پاکستان میں سیلاب میں پھنسے لوگوں کی جان بچانے والے کون ہیں؟

فرمان اللہ

،تصویر کا ذریعہFarmanullah

    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی

پانچ لوگوں کی زندگیاں بچانے کے لیے کئی لوگ کھڑے تھے۔ کچھ تیر کر جانا چاہتے تھے اور کچھ دیگر طریقے اختیار کرنا چاہتے تھے مگر میں کسی کو اس کی اجازت نہیں دے رہا تھا۔ میری ذمہ داری تھی کہ کسی اور قربانی مانگنے سے پہلے میں خود قربانی دیتا۔

یہ کہنا تھا کہ دیر بالا کے رہائشی فرمان اللہ کا جنھیں ایک وائرل ہونے والی ویڈیو میں میت لے جانے والی چارپائی استعمال کر کے ایک ہی خاندان کے پانچ ارکان کی جان بچاتے دیکھا گیا۔

فرمان اللہ جماعت اسلامی کے عہدیدار اور اس جماعت کے ویلفیئر ونگ الخدمت کے رضاکار ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ 26 اگست کو صبح کے وقت شدید سیلابی ریلا آیا تھا۔ ’جس علاقے میں یہ واقعہ پیش آیا تھا وہاں کے کئی لوگوں نے اپنے گھر خالی کر دیے تھے۔ مگر اس گھر کے مکینوں نے اپنے مال مویشی کی وجہ سے مکان چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اس گھر کے اردگرد بہت زیادہ پانی اکٹھا ہوگیا تھا۔ یہی نہیں بلکہ ہمیں اطلاعات مل رہی تھیں کہ کمراٹ کے علاقے سے ایک اور سیلابی ریلا تیزی سے نیچے کی طرف آ رہا ہے۔ جس کے بعد واضح طور پر نظر آ رہا تھا کہ یہ پانچ زندگیاں خطرے کا شکار ہیں اور جلدی ہی کچھ کرنا ہو گا‘۔

فرمان اللہ

،تصویر کا ذریعہFarmanullah

میت چارپائی کا جھولا بنایا

فرمان اللہ کہتے ہیں اس گھر میں ایک خاتون، ایک بچہ، ایک بزرگ اور دو نوجوان موجود تھے اور سیلابی پانی کا شور اور رفتار نہ صرف اس گھر کے پانچوں مکینوں بلکہ انھیں بچانے کے لیے جمع ہونے والوں کو بھی خوفزدہ کر رہا تھا۔

’مدد کے لیے آنے والے بہت سے لوگ جذباتی ہو رہے تھے۔ وہ پانی میں کود کر جانا چاہتے تھے، کوئی کچھ اور کوئی کچھ مشورے دے رہا تھا۔ میں اس آپریشن کی نگرانی کر رہا تھا۔ میں اب کسی اور کو کوئی ایسا فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا جو اس کی زندگی کو خطرے میں ڈال دے۔ اس موقع پر جو کچھ بھی کرنا تھا وہ مجھے ہی کرنا تھا اور اس کی ذمہ داری بھی قبول کرنا تھی‘۔

ان کے مطابق سوچ بچار کے بعد اور وقت کی قلت کے باعث فیصلہ کیا گیا کہ میت لے جانے کے لیے استعمال ہونے والی چارپائی جو کہ ہمارے علاقوں میں تقریبا ہر مسجد میں موجود ہوتی ہے اس کا جھولا بنایا جائے۔

’جب میت چارپائی کو دھکا دے کر پہنچایا گیا تو راستے میں یہ جھول جاتی تھی۔ یہ بھی خطرہ تھا کہ کہیں الٹ نہ جائے۔ موقع پر کچھ ایسے لوگ بھی موجود تھے جو ماہر تیراک تھے۔ انھوں نے مجھے کہا کہ اگر میں گر گیا تو مجھے وہ ڈوبنے نہیں دیں گے مگر میں جانتا تھا کہ سیلابی ریلا اتنا تیز ہے کہ اگر یہ جھولا الٹا تو پھر کچھ بھی نہیں بچے گا۔‘

ریسکیو آپریشن

،تصویر کا ذریعہFarmanullah

فرمان اللہ کہتے ہیں کہ جب وہ پہلی بار اس میت چارپائی کے جھولے میں سفر کر کے مکان تک پہنچے تو وہ لوگ بہت ڈرے ہوئے تھے۔

’وہ کہہ رہے تھے کہ ہم اپنی جگہ نہیں چھوڑیں گے۔سیلابی پانی تو شاید ہمیں بہا کر نہ لے جائے مگر اس میت چارپائی سے نیچے گرے تو نہیں بچ پائیں گے۔ اب میں انھیں یہ نہیں بتا سکتا تھا کہ اوپر سے ایک اور سیلابی ریلا آ رہا تھا بس منت سماجت کر کے انھیں تیار کیا اور پھر سب سے پہلے بزرگ شخص کو میت چارپائی پر اپنے ساتھ بٹھایا۔

’اب مسئلہ یہ تھا کہ وہ پہلے ہی ڈرے ہوئے تھے۔ وہ بار بار حرکت کرتے تو میت چارپائی کا توازن بگڑ جاتا مگر کسی نہ کسی طرح ان کو محفوظ مقام تک پہنچا ہی دیا‘۔

چار گھنٹے کا آپریشن

فرمان اللہ کہتے ہیں کہ یہ سارا آپریشن چار گھنٹے کا تھا جس کے دوران انھوں نے اس بزرگ کے بعد بچے اور پھر نوجوان لوگوں کو محفوظ مقام تک پہنچایا۔

ان کے مطابق مسئلہ اس وقت ہوا جب آخر میں خاتون کا نمبر آیا۔ ’وہ لوگ اڑ گئے کہ ہماری خاتون میت چارپائی پر نہیں بیٹھے گی۔ یہاں تک بات بڑھی کہ اس موقع پر کہا گیا کہ ان چاروں کو بھی میت چارپائی پر بٹھا کر واپس چھوڑ دیا جائے۔ موقع پر انتظامیہ کے افسران بھی پہنچے انھوں نے بھی کہا کہ اگر خاتون کو مدد فراہم نہ کرنے دی گئی تو مقدمہ درج کیا جائے گا مگر وہ نہیں مان رہے تھے۔

’اس موقع پر میں نے ان سے کہا کہ یہ خاتون بالکل میری ماں جیسی ہیں اور اپنی ماں کی مدد کو ضرور جاؤں گا۔ اس پر ان کے دل نرم ہوئے اور آخر میں خاتون کو لے کر آیا۔

’ہمارا یہ آپریشن کوئی دو بجے ختم ہوا اور اس کے دو گھنٹے بعد کمراٹ سے شدید سیلابی ریلا آن پہنچا جس نے مزید تباہی مچائی اور زیادہ تباہی اسی مقام پر ہوئی جہاں سے ہم نے ایک ہی خاندان کے پانچ لوگوں کو نکالا تھا۔‘

ریسکیو آپریشن

،تصویر کا ذریعہFarmanullah

سوات ریسکیو کا رات کے اندھیرے میں آپریشن

جہاں دیر بالا میں فرمان اللہ پانی میں پھنسے اس خاندان کے مددگار بنے وہیں سوشل میڈیا پر ایک اور وائرل ویڈیو میں سوات میں ریسکیو کے ادارے کے اہلکاروں کو رات کی تاریکی میں آپریشن کر کے دس لوگوں کی جان بچاتے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

سوات کے ضلعی ریسکیو افسر ملک شیر دل خان کا کہنا ہے کہ جب سیلابی ریلا آیا تو اس کے بعد خوازہ خیلہ سے لوگ لکڑیاں چننے اور مچھلیاں پکڑنے کے لیے متاثرہ مقام پر پہنچے اور جب وہاں دریا کا پانی بڑھا تو 160 سے زیادہ لوگ وہاں پھنس گئے اور ان لوگوں کو نکالنے کے لیے ہیلی کاپٹر کی مدد بھی حاصل کی گئی تھی۔

شیر دل خان کے مطابق ان میں سے دس لوگ ایسے مقام پر پھنسے ہوئے تھے جہاں ہیلی کاپٹر بھی کوئی مدد نہیں کر سکتا تھا۔ یہ لوگ دو، دو فٹ تک پانی میں گھر چکے تھے اور پانی کا بہاؤ اور رفتار وقت کے ساتھ بڑھتی جا رہی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس صورتحال میں فیصلہ کیا گیا کہ رات کے اندھیرے ہی میں آپریشن کرنا پڑے گا جس کے لیے تین ماہر تیراکوں اور ان کے ساتھ ماہر ڈرائیور کو آپریشن پر بھیجا گیا جبکہ ہم سب لوگ کسی بھی ہنگامی حالت سے نمٹنے کے لیے دو دیگر کشتیوں کے ساتھ الرٹ تھے۔‘

سوات ریسکیو

،تصویر کا ذریعہAjmal Khan

ریسکیو کشتی کو حادثہ

اس آپریشن میں شریک اہلکار اجمل خان کہتے ہیں کہ ’پانی کا بہاؤ بہت تیز تھا۔ یہ کوئی عام آپریشن نہیں تھا اور اس میں ہماری اپنی زندگی بھی داؤ پر لگ چکی تھی‘۔

سیلاب

،تصویر کا ذریعہEPA-EFE/REX/Shutterstock

اجمل خان کے مطابق اگرچہ ان کے پاس ایک جدید کشتی لیکن دریا میں بہہ کر آنے والا ایک درخت ان کی کشتی سے ٹکرایا اور وہ الٹ گئی۔

’ہم لوگوں نے لائف جیکٹس پہن رکھی تھیں۔ اب صورتحال یہ تھی کہ ہماری اپنی زندگیاں بھی خطرے کا شکار ہو چکی تھیں۔ موبائل فون پانی میں گرنے کی وجہ سے کنارے پر ساتھیوں سے بھی رابطہ نہیں کر سکتے تھے تاہم اس موقع پر ہم چاروں نے ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا اور اپنی تربیت کے مطابق رنجیر بنا لی تھی۔

’ہم نے آپس میں رسیاں بھی باندھی ہوئی تھی اور اب ہم ساتھ چل رہے تھے اور ساتھ ہی کشتی کو بھی کسی ایسے مقام تک پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے جہاں اسے سیدھا کر کے متاثرین کی مدد کر سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ زندگی اور موت کے درمیاں جنگ تھی۔ ہمارے دو ساتھی جنید اور راشد زخمی بھی ہو چکے تھے مگر انھوں نے ہمت نہیں ہاری۔ تیز پانی میں چلتے ہوئے ہمیں ایک چھوٹی سی خشک جگہ ملی یہ جزیرہ نما بن چکی تھی۔ ہم نے یہاں پر نہ صرف پناہ لی بلکہ کشتی کو سیدھا کیا۔

سوات

،تصویر کا ذریعہAjmal Khan

اجمل خان کے مطابق اس کے بعد دوبارہ سفر شروع ہوا اور اب انھیں ان دس لوگوں کی تلاش تھی جو کچھ دیر بعد مل گئے۔ ’وہ اس حالت میں تھے کہ پانی ان کی ناف تک پہنچ رہا تھا۔ انتہائی خوفزدہ تھے اور ان کا مورال گر رہا تھا۔

’ہم نے انھیں حوصلہ دیا۔ اس کے بعد انھیں رسیاں باندھی اور پھر ایک ایک کر کے انھیں کنارے تک پہنچایا گیا۔ وہ سب لوگ ہمیں اس وقت بس یہ ہی کہہ رہے تھے کہ جب رات کا اندھیرا پھیلا تو ہم لوگ بالکل چپ ہو گئے تھے۔ بس سب کو اپنی موت کا انتظار تھا مگر آپ لوگ موت کے منہ سے بچانے والے بن کر آئے ہو‘۔

مددگار اور مہمان نواز مقامی لوگ

بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب کے بعد خیبر پختونخوا کے اکثر سیاحتی مقامات پر بھی بڑی تعداد میں غیر مقامی سیاحوں کے پھنس جانے کے واقعات پیش آئے ہیں۔

ان مقامات میں کمراٹ کی وادی اور وادی کالام کی جھیل مہوڈنڈ کے نام میڈیا اور سوشل میڈیا پر گذشتہ چند دنوں کے دوران اکثر سنے گئے ہیں۔

کمراٹ میں پھنسے سیاحوں کو نکالنے کے لیے جہاں فوج کو آپریشن کرنا پڑا وہیں مہوڈنڈ جھیل پر پھنسے افراد کی مدد کے لیے مقامی آبادی پیش پیش رہی۔

محمد اسامہ کا تعلق پنجاب کے ضلع شیخوپورہ سے ہے۔ وہ اپنے بڑے بھائی اور دو دوستوں کے ہمراہ 25 اگست کو مہوڈنڈ جھیل پہنچے تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’بدھ کی شام سے ہی بارش شروع ہو گئی تھی جبکہ جمعرات کو شدید بارش سے جھیل کے ساتھ واقع میدان میں بھی پانی بھر گیا تھا۔

مہوڈنڈ جھیل پر امدادی آپریشن

،تصویر کا ذریعہMohammad Osama

محمد اسامہ کا کہنا تھا کہ ’ہمیں جھیل سے مقامی لوگوں نے محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ اس موقع پر عورتیں، بچے اور بوڑھے بھی شامل تھے۔ یہ سفر ہم لوگوں نے پیدل کیا تھا۔ عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا مگر مقامی لوگ مدد کرتے رہے تھے۔

’ہم لوگ اس محفوظ مقام پر دو دن تک رہے۔ اس دوران مقامی لوگوں نے ہمیں رہائش، کھانا وغیرہ فراہم کیا۔ سیاحوں کی تعداد کافی تھی جس وجہ سے اشیائے خووردونوش کی بھی قلت پیدا ہوئی مگر کسی نہ کسی طرح گزارا ہوتا رہا۔

’ہم لوگ دو دن تک اس محفوظ مقام پر رہے اور اب ہمیں دریا کے پار پہنچایا گیا ہے۔ کچھ سیاح ابھی پیچھے ہیں اور کچھ آگے چلے گئے ہیں۔ ہمیں مشکلات کا سامنا تو ضرور کرنا پڑا مگر میرا خیال ہے کہ کسی کو کوئی نقصاں نہیں پہنچا ہے‘۔

محمد اسامہ کا کہنا تھا کہ انھوں نے مقامی آبادی کو سیاحتی پولیس کی مدد سے پلوں کی بحالی کے عمل میں بھی مصروف دیکھا

’اگر مقامی لوگ مدد کو نہ آتے اور ہمیں محٖفوظ مقامات پر منتقل نہ کیا جاتا تو بہت سارے سیاحوں کی زندگی کو خطرات لاحق ہو سکتے تھے۔ ہم جان بچانے کے لیے مقامی لوگوں کے مشکور ہیں‘۔