ٹیڈ ایکس: کیا ڈاکٹر مہرب معیز اعوان کو خواجہ سرا ہونے پر طلبا سے خطاب سے روکا گیا؟

@TMItalks

،تصویر کا ذریعہ@TMItalks

    • مصنف, رباب بتول
    • عہدہ, صحافی

’کچھ والدین کو آپ پر اعتراض ہے، آپ کے ٹرانس جینڈر (خواجہ سرا) ہونے پر اعتراض ہے، آپ کے خیالات پر اعتراض ہے۔۔۔‘

یہ وہ الفاظ ہیں جو ڈاکٹر مہرب معیز اعوان کے مطابق ان کو بدھ کی صبح انٹرنیشنل سکول لاہور کی جانب سے سننے کو ملے جہاں انھیں 20 اگست کو ٹیڈ ایکس پینل میں بطور سپیکر ’روڈ لیس ٹریولڈ‘ کے تھیم پر بات کرنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا مگر ایونٹ سے چند دن قبل ان سے وہاں آنے کی دعوت واپس لے لی گئی۔

ڈاکٹر مہرب نے ٹویٹر کا رخ کر کے اس واقعے کی تفصیلات اور اپنے غم و غصے کا اظہار کیا اور یہ سوال اٹھایا کہ ’ایک ٹرانس جینڈر کو ٹرانس جینڈر ہونے کی وجہ سے (پینل سے) کیوں ہٹا دیا گیا جبکہ تقریر میں کچھ بھی ٹیڈ ایکس کے رہنما اصولوں کے خلاف نہیں تھا۔‘

ڈاکٹر مہرب کو پینل سے نکالنے کی وجہ کیا؟

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر مہرب کا کہنا تھا کہ ان کی ٹویٹس کے بعد سلمان شاہد جو انٹرنیشنل سکول لاہور کی سینئر مینجمنٹ سے ہیں، نے انھیں فون کیا اور کہا کہ ’ہمیں آپ کے ٹرانس جینڈر ہونے سے مسئلہ نہیں، کچھ والدین کو آپ کے خیالات سے مسئلہ ہے۔‘

ڈاکٹر مہرب کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ والدین اور انتظامیہ کی ملی بھگت ہے. ہماری اشرافیہ ہمیشہ یہی کام کرتی ہے، اخلاقیات کی بنیاد پر کچھ لوگوں کو سنسر کرتی ہے کیونکہ وہ امیر ہیں اور ان کے پاس پلیٹ فارم ہے اور وہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کس کی بات سنی جائے گی، کس کی بات نہیں سنی جائے گی۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

سلمان شاہد آئی ایس ایل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا حصہ اور اس کے بانی ارکان میں سے ایک ہیں۔ وہ طلبا کے امور کے دفتر کے بھی سربراہ ہیں اور ٹیڈ ایکس یوتھ آئی ایس ایل کا اہتمام بھی وہی کر رہے ہیں۔

جب بی بی سی نے سلمان شاہد سے رابطہ کیا تو ان کا بھی یہی مؤقف تھا کہ ’بعض والدین اور اکثر لوگوں کی جانب سے ڈاکٹر مہرب سے متعلق کچھ غیر مناسب باتیں سامنے آئیں، جن میں ان کے منشیات کے استعمال اور اسے قانونی بنانے، ایل جی بی ٹی کیو کے مسائل اور حمایت جیسے خیالات شامل ہیں اور اسی بنا پر آئی ایس ایل کی انتظامیہ کو ڈاکٹر مہرب کو ایونٹ سے ہٹانے کا فیصلہ کرنا پڑا۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ دباؤ بہت شدید تھا جس میں ڈاکٹر مہرب کے خلاف ایک پٹیشن بھی شامل تھی اور اگر انھیں نہ ہٹایا جاتا تو سکول میں سکیورٹی خطرات کا خدشہ تھا اور یہ ’طلبا کے لیے ممکنہ سکیورٹی رسک‘ ہو سکتا ہے۔

خواجہ سرا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

اگر ڈاکٹر مہرب کی رائے پر اعتراض تھا تو انھیں دعوت کیوں دی گئی؟

ڈاکٹر مہرب کے مطابق وہ عوامی شخصیت ہیں اور ان کے خیالات پہلے سے ہی عوام کے علم میں تھے اور ان کی کوئی بات ٹیڈ ایکس کے معیار کے خلاف نہیں۔

اس کے علاوہ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کس طرح انھوں نے ہمیشہ ٹیڈ ایکس کے تقاضوں کے مطابق اپنی تقریر کو تبدیل کرنے میں تعاون کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی تقریر بھی عوام کے لیے سوشل میڈیا پر موجود ہے، جو برِصغیر میں ٹرانس جینڈر کی تاریخ کے بارے میں تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میری طرف سے ہر طرح سے تعاون کیا گیا اور میں نے ان سے فیڈبیک مانگا کہ آپ مجھے فیڈبیک ای میل سے بھیجیں اور میں نے تحریری فیڈبیک پر اپنی پوری کی پوری تقریر ان کو ترمیم کر کے بھیجی۔‘

’میری تقریر ٹیڈ ایکس کے تمام اصولوں کے ساتھ ساتھ پاکستان میں تقریر کے اصولوں سے اتفاق کرتی ہے۔ اس میں کوئی متنازعہ بات نہیں۔ ساری کی ساری گفتگو ہماری نوآبادیاتی تاریخ کی ہے اور اس بارے میں ہے کہ کیسے برِصغیر میں عوام الناس کو خواجہ سراؤں سے نفرت سکھائی گئی۔‘

سلمان شاہد نے بھی اعتراف کیا کہ ڈاکٹر مہرب نے تقریر میں تبدیلی کرنے میں بہت تعاون کیا لیکن یہ بدقسمتی تھی کہ انھیں دعوت نامہ واپس لینا پڑا۔

’حتمی فیصلہ طلبا کے والدین پر منحصر ہے۔ جن طلبا نے سامعین بننا تھا وہ 13 سے 18 سال کی عمر کے ہیں۔ ان کے والدین ان کے قانونی سرپرست ہیں اور سکول ان کے فیصلے کے خلاف نہیں جا سکتا۔‘

یہ بھی پڑھیے

سلمان شاہد کا کہنا تھا کہ ’اگر یہ ٹرانس جینڈر ایشو ہوتا یا ہم ٹرانسفوبک ہوتے تو ہم پہلے ہی انھیں دعوت نہ دیتے۔‘

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ جب انتظامیہ نے ڈاکٹر مہرب کو تقریر کی منسوخی کی اطلاع دی تو خود انھوں نے ڈاکٹر مہرب کو ذاتی طور پر فون کر کے معذرت کی۔

سلمان شاہد نے یہ بھی بتایا کہ وہ آغاز سے ہی اس تقریب میں ایک ٹرانس جینڈر کو مدعو کرنے کا ارادہ رکھتے تھے اور انھوں نے ڈاکٹر مہرب سے بھی کہا کہ وہ اپنی جگہ کسی متبادل کے لیے ایک نام تجویز کریں مگر ڈاکٹر مہرب نے معذرت کر لی۔

،ویڈیو کیپشنپاکستان کی پہلی ڈریگ کوئین: مس پودینہ چٹنی

تین دیگر مقررین کا تقریب میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ

ڈاکٹر مہرب کے مطابق تین دیگر مقررین نے ان کی حمایت میں اس تقریب میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے، ان میں سے دو نام عمار جان اور غازی تیمور کے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرنے ہوئے عمار جان کا کہنا تھا کہ ’یہ تو بالکل تعصب کی بنیاد پر، شاید چند والدین کے کہنے پر یا انتظامیہ کے کہنے پر غیر قانونی چیز کی گئی ہے۔‘

’ایک غیر اخلاقی چیز کہ کسی شخص کو آپ تعصب کی بنیاد پر پلیٹ فارم نہ دیں۔ ہمارا جو سارا کام ہے وہ ہے ہی انصاف کے لیے۔ برابری کے لیے تعصب کے خلاف جو لڑائی ہے اس کو آگے بڑھانے کے لیے تو ایسے پلیٹ فارم پر نہیں جایا جا سکتا جس میں تعصب کو ہی پروموٹ کیا جا رہا ہو اور جو باقی مزاحمتی آوازیں ہیں انھیں دبایا جا رہا ہو۔‘

خواجہ سرا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

سوشل میڈیا پر ردِعمل

سوشل میڈیا پر ڈاکٹر مہرب کی ٹویٹس پر لوگوں کی طرف سے بھی شدید ردِعمل آیا جن میں بعض ان کے حق میں اور بعض ان کے خلاف تھے۔

سوشل میڈیا پر اظہارِ خیال کرنے والوں میں مشہور فیشن ڈیزائنر ماریہ بی بھی شامل تھیں۔ ڈاکٹر مہرب نے ماریہ بی کی انسٹاگرام پوسٹس بھی شئیر کیں۔

ڈاکٹر مہرب نے ماریہ بی کے الفاظ کو ٹرانس فوبیا قرار دیا اور کہا کہ ’میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ ٹرانس فوبیا اشرافیہ کے ذریعہ پھیلا ہے اور ہمیشہ پھیلتا رہے گا لیکن یہ لوگ پرجوش مذہبی محافظوں کے پیچھے چھپ جاتے ہیں۔‘

ٹویٹر

،تصویر کا ذریعہTwitter

صائمہ شاہ نے لکھا کہ اس طرح خواجہ سراؤں کے ساتھ تعصب برتنا اور ان کی آواز کو دبانا کتنی شرمناک بات ہے۔

ایک اور صارف نے لکھا کہ ’یقیناً سامعین کے لیے بہت بڑا نقصان ہے جو آپ کی گفتگو سے بہت کچھ سیکھ سکتے تھے، آئی ایس ایل آپ کو ان کے ایونٹ میں شرکت سے روک سکتا ہے لیکن آپ کی آواز کو خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ہر کسی تک پہنچے گی، اور ان کی حوصلہ افزائی کرے گی، اور لوگوں کو شعور دے گی، بشمول نوجوان سامعین کے جن سے آپ کو خطاب کرنے سے روکا گیا۔‘

Twitter

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا کیپشنسوشل میڈیا پر ڈاکٹر مہرب کی ٹویٹس پر لوگوں کی طرف سے بھی شدید ردِعمل آیا جن میں بعض ان کے حق میں اور بعض ان کے خلاف تھے

تاہم کچھ افراد کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر والدین ایسا نہیں چاہتے تو یہ سینسرشپ کا کیس نہیں۔

ایسے ہی ایک صارف نے لکھا کہ ’ادارے نے آپ کو نہیں روکا، آپ کو والدین کے جذبات کا احترام کرنا چاہیے۔ اپنا پیغام ایسے فارم پر دیں جہاں لوگ آپ کو سننا چاہتے ہوں۔‘