شہباز شریف کا خیبرپختونخوا کے سیلاب متاثرین کے لیے 10 ارب روپے کے ریلیف پیکج کا اعلان

وزیر اعظم شہباز شریف نے سوات کے سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کے دوران کہا کہ وفاقی حکومت نے سندھ کے لیے 15 ارب روپے گرانٹ، بلوچستان کے لیے 10 ارب روپے اور اب کے پی کے لیے بھی 10 ارب روپے گرانٹ کا اعلان کیا ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان می سیلاب سے 1162 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔

لائیو کوریج

  1. سیلاب کے حوالے سے لائیو کوریج کو نئے صفحے پر منتقل کیا جا رہا ہے!

    پاکستان میں سیلاب سے ہونے والی تباہی، امدادی سرگرمیوں اور جانی و مالی نقصان کے ازالے کے لیے ہونے والی کوششوں سے متعلق بی بی سی اردو کے اس لائیو پیج کو بند کیا جا رہا ہے۔

  2. سیلاب زدگان کی مدد جاری رہے گی، یوم دفاع کی تقریب ملتوی۔ آئی ایس پی آر

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستانی فوج کے شعبہِ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ سیلاب زدگان سے اظہار یکجہتی کے لیے چھ ستمبر کو جی ایچ کیو میں ہونے والی یوم دفاع کی مرکزی تقریب کو ملتوی کر دیا گیا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستانی فوج کے اہلکار سیلاب سے متاثرہ بھائی بہنوں کی خدمت میں مصروف رہیں گے۔

  3. بریکنگ, 24 گھنٹوں میں آٹھ بچوں سمیت مزید 27 افراد لقمۂ اجل بن گئے۔ این ڈی ایم اے

    flood

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کےدوران ملک بھر میں مزید 27 افراد سیلاب کے باعث ہلاک ہو گئے ہیں۔

    سو سے زیادہ ہلاکتیں صوبہ سندھ میں ہوئیں جہاں 15 افراد ہلاک ہوئے مرنے والوں میں آٹھ بچے شامل ہیں جن میں سے 7 کشمور میں ہلاک ہوئے۔

    سیلاب سے گذشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 87 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    اب تک 14 جون کے بعد سے ملک بھر میں سیلابی ریلوں اور اس سے ہونے والے نقصانات کے باعث مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 1191 ہو چکی ہے جبکہ ملک بھر میں 3641 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    مرنے والوں میں 399 اور زخمیوں میں 553 بچے شامل ہیں۔ این ڈی ایم سے کے مطابق سیلاب سے اب تک 11 لاکھ چھ ہزار سے زائد مکانات جزوی یا مکمل تباہ ہو چکے ہیں۔

    243 پل سیلابی ریلوں کی نذر ہو چکے ہیں جبکہ 5063 کلو میٹر سڑکیں تباہ ہوئی ہیں۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق ملک بھر میں سیلاب سے سات لاکھ 31 ہزار آٹھ سو سے زائد مویشی مارے گئے ہیں۔

  4. سیلاب سے صرف مویشی اور دستایویزات ہی بچا پائے, سحر بلوچ، جھڈو ٹاؤن، سندھ

    سیلاب
    سیلاب

    جھڈو ٹاؤن میں قائم کیمپ میں حیات خاسخیلی سے آنے والے لوگ پناہ لیے ہوئے ہیں۔ ان لوگوں کو گاؤں میں سیلابی پانی آنے کی وجہ سے نقل مکانی کرنا پڑی۔

    جھڈو ٹاؤن میں آنے والے یہ افراد اپنے گھر سے قیمتی سامان نہیں لا سکے۔ وہ صرف ضروری دستاویزرات اور مال مویشی ہی لا سکے۔

    اس جگہ پر سنہ 2010 کےسیلاب میں بھی کیمپ لگایا گیا تھا۔ اور انھوں نے اس وقت کے خیمے سنبھال کر رکھے تھے۔ زیادہ تر یہاں پر لوگ اپنی مدد آپ کے تحت قیام کر رہے ہیں۔

    کمیپ میں مقیم لوگوں کا کہنا ہے کہ انھیں اب تک جماعت اسلامی اور الخدمت فاؤنڈیشن کے لوگوں نے امداد مہیا کی ہے۔ یہاں لوگوں کو زخموں میں انفیکشن ہو رہے ہیں جس کے لیے انھیں دوائیں دی گئیں ہیں۔ اس کے علاوہ ایک فوجی ٹرک سے کچھ کھانے پینے کا سامان انھیں دیا گیا ہے۔

    بدین، سانگھڑ اور میرپور خاص میں سیلابی پانی کی نکاسی نہیں ہو سکی۔

    سندھ کے مختلف علاقوں سے تقریبا 50 ہزار افراد کراچی پہنچے ہیں۔ ان لوگوں کا تمام مال و اسباب سیلاب کی نذر ہوچکا ہے۔

    سیلاب
    سیلاب
  5. وزیر اعظم شہباز شریف کا خیبرپختونخوا کے لیے 10 ارب روپے کے ریلیف پیکج کا اعلان

    وزیر اعظم شہباز شریف نے خیبرپختونخوا کے سیلاب متاثرہ علاقوں کے لیے 10 ارب روپے کے ریلیف پیکج کا اعلان کیا ہے۔

    بدھ کو سوات کے دورے کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’وفاقی حکومت نے سندھ کے لیے 15 ارب روپے گرانٹ کا اعلان کیا۔ ہم نے بلوچستان کے لیے 10 ارب روپے گرانٹ کا اعلان کیا۔ کے پی میں بھی بہت نقصان ہوا ہے۔ آج میں کے پی کے لیے بھی 10 ارب روپے گرانٹ کا اعلان کرتا ہوں۔‘

    ’یہ رقم سیلاب متاثرین کی امداد اور بحالی کے لیے خرچ کی جائے گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ملک بھر میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے تمام وسائل استعمال کیے جائیں گے۔ شہباز شریف نے کہا کہ وفاقی حکومت، این ڈی ایم اے اور صوبائی انتظامیہ رابطے میں ہیں اور شفاف انداز میں رقم تقسیم کی جائے گی۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ سیلاب سے کپاس، چاول اور دیگر زرعی پیداوار کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ لگانے کے لیے سروے کیا جائے گا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  6. ملک بھر میں سیلاب سے پیدا ہونے والی صورتحال

    بیرون ملک مقیم پاکستانی سیلاب کے متاثرین کی مدد کے لیے کیا کر سکتے ہیں، اس کے علاوہ آج ملک بھر میں سیلاب سے پیدا ہونے والی صورتحال جانیے بی بی سی اردو کے فیس بک لائیو میں۔

  7. چار گراف جو پاکستان میں سیلاب کی صورتحال کا خلاصہ کرتے ہیں

    پاکستان سیلاب
    ،تصویر کا کیپشنپاکستان کی آبادی میں ہر سات میں سے ایک شخص کسی نہ کسی صورت میں سیلاب سے متاثر ہوا ہے
    پاکستان سیلاب
    ،تصویر کا کیپشندریائے سندھ بلوچستان اور سندھ کے صوبوں سے گزرتا ہے۔ رواں ماں کے اوائل اور اواخر کی دو الگ سیٹلائٹ تصاویر میں سیلاب سے متاثرہ علاقے دیکھے جاسکتے ہیں
    پاکستان سیلاب
    ،تصویر کا کیپشنسب سے زیادہ بارش سندھ میں ریکارڈ کی گئی جو 1961 سے 2010 کی اوسط سے کہیں زیادہ ہے
    پاکستان سیلاب
    ،تصویر کا کیپشنسندھ، بلوچستان، جنوبی پنجاب اور خیبر پخونخوا میں لاکھوں مکان و عمارتیں سیلابی ریلوں میں تباہ ہوگئی ہیں
  8. ’فوسل فیولز سے امیر ہونے والے ملک پاکستان میں سیلاب متاثرین کے نقصان کا ازالہ کریں‘

    سیلاب

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان میں سیلاب سے ہونے والی تباہی امیر ممالک کے لیے ایک یاددہانی ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کو روکنے کے لیے انھیں اقدامات تیز کرنا ہوں گے۔

    اس کا کہنا ہے کہ ریاستوں پر فرض ہے کہ وہ بین الاقوامی تعاون اور انسانی حقوق کے لیے کام کریں۔ ’پاکستان میں سیلاب سے جانی و مالی نقصان پر انھیں مدد کرنا ہوگی۔‘

    ایمنسٹی نے یہ بھی کہا کہ سیلاب ایک تنبیہ ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کیسے اثر انداز ہوتی ہے اور وہ ملک جو اس کے ذمہ دار ہیں انھیں ماحولیاتی تباہی کا ازالہ کرنا چاہیے اور جانی و مالی نقصان کی صورت میں مدد کرنی چاہیے۔

    ’امیر ممالک ماحولیاتی تبدیلی کے ذمہ دار ہیں۔ انھیں پاکستان میں سیلاب اور اس کے تباہ کن اثرات کے بعد تاریخی ناانصافی اور پاکستان جیسے کم اخراج والے ممالک کی مدد کرنی چاہیے۔‘

    ایمنسٹی انٹرنیشنل کے لیے پاکستان کی کیمپینر رمل محی الدین نے کہا کہ ’جن ریاستوں نے فوسل فیولز اور غیر مستحکم اقدامات سے خود کو امیر بنایا انھیں اب بین الاقوامی فریضہ ادا کرنا ہوگا۔ انھیں معاوضہ یا جانی و مال نقصان کے ازالے کے لیے پاکستان میں متاثرین کی مدد کرنا ہوگی۔‘

  9. سیلاب کی وجہ سے پاکستان میں سٹیل کی طلب میں کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں سیلاب کی وجہ سے سٹیل کی کھپت میں کمی واقع ہوئی ہے اور ملک میں سٹیل کی پیداوار کے ایک بڑے ادارے نے اپنا پلانٹ فی الحال بند کر دیا ہے۔

    پاکستان سٹاک ایکسچنج میں بھجوائے گئے ایک نوٹس میں ملک میں سٹیل کی پیداوار کی ایک بڑی کمپنی امریلی سٹیل نے کہا ہے کہ اس کا پلانٹ اگلے بیس دن اگست 31 سے لے کر 19 ستمبر تک بند رہے گا۔

    امریلی سٹیل کی جانب سے آگاہ کیا گیا کہ ملک میں سیلاب کی وجہ سے سٹیل کی طلب میں بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس کی وجہ سے اس کی سٹیل کی فروخت میں کمی واقع ہوئی ہے۔

  10. ’قدرت کا سیلاب ہماری ساری تیاریوں کے مقابلے زیادہ تھا‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    نوشہرہ دورے کے موقع پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ ’قدرت کا سیلاب ہماری ساری تیاریوں کے مقابلے زیادہ تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’نوشہرہ میں اچھی بات یہ ہوئی کہ کم از کم جو بند بنایا گیا اس سے لوگوں کی بڑی بچت ہوئی۔ بند کہیں کہیں کورٹ کیسز کی وجہ سے مکمل نہیں ہوسکا۔ جلد فیصلوں سے اس بند کو بھی پختہ کیا جائے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’چھت، دیواریں گرنے کے حوالے سے بھی رقم مختص کی گئی ہے۔

    ’دنیا اور پاکستانیوں سے اپیل کر رہا ہوں کہ دل کھول کر سیلاب متاثرین کے لیے امداد کریں۔‘

  11. کالام میں سیلاب سے سڑکیں تباہ: ’ہمیں پہاڑوں کے اوپر سے چڑھ کر آنا پڑ رہا ہے‘

  12. ’بالائی خیبرپختونخوا، مشرقی بلوچستان کے چند اضلاع میں بارش کا امکان‘

    پاکستان میں محکمہ موسمیات کے مطابق

    بدھ کے روز: ملک کے بیشتر میدانی علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا۔ تاہم کشمیر، گلگت بلتستان، بالائی خیبرپختونخوا اور مشرقی بلوچستان کے چند اضلاع میں گرج چمک کے ساتھ بارش ہوسکتی ہے۔

    جمعرات کے روز: ملک کے بیشتر میدانی علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا۔ تاہم کشمیر، گلگت بلتستان اور بالائی خیبرپختونخوا کے چند اضلاع میں گرج چمک کے ساتھ بارش ہوسکتی ہے۔

  13. چین سے امدادی سامان کے ساتھ طیارے کراچی پہنچ گئے

    امدادی سامان

    ،تصویر کا ذریعہPakistan's Foreign Office

    پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ چین سے دو طیارے امدادی سامان کے ساتھ کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچ گئے ہیں۔

    ’امدادی کارروائیوں کے لیے اب تک چار مرتبہ چینی پروازیں آچکی ہیں۔ ان میں تین ہزار ٹینٹ لائے گئے ہیں۔‘

    دفتر خارجہ نے چین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ چین نے مشکل کی اس گھڑی میں بروقت حمایت کی ہے۔

  14. بینکوں کے خلاف سیلاب کے متعلق عطیات قبول نہ کرنے کی شکایات گمراہ کن ہیں: سٹیٹ بینک

    سٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا ہے بینکوں کے خلاف سیلاب کے متعلق عطیات قبول نہ کرنے کی شکایات گمراہ کن ہیں۔

    سٹیٹ بینک کے ایک اعلامیے کے مطابق یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر کچھ ایسی شکایات گردش رہی ہیں جن کے مطابق خیبرپختونخوا اور پنجاب میں`سی ایم فلڈ ریلیف فنڈ` میں عوام سے عطیات قبول نہیں کیے جا رہے ہیں۔

    سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ اساس حوالے سے متعلقہ بینکوں نے آگاہ کیا ہے کہ ایسی شکایات بے بنیاد ہیں کیونکہ وہ تمام ممکنہ ذرائع (بشمول او ٹی سی کیش ٹرانزیکشن، آن لائن منتقلیوں اور بین الاقوامی اور مقامی کریڈٹ کارڈ منتقلیوں سمیت) سے 'سی ایم فلڈ ریلیف فنڈ' میں عطیات قبول کر رہے ہیں۔

    متعلقہ بینکوں نے اس بات کی تصدیق بھی کی ہے ان اکاؤنٹس میں روزمرہ بنیادوں پر خاصی تعداد میں ٹرانزیکشنز ہو رہی ہیں۔ بینکوں نے اس بات کی یقین دہانی بھی کروائی ہے کہ وہ سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد کے عظیم مقصد میں اپنا کردار ادا کرنے کی بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔

    امداد دینے والے افراد کو اگر اس حوالےسے کسی مشکل کا سامنا ہے تو وہ اپنی شکایات متعلقہ بینک کے پاس جمع کرا سکتے ہیں یا سٹیٹ بینک سےاس لنک پر رجوع کر سکتے ہیں۔

  15. انصار السلام کے 7 ہزار رضا کار کے پی میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف

    جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے صوبہ خیبر پختونخوا میں انصار االسلام کے سات ہزار رضا کار امدادی کاروائیوں میں عملی طور پر مصروف ہیں۔

    جے یو آئی ف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعیت کا مرکزی ریلیف کیمپ مفتی محمود مرکز پشاور میں قائم کیا گیا ہےگ

    بتایا گیا ہے کہ نوشہرہ، اور چارسدہ کے متاثرین میں روزانہ کی بنیاد پر صبح و شام 1500 خاندانوں کوخوراک کے ساتھ ساتھ دیگر ضروری اشیا کی تقسیم کا سلسلہ بھی جاری ہے نوشہرہ اور چارسدہ میں میڈیکل کمپ بھی قائم کیے گئے ہیں۔

    جماعت کا کہنا ہے کہ اب تک 100 سے زیادہ ٹرکوں پر مشتمل امدادی اشیائے ضروریہ، ادویات کمبل کپڑے برتن، چپل، صاف پانی نوشہرہ تنگی شبقدر چارسدہ، ، ڈیرہ ٹانک اورلکی مروت کوہستان چترال بھجوایا جا چکا ہے۔

  16. انڈیا سے خوراک لانے کے لیے دو سے زیادہ بین الاقوامی ایجنسیوں نے رابطہ کیا ہے: وفاقی حکومت

    وفاقی وزیر برائے فنانس اینڈ ریونیو مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ انڈیا سے خوراک کی منتقلی کی اجازت کے لیے ایک سے زیادہ بین الاقوامی ایجنسیوں نے پاکستان سے رابطہ کیا ہے۔

    اپنی ایک ٹویٹ میں وفاقی وزیر نے بتایا کہ ان ایجنسیوں نے زمینی راستے سے خوراک کی منتقلی کے لیے اجازت مانگی ہے۔

    وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ حکومت اتحادیوں اور سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے فیصلہ کرے گی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  17. پاکستان کے وزیراعظم کا دورہ سوات، متاثرین کے لیے 25 ہزار روپے فی کس امداد کا اعلان

    پاکستان کے وزیراعظم سیلاب سے متاثرہ صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کا دورہ کر رہے ہیں۔ انھوں نے خیبرپختونخوا میں سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے 25 ہزار روپے فی کس کی فراہمی کی مد میں وفاق کی جانب سے 10 ارب روپے کااعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اتحادی حکومت آخری متاثرہ فرد کی بحالی تک اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

    وزیراعظم نے کہا ہے کہ وہ امدادی آپریشن کی نگرانی خود کریں گے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت 28 ارب روپے این ڈی ایم اے اور بی آئی ایس پی کے ذریعے دے رہی ہے۔

    `سندھ و بلوچستان میں 25 ہزار روپے فی خاندان کے حساب سے تقسیم جاری ہے۔ سندھ کے لیے 15 ارب اور بلوچستان کے لیے 10 ارب روپے فراہم کیے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے فی کس اور زخمیوں کو تین لاکھ روپے دے رہے ہیں۔‘

    وزیراعظم نے نے خیبر پختونخوا کے لیے 10 ارب روپے فراہم کرنے کا اعلان کیا تا کہ این ڈی ایم اے کے ساتھ مل کر یہ رقم متاثرین میں تقسیم ہو۔

    انھوں نے کہا کہ `متحدہ عرب امارات سے 50 ملین ڈالر مالیت کے سامان کی پہلی کھیپ کے طور پر دیا جارہا ہے۔ امریکا نے 30 ملین ڈالر امداد کا اعلان کیا ہے۔ این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے کے ساتھ مل کریہ امداد تقسیم کررہی ہے۔‘

    اے پی پی کے مطابق وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ اپر سوات کالام میں فتح پور سے بحرین تک 18 کلومیٹر سڑک کو نقصان پہنچا، 59 ہوٹل تباہ ہوئےجبکہ 20 سے 25 ہوٹل جزوی متاثر ہوئے۔ کمراٹ سے 500 سے 700 سیاح جبکہ کالام سے 1400 سے 1500 سیاح نکالے گئے۔مٹلٹان میں ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر کام کرنے والے 150 مزدوروں کو نکالا گیا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  18. وزیراعظم کی ہدایت پر کالام میں پھنسے سیاحوں کو نکالنے کے لیے ہیلی کاپٹر فراہم

    SAHBAZ

    ،تصویر کا ذریعہPM OFFICE

    وزیر اعظم شہباز شریف کی کالام پہنچتے ہی فوری ہنگامی کارروائیاں پھنسے سیاحوں کو نکالنے کے لیے فوری ہیلی کاپٹر فراہم کرا دیا گیا ہے۔

    وزیراعظم ہاؤس کے مطابق وزیراعظم کی ہدایت پر کالام میں پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کا ہنگامی آپریشن جاری ہے۔

    وزیراعظم کی سیاحوں اور پھنسے لوگوں کو فوری محفوظ مقام پر پہچانے کا کام مزید تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    وزیر اعظم نے ٹوٹی سڑکوں کی ہنگامی بنیادوں پہ بحالی کا ٹاسک فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن، ایف ڈبلیو او کے حوالے کر دیا ہے اور کہا ہے کہ سارے کام کی خود نگرانی کروں گا۔

  19. 24 گھنٹوں میں 550 افراد ریسکیو، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 29 ٹن راشن تقسیم

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ملک بھر میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے 140 سے زیادہ ریلیف آپریشنز کیے گئے ہیں۔

    فوجی ہیلی کاپٹروں کی مدد سے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 29 ٹن راشن اور امدادی اشیا متاثرہ علاقوں تک پہنچائی گئیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق فوج نے متعدد میڈیکل کیمپس میں 5213 سے زائد بیمار افراد کو طبی امداد فراہم کی گئی۔

    اس کے علاوہ فوج نے مختلف مقامات پر 224 سے زیادہ ریلیف آئٹمز کے لیے کولیکشن پوائنٹس بنائے گئے ہیں۔

  20. ضلع قمبر کے قریبی دیہات سے 150 لوگ کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات تک پہچائے گئے

    ایدھی فاؤنڈیشن پاکستان کی بحری خدمات کی ٹیم نے ڈسٹرکٹ قمبر کے قریبی دیہات سے 150 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔

    نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق ضلع قمبر کے قریب عاچھی۔ ماچھی، اور دور دراز گاؤں جہاں سیلابی ریلوں میں محصور کئی خاندانوں جن میں خواتین بچوں اور مردوں سمیت 150 سے زائد افراد شامل ہیں کو ایدھی بوٹس کے ذریعے محفوظ مقام منتقل کر دیا گیا ہے۔