہ الفاظ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے رہائشی نور احمد کے ہیں جن کی بیٹی آمنہ بی بی کو ان کے شوہر نے مبینہ طور پر ہلاک کر دیا۔

کوئٹہ کے امیر محمد دستی پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او جاوید بزدار نے بی بی سی کو بتایا کہ دو اکتوبر کی رات پیش آنے والے اس واقعے کے بعد مقتولہ کے شوہر کے خلاف تعزیرات پاکستان کے دفعہ 302 کے تحت قتل کا مقدمہ درج کیا جا چکا ہے تاہم ملزم اس سے قبل ہی فرار ہونے میں کامیاب ہو چکا تھا۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ملزم کے ماموں سے ابتدائی تفتیش کی گئی جنھوں نے پولیس کو بتایا کہ خاتون کو ان کے شوہر نے ہی گولی ماری تھی جس سے ان کی ہلاکت ہوئی۔‘

مقتولہ آمنہ بی بی کون تھیں؟

آمنہ بی بی کوئٹہ شہر کی رہائشی اور سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی میں بی ایس ایجوکیشن کے پہلی سمسٹر کی طالبہ تھیں۔

آمنہ بی بی

،تصویر کا ذریعہNOOR AHMED

ان کے والد حاجی منظور احمد، جو ریٹائرڈ سرکاری ملازم ہیں، نے بی بی سی کو بتایا کہ آمنہ بی بی کی عمر 20 سال کے لگ بھگ تھی جن کی ایک سال قبل شادی کی گئی تھی۔

’بیٹی نے تعلیم مکمل ہونے سے پہلے شادی پر آمادگی ظاہر کی لیکن وہ چاہتی تھی کہ شادی کے بعد اپنی تعلیم مکمل کر لے۔‘

حاجی منظور احمد نے بتایا کہ ان کی بیٹی ڈاکٹر بننا چاہتی تھی تاہم ایف ایس سی کے بعد ان کو میڈیکل کالج میں داخلہ نہیں مل سکا جس کے بعد انھوں نے یونیورسٹی میں داخلہ لینے کا فیصلہ کر لیا۔

’اس نے خود سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی کا انتخاب کیا اور وہاں بی ایس ایجوکیشن میں داخلہ لیا۔ بیٹی کی خواہش تھی کہ وہ اپنی تعلیم مکمل کر لے لیکن سسرال والے چاہتے تھے کہ شادی جلدی ہو۔‘

’میری بیٹی نے تعلیم مکمل ہونے سے پہلے شادی سے انکار تو نہیں کیا لیکن اس کی خواہش پر شوہر اور سسرال والوں نے یہ یقین دہانی کرائی کہ نہ صرف ان کی تعلیم کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی بلکہ شوہر نے یہ کہا کہ وہ خود آمنہ کو یونیورسٹی چھوڑا کرے گا۔‘

’شادی کے بعد شوہر کا رویہ بدل گیا‘

حاجی منظور احمد نے بتایا کہ شادی کے بعد آمنہ بی بی کے شوہر کا رویہ یکسر بدل گیا۔ ’اس نے آمنہ کو کہا کہ اب وہ پڑھائی چھوڑ دے۔ بیٹی کے انکار پر وہ اس کو تشدد کا نشانہ بناتا۔‘

حاجی منظور احمد کے مطابق ان کو شادی کے چار ماہ بعد علم ہوا کہ آمنہ بی بی پر ان کا شوہر تشدد کرتا ہے۔

تشدد

،تصویر کا ذریعہScience Photo Library

’ایک دن وہ ہمارے گھر آئی تو اپنی چھوٹی بہن، جو کہ میٹرک کی طالبہ ہے، کے ساتھ جوس پینے گئی۔ باتوں باتوں میں اس کے منہ سے یہ بات نکلی کہ شوہر کا رویہ درست نہیں اور وہ بہت زیادہ تشدد کرتا ہے۔‘

’چھوٹی بیٹی جب گھر واپس آئی تو اس نے گھر والوں کو بتایا کہ بہن پر کس طرح تشدد ہو رہا ہے۔‘

حاجی منظور احمد نے بتایا کہ کچھ ہی عرصے بعد انھوں نے اپنی آنکھوں سے اس کا ثبوت بھی دیکھ لیا۔

’ایک دن ہم داماد کے ماموں کے گھر گئے تو میری بیٹی پر بہت زیادہ تشدد کیا گیا تھا۔ وہ بات نہیں کر پا رہی تھی۔ جب ہم بیٹی کو ڈاکٹر کے پاس لے گئے تو ڈاکٹر نے بتایا کہ ان کے ایک کان کا پردہ متاثر ہوا ہے۔ اس کا شوہر علاج کے لیے کراچی بھی لے گیا۔‘

یہ بھی پڑھیے

’ہم نے فیصلہ کیا کہ رشتہ ختم کر دیں گے‘

اپنی بیٹی پر تشدد کے ایک اور واقعے کے بعد حاجی منظور نے فیصلہ کیا کہ وہ اس رشتے کو ختم کر دیں گے۔

آمنہ

،تصویر کا ذریعہNOOR AHMED

’کچھ عرصہ قبل آمنہ کے شوہر نے سیٹلائیٹ ٹاون والے گھر میں تشدد کا نشانہ بنایا تو ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم اپنی بیٹی کو اٹھا کر لے آئیں گے اور اس رشتے کو ختم کریں گے کیونکہ ہم نے اپنی بیٹی کو کسی خون کے بدلے میں تو ان کو نہیں دیا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’جب میری بیوی نے بیٹی کا ہاتھ پکڑ کر چلنے کے لیے کہا تو اس کے شوہر نے بیٹی کی کنپٹی پر پسٹل رکھ کر کہا کہ اگر اسے لے جانے کی کوشش کی تو وہ اسے یہاں گولی مار دیں گے۔‘

’چونکہ میں اور میرے دوسرے مرد رشتہ دار بھی وہاں موجود تھے اور جب ہم نے یہ بات سنی تو ہم اس کمرے میں گئے اور ان کو بتایا کہ خواتین پر اسلحہ تاننا کہاں کی بہادری ہے، اگر مارنا ہے تو ہمیں مار دو، لیکن ہم اپنی بیٹی کو لے کر جائیں گے۔‘

’جب اس نے دیکھا کہ یہ تو اسے لے جائیں گے تو قرآن مجید لا کر منت سماجت کی گئی کہ آئندہ ان پر تشدد نہیں کیا جائے گا۔‘

’آمنہ کو دعا کرتے ہوئے گولی ماری‘

حاجی منظور احمد نے دعوی کیا کہ 2 اکتوبر کو ان کا داماد ان کی بیٹی کو اپنے ماموں کے گھر لے کر گیا جہاں اس پر ایک بار پھر تشدد کیا گیا۔

’میری بیٹی کو ساڑھے نو بجے کے بعد اس وقت گولی ماری گئی جب وہ عشاء کی نماز پڑھنے کے بعد دعا کر رہی تھی۔‘

حاجی منظور کے مطابق ان کی بیٹی پر نائن ایم ایم پسٹل سے فائر کیا گیا اور گولی بائیں کنپٹی پر ماری گئی تھی جو کہ دائیں جانب سے نکلتی ہوئی دیوار میں لگی۔

پستول

،تصویر کا ذریعہGetty Images

حاجی منظور کو اگلے دن تین اکتوبر کی شب اطلاع ملی کہ ان کی بیٹی کی لاش ہسپتال میں موجود ہے۔

’جب میں سول ہسپتال پہنچا تو بیٹی خون میں لت پت پڑی تھی۔‘

پولیس کا کیا موقف ہے؟

حاجی منظور احمد کے مطابق پولیس کی جانب سے انھیں بتایا گیا کہ ملزم فرار ہو گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ واردات کے بعد ملزم اپنی گاڑی میں کوئٹہ کے شمال میں کچلاک کی جانب نکل گیا تھا لیکن ’راستے میں اس کی گاڑی حادثے سے دوچار ہوئی۔ گاڑی کو وہاں چھوڑ کر وہ فرار ہو گیا تھا۔‘

امیر محمد دستی پولیس اسٹیشن، جہاں خاتون کے قتل کا مقدمہ درج ہے، کے ایس ایچ او جاوید بزدار نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم کی گاڑی پولیس نے تحویل میں لی ہے۔

ایس ایچ او جاوید بزدار نے بتایا کہ اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’خاتون کی ہلاکت کا واقعہ ملزم کے ماموں کے گھر میں پیش آیا تھا۔ ملزم کے ماموں سے تفتیش کی گئی ہے اور انھوں نے بتایا کہ خاتون کو ان کے شوہر نے گولی ماری ہے۔‘

’واقعے کے بعد ملزم کے گھر پر کوئی بھی موجود نہیں ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ ملزم تک پہنچ جائیں۔‘

ایس پی صدر نوید عالم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اب تک کی تحقیقات میں یہ سفاکانہ قتل کا ایک واقعہ نظر آتا ہے جس میں مقتولہ کو نماز پڑھنے کے موقع پر ملزم نے فائرنگ کرکے ہلاک کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’تحقیقات اور ملزم کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اور اس خدشے کے پیش نظر کہ ملزم کہیں بیرون ملک فرار نہ ہونے پائے ایف آئی اے سے بھی رابطہ کر لیا گیا ہے۔‘