پاکستان میں بڑھتی مہنگائی اور بیروزگاری کیا افغان شہریوں کی واپسی کا باعث بن رہی ہے؟

افغان پناہ گزین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
    • مصنف, محمود جان بابر
    • عہدہ, صحافی

پشاور میں نوشہرہ جی ٹی روڈ پر سردار گڑھی کے قریب ایک گھر کے مکین افغان مہاجر حکیم خان، جنھوں نے اپنی زندگی کے 44 سال پاکستان میں گزارے ہیں، اپنے گھر کا سامان سمیٹ کر اپنی بیوی، ایک بیٹے اور آٹھ بیٹیوں کے ساتھ واپس افغانستان جا رہے ہیں۔

پاکستان میں اپنی زندگی کے اتنے برسوں کی داستان وہ کچھ یوں سناتے ہیں کہ ’میری عمر 48 سال ہے میں بہت چھوٹا تھا جب روس نے افغانستان پر حملہ کیا اور ہم مہاجر بن کر پاکستان آگئے۔ پہلے ہم چارسدہ روڈ پر مٹہ کیمپ میں رہے، پھر کچہ گڑھی کیمپ اور آخر میں خراسان کیمپ میں جہاں سیلاب آنے کے بعد ہم شہر میں رہنے لگے، یہ میری پاکستان میں 44 سالہ زندگی کی ساری کہانی ہے۔‘

حکیم خان کا کہنا ہے کہ اس دوران اس کی شادی بھی یہی پر ہوئی اور ان کے ہاں 12 بچے پیدا ہوئے جن میں ایک بیٹا اور نو بیٹیاں زندہ ہیں جبکہ باقی تین بچے فوت ہو چکے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ وہ یہاں بہت خوش تھے، پشاور کی کارخانو مارکیٹ سے کپڑا خرید کر نوشہرہ کے بازاروں میں فروخت کرتے اور یوں ان کا کاروبار کافی اچھا تھا لیکن پھر یہ کام بند ہو گیا اور اب وہ کوئی کام نہیں کرتے۔

حکیم خان کو بھی کچھ مقامی افغان دوستوں سے پتا چلا کہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین یو این ایچ سی آر نے اعلان کیا ہے کہ وہ افغان باشندے جو پاکستان اور ایران میں مقیم ہیں اور یکم اگست سے رضاکارانہ واپسی کے عمل کے ذریعے اپنے ملک افغانستان جانا چاہتے، تو ایسے خاندان کے ہر فرد کو 375 ڈالر دیے جائیں گے تاہم یہ سہولت صرف ان مہاجرین کو حاصل ہو گی جن کے پاس پی او آر (پروف آف رجسٹریشن) کارڈ ہو گا جبکہ افغان سٹیزن کارڈ کے حامل اور غیر قانونی طور پر یہاں رہنے والے مہاجرین کو یہ سہولت حاصل نہیں ہو گی۔

انھوں نے اس بات کی تصدیق پاکستان میں افغان مہاجرین کی اپنی تنظیم متحدہ عالی شوری سے بھی کی اور واپسی کا پکا ارادہ کر لیا۔

وہ افغانستان واپسی کی وجہ بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’یہاں کام بند ہونے کے بعد اب میرے لیے رہنا مشکل ہے، گھر کا کرایہ بھی 20 ہزار روپے کے لگ بھگ ہے جو چار ماہ سے نہیں دیا اور بجلی بھی بہت مہنگی ہو گئی ہے۔ 95 ہزار کا بل بھی میرے ذمے بقایا ہے جو دینا ہمارے بس میں نہیں۔‘

’اب گھر کا کچھ سامان بیچ کر کرایہ اور بجلی کا بل ادا کروں گا، کابل میں ہماری کچھ خاندانی زمین ہے اسے کاشت کروں گا اور وہاں موسم بھی اچھا ہے بجلی کے بغیر بھی گزارہ ہو جاتا ہے۔ امید ہے زندگی اچھی گزرے گی، یہاں مہنگائی اور بے روزگاری اتنی بڑھ چکی ہے کہ اب واپس افغانستان جائے بغیر کوئی راستہ نہیں۔‘

حکیم خان کہتے ہیں کہ ’پاکستان میں جو وقت گزارہ وہ بہت ہی یادگار اور اچھا ہے اور اب جب جا رہا ہوں تو ایسا لگتا ہے جیسے اپنے ماں باپ کے گھر کو چھوڑ کر جارہا ہوں۔‘

مہنگائی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

لیکن یہ صرف ایک حکیم خان کی کہانی نہیں بلکہ پشاور کے علاقے حیات آباد فیز تھری میں ایک دکان پر گذشتہ دس برسوں سے کام کرنے والے خان امین بھی کہتے ہیں کہ ’اب ان کی آمدن اور پاکستان کی مہنگائی کا کوئی میل نہیں، جتنی تنخواہ ملتی ہے اتنا تو یہاں بجلی کا بل آجاتا ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ وہ بھی اگلے ہفتے افغانستان واپس جانے کا سوچ رہے ہیں کیونکہ افغانستان میں ایران سے آنے والا پیٹرول اور ترکمانستان سے حاصل ہونے والی گیس کی قیمت پاکستان کے مقابلےمیں کافی کم ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ویسے بھی افغانستان میں ہمارے رشتے دار کہتے ہیں کہ معیشت اتنی بہتر نہیں لیکن پھر بھی بدخشان میں ہمارے گاؤں میں اتنا گزارہ ہوتا ہے کہ بھوکا نہیں رہنا پڑے گا یہاں تو حالت یہ ہے کہ قرض پر قرض لیتے ہیں اور گھر کا کرایہ اور بجلی کا بل ہی پورا نہیں کر پاتے۔‘

اسی طرح یونیورسٹی روڈ پر چپس کی ریڑھی پر کام کرنے والے افغان شہری ظاہر شاہ بھی کہتے ہیں کہ ’جتنا کماتا ہوں اس میں اب پشاور میں رہنا ممکن نہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’بہت عرصے سے ہم یہاں خوشی سے رہ رہے تھے لیکن اب مہنگائی بس سے باہر ہو گئی ہے۔ پہلے ہمارا علاج اقوام متحدہ کے ہسپتالوں میں ہوتا تھا وہ بھی اب خود کروانا پڑتا ہے، بچوں کے سکول بھی اب نہیں رہے۔‘

افغانستان واپس جا کر بسنے کے بارے میں وہ بتاتے ہیں کہ ’کابل سے تھوڑا باہر پغمان کے علاقے میں باپ دادا کی کچھ زمین تھی، اسے جا کر بوؤں گا اور یواین ایچ سی آر سے واپسی کے لیے ملنے والے پیسوں سے وہاں ایک چھوٹی سی دکان یا ریڑھی لگاؤں گا۔‘

’وہاں کی آب و ہوا بھی اچھی ہے، گرمی بھی نہیں لگے گی بجلی استعمال نہیں ہوگی تو بل بھی کم ہو گا۔ افغانستان آہستہ آہستہ آباد ہو رہا ہے ہم بھی اپنے گھر کے ہو جائیں گے اور آخری عمر باپ دادا کے گھر میں گزار سکیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان سے جانے کو جی بھی نہیں چاہتا، سوشل میڈیا پر پاکستان مخالف بہت سی خبریں چلائی جاتی ہیں کہ ویزے کی سختی ہے اور بارڈر بند ہیں، جنھیں دیکھ کر دکھ بھی ہوتا ہے کیونکہ مجھے تو پشاور میں کبھی کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔ شاید کچھ افغان شہریوں کو مشکل پیش آئی ہو۔‘

افغان پناہ گزین

افغان شہریوں کی کتنی تعداد واپس گئی ہے؟

یو این ایچ سی آر کے ریکارڈ کے مطابق اس وقت پاکستان میں پی او آر کارڈ ہولڈر افغانوں کی تعداد 14 لاکھ ہے جو اس پروگرام کے تحت واپسی کے لیے اہل ہیں جبکہ افغان سٹیزن کارڈ اور غیر قانونی طور پر مقیم افغان ان کے علاوہ ہیں جن کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے۔

ادارے کے ترجمان قیصر خان آفریدی کہتے ہیں کہ پہلے افغانستان جانے والے مہاجرین کے لیے واپسی کی یہ رقم کم تھی لیکن گاڑیوں کے کرایوں میں اضافے اور افغانستان میں ان مہاجرین کی دوبارہ آباد کاری میں معاشی مشکلات کو مدنظر رکھ کر اس کو 375 ڈالر فی کس کیا گیا۔ البتہ شرط یہی ہے کہ یہ واپسی کسی دباؤ کے نتیجے میں نہیں بلکہ خود مہاجرین کے اپنے سوچے سمجھے فیصلے کے نتیجے میں ہونی چاہیے۔

قیصر خان کا کہنا تھا کہ ہم نے اس مقصد کے لیے بلیلی کوئٹہ اور اضاخیل نوشہرہ میں دو مراکز کھولے ہیں جہاں سے ایسے مہاجرین واپس جا سکیں گے۔

افغان پناہ گزین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

ان کا کہنا تھا کہ ’اس سال اب تک 1300 افغان شہری واپس جا چکے ہیں۔ ہمیں یہ معلوم ہے کہ دونوں میزبان ممالک پاکستان اور ایران کے ساتھ ساتھ خود افغانستان میں مہنگائی بہت بڑھی ہے اسی لیے کوشش کی گئی ہے کہ واپس لوٹنے والے افراد کی زیادہ سے زیادہ مدد کی جائے۔ ہم کسی مہاجر کو زبردستی واپس بھیجنے کے کسی عمل کی حمایت نہیں کرتے۔‘

پاکستان میں افغان مہاجرین کے حقوق کے لیے ’افغان مہاجرینو متحدہ عالی شوری‘ نامی ایک شوری موجود ہے جو پاکستان کے تمام کیمپوں یا آبادیوں میں مقیم مہاجرین کی مشکلات کے لیے پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں اور عالمی اداروں سے رابطے کرتی ہے۔ اس تنظیم کی پاکستان میں 18 کمیٹیاں ہیں اور ہر شہر میں اس کے نمائندے موجود ہوتے ہیں۔

اس تنظیم کے سربراہ بریالے میانخیل نے پشاور کے خراسان مہاجر کیمپ میں قائم اپنے دفتر میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تنظیم کا کام دراصل مہاجرین کے حقوق کا دفاع اور پاکستان اور افغانستان کے مابین پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کو ختم کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ افغان مہاجرین کو افغانستان اور پاکستان کے مابین سیاسی معاملات سے دور امن کے ساتھ یہاں رکھا جا سکے۔

وہ کہتے ہیں کہ جو مہاجرین پاکستان میں رہتے ہیں وہ خوش اور پرسکون ہیں اس لیے جب ان میں سے کوئی واپس افغانستان جاتا ہے تو ہم انھیں تاکید کرتے ہیں کہ وہ افغانستان میں پاکستان کے خلاف ہونے والی کسی بات کا خود جواب دیں اور سفیر کے طور پر اپنا کام کریں۔

بریالے میانخیل کہتے ہیں کہ انھوں نے سابق صدر اشرف غنی اور افغان پارلیمان کے اہم ترین لوگوں سے بھی مہاجرین کی واپسی کے معاملے پر طویل مشاورتیں کی تھیں جس کے بعد مختلف صوبوں میں مہاجرین کے لیے ٹاؤن مقرر ہوئے جہاں انھیں پلاٹ دیے جانے تھے تاہم یہ پلاٹ مہاجرین کی بجائے وہاں پر حکومت میں اثر و رسوخ رکھنے والوں نے آپس میں تقسیم کر لیے جس کی وجہ سے وطن لوٹنے والے مہاجرین مشکلات کا شکار رہے۔

افغان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان میں غیر قانونی طور پر رہنے والے مہاجرین کی تعداد کیوں بڑھ رہی ہے؟

اس سوال کے جواب میں بریالے میانخیل کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن تو ہے لیکن معاشی صورتحال اچھی نہیں۔

’یہی وجہ ہے کہ نئے آنے والے مہاجرین کی تعداد بڑھ رہی ہے جنھیں دیکھ دیکھ کر واپسی کے لیے ذہن بنانے والے افغان گومگو صورتحال کا شکار ہیں کہ جب وہاں یہ حالت ہے تو وہ کیوں واپس جائیں؟‘

ان کا کہنا تھا کہ طالبان حکومت کو چاہیے کہ وہ پاکستان سے واپس آنے والوں کو دو مرحلوں میں آباد کریں۔

بریالے میانخیل کہتے ہیں کہ طالبان حکومت مختلف صوبوں میں کاروباری پارکس بنائیں تاکہ پاکستان سے لوٹنے والے ہنرمند لوگ وہاں پر کوئی کام شروع کرنے کے قابل ہوں، دوسرا انھیں رہائش کے لیے کوئی جگہ آلاٹ کریں جہاں وہ اپنا گھر بنا سکیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’عالمی اداروں، افغانستان اور ہمسایہ ممالک پاکستان اور ایران کو چاہیے کہ جب وہ ہمارے لیے کوئی پالیسی بنائیں تو مہاجرین کے نمائندوں کو اس عمل میں ضرور شامل کریں اور پاکستان کو چاہیے کہ وہ افغان طلبہ کے لیے مختص تعلیمی وظائف یہاں پر موجود افغان مہاجرین کو بھی دیں۔‘

افغان شہریوں کو پاکستان سے کیا شکوہ ہے؟

پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کے بارے میں بھی وقتا فوقتا پالیسی میں تبدیلی کی خبریں موصول ہوتی رہتی ہیں جبکہ افغانستان میں زیادہ تر شہریوں کی زبان پر اس وقت پاکستان سے سب سے بڑا شکوہ ہی ان کے لیے سرحدوں کا نہ کھولنا ہے۔

ان تمام معاملات اور افغان مہاجرین کی پاکستان سے واپسی پر بات کرتے ہوئے کابل میں پاکستان کے سفیر منصور علی خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی پالیسی بہت واضح ہے ہم نے 40 سال سے زائد تک خندہ پیشانی سے افغانوں کو اپنے ہاں رکھا ان کے لیے تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع بنائے اور جب بھی افغانستان میں کسی بحران نے جنم لیا پاکستان میں اپنے لیے حالات بہتر دیکھ کر ہر افغان نے پاکستان جانے کو ترجیح دی۔

’اب بھی جو لوگ واپس جارہے ہیں ان پر ہماری طرف سے کوئی دباؤ نہیں بلکہ صرف وہ جائیں گے جو خود اپنی مرضی سے جانا چاہتے ہیں۔‘

منصور علی خان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں حالات بہتر ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے دنیا بھر سے افغان وطن واپس لوٹ رہے ہیں اور ہم خود بھی پاکستان سے آنے والے مہاجرین کی واپسی کو زیادہ مفید بنانے کے لیے افغان حکومت اور وزارت مہاجرین و آبادکاری کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ سال افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد جو لوگ ویزا پر پاکستان گئے ان کے ویزے بھی اب ختم ہو چکے ہیں اور اب ان کی حیثیت غیر قانونی ہے اسی لیے ہم کوشش کر رہے ہیں کہ یو این ایچ سی آر کے ذریعے افغانستان، پاکستان اور ایران کی کوئی مشترکہ میٹنگ ہو سکے تاکہ غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے مستقبل کے بارے میں کوئی نئی پالیسی بنائی جاسکے۔

’چونکہ پاکستان خود اس وقت معاشی مشکلات کا شکار ہے اورمعیشت دباؤ میں ہے لیکن پھر بھی ہم اس معاملے کو انسانی بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘