اگر پاکستان دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جانا چاہتا تو اسے کیا کرنا ہو گا؟

پاکستانی معیشت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, بلال کریم مغل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

مہنگائی اور معاشی مشکلات اس وقت ایک عالمی مسئلہ ہیں اور دنیا کی سب سے بڑی معیشت امریکہ میں بھی کساد بازاری کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

پاکستان بھی گذشتہ کئی ماہ سے ایک معاشی گرداب میں پھنسا ہوا ہے۔ روپے کی گرتی قدر، توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور حالیہ تاریخ کی بلند ترین شرحِ مہنگائی کے درمیان گھرے ہوئے عوام، اس وقت شدید مشکلات کے شکار ہیں۔

اب سے چند دن قبل جب ہم نے موجودہ معاشی صورتحال پر آپ کے سوالات طلب کیے تھے تو ایک سوال جو سب سے زیادہ پوچھا گیا تھا وہ یہ کہ کیا پاکستان دیوالیہ ہونے والا ہے اور کیا معاشی صورتحال میں کچھ بہتری آنے کی توقع ہے؟

یہ سوال بھی اکثر لوگوں نے پوچھا کہ کیا اگلے پانچ برس میں ہم کسی بہتر مقام پر پہنچ سکیں گے یا اسی چکر میں الجھے رہیں گے۔

ہم نے چند ماہرین سے بات کر کے آپ کے ان سوالوں کے جواب جاننے کی کوشش کی ہے۔

گذشتہ چند دنوں میں ڈالر کی قیمت میں کمی کی وجہ کیا ہے؟

شروعات کرتے ہیں ڈالر کی قیمت سے جو 28 جولائی کو تاریخ کی بلند ترین سطح یعنی 240 روپے کو چھونے کے بعد اب تیزی سے نیچے آ رہی ہے اور گرتے گرتے 213 روپے تک پہنچ گئی ہے۔

معاشی تجزیہ کار و صحافی خرم حسین کہتے ہیں کہ ڈالر کی قیمت میں جولائی کے بعد سے جو کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے وہ پاکستانی برآمد کنندگان کی جانب سے پیسہ واپس لانے اور کم ہوتی ہوئی برآمدات کی وجہ سے ہے۔

پاکستانی معیشت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بی بی سی سے گفتگو میں اُنھوں نے بتایا کہ جن کاروباری حلقوں سے وہ رابطے میں رہے ہیں، اُن کے مطابق ایکسپورٹرز نے جو ڈالر بیرونِ ملک کمائے تھے، وہ اُنھیں پاکستان واپس لانے کے لیے انتظار کر رہے تھے۔

’جب ڈالر کی قیمت اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تو وہ پیسہ پاکستان واپس لے آئے جس سے کرنسی مارکیٹ پر دباؤ کم ہوا۔‘

واضح رہے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے قوانین کے تحت برآمد کنندگان 120 دن کے اندر اپنی ایکسپورٹ سے حاصل ہونے والی آمدنی پاکستان واپس لانے کے پابند ہوتے ہیں۔

پہلے یہ حد 180 دن تھی تاہم اب 120 دن کا مطلب ہے کہ اتنے دن تک ہی برآمد کنندگان کو اپنا پیسہ باہر رکھنے کی اجازت ہے۔

اس کے علاوہ خرم حسین کے مطابق جولائی میں تیل کی درآمدات بہت کم رہیں کیونکہ کچھ رپورٹس کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد کھپت میں کچھ کمی ہوئی جس کے بعد تیل کمپنیوں کے پاس کافی ذخیرے موجود ہیں۔

اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے سخت درآمدی پابندیوں کے باعث بھی ڈالر کی طلب میں کمی ہوئی ہے۔

اس سب سے معیشت پر سے کچھ حد تک دباؤ کم ضرور ہوا ہے مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ اب بھی صورتحال مکمل طور پر قابلِ اطمینان نہیں۔

پاکستانی معیشت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کیا دیوالیہ ہونے کا خطرہ ٹل چکا؟

امریکہ میں اٹلانٹک کونسل تھنک ٹینک میں پاکستان انیشیٹیو کے ڈائریکٹر عزیر یونس کہتے ہیں کہ صورتحال میں بہتری تو آئی ہے مگر پاکستان ابھی بھی خطرے سے مکمل طور پر باہر نہیں نکلا۔

بی بی سی سے گفتگو میں اُنھوں نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے پاکستان کی قسط وصولی کے امکانات اب روشن تو ضرور ہیں مگر اب بھی پاکستان کو اپنی مالیاتی ادائیگیوں کے لیے اضافی رقوم کی ضرورت ہو گی۔

واضح رہے کہ سٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان کو رواں سال تقریباً 33 ارب ڈالر کی رقم کی ضرورت تھی جس کا انتظام اس کے پاس موجود ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ درآمدات میں کمی اور آئی ایم ایف کی قسط جیسے معاملات اتنے زیادہ پائیدار نہیں کہ مستقل طور پر معیشت کو سہارا دیے رکھ سکیں۔

خرم حسین بھی ان کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم ایک محفوظ مقام کی طرف بڑھ ضرور رہے ہیں مگر اب بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستانی مال کے خریدار سب سے بڑے ملکوں میں سے ایک امریکہ میں کساد بازاری کے خطرات ہیں جبکہ یورپی معیشتوں کی صورتحال بھی کوئی بہت حوصلہ افزا نہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ اس وقت حکومت کے پاس آپشنز بہت کم ہیں کیونکہ صنعتیں اپنی پیداوار بڑھانے کے لیے سبسڈیز مانگیں گی جو کہ حکومت کے لیے مالی مشکلات اور آئی ایم ایف معاہدوں کی وجہ سے دینا ممکن نہیں جبکہ بلند شرحِ سود اور گیس کی کمی کی وجہ سے بھی کاروبار کے لیے مشکلات اپنی جگہ موجود ہیں۔

پاکستانی معیشت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سیاسی صورتحال اور بیرونی امداد

پاکستان گذشتہ 75 برس میں کئی مرتبہ آئی ایم ایف سے امداد طلب کر چکا ہے اور بسا اوقات ایسا بھی ہوا ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط پوری نہ ہونے کی وجہ سے پروگرام تعطل کا شکار ہوا۔

رواں برس بھی ایسا ہی ہوا اور نتیجتاً پروگرام کی مکمل بحالی اب تک نہیں ہو پائی تاہم بحالی کی جانب پیش رفت ضرور ہوئی ہے۔

عزیر یونس کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف پاکستان کی جانب سے شرائط توڑے جانے سے تھک چکا ہے جن کی وجوہات سیاسی بھی ہوتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے رواں برس تاجروں پر فکسڈ سیلز ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کیا تھا مگر بعد میں تاجروں کے احتجاج پر یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا تھا۔

عزیر یونس کہتے ہیں کہ اب چونکہ پاکستان میں عام انتخابات کا وقت قریب ہے، اس لیے آئی ایم ایف سے کیے گئے سخت معاہدے کی شرائط کو توڑنا ایک سیاسی مجبوری بن جائے گی، چنانچہ یہ ہو سکتا ہے کہ اگلے برس ہمیں پھر ایسی ہی مالیاتی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے۔

اُنھوں نے کہا کہ ہمیں چاہے جس بھی ملک سے امدادی رقم مل جائے، جب تک ملک میں ٹیکس کا نظام درست نہیں ہو گا تو ٹیکس کے دائرے سے باہر معیشت ہمیں جلد ہی اسی نکتے پر دوبارہ لا کھڑا کرے گی۔

پاکستانی معیشت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس سب کا حل کیا ہے؟

ماہرین اکثر و بیشتر اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ پاکستان اگر چاہتا ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس واپس نہ جائے تو اسے اپنے معاشی ڈھانچے میں بے حد اصلاحات کی ضرورت ہے۔

کسی بھی ملک کے پاس زرِ مبادلہ کے حصول کے بنیادی تین طریقے ہوتے ہیں جو برآمدات، ترسیلاتِ زر اور غیر ملکی سرمایہ کاری ہیں۔

اگر کسی معیشت کے یہ بنیادی ستون مضبوط نہ ہوں اور وہ درآمدات پر بھی بے حد منحصر ہو تو ملک میں زرِ مبادلہ کی کمی اور مالی خسارہ لازم ہے۔

عزیر یونس کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف پاکستان سے بار بار ٹیکس کا دائرہ بڑھانے کے لیے کہتا رہا ہے مگر وہ بھی یہ ایک حد تک کر سکتا ہے کیونکہ بالآخر یہ ایک 'سیاسی مسئلہ' ہے۔

وہ تاجروں پر سے ٹیکس ہٹانے کے حکومتی اقدام کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس طرح کے اقدامات مشکلات پیدا کیے رکھیں گے تاہم اگر پاکستان چاہتا ہے کہ وہ واقعی اپنے پیروں پر کھڑا ہو جائے تو اسے اپنے زرعی، ریٹیل، اور ریئل سٹیٹ شعبوں پر ٹیکسز لگانے ہوں گے مگر ساتھ ہی ساتھ کاروبار کے لیے سازگار ماحول بھی پیدا کرنا ہو گا۔

تاہم وہ اپنی بات کا اعادہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ بالآخر ایک سیاسی سوال ہے کیونکہ اس طرح کے اقدامات سے سیاسی جماعتوں کو اپنی مقبولیت کچھ حد تک ہی سہی مگر کھونی پڑتی ہے۔