پنجابی لہر: ناصر ڈھلوں جو بٹوارے میں بچھڑے انڈیا، پاکستان کے شہریوں کو دوبارہ ملوا رہے ہیں

- مصنف, شمائلہ جعفری
- عہدہ, بی بی سی نیوز
سنہ 1947 میں ہندوستان کے بٹوارے کے نتیجے میں جدا ہونے والے انڈین اور پاکستانی شہریوں کو جوڑنے والے ایک یوٹیوب چینل کے دونوں ممالک میں ہزاروں فالوورز ہیں۔
38 سالہ ناصر ڈھلوں نے سنہ 2016 میں ایک دوست کے ساتھ مل کر 'پنجابی لہر' نام کا چینل شروع کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے بعد سے چینل نے سینکڑوں لوگوں کو اپنے پیاروں کے ساتھ دوبارہ ملنے میں مدد کی ہے، ہر چند کہ اکثر ملاقاتیں ورچوئل یعنی ٹیکنالوجی کے ذریعے سے ہوئی ہیں۔
جب انگریزوں نے سنہ 1947 میں ہندوستان چھوڑا تو انھوں نے اس علاقے کو دو آزاد ممالک انڈیا اور پاکستان میں تقسیم کردیا۔ تقسیم ایک انتہائی تکلیف دہ واقعہ تھا جس کے نتجیے میں مذہبی تشدد کی ایسی لہر پیدا ہوئی جس میں تقریباً سوا کروڑ لوگ پناہ گزین بن گئے اور پانچ سے دس لاکھ کے درمیان لوگ مارے گئے۔
ان پڑوسی ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ رہے ہیں، جس کی وجہ سے انڈین اور پاکستانیوں کے لیے سرحد پار کا سفر کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
مسٹر ڈھلوں مسلمان ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ 'پنجابی لہر' شروع کرنے کے پس پشت ان کے اپنے خاندان کے بٹوارے کا تجربہ کار فرما ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے دادا اور والد انڈین ریاست پنجاب کے امرتسر سے پاکستان آئے تھے۔
وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ 'انھوں نے پاکستان میں اچھی زندگی گزاری، لیکن وہ ہمیشہ امرتسر میں اپنے گاؤں واپس جانے کی خواہش رکھتے تھے۔'
لیکن وہ اس خواہش کے پورا ہونے سے پہلے ہی دنیا سے چل بسے اور مسٹر ڈھلوں اس کے لیے خود کو مجرم محسوس کرتے ہیں۔
چینل پنجابی لہر جنوری سنہ 2022 میں انڈیا میں اس وقت سرخیوں میں آیا جب 74 سال بعد دو بھائیوں کے درمیان جذباتی ملاپ کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی۔ ان میں سے ایک بھائی سکہ خان اپنی والدہ کے ساتھ انڈیا میں رہ گیا جبکہ دوسرا بھائی صادق خان تقسیم کے بعد اپنے والد کے ساتھ پاکستان پہنچ گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان دونوں بھائیوں کا ملاپ اس وقت ممکن ہو پایا جب سکہ خان کے گاؤں کے ایک شخص نے پنجابی لہر پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں صادق کی اپیل کو دیکھا۔
مسٹر ڈھلوں کہتے ہیں: 'اپنے پیاروں کو دوبارہ ملانے سے بڑی کوئی نیکی نہیں ہے۔'

،تصویر کا ذریعہCOURTESY NASIR DHILLON
چینل شروع کرنے سے پہلے مسٹر ڈھلوں اکثر ننکانہ صاحب جاتے تھے۔ ننکانہ صاحب سکھ مذہب کے بانی گرو نانک کی جائے پیدائش ہے اور وہاں ایک گرودوارہ ہے۔ ننکانہ صاحب میں ان کی دوستی ایک پاکستانی سکھ بھوپندر سنگھ لولی سے ہوگئی اور دونوں نے مل کر 'پنجابی لہر' کی بنیاد رکھی۔
ننکانہ صاحب میں مسٹر ڈھلوں اور مسٹر لولی نے کئی ایسے لوگوں سے ملاقات کی جن کے خاندان کے افراد تقسیم کے دوران لاپتہ ہو گئے تھے۔
وہ کہتے ہیں: 'شروع میں ہمارے پاس کوئی خاص حکمت عملی نہیں تھی۔ ہم خاندان کے افراد کی تلاش میں لوگوں کی تفصیلات نوٹ کرتے اور انھیں اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پوسٹ کرتے تھے۔'
اس کی وجہ سے کئیوں کے دوبارہ ملاپ ہوئے اور ان کی ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر پذیرائی اور توجہ ملی۔
اس طرح انھوں نے تقسیم کے نتیجے میں الگ ہونے والے لوگوں کو جوڑنے کے لیے خاص طور پر یوٹیوب چینل بنانے کا فیصلہ کیا۔

،تصویر کا ذریعہCOURTESY NASIR DHILLON
چینل کے اب 600,000 سے زیادہ سبسکرائبرز ہیں۔ مسٹر ڈھلوں کا کہنا ہے کہ ان کے چینل انڈیا اور پاکستان کے لوگوں کی طرف سے گمشدہ کنبے کے افراد کو تلاش کی درخواستوں سے بھر گئے ہیں۔
وہ کہتے ہیں: 'لوگ اپنے آبائی گھر یا گرودوارے (سکھوں کی عبادت گاہ) تلاش کرنے کے لیے بھی ہم سے رابطہ کرتے ہیں۔'
یہ بھی پڑھیے
پنجابی لہر کے پاس کوئی ٹیم نہیں ہے لیکن مسٹر ڈھلوں اور مسٹر لولی نے اب دونوں ممالک میں رابطوں اور کارکنوں کا ایک نیٹ ورک بنا لیا ہے جو لوگوں کا پتا چلانے میں مدد کرتا ہے۔
اگرچہ ورچوئل دوبارہ ملاپ زیادہ آسان ہے لیکن سنہ 2019 میں سرحد کے دونوں جانب کرتارپور صاحب کوریڈور کے افتتاح کے بعد سے یہ لوگ زیادہ رو برو ملاقاتوں کا اہتمام کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ کرتار پور کوریڈور ایک ویزا فری کراسنگ ہے جو انڈین زائرین کو پاکستان میں موجود کرتارپور گرودوارے یعنی گرو نانک کی آخری آرام گاہ کی زیارت کی اجازت دیتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہCOURTESY NASIR DHILLON
مسٹر ڈھلوں کا خیال ہے کہ راہداری کا افتتاح ان لوگوں کے لیے بہترین چیز ہے جو تقسیم کے دوران اپنے پیاروں سے بچھڑ گئے تھے۔
وہ کہتے ہیں: جو لوگ اپنے خاندان سے الگ ہونے کے بعد ان کی تلاش میں ہیں ان میں سے بہت سے اب ستر کی دہائی میں ہیں۔ انھوں نے اپنے پیاروں سے ملاقات کی امید چھوڑ دی تھی، لیکن کرتار پور راہداری دوبارہ ملاپ کو ممکن بنا رہی ہے۔' ان خان برادران کی جنوری مین ملاقات بھی وہیں ہوئی تھی۔
مسٹر ڈھلوں کہتے ہیں کہ لوگوں کو دوبارہ ملانا ایک سود مند اور طمانیت کا احساس دلانے والا تجربہ ہے۔
انھوں نے کہا: 'میں نے اپنے بزرگوں سے سنا ہے کہ لوگ اپنے پیچھے چھوڑے گئے ورثے سے یاد رکھے جاتے ہیں۔ میں یہ اپنے بزرگوں کی خاطر، اپنی اور ان کی نجات کے لیے کرتا ہوں۔'
لیکن مسٹر ڈھلوں کی اپنی بھی ایک آرزو ہے اور وہ اس کے پورے ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ وہ امرتسر کے گاؤں کا دورہ کرنا چاہتے ہیں جسے ان کے دادا بہت یاد کرتے تھے۔ انھوں نے ایک بار ویزے کے لیے درخواست دی تھی ان کی درخواست مسترد کر دی گئی۔
وہ کہتے ہیں: 'میں نے ہمت نہیں ہاری ہے اور مجھے امید ہے کہ میں ایک دن وہاں ضرور جاؤں گا۔'










