سبسڈی اور زرعی قرضوں کی مدد سے حکومت زمینداروں کے نقصانات کا ازالہ کرے گی: وزیراعلیٰ بلوچستان

وزیر اعلی بلوچستان نے زمیندار ایکشن کمیٹی کے وفد سے ملاقات میں کہا ہے کہ کہ 'ہم نے صرف متاثرین کی امداد ہی نہیں بلکہ بحالی بھی کرنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کھاد اور زرعی بیجوں پر کسانوں کو سبسڈی فراہم کرے گی اور زرعی قرضے کے لیے وفاقی حکومت سے بات چیت کی جائے گی۔

لائیو کوریج

  1. سبسڈی اور زرعی قرضوں کی مدد سے حکومت زمینداروں کے نقصانات کا ازالہ کرے گی: وزیراعلیٰ بلوچستان

    بلوچستان

    ،تصویر کا ذریعہBalochistan Govt

    وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے بلوچستان زمیندار ایکشن کمیٹی کے وفد سے ملاقات کی ہے۔

    صوبائی وزیر زراعت میراسداللہ بلوچ ، چیئرمین زمیندار ایکشن کمیٹی ملک نصیر احمد شاہوانی اور اراکین صوبائی اسمبلی بھی اس ملاقات میں شریک ہوئے۔وفد کی جانب سے وزیراعلیٰ کو سیلابی بارشوں سے ہونے والے نقصانات پر بریفنگ دی گئی۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایک اندازے کے مطابق سیلابی بارشوں سے صوبے کو 300 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔ چونکہ زرعی شعبہ کو پہنچنے والا نقصان بہت زیادہ ہے۔ اس لیے زمینداروں کے نقصانات کے ازالے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

    بریفنگ میں کیا گیا کہ نقصانات کے ازالے کے سروے میں زمینداروں کی نمائندگی بھی ہونی چاہیے۔ اورمتاثرہ علاقوں میں وفاقی حکومت سے زمینداروں کے بجلی کے بل معاف کرنے چاہییں۔

    اس موقعے پر وزیر اعلی نے کہا کہ ’ہم نے صرف متاثرین کی امداد ہی نہیں بلکہ بحالی بھی کرنی ہے۔ حکومت محدود وسائل کے باوجود متاثرین کی امداد اور بحالی میں سرگرم عمل ہے۔ پی ڈی ایم اے اور انتظامیہ متاثرہ علاقوں میں بھرپور انداز سے امدادی کاروائیاں کر رہی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ نصیر آباد ڈویژن سے شکایت آنے پر وہاں کی انتظامیہ کو تبدیل کیا گیا۔ ہم وفاق میں سیلاب متاثرین کی امداد و بحالی کےلیے مضبوط موقف اپنائیں گے اور حکومت زمینداروں کے نقصانات کا ازالہ کرے گی۔ ‘

    وزیرِ اعلی نے کہا کہ امداد اور بحالی کے کاموں میں کسی کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔ صوبائی حکومت کھاد اور زرعی بیجوں پر کسانوں کو سبسڈی فراہم کرے گی۔ اور زرعی قرضے کے لیے وفاقی حکومت سے بات چیت کی جائے گی۔

    وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ زمینداروں کے تمام مطالبات حل کیے جائیں گے۔

  2. سیلاب کی وجہ سے ملک میں اشیائے ضروریہ کی سپلائی میں کمی آئی: وفاقی پرائس کنٹرول کمیٹی, تنویر ملک، صحافی

    منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کے وفاقی وزیر احسن اقبال کی زیر صدارت نیشنل پرائس کنٹرول اینڈ مانیٹرنگ اجلاس کو بتایا گیا کہ اجلاس کو بتایا گیا کہ سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے اشیائے ضروریہ کی رسد میں زبردست کمی ہوئی ہے جس سے مجموعی طور پرقیمتو ں پر اثر پڑا ہے۔

    وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ لیہ سے بلوچستان کو گندم کی فراہمی سے بلوچستان میں گندم کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی آنی چاہیے۔

    وفاقی وزیر نے حالیہ سیلاب سے ہونے والی تباہی جس کے نتیجے میں گندم، آلو، ٹماٹر اور دیگر فصلوں سمیت اہم غذائی اجناس کو نقصان پہنچا، متعلقہ محکموں کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے رجحان پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا۔

    وزارت صنعت نے آگاہ کیا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں پام آئل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔

    تاہم بین الاقوامی مارکیٹ میں تیزی سے گراوٹ کا اثر مقامی مارکیٹ پر دیر سے پڑے گا۔

    وفاقی وزیر نے وزارت صنعت کو ہدایت کی کہ وہ اگلے ایک ماہ کے اندر گھی/خوردنی تیل کی قیمتوں میں 20 روپے کی کمی کو یقینی بنائے۔

  3. عالمی برادری موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے، بلاول بھٹو

    @MediaCellPPP

    ،تصویر کا ذریعہ@MediaCellPPP

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ حالیہ سیلاب سے پاکستان میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اورتین کروڑ 30 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔

    بلاول بھٹو ولسن سنٹر میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات سے متعلق مزاکرے سے خطاب کر رہے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیلاب کے باعث زرعی اراضی کو نقصان پہنچا ہے اور 40 لاکھ ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔

    بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ سیلابی پانے کو نکلنے میں مہینوں لگیں گے مگر اب ہم ایک دوسری تباہی کو دیکھ رہے ہیں وہ ہیں صحت کے مسائل۔

    ان کا کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض جنم لے رہے ہیں اور لاکھوں متاثرین کو خوراک اور ادویات کی فوری ضرورت ہے۔

    وزیرِخارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثرہ ممالک کی فہرست میں شامل ہے اور اب وقت آ گیا ہے عالمی برادری موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  4. متاثرہ افراد کی بحالی کا منصوبہ وزیراعظم کو جلد بھیجا جائے گا: احسن اقبال, تنویر ملک، صحافی

    احسن اقبال

    سیلاب سے متاثرہ افراد کی بحالی کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے پیر کو ملک کے سرکردہ ماہرین اقتصادیات، کلیدی ترقیاتی سٹیک ہولڈرز اور ڈونرز سے ایک گول میز کانفرنس میں ملاقات کی تاکہ ان کی تجاویز کی روشنی میں بحالی کا ایک جامع منصوبہ وزیرِ اعظم کو منظوری کے لیے بھیجا جا سکے۔

    وزارتِ منصوبہ بندی کے چیف اکانومسٹ نے اپنی بریفنگ میں شرکاء کو بتایا کہ سیلاب سے تقریباً 3 ارب ڈالر کا نقصان ہوا جس سے ملک کی زراعت اور انفراسٹرکچر کا شعبہ بری طرح متاثر ہوا۔

    اُنھوں نے کہا کہ مختلف وزارتیں نقصان کی رپورٹس شیئر کر رہی ہیں جس سے بحالی کے منصوبے میں مدد ملے گی۔

    اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ حالیہ سیلاب نے نہ صرف جانیں لی ہیں بلکہ بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر اور ذرائع معاش کو بھی متاثر کیا ہے جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں متعدد اقدامات اٹھا رہی ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ فوری چیلنج سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی جلد بحالی ہے کیونکہ زراعت کا شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے جس سے ہماری معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے جسے فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔

    احسن اقبال نے کہا کہ متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو اور تنظیم نو کے لیے حکومت تمام وسائل کو بروکار لا رہی ہیں اور اس پلان کی وزیر اعظم سےجلد منظوری کے بعد اس پر عمل درامد کیا جائے گا۔

  5. اس سیلاب میں کسی نے چاہا بھی تو اپنی زمین نہیں بچا سکا، مراد علی شاہ

    عمران

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    جب حامد میر نے وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے سوال کیا کہ ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ طاقتور لوگوں نے اپنی زمینیں بچانے کے لیے غریب افراد کو ڈبو دیا ہے تو اُن کا کہنا تھا کہ جہاں سے ایسی اطلاعات آئی ہیں وہاں انکوائری ہوئی۔

    تاہم مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ان کے اپنے حلقے میں ان کا گاؤں ڈوبا ہوا ہے جہاں 2010 کے سیلاب سے بھی چار فٹ زیادہ پانی ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ یہ پانی امیر غریب کو نہیں دیکھ رہا۔ ’لوگ اپنا گھر بچانے کی کوشش ضرور کرتے ہیں لیکن اس میں کوئی کامیاب نہیں ہوا ہے۔‘

    سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ سندھ میں معمول سے 10 گنا زیادہ بارش ہوئی ہے اور 140 ملین ایکڑ فٹ پانی ہے جو 25 سے 30 تربیلا ڈیم کے برابر ہے۔

    اُنھوں نے مزید کہا کہ جب ڈیم، بند اور بیراجز نہیں ہوتے تھے تو دریائے سندھ کئی ندیوں کی صورت میں بہا کرتا تھا مگر پھر ڈیم اور بند بننے کے بعد جب یہ ندیاں خشک ہوئیں تو لوگوں نے ان قدرتی ندیوں پر گھر بنا لیے ہیں اور زمینیں آباد کر لی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ قدرتی بہاؤ بحال کرنے کی بات کی تو جاتی ہے مگر یہ اتنا آسان نہیں ہے۔

  6. مراد علی شاہ: ڈیڑھ کروڑ متاثرین کے لیے صرف 3 لاکھ 26 ہزار خیمے

    سیلاب

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ صوبے کے 24 اضلاع اس سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں، اندازاً 15 لاکھ گھرانوں کے ڈیڑھ کروڑ کے قریب متاثرین ہیں اور حکومت اب تک صرف تین لاکھ 26 ہزار 225 خیمے فراہم کر سکی ہے۔

    جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ نے بتایا کہ یہ تمام خیمے وہ ہیں جو حکومتِ سندھ، بین الاقوامی اداروں اور ممالک، مسلح افواج اور نجی شعبے نے فراہم کیے ہیں مگر ملک کے تمام خیمہ سازوں سے سامان لینے اور باہر سے سامان آنے کے باوجود تمام متاثرین تک نہیں پہنچا جا سکا ہے۔

    مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ خیمے نہ ملنے کی شکایت جائز ہے تاہم اُنھوں نے اس کی وجہ سیلاب سے ہونے والے نقصان کی وسعت کو قرار دیا۔

    اُنھوں نے کہا کہ باہر سے جو ٹینٹس آ رہے ہیں وہ این ڈی ایم اے کے ذریعے تقسیم ہو رہے ہیں سو ان میں سے فی الوقت سندھ کو کم حصہ ملا ہے۔

  7. اکتوبر کے آخر تک سیلاب زدہ علاقوں سے پانی کی نکاسی کی امید ہے: سندھ حکومت, ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    Sindh

    پاکستان کے صوبہ سندھ کی حکومت پر امید ہے کہ اکتوبر کے آخر تک سیلابی پانی کی نکاسی ہو جائے گی جس کے بعد گندم کی فصل کاشت کی جا سکے گی۔

    صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو نے بی بی سی کو بتایا منچھر جھیل سے دریائے سندھ سے پانی کی نکاسی جاری ہے اور منچھر کی اس وقت سطح 119 فٹ کے قریب ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ایف پی بند کے شگاف کو بند کردیا گیا ہے جس سے ایم این وے ڈرین پر دباؤ کم ہو گا جبکہ سپڑیو بند پر پانچ شگاف ہیں جن کو پانی کا دباؤ کم ہونے کے بعد بند کیا جائے گا۔

    دریائے سندھ کے بائیں طرف کے اضلاع کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ ایل بی او ڈی سے 12 ہزار کیوسک پانی جاری کا سمندر کی طرف اخراج ہو رہا ہے جبکہ ہاکڑو دریا کے قدیم راستے کو بحال کرکے پران نہر کے ساتھ جوڑا گیا ہے جس سے پانی شکور جھیل کے ذریعے سمندر میں جارہا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ خیرپور اور نوشہروفیروز کے بعض علاقوں سے پمپنگ کے ذریعے پانی کی نکاسی کی جائے گی، امید ہے کہ ان اضلاع میں اکتوبر کے آحر تک خریف کی فصل کاشت کی جا سکے گی۔

    یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے ادارے یہ خدشہ ظاہر کرچکے ہیں پانی کی نکاسی میں چار سے پانچ ماہ لگ سکتے ہیں۔ محکمہ تعلیم تعلیمی اداروں میں موجود متاثرین کو خیمہ کیمپوں میں منتقل کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے جبکہ لوگوں کی اکثریت اس وقت بھی خیموں کے بغیر موجود ہے۔

  8. گذشتہ ایک دن میں سندھ میں دو اموات کی تصدیق، سیلاب سے کل اموات کی تعداد 1638 ہو گئی

    Flood

    پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں سندھ میں سیلاب سے مزید دو ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

    ملک میں سیلاب سے ہلاکتوں کی کل تعداد 1638 ہو گئی ہے۔ سیلاب میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 12865 بنتی ہے۔

  9. پاکستان کی مدد کے لیے اس وقت ہمارے پاس سنہ 2010 جتنے وسائل نہیں: امریکہ, محمد صہیب، بی بی سی اردو

    USA

    امریکی محکمہ خارجہ کے قونصلر ڈیرک شولیٹ نے کہا ہے کہ سنہ 2010 کے سیلاب کے برعکس حالیہ سیلاب کے دوران امریکی امداد میں کمی کی وجہ پاکستان امریکہ تعلقات نہیں بلکہ وسائل کا فقدان ہے۔

    واشنگٹن سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈیرک شولیٹ کا کہنا تھا کہ سنہ 2010 میں صورتحال یکسر مختلف تھی۔

    انھوں نے بتایا کہ ’امریکی کانگریس نے اس وقت پاکستان میں عوام کی فلاح کے لیے اربوں ڈالر مختص کر رکھے تھے جو افغان جنگ کے تناظر میں کی گئی کوششوں کے اعتراف میں دیے گئے تھے لیکن اس وقت ہمارے پاس وہ وسائل نہیں۔‘

    یاد رہے کہ سنہ 2010 میں افغان جنگ عروج پر تھی اور اس دوران امریکہ پاکستان کو اپنا قریبی اتحادی سمجھتا تھا تاہم گذشتہ 12 سال کے دوران امریکہ پاکستان تعلقات میں اتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملے ہیں۔

    گذشتہ برس امریکی کی سربراہی میں نیٹو افواج کا افغانستان سے انخلا ہوا تھا جس کے بعد سے وہاں طالبان کی حکومت ہے۔

    ڈیرک شولیٹ نے رواں ماہ کے آغاز میں پاکستان کا دورہ کیا تھا جہاں انھوں نے سیلاب سے ہونے والی تباہی کے حوالے سے پانچ کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی امداد دینے کی یقین دہانی کے علاوہ پاکستان امریکہ تعلقات کے 75 برس مکمل ہونے کے حوالے سے تقریبات میں بھی شرکت کی تھی۔

    خیال رہے کہ مبصرین کی جانب سے پاکستان میں حالیہ سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں کے بعد اقوامِ عالم کے سست ردِ عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    flood

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ’عالمی معاشی بحران بھی اس کی ایک وجہ ہے‘

    ڈیریک شولیٹ کے مطابق امداد میں واضح کمی کی وجہ تعلقات میں سرد مہری ہرگز نہیں بلکہ عالمی معاشی بحران اور یوکرین جنگ بھی اس کی وجوہات میں سے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’دنیا میں تقریباً ہر جگہ ہی معاشی مشکلات گھمبیر ہو رہی ہیں اور یورپ اس وقت یوکرین جنگ کے باعث اپنے سب سے بڑے انسانی المیے سے گزر رہا ہے۔‘

    ’یورپی یونین نے اس سال کے اپنے زیادہ تر وسائل پہلے ہی خرچ کر دیے ہیں لیکن ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سیلاب متاثرین کی بحالی میں اگلے کئی ماہ لگ سکتے ہیں اس لیے ہمیں امداد کے لیے تیار رہنے کی ضرورت ہے۔‘

    اس بارے میں مزید بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میری پاکستان میں موجودگی کے دوران اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بھی وہاں موجود تھے اور انھوں نے بھی واضح کیا ہے کہ اس حوالے سے مزید امداد دی جائے گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’آنے والے دنوں میں ورلڈ بینک پاکستان میں سیلاب کے حوالے سے اپنا تجزیہ پیش کرے گا جس سے یہ معلوم ہو گا کہ پاکستان میں کن چیزوں کی خصوصاً ضرورت ہے اور جب ہمارے پاس یہ معلومات ہوں گی، تو ہمیں واضح انداز میں حکمتِ عملی بنانے کا موقع ملے گا۔‘

  10. 30 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا، اقوام متحدہ سے فوری ڈونر کانفرنس کے انعقاد کی استدعا کی ہے: شہباز شریف

    PM

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ تین ماہ کی سیلابی تباہی سے پاکستان کی معیشت کو 30 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچا ہے اور انھوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے فوری ڈونر کانفرنس کے انعقاد کی استدعا کی ہے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ اقوام متحدہ اور دنیا کو بتایا ہے کہ موسمی اثرات کی وجہ سے جن سیلابی تباہ کاروں کا پاکستان کو سامنا ہے کل یہ سانحہ کسی اور ملک کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات بہت زیادہ ہیں، سینکڑوں بچوں سمیت 1600 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، چالیس لاکھ ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوئیں، لاکھوں مکانوں کو نقصان پہنچا، ان کی زندگی کی جمع پونجی ختم ہوگئی، ہزاروں کلومیٹر سڑکیں تباہ ہوگئیں، ریلوے پل، ریلوے ٹریک، مواصلات کا نظام درہم برہم ہوگیا۔

    اس سب کی بحالی کیلئے فنڈز درکار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان عالمی حدت کا سبب بننے والے عالمی حدت کا ایک فیصد سے بھی کم اخراج کا ذمہ دار ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ موسمیاتی اثرات سے آنے والی نسلوں کو بچانے کے لیے عالمی کوششوں کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ اور ورلڈ بینک کے اعلیٰ حکام سے سیلاب کی صورتحال بہتر ہونے تک قرضوں کی ادائیگی اور دیگرشرائط کو مؤخر کرنے کی استدعا کی ہے۔

    ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ جون کے وسط میں سیلاب شروع ہونے سے پہلے پاکستان میں اناج کی قلت اور خام تیل کی آسمان کو چھوتی قیمتوں کی وجہ سے شدید چیلنجز کا سامنا تھا جو بنیادی طور پر روس یوکرین تنازع کی وجہ سے ہواتھا۔

    انھوں نے کہا کہ آسمان کو چھوتی تیل کی قیمتوں کی وجہ سے اس کی درآمد ہماری استعداد سے باہر ہوگئی تھی، بڑے پیمانے پر سیلاب سے ہونے والی تباہی نے ان چیلنجز کو مزید بڑھا دیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ دنیا بھر سے ملنے والی امدادکو انتہائی مضبوط اور شفاف طریقہ کار کے تحت ضرورت مند لوگوں تک پہنچایا جائے گا جبکہ بین الاقوامی معروف کمپنیوں کے ذریعے تھرڈ پارٹی آڈٹ بھی یقینی بنایا جائے گا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) اور ورلڈ بنک کے اعلیٰ حکام سے ملاقات میں سیلاب کی صورتحال بہتر ہونے تک پاکستان کے ذمہ واجب الادا قرضوں کی ادائیگی اور دیگر شرائط کو موخر کرنے کی اپیل کی ہے۔ اس کے پاکستان کی معیشت اورعوام پر اچھے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ اس ضمن میں وہ بہت معاون لگ رہے تھے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ زرعی زمین کی تباہی کی وجہ سے پاکستان کو تقریباً دس لاکھ ٹن گندم درآمد کرنا پڑ سکتی ہے۔ ملک کو کھاد کی ضرورت ہے کیونکہ کارخانے بند ہیں۔

  11. شہباز شریف: ایکشن نہ لیا گیا تو پاکستان پر آنے والی آفت یہاں تک محدود نہیں رہے گی

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی حالیہ تقریر کے حوالے سے کہا ہے کہ اُنھوں نے اپنی تقریر میں دنیا کو خبردار کیا کہ انسانیت کے سامنے کیا خطرات موجود ہیں۔

    ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں اُنھوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے پاکستان پر جو آفت آج آئی ہے، اگر فوری ایکشن نہ لیا گیا تو یہ پاکستان تک محدود نہیں رہے گی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    علاوہ ازیں وزیرِ اعظم نے لکھا کہ اُنھوں نے دنیا پر یہ واضح کر دیا ہے کہ پاکستان انڈیا کے ساتھ پرامن اور دوستانہ ہمسائے جیسے تعلقات چاہتا ہے۔ تاہم اُنھوں نے کہا کہ انڈیا کو اس کے لیے اگست 2019 کے اقدامات واپس لینے ہوں گے اور آبادی کی خصوصیات تبدیل کرنے کے مرحلے کو روکنا ہو گا۔

  12. ’انسانی امداد میں ایمرجنسی تعلیم کے لیے فنڈنگ ضرور ​​شامل ہونی چاہیے‘ ملالہ کی وزیراعظم سے ملاقات

    @Malala

    ،تصویر کا ذریعہ@Malala

    امن کی نوبیل انعام یافتہ اور انسانی حقوق کی سرگرم کارکن ملالہ یوسفزئی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیلاب نے دسیوں ہزار سکول تباہ کر دیے ہیں، لاکھوں بچے تعلیم سے محروم ہو گئے ہیں لہذا انسانی امداد میں سکولوں کے لیے فنڈنگ ضرور ​​شامل ہونی چاہیے، خاص طور پر لڑکیوں کے لیے۔

    ٹویٹر پر انھوں نے لکھا کہ پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی فوری ضروریات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے آج میں نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔

    ملالہ کا کہنا ہے کہ ہم عالمی برادری سے قرضوں کے دباؤ کو کم کرنے اور فوری انسانی امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

    انھوں نے لکھا کہ میں نے اپنے آبائی شہر وادی سوات اور صوبہ کے پی کے دیگر حصوں میں پاکستانی طالبان کی واپسی کے حوالے سے بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

    ’ہمارے لوگ مزید دہشت گردی اور نقل مکانی کا سامنا نہیں کر سکتے، انھیں تحفظ کی ضرورت ہے۔ انصاف حاصل کرنے اور امن سے رہنے کا حق پاکستان میں ہر ایک کا ہے۔‘

    ملالہ کا کہنا ہے کہ ’میں نے وزیر اعظم سے کہا کہ وہ طالبان پر مزید دباؤ ڈالیں کہ وہ افغان لڑکیوں کو سکول جانے اور خواتین کو کام پر جانے کی اجازت دیں۔ آج افغانستان واحد ملک ہے جہاں لڑکیوں کے سیکنڈری سکول جانے پر پابندی ہے۔ پاکستان کو خواتین کے حقوق اور لڑکیوں کی تعلیم کے لیے کھڑا ہونا چاہیے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  13. پاکستان کے عوام عالمی حدت کی قیمت ادا کر رہے ہیں: وزیر اعظم شہباز شریف کا اقوام متحدہ کے اجلاس سے خطاب

    شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ قدرتی آفات کا مقابلہ کرنے کے لیے عالمی برادری کو یکجا ہونا پڑے گا اور مستقبل کی حکمت عملی وضع کرنے کے لیے مل کر بیٹھنا ہوگا ورنہ جنگوں کے لیے کوئی میدان باقی نہیں رہے گا۔

    سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ’40 دن اور 40 راتوں تک ایک تباہ کن سیلاب ہم پر مسلط رہا جس نے صدیوں کا موسمیاتی ریکارڈ توڑ دیا ہے۔

    ’آج بھی ملک کا بڑا حصہ پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔ خواتین اور بچوں سمیت 33 ملین افراد اب صحت کے خطرات سے دوچار ہیں جن میں ساڑھے چھ لاکھ حاملہ خواتین شامل ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ سیلاب کے باعث 1500 سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 400 سے زیادہ بچے بھی شامل ہیں۔۔۔ سیلاب کی وجہ سے لوگوں کو جانی نقصان اٹھانا پڑا، 370 پل تباہ، 10 لاکھ مویشی ہلاک ہوئے۔‘

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ابتدائی تخمینے بتاتے ہیں کہ سیلاب کے باعث 13 ہزار کلومیٹر سے زیادہ سڑکوں کو نقصان پہنچا ہے، چار ملین ایکڑ فصلیں بہہ گئیں۔ لاکھوں بے گھر افراد اب بھی اپنے خاندانوں، مستقبل اور ان کے ذریعہ معاش کو پہنچنے والے نقصانات کے ساتھ اپنے خیمے لگانے کے لیے خشک زمین کی تلاش میں ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے پاکستان متاثر ہورہا ہے۔ ’پاکستان میں اس طرح کی قدرتی آفت کو نہیں دیکھا گیا۔ ہمیں پہلے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور اب سیلاب کا سامنا ہے حالانکہ دنیا میں جو کاربن فضا میں بھیجی جارہی ہے۔ پاکستان کا اس میں ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ ہمیں جن مسائل کا سامنا ہے اس کی وجہ ہم نہیں ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے گلوبل وارمنگ کے اثرات کی اس سے بڑی اور تباہ کن مثال کبھی نہیں دیکھی جہاں زندگی ہمیشہ کے لیے بدل گئی ہے۔ ’اس آفت کے دوران میں نے اپنے تباہ حال ملک کے ہر کونے کا دورہ کیا اور وقت گزارا، پاکستان میں لوگ پوچھتے ہیں کہ ان کے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟ ناقابل تردید اور تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ یہ آفت ہماری وجہ سے نہیں آئی بلکہ ہمارے گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ جنگلات جل رہے ہیں اور گرمی کی لہر 53 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر چکی ہے جو اسے کرہ ارض کا گرم ترین مقام بنا رہی ہے۔‘

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’ہم تباہ کن مون سون سے گزر رہے ہیں، جیسا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اسے انتہائی مناسب طریقے سے بیان کیا ہے، ایک بات بہت واضح ہے کہ جو کچھ پاکستان میں رونما ہوا ہے وہ پاکستان تک محدود نہیں رہے گا۔‘

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک تہائی پاکستان ڈوبا ہوا ہے اور عالمی حدت کے تباہ کن اثرات نے پاکستان میں زندگی کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ ’پاکستان کے عوام عالمی حدت کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ قومی سلامتی کی تعریف اب بدل گئی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل تک کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ ’جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔ تنازعات کو پرامن مذاکرات سے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔ ہمیں اپنے وسائل کا رخ عوام کی طرف موڑنا ہوگا۔‘

  14. پاکستان کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بحالی کا چیلنج درپیش ہے: بلاول بھٹو کا جی 77 ممالک کے اجلاس سے خطاب

    BB

    امریکہ کے شہر نیو یارک میں پاکستان کی سربراہی میں ہونے والے جی 77 ممالک کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اجلاس میں شریک ممالک کو پاکستان میں حالیہ سیلاب سے ہونے والی تباہی کے بارے میں آگاہ کیا۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے شدید اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ بلاول بھٹو نے ترقی یافتہ ممالک پر زور دیا کہ وہ ترقی پذیر ممالک کی مدد کریں۔

    وزیرخارجہ بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کا ایک تہائی حصہ اس وقت پانی میں ہے اور اس وقت ملک کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بحالی کا چیلنج درپیش ہے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ مشکل وقت میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

  15. سیلاب نے پاکستان میں غذائی قلت کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے: عالمی بینک, تنویر ملک ، صحافی

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    عالمی بینک نے کہا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے پاکستان میں غذائی قلت کے امکانات مزید بڑھ گئے ہیں۔

    عالمی بینک نے اپنی 'فوڈ سیکورٹی اپ ڈیٹ' رپورٹ میں کہا ہے کہ بارش اور سیلاب کی وجہ سے سندھ میں 12 لاکھ ہیکٹر زرعی زمین تباہ ہوئی ہے جس کی وجہ سے انسانی زندگیوں اور زرعی پیداوار پر بے پناہ منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں ۔

    سندھ میں چاول کی 80 فیصد، گنے کی 66 فیصد اور کپاس کی 88 فیصد فصلیں سیلاب کی وجہ سے تباہ ہوگئی ہے۔

    بلوچستان میں لائیو سٹاک شعبے کو بے پناہ نقصان پہنچا ہے۔

  16. ’مُشکل کی گھڑی میں عالمی ادارہ صحت سمیت تمام یو این مشنز پاکستان کے ساتھ ہیں‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    عالمی ادارہ صحت کے نمائندہ ڈاکٹر پالیتھا ماہی پالا متاثرین سیلاب کی مدد کے لیے ڈی آئی خان پہنچ گئے ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ڈی آئی خان کے 22 ُجزوی یا مکمل طور پر تباہ مراکز صحت کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں اور مُشکل کی گھڑی میں عالمی ادارہ صحت سمیت تمام یو این مشنز پاکستان کے ساتھ کھڑی ہیں۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے سیلاب سے متاثرہ 13 اضلاع میں ریپڈ اسسمنٹ مکمل کی ہے۔

    ڈاکٹر پالیتھا ماہی پالا نے سیلاب سے متعلق ریسپانس میں معاونت کے لیے ایمرجنسی آپریشن سینٹر کا افتتاح بھی کیا ہے۔

    ترجمان محکمہ صحت کے مطابق انھوں نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں طبی امداد کے لئے دوائیوں کی بڑی کھیپ محکمہ صحت کے حوالے کی ہے۔

    ڈاکٹر پالیتھا ماہی پالا نے عالمی ادارہ صحت ٹیم کے ہمراہ سیلاب سے متاثرہ اضلاع ڈی آئی خان اور ٹانک کا دورہ بھی کیا۔

    محکمہ صحت کے ترجمان کے مطابق ڈاکٹر پلیتھا ماہی پالا نے متاثرہ علاقوں کے مراکز صحت میں ادویات کی بڑی کھیپ اور آگاہی اشاعتی سامان حکام کے حوالے کیا ہے۔

    محکمہ صحت کے حکام نے ڈی آئی خان میں سیلاب کی تباہی اور محکمہ صحت کی کارکردگی اور ضروریات بارے عالمی ادارہ صحت کی ٹیم کو بریفنگ دی۔

    ڈبلیو ایچ او کے مطابق ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے فلڈ ایمرجنسی ریسپانس میں ایک کمیونیکیشن آفیسر اوردو ڈیزیز سرویلنس افسران کی خدمات محکمہ صحت کے سُپرد کی ہیں اس کے علاوہ عالمی ادارہ صحت اب تک پانی صاف کرنے والی گولیوں سمیت ایمرجنسی ادویات کی بڑی کھیپ محکمہ صحت کے حوالے کرچکی ہے۔

  17. شہباز شریف کی جانب سے امریکی صدر جو بائیڈن کا شکریہ

    وزیر اعظم شہباز شریف نے امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب کے دوران ملک میں سیلاب زدگان کی مشکلات کو اجاگر کرنے اور دنیا سے فوری مدد کی اپیل کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

    ٹؤٹر پر جاری بیان میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’ہمارا ملک غیر معمولی سیلاب کی تباہ کاریوں کا سامنا کر رہا ہے اور مشکل میں گھری خواتین اور بچوں کی امداد کی اپیل کی سنوائی ہونی چاہیے۔‘

    ایک اور پیغام میں شہباز شریف نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوسرے دن انھوں نے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے حکام سے بات چیت کی جس کا مقصد موجودہ قرض پروگرام میں سے وسائل کو سیلاب کے بعد تعمیر نو کے لیے استعمال کرنا تھا۔

    انھوں نے کہا کہ عالمی رہنماوں سے ملاقاتوں میں ’ہم نے سیلاب، موسمیاتی تبدیلی اور سیلاب زدگان کی بحالی پر بات چیت ہوئی۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  18. امداد نہ پہنچی تو کئی لوگ بچ نہیں سکیں گے: انجلینا جولی

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان میں سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے موجود امریکی اداکارہ انجیلنا جولی نے کہا ہے کہ ماحول کو کم نقصان پہنچانے والے ممالک تباہی کا سامنا کر رہے ہیں اور پاکستان میں امدادی سرگرمیوں کے لیے ہر کوشش کئی لوگوں کے لیے زندگی اور موت کا سوال ہے۔

    نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈینیشن سینٹر کے دورے پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ایسے مناظر پہلے کبھی نہیں دیکھے اور پاکستانی عوام نے کئی برسوں تک افغانستان کے لیے کھلے دل کا مظاہرہ کیا اور وہ اسی لیے کئی بار یہاں آئی ہیں۔ ’بطور میزبان ملک (پاکستان کے پاس) اتنا کچھ دینے کے لیے نہیں جتنا دوسرے ممالک کے پاس ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ وہ دنیا سے ’ڈو مور‘ کا مطالبہ کرنے میں پاکستان کے ساتھ ہیں۔

    وہ کہتی ہیں کہ ’ایسے ممالک جو ماحول کو اتنا نقصان نہیں پہنچاتے ہیں وہی اب تباہی، درد اور ہلاکتوں کا سامنا کر رہے ہیں۔‘

    انجیلنا جولی نے کہا کہ ’میں آپ کے ساتھ ہوں تاکہ عالمی برادری کو مزید اقدامات کرنے کا کہا جاسکے۔۔۔ ہم اکثر بحالی کی سرگرمیوں کی بات کرتے ہیں مگر اس بار یہ بہت مختلف ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ دنیا کو جگانے کا وقت آگیا ہے۔

    ’ماحولیاتی تبدیلی حقیقت پر مبنی ہے اور اس کے اثرات آ چکے ہیں۔ اور انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں کا حصہ ہوتے ہوئے کئی برسوں تک ہم سوچتے ہیں کہ تعمیر نو کے لیے، بچوں اور خوراک کے لیے کیا کِیا جاسکتا ہے۔ ضروریات بہت زیادہ ہیں۔ ہر کوشش کا مطلب کئی لوگوں کے لیے زندگی یا موت ہے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’میں نے ایسی زندگیاں دیکھی ہیں جنھیں بچا لیا گیا اور لوگوں سے بات کر کے معلوم ہوا ہے کہ اگر امداد نہ پہنچی تو وہ آئندہ ہفتوں میں موجود نہیں رہیں گے۔

    ’کئی بچے خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔ اگر وہ آئندہ مہینوں تک بچ بھی گئے تو تلخ حقیقت یہ ہے کہ سردیاں آ رہی ہیں اور فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔‘

  19. پاکستان کا بڑا حصہ زیر آب ہے، اسے مدد کی ضرورت ہے: امریکی صدر جو بائیڈن

    جو بائیڈن

    ،تصویر کا ذریعہUNGA

    امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ پاکستان کا بڑا حصہ زیر آب ہے اور اسے مدد کی ضرورت ہے۔

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ ہم ماحولیاتی تبدیلی کے بحران میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اس سال کے بعد کسی کو اس پر شبہ نہیں ہونا چاہیے۔‘

    ’پاکستان کا بڑا حصہ اب بھی زیر آب ہے۔ اسے مدد کی ضرورت ہے۔ دریں اثنا قرن افریقہ میں پہلے سے کہیں سنگین خشک سالی ہے۔ خاندانوں کو ناممکن انتخاب کرنا ہے کہ کن بچوں کو کھانا کھلایا جائے۔ یہ سوچنا ہوگا کہ آیا وہ بچ سکیں گے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ کہ ’یہ ماحولیاتی تبدیلی کی انسانی قیمت ہے اور یہ بڑھ رہی ہے، کم نہیں ہو رہی۔‘

    جو بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکہ کے مستقبل کے منصوبوں کی بدولت متاثرہ ممالک میں نصف ارب آبادی ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹ سکے گی۔

  20. مشکل وقت میں پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں: امریکی وزیر خارجہ

    شہبازت بلنکن

    ،تصویر کا ذریعہPM OFFICE

    خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف نے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن سے ملاقات کی ہے اور ملاقات کے دوران ’امریکی وزیر خارجہ نے اس مشکل وقت میں پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا یقین دلایا ہے۔‘

    بدھ کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہبازشریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77 ویں اجلاس کے موقع پر امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن سے ملاقات کی ہے۔

    ملاقات کے دوران انھوں نے پاکستان کے سیلاب زدگان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور وزیراعظم کو اس مشکل کی گھڑی میں پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کے امریکی عزم کا یقین دلایا۔