پنجاب کے دریاؤں میں سیلاب کی پیشگوئی، پی ڈی ایم اے کا الرٹ

پاکستان کے صوبے پنجاب کے تین دریاؤں میں سیلاب کے ممکنہ خطرے کے پیش نظر مخصوص علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا کہا گیا ہے۔ تحریک انصاف رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ان کی جماعت سیلاب زدگان کے لیے جمع کردہ فنڈز کے استعمال کے لیے ایک مشترکہ منصوبہ بندی کی خواہش مند تھی۔

لائیو کوریج

  1. سیلاب کے حوالے سے لائیو کوریج کو نئے صفحے پر منتقل کیا جا رہا ہے!

    پاکستان میں سیلاب سے ہونے والی تباہی، امدادی سرگرمیوں اور جانی و مالی نقصان کے ازالے کے لیے ہونے والی کوششوں سے متعلق بی بی سی اردو کے اس لائیو پیج کو بند کیا جا رہا ہے۔

  2. گھر سے ٹینٹ تک: ’شرم آتی ہے اور ڈر بھی لگتا ہے‘

  3. سبسڈی اور زرعی قرضوں کی مدد سے حکومت زمینداروں کے نقصانات کا ازالہ کرے گی: وزیراعلیٰ بلوچستان

  4. سیلاب سے نمٹنے کے فیصلوں پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا، وزیر اعلی سندھ

    وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے صوبے میں سیلاب سے نمٹنے کے لیے فیصلہ سازی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ حکومت پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔

    مراد علی شاہ کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران بات کر رہے تھے جہاں انھوں نے پانی کی نکاسی اور شگاف ڈالنے کے فیصلوں کا بھرپور دفاع کیا۔

    انھوں نے بتایا کہ ’دریا کے قریب علاقوں سے پانی نکالنے کے لیے پمپ کرنا پڑے گا۔ صرف رائٹ بینک پر سات سے آٹھ لاکھ ایکڑ فٹ پانی موجود ہے لیکن اس میں کمی آئی ہے۔ مختلف شہروں میں پانی کھڑا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’پانی نکالنے کا، کٹ لگانے کا فیصلہ محکمہ اریگیشن کرتا ہے، کوئی اور نہیں۔‘

    وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ ’غیر دانستہ غلطی ہو سکتی ہے لیکن کوئی سندھ حکومت پر انگلی نہیں اٹھا سکتا کہ ہم نے غلط فیصلے کیے۔‘

    ’ہر فیصلہ فوجی انجینیئرز اور اریگیشن محکمے سے مل کر لیا گیا۔ ایک بار فیصلہ کیا گیا تو اس پر عمل کرنے میں پورا دن بھی نہیں لگا۔ ہماری دعا ہے اور برسات نہ ہو۔ ہماری کوشش ہے کہ کوئی نیا علاقہ نہ ڈوبے۔‘

  5. سیلاب فنڈز کے استعمال پر مشترکہ منصوبہ بندی چاہتے تھے، فواد چوہدری

    فواد چوہدری

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    تحریک انصاف رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ان کی جماعت سیلاب زدگان کے لیے جمع کردہ فنڈز کے استعمال کے لیے ایک مشترکہ منصوبہ بندی کی خواہش مند تھی۔

    تاہم انھوں نے شکایت کی کہ اب تک وفاقی حکومت کی جانب سے عدم دلچسپی کا اظہار کیا گیا ہے اور کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

    انھوں نے بتایا ہے کہ سابق وزیر اعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان آج سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کیلئے پنجاب میں تونسہ جائیں گے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  6. پنجاب کے دریاؤں میں سیلاب کی پیشگوئی، پی ڈی ایم اے کا الرٹ, عمر دراز ننگیانہ، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    پاکستان کے صوبے پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے نے خبردار کیا ہے کہ انڈیا میں موس سون بارشوں کی وجہ سے پنجاب کے تین دریاؤں میں سیلاب کے خطرے کے پیش نظر مخصوص علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ محکمہ موسمیات کے مطابق انڈیا کی ریاست مدھیہ پردیش کے وسطی حصوں میں مون سون 17 ستمبر سے بالائی کیچمنٹ کو متاثر کر سکتا ہے۔

    بیان کے مطابق مون سون سے دریائے راوی،چناب اور ستلج کے بالائی کیچمنٹ ایریاز متاثر ہو سکتے ہیں اور ان دریاؤں کے ندی نالوں میں پانی کی سطح بلند ہو سکتی ہے۔

    پی ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ دریاؤں سے منسلک ندی نالوں میں پانی کی سطح بلند ہونے سے سیلاب آ سکتا ہے اس لیے راوی، ستلج اور چناب سے منسلک اضلاع ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیاریاں مکمل کریں۔

    پی ڈی ایم اے نے تاکید کی ہے کہ دریاؤں اور ندی نالوں کے قریب آبادیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے مناسب انتظامات کیے جائیں۔

  7. گڈو بیراج اور سکھر بیراج نارمل جبکہ کوٹڑی پر اونچے درجے کا سیلاب برقرار

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت سیلابی صورتحال اور راشن کی تقسیم، متاثرین کو کھانے پینے کی سہولیات، پانی کی نکاسی سے متعلق صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

    اجلاس میں وزیر صحت، وزیر اطلاعات، مشیر زراعت، وزیر ایکسائیز، وزیر لائیواسٹاک، مشیر قانون، مشیر ری-ہیبلی ٹیشن، چیف سیکریٹری، پرنسپل سیکریٹری، کور فائیو، انجنئرنگ کور، نیوی اور ایئرفورس کے نمائندہ اور وزیر آبپاشی بذریعہ وڈیو لنک اجلاس میں شریک ہوئے۔

    وزیر آبپاشی جام خان شورو اور سیکریٹری آبپاشی نے وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ:

    • گڈو بیراج اور سکھربیراج نارمل ہیں اور کوٹڑی پر اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے
    • منچھر جھیل کی صورتحال کل 122.75 آر ایل تھی اور آج 122.50 آر ایل ہے
    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    دریا کی رائیٹ بینک پوزیشن کے متعلق بتایا گیا کہ:

    • میہڑ اور خیرپور ناتھن شاہ پر پانی کی سطح کم ہو رہی ہے
    • میہڑ کے پاس 1 فوٹ اور کے این شاہ پر 6 فوٹ پانی کم ہوا ہے
    • ایم این وی میں آر ڈی 30 پر پانی 3 فوٹ کم ہوا ہے
    • انڈس لنک کے پاس 45 آر ڈی پر پانی ایک فوٹ کم ہوا ہے
    • بھان سعید آباد کے پاس رنگ بند کا کام مکمل ہو گیا ہے
    • ایل بی او ڈی کی کیچمنٹ ایریا میں کل بارش ہوئی ہے
    • بارشوں کی 14 ستمبر تک پیشگوئی ہے
    • آر ڈی 210 این آئی پی اسپائنل ڈرین پر کافی دباؤ ہے
  8. سیلاب سے ریلوے کے انفراسٹرکچر کو اربوں کا نقصان پہنچا: وزیر ریلوے

    پاکستان کے وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ بلوچستان اور سندھ میں سیلاب سے ریلوے کے انفراسٹریکچر کو اربوں کا نقصان پہنچا ہے۔

    سکھر میں سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ سیلاب سے ریلوے کے انفراسٹریکچر کو اربوں کا نقصان پہنچا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ نقصان کا اصل تخمینہ متاثرہ علاقوں سے پانی اترنے کے بعد ہی لگایا جا سکے گا لیکن یہ اربوں میں ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ریلوے کے سول انجنیئرنگ محکمہ کو کراچی لاہور ریلوے لائن کو فوری بحال کرنے کا کہا ہے لیکن اس میں وقت لگے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں اب بھی پانی ریلوے ٹریک پر کھڑا ہے اور بعض مقامات میں پانی پشتوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ پانی اترنے کے بعد ہی ٹریک کی بحالی کا کام ہو سکے گا۔

    انھوں نے کہا کہ اس کے لیے چینی کمپنی کی خدمات کی جا رہی ہیں اور ریلوے کے ایم ایل ون پر بھی کام شروع کیا جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ آیندہ چند روز میں مال بردار ریلوے آپریشن شروع کر دیا جائے گا جبکہ مسافر ٹرین آپریشن میں چند ہفتے لگ سکتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ سیلاب سے ریلوے کا مجموعی نقصان اربوں میں ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرہ علاقوں کے دورے کے موقع پر طویل بات کرنا مناسب نہیں مگر وہ اپنے الفاظ ہی واپس لے رہے ہیں۔

  9. پاکستان میں سیلاب: سندھ کے ضلع خیرپور میں گذشہ 24 گھنٹوں میں 44 افراد ہلاک

    Floods

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے صوبہ سندھ میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 44 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

    صوبے میں مجموعی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 638 تک پہنچ چکی ہے جبکہ آٹھ ہزار تین سو سے زیادہ افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

    حالیہ سیلاب کے باعث سندھ کے ضلع لاڑکانہ میں 80 فیصد مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔

    حالیہ سیلاب سے سندھ کی ایک کروڑ پانچ لاکھ 48 ہزار سے زیادہ آبادی متاثر ہوئی ہے۔

    قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے کے مطابق 12 ستمبر سے 15 ستمبر کے دوران سندھ کے اضلاع تھرپارکر، عمرکوٹ، بدین، سانگھڑ، خیرپور اور میر پور خاص میں شدید بارش متوقع ہے جبکہ حیدر آباد ، ٹنڈو اللہ یار، مٹیاری، جامشور، ٹنڈو محمد خان، سجاول اور ٹھٹہ کے اضلاع میں 12 سے 14 ستمبر کے درمیان شدید بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

  10. حکومت نے سیلاب متاثرین کے لیے عطیات جمع کرنے کی راہ میں روڑے اٹکانے کی کوشش کی، عمران خان کا الزام

    سابق وزیراعظم عمران خان نے موجود حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت نے انھیں اور ان کی جماعت کو نشانہ بنانے کے لیے سیلاب متاثرین کے لیے عطیات جمع کرنے کی راہ میں روڑے اٹکانے کی کوشش کی ہے۔

    انھوں نے ٹویٹ کیا کہ ’امپورٹڈ حکومت اور ان کے سرپرستوں نے گذشتہ شب سیلاب متاثرین کے لیے عطیات جمع کرنے کے حوالے سے منعقدہ میری ٹیلی تھون کی نشریات رکوا کر نئی سطح تک گراوٹ کا مظاہرہ کیا ہے۔‘

    انھوں نے لکھا ’پہلے انھوں نے چینلز پر ٹیلی تھون نہ دکھانے کے حوالے سے دباؤ ڈالا۔ اس کے باوجود جب چند چینلز نے نشریات جاری رکھیں تو انھوں نے کیبل آپریٹرز کو دھمکایا۔‘

    عمران خان کا کہنا ہے کہ ’اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قوم میں ہماری بڑھتی ہوئی مقبولیت سے یہ کس قدر خوفزدہ ہیں۔ انھیں یہ بھی عِلم ہے کہ لوٹ مار کی طویل تاریخ کے باعث پیسوں کے معاملے میں کوئی ان پر اعتماد کو تیار نہیں۔ چنانچہ مجھے اور میری جماعت کو نشانہ بنانے کے لیے انھوں نے سیلاب متاثرین کے لیے عطیات جمع کرنے کی راہ میں روڑے اٹکانے کی کوشش کی۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ یہ بے حسّی ناقابلِ تصوّر ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس سب کے باوجود ہم محض دو گھنٹوں میں 5.2 ارب روپے جمع کرنے میں کامیاب رہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  11. ’حکومت پاکستان اور این ڈی ایم اے کو برطانیہ سے آٹے کے تھیلوں پر مشتمل کوئی امداد موصول نہیں ہوئی‘ این ڈی ایم اے

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    پاکستان میں قومی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے نے ایک وضاحت جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ سے ملنے والے آٹے کے تھیلوں کی فروخت کے بارے میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

    این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان اور این ڈی ایم اے کو برطانیہ سے آٹے کے تھیلوں پر مشتمل کوئی امداد موصول نہیں ہوئی ہے۔

    twitter

    ،تصویر کا ذریعہtwitter

    اتوار کے روز ایڈوکیٹ اظہر صدیقی نے ایک کریانہ سٹور پر آٹے کے تھیلے (جس پر یو کے ایڈ یعنی برطانیہ کی جانب سے امداد لکھا تھا) کی تصویر شئیر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جو امداد فروخت نہیں کی جا سکتی اسے سندھ کے جنرل سٹور پر بیچا جا رہا ہے۔

    اس کے بعد سندھ حکومت پر تنقید شروع ہو گئی کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے زیرِ قیادت سندھ حکومت برطانیہ سے سیلاب متاثرین کے لیے ملنے والی امداد یعنی آٹے کے تھیلے مقامی سٹورز میں فروخت کررہی ہے۔

    اوپر دی گئی فیک تصویر جسے اب تک 7500 سے زیادہ مرتبہ ری ٹویٹ کیا جا چکا ہے دراصل 2014 میں انڈیا میں لی گئی تھی مگر سندھ حکومت اور این ڈی ایم کی وضاحت کے باوجود ابھی تک اسے شئیر کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

    این ڈی ایم کی وضاحت سے قبل چیف منسٹر ہاؤس سندھ نے بھی اسے ایک من گھڑت سوشل میڈیا پوسٹ قرار دیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’برطانیہ اس پروگرام کا حصہ نہیں ہے اور انھوں نے گندم کا آٹا فراہم نہیں کیا ہے۔ امدادی کاموں کو کمزور کرنے، بدنام کرنے اور حقیقی خدمات سے توجہ ہٹانے کے لیے سیاسی طور پر پروپیگنڈا پھیلایا جا رہا ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 3

  12. پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی سے لاحق خطرات سفارتکاری کا محور کیوں نہ بن سکے؟

  13. متاثرہ علاقوں میں وبائی امرض کے پھیلنے کا خدشہ ہے: ڈاکٹر بہار شاہ

    Outbreak

    ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ نصیرآباد ڈویژن میں میڈیکل کیمپوں کا انعقاد

    ملیریا اور دیگر امراض کے حوالے سے نصیر آباد ڈویژن میں صورتحال تشویشناک ہے،

    وائس چیئر مین وائ ڈی اے بلوچستان ڈاکٹر بہار شاہ کا کہنا ہے کہ حالیہ بارشوں کے بعد سیلابی صورتحال نے جہاں ہر طرف تباہی مچادی ہے وہاں متاثرہ علاقوں میں وبائی امرض کے پھیلنے کا خدشہ ہے۔

    ان کے مطابق نصیرآباد ڈویژن میں حالات کافی خراب ہیں۔ حکومت وقت کو خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ نصیرآباد ڈویژن میں ملیریا کا آوٹ بریک ہوچکا ہے، جو 'آوٹ بریک انکیوبیشن' کا عرصہ ختم ہونے پر سات سے آٹھ دنوں میں مزید خطرناک صورتحال اختیار کرسکتا ہے۔

    ڈاکٹر بہار شاہ کے مطابق خدشہ ہے کہ آئندہ دس دنوں میں ملیریا کے کیسز میں خطرناک حد تک اضافہ ہوسکتا جس کو کنٹرول کرنا ڈسٹرکٹ ہسپتالوں کے بس کی بات نہیں ہوگی۔

    ڈاکٹر بہار شاہ کی حکومت کو تجاویز

    1- نصیرآباد ڈویژن میں ملیریا سے بچاؤ کے لیے بروقت انتظامات کیے جائیں

    2- نصیرآباد ڈویژن میں تمام افراد کو اینٹی ملیریل ادوایات کی پروفیلیکسس ڈوز دی جائے

    3- علاقے میں مچھرمار سپرے کرایا جائے، لوگوں کو مچھر دانیاں مہیا کی جائیں

    4- مضرصحت پانی کے استعمال کی وجہ سے علاقے میں ہیضہ کے کیسز میں اضافہ ہورہا 5- ہے جس کا بروقت تدارک کرنا ناگزیر ہے

    6- بلوچستان حکومت وقت اور غیرسرکاری تنظیمیں نصیرآباد ڈویژن کے ہسپتالوں میں انسانی وسائل سمیت اینٹی ملیریا کے علاوہ ہیضہ اور جلدی امراض سے بچاؤ کی ادویات فراہم کریں

  14. مراد علی شاہ: سندھ میں زراعت کو 350 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے

    وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ صوبے میں بارشوں اور سیلابی صورتحال کے باعث زرعی شعبے کو اندازاً 350 ارب روپے اور مویشی بانی کے شعبے کو تقریباً 50 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔

    کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ اس وقت صوبے میں تقریباً سوا کروڑ لوگ بے گھر ہیں جبکہ حکومتِ سندھ کے پاس موجود خیمے اور دیگر ملکی اور بین الاقوامی اداروں سے ملنے والے خیمے مل کر بھی دو لاکھ تک نہیں پہنچے ہیں۔

    وزیرِ اعلیٰ نے بتایا کہ اُنھوں نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گتیریس سے بھی کہا ہے کہ حکومت کو پیسوں کے بجائے ادویات، خیمے اور مچھردانیاں فراہم کی جائیں۔

    مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ پورے سندھ میں معمول سے تقریباً 10 سے 11 گنا زیادہ بارش پڑی ہے اور دریائی سیلاب بھی کافی بلند رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے پروگرام میں متاثرین کی جلد از جلد بحالی، آبپاشی اور نکاسی آب کے نظام کو مزید مضبوط کرنا اور ربیع کی فصل کی تیاری کرنا شامل ہے۔

  15. انتونیو گتیریس: کبھی اتنے بڑے پیمانے پر موسمیاتی تباہی نہیں دیکھی

    اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گتیریس نے کہا ہے کہ میں نے آج تک اتنے بڑے پیمانے پر موسمیاتی تباہی نہیں دیکھی جتنی کہ پاکستان میں سیلاب کے باعث ہوئی ہے۔

    اُنھوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ایسے وقت میں جب ہمارا کرّہ ارض گرم ہو رہا ہے تو تمام ممالک موسموں کے باعث وہ نقصانات اٹھا رہے ہیں جن سے نمٹنا ان کے بس کی بات نہیں ہے۔

    اُنھوں نے لکھا کہ یہ ایک عالمی بحران ہے اور عالمی ردِ عمل چاہتا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  16. ’پاکستان ماحولیاتی آلودگی کا ذمہ دار نہیں مگر دوسروں کی پیدا کردہ آلودگی کا شکار ہے‘

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریاں ہولناک ہیں اور پاکستان دوسرے ملکوں کی پیدا کردہ آلودگی سے براہ راست متاثر ہو رہا ہے۔

    ہفتے کو وزیراعظم محمد شہباز شریف اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے لاڑکانہ میں سیلاب سے متاثرہ کیمپ کا دورہ کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’سیلاب سے ہونے والے نقصانات پورے کرنا اکیلے پاکستان کے وسائل سے ممکن نہیں۔ ’دنیا کی ذمہ داری ہے کہ اس مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دے۔‘

    اس موقع پر وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل یہاں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی صورتحال دیکھنے آئے ہیں۔ ’اس ہولناک سیلاب میں 1300 سے زائد لوگ جاں بحق ہوئے، ہزاروں زخمی ، لاکھوں گھر تباہ ہوئے، بڑے پیمانے پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا ، سندھ میں سب سے زیادہ تباہی ہوئی ہے، ہر طرف پانی ہی پانی ہے، اقوام متحدہ کے سیکرٹری متاثرین سے ہمدردی کیلئے یہاں آئے ہیں، آپ کی مشکلات اور تکالیف کا ادراک ہے، وفاقی اور صوبائی حکومت مل کر آپ کی خدمت میں حاضر ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے 25 ہزار روپے فی خاندان متاثرین میں تقسیم کیے جا رہے ہیں، اس کے لیے وفاق 70 ارب روپے فراہم کر رہا ہے۔‘

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ ’اقوام متحدہ کی جانب سے اس اندوہناک سانحہ پر آپ سب سے یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں، ماضی میں مون سون کے دوران مختلف ممالک میں بارشیں دیکھی ہیں، ترقی یافتہ ممالک نے ماحولیات کو آلودہ کردیا ہے، صنعتوں کی وجہ سے آلودگی نے کرہ ارض کی حدت میں بڑی حد تک اضافہ کردیا ہے، گلیشیئرز تیزی سے پگل رہے ہیں جس سے سیلاب آ رہے ہیں، اسی صورتحال کا سامنا پاکستان کو بھی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ پاکستان اس ماحولیاتی آلودگی کا ذمہ دار نہیں ہے لیکن دوسرے ممالک کی پیدا کردہ آلودگی کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال ملک کو بڑے پیمانے پر مدد کی ضرورت ہے۔ ’وہ آلودگی کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیوں کا شکار ہے، سیلاب متاثرین کی بحالی اور تعمیر نو کے مرحلے گھروں کی تعمیر، کاشتکاروں کے نقصان کے ازالے کیلئے اسے بڑے وسائل کی ضرورت ہے تاہم اکیلا پاکستان اتنے وسائل نہیں رکھتا کہ وہ اس کا ازالہ کر سکے ، جن ممالک نے یہ حالات پیدا کیے یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس صورتحال سے نکلنے میں پاکستان کی مدد کریں۔‘

    سیکریٹری جنرل نے کہا کہ آلودگی کا باعث بننے والے ممالک فطرت کے خلاف اپنی جنگ بند کریں۔ ’یہ کسی طور پر مناسب نہیں ہے ، موسمیاتی تبدیلیوں کے حالات کا سبب بننے والی آلودگی کو روکیں۔‘ انھوں نے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں جو آواز پاکستان کی ہے وہی اقوام متحدہ کی بھی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہمیں موجودہ صورتحال سے پیدا شدہ مسائل اور تکالیف کا احساس ہے، اس کے لیے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے بھرپور آواز اٹھائیں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ دیہی علاقے اور آباؤ اجداد کے کاشتکاری کے شعبہ سے وابستہ ہونے کے ناطے وہ کاشتکاروں کے ہونے والے نقصان کو سمجھتے ہیں۔ انھوں نے دعا کی کہ کوئی ایسا معجزہ ہو جائے کہ آپ کے تمام نقصانات کا ازالہ ممکن ہو۔

  17. ’سیلاب متاثرہ علاقے میں بچے کی پیدائش امید کی نشانی ہے‘

    وزیر اعظم شہباز شریف نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں بتایا کہ ’اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ہمراہ سیلاب سے متاثرہ پناہ گاہوں کا دورہ کرتے ہوئے آج بلوچستان میں ہماری ملاقات ایک ایسے خاندان سے ہوئی جسے اللہ تعالیٰ نے ایک رات پہلے ایک بچے سے نوازا تھا۔

    ’میں نے اس پیدائش کو ایک انسانی المیے کے درمیان امید، تخلیق نو اور تجدید کی علامت کے طور پر دیکھا۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  18. سیکریٹری جنرل اقوامِ متحدہ انتونیو گوتیرس اسلام آباد سے سکھر کے لیے روانہ

    Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہPID

    سیکرٹری جنرل اقوامِ متحدہ انتونیو گوتریس اسلام آباد سے سکھر کے لیے روانہ ہو گئے ہیں، جہاں وہ حالیہ سیلاب سے ہونے والی تباہی کا جائزہ لیں گے۔ ان کے ہمراہ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیرخارجہ بلاول بھٹو بھی ہیں۔

    انتونیوگوتیرس گذشتہ روز پاکستان پہنچے تھے اور انھوں نے وزیراعظم پاکستان کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان کو بہت زیادہ مالی مدد کی ضرورت ہے۔ اندازوں کے مطابق یہ نقصان 30 بلین ڈالر کے قریب ہے۔

    عالمی برادری سے پاکستان کے لیے اپیل کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مالی مدد کے علاوہ قرضوں کی شکل میں مدد فراہم کی جائے۔

  19. بریکنگ, پاکستان کو بہت زیادہ مالی مدد کی ضرورت ہے: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا دنیا کو پیغام

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے وزیراعظم کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران دنیا کو پیغام دیا ہے کہ پاکستان کو بہت زیادہ م مالی مدد کی ضرورت ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کے عوامل میں پاکستان کا کردار کم ہے لیکن یہ سب سے زیادہ اس سے متاثر ہوا ہے۔

    عالمی برادری سے پاکستان کے لیے اپیل کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مالی مدد کے علاوہ قرضوں کی شکل میں مدد فراہم کریں۔

    `پاکستان کو اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے بہت زیادہ مالی امداد کی ضرورت ہے، اندازوں کے مطابق یہ 30 بلین ڈالر کے قریب ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ کل کسی اور ملک میں بھی ایسی صورتحال کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے جسے پاکستان متاثر ہوا ہے اس سے پہلے کبھی کوئی ملک نہیں ہوا۔

    پاکستان وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا شکریہ ادا کیا اور یقین دلایا کہ `ہم جو بھی مدد حاصل کریں گے آپ کے ادارے سے یا آپ کے توسط سے میں کہنا چاہتا ہوں کہ ہم اس کی ایک ایک پائی شفاف انداز میں متاثرین پر لگائیں گے۔‘

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان جیسی صورتحال کل کسی اور بھی ملک میں پیش آ سکتی ہے اس لیے ہمیں ابھی سے ہی کچھ کرنا ہو گا۔

  20. بریکنگ, اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو سیلاب کی تباہ کاریوں کے حوالے سے بریفنگ

    پاکستان کے دورے پر آئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گویریس کو پاکستانی حکام کی جانب سے ملک میں آنے والے سیلاب اور اس کی تباہ کاریوں کے حوالے سے بریفنگ دی جا رہی ہے۔

    اسلام آباد میں نیشنل فلڈ رسپانس کوارڈینیشن سینٹر میں بریفنگ دی جا رہی ہے۔

    اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف بھی ان کے ہمراہ موجود ہیں۔

    انتونیو گویریس نے کہا کہ سیلاب ایک قدرتی آفت ہے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مزید اقدامات کرنے ہوں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین سے اظہار یکجہتی کے لیے پاکستان آیا ہوں۔

    وفاقی وزیر احسن اقبال نے اس موقع پر بتایا کہ سیلاب سے فصلوں اور لائیو سٹاک کو نقصان پہنچا ہے اور وفاقی و صوبائی حکومتیں لوگوں کی امداد اور بحالی میں مصروف ہیں۔

    بریفنگ کے دوران میجر جنرل ظفر اقبال نے بتایا گیا کہ پاکستان کے ایک تہائی حصے میں سیلاب آیا ہے۔ سندھ میں ابھی بھی ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ 40 لاکھ ایکڑ اراضی پر فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔