سبسڈی اور زرعی قرضوں کی مدد سے حکومت زمینداروں کے نقصانات کا ازالہ کرے گی: وزیراعلیٰ بلوچستان

،تصویر کا ذریعہBalochistan Govt
وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے بلوچستان زمیندار ایکشن کمیٹی کے وفد سے ملاقات کی ہے۔
صوبائی وزیر زراعت میراسداللہ بلوچ ، چیئرمین زمیندار ایکشن کمیٹی ملک نصیر احمد شاہوانی اور اراکین صوبائی اسمبلی بھی اس ملاقات میں شریک ہوئے۔وفد کی جانب سے وزیراعلیٰ کو سیلابی بارشوں سے ہونے والے نقصانات پر بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایک اندازے کے مطابق سیلابی بارشوں سے صوبے کو 300 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔ چونکہ زرعی شعبہ کو پہنچنے والا نقصان بہت زیادہ ہے۔ اس لیے زمینداروں کے نقصانات کے ازالے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔
بریفنگ میں کیا گیا کہ نقصانات کے ازالے کے سروے میں زمینداروں کی نمائندگی بھی ہونی چاہیے۔ اورمتاثرہ علاقوں میں وفاقی حکومت سے زمینداروں کے بجلی کے بل معاف کرنے چاہییں۔
اس موقعے پر وزیر اعلی نے کہا کہ ’ہم نے صرف متاثرین کی امداد ہی نہیں بلکہ بحالی بھی کرنی ہے۔ حکومت محدود وسائل کے باوجود متاثرین کی امداد اور بحالی میں سرگرم عمل ہے۔ پی ڈی ایم اے اور انتظامیہ متاثرہ علاقوں میں بھرپور انداز سے امدادی کاروائیاں کر رہی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ نصیر آباد ڈویژن سے شکایت آنے پر وہاں کی انتظامیہ کو تبدیل کیا گیا۔ ہم وفاق میں سیلاب متاثرین کی امداد و بحالی کےلیے مضبوط موقف اپنائیں گے اور حکومت زمینداروں کے نقصانات کا ازالہ کرے گی۔ ‘
وزیرِ اعلی نے کہا کہ امداد اور بحالی کے کاموں میں کسی کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔ صوبائی حکومت کھاد اور زرعی بیجوں پر کسانوں کو سبسڈی فراہم کرے گی۔ اور زرعی قرضے کے لیے وفاقی حکومت سے بات چیت کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ زمینداروں کے تمام مطالبات حل کیے جائیں گے۔















