قیام پاکستان کے 75 برس: خود کو قومی دھارے سے الگ سمجھنے والا نوجوان 100 برس کے پاکستان کو کیسا دیکھنا چاہتا ہے؟

بلوچستان
    • مصنف, سحر بلوچ
    • عہدہ, بی بی سی اردو

’کوئی بھی آ کر ہماری بچیوں کو اغوا کر کے ان کی راتوں رات شادی کر دے اور پھر ہمیں کہے کہ آپ کی بچی کو پچاس سال کے شخص سے پیار ہو گیا تھا جس کے نتیجے میں اس نے اسلام قبول کر کے شادی کر لی۔‘

’بطور احمدی میں چاہوں گا کہ جو بھی ہمارے بارے میں غلط خیالات ہیں، میں ان کی صفائی پیش کروں لیکن میں وہ بھی نہیں کر سکتا کیونکہ احمدی عقائد پر بات کرنا قانوناً جرم ہے اور مجھ پر پرچہ کٹ سکتا ہے۔ اس لیے میں چپ ہو کر اپنے لوگوں کا قتل ہوتے اور لوگوں کو اس کا جشن مناتے دیکھ رہا ہوں۔‘

’ہم ایک ایسا بلوچستان دیکھنا چاہتے ہیں جہاں سوال اٹھانے والوں کو نہ اٹھایا جائے۔ لوگوں کی مسخ شدہ لاشیں اٹھانا معمول کی بات ہو گئی ہے لیکن اس کے خلاف احتجاج کرنا قانوناً جرم اور غداری کے زمرے میں آتا ہے۔‘

’جو باتیں حال ہی میں عمران ریاض نے کیں، وہ ہی باتیں علی وزیر نے بھی کی ہیں لیکن فرق یہ ہے کہ علی وزیر پختون ہیں اس لیے ریاست کی کتاب میں وہ سزا کے زیادہ مستحق ہیں۔‘

پاکستان میں 75 سال کی آزادی کی خوشی ہو یا برصغیر کی تقسیم کا غم، 14 اگست کا روز مختلف لوگوں کے لیے مختلف معنی رکھتا ہے۔ پاکستان میں ایک بڑا طبقہ ان لوگوں پر بھی مشتمل ہے جو 75 سال بعد بھی خود کو قومی دھارے سے الگ سمجھتے ہیں۔

قیام پاکستان کے 75 برس مکمل ہونے پر بی بی سی نے چند ایسے ہی افراد سے بات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ وہ اپنی کمیونٹی کے لیے کیسا ملک دیکھنا چاہیں گے جب پاکستان 100 سال کا ہو گا؟

بلوچستان

’کہا جاتا ہے کہ اگر پاکستان سے اتنی نفرت ہے تو انڈیا چلے جاؤ‘

اس رپورٹ کی ابتدا ہوئی صوبہ سندھ کے شہر حیدر آباد سے جہاں ورشہ سے ایک مندر میں ملاقات ہوئی۔ ورشہ پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہیں۔ قیام پاکستان کے 75 سال پر جب ان سے بات شروع کی تو انھوں نے سب سے پہلے ہندو برادری کو درپیش جبری طور پر مذہب تبدیل کرانے کا مسئلہ اجاگر کیا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ہماری بچیوں کو اغوا کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شادی کی۔ پھر ہمیں دستاویزات دکھا کر بتایا جاتا ہے کہ اس کی اصلی عمر 13 نہیں بلکہ 18 سال ہے۔ کوئی بھی آ کر ہمارے مندروں کی تذلیل کر کے جائے، کوئی حفاظت نہیں۔ ہم پوجا کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے شور مت مچاؤ۔‘

انھوں نے کہا کہ سندھ کی بنیاد رکھنے والے ہندو تھے اور اس صوبے کی ثقافت کا ایک بڑا حصہ ہندو عقیدے سے جڑا ہے۔

’کیا ہم حکومت سے اتنی بھی توقع نہیں رکھ سکتے کہ ہمارے مندر کھلے رہیں اور ہم جا کر اپنے بھگوان کی پوجا کر سکیں؟ کیا ہم یہ بھی توقع نہیں کر سکتے کہ ہمارے مندروں میں آ کر کوئی توڑ پھوڑ کر رہا ہے تو اس کے خلاف آپ قانونی کارروائی کریں؟ ہر ہندو چاہتا ہے کہ ہمیں بھی مذہبی آزادی ہو۔‘

حیدر آباد شہر کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ تقسیم سے پہلے اس شہر کی بڑی آبادی ہندو برادری سے تعلق رکھتی تھی لیکن پھر بہت سے لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر انڈیا منتقل ہوگئے۔

’جب ہم جبری طور پر مذہب بدلنے پر شور شرابہ کرتے ہیں تو ہمیں کہا جاتا ہے کہ اگر پاکستان سے اتنی ہی نفرت ہے تو انڈیا جا کر بس جاؤ۔ ہم انڈیا کیوں جائیں جب ہمارا گھر سندھ میں ہے؟‘

انھوں نے کہا کہ حیدرآباد کے ہیرآباد کے علاقے میں آج بھی ہندو برادری سے تعلق رکھنے والوں کے گھر موجود ہیں ’جن پر اب مختلف لوگوں کا قبضہ ہے۔‘

بدلتی ہوئی ثقافت پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہم سارے سندھی ہاتھ جوڑ کر ملتے ہیں، یہ صرف ہندو ثقافت کا حصہ نہیں، یہ صوبہ سندھ کا طریقہ ہے۔ یا جیسے ساڑھی ہے، تقسیم سے پہلے زیادہ تر خواتین ساڑھی پہنتی تھی۔ اب مخصوص کردیا گیا ہے کہ ساڑھی ہندو پہنتے ہیں۔ ایسا نہیں۔ یہ اس خطے کا کلچر ہے جس کے ماننے والے صرف ہندو نہیں بلکہ بیشتر دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے بھی تھے۔‘

ورشہ نے کہا کہ ہندو برادری کے خلاف زیادہ تر باتیں وہ لوگ کرتے ہیں جنھیں پاکستان کی صحیح تاریخ معلوم نہیں۔

ہندو برادری

’آپ اگر صحیح تاریخ پڑھانا چاہتے ہیں تو پڑھائیں۔ چاہے وہ سندھی، انگریزی یا سائنس کی کتاب ہو آپ اس میں بچوں کو مذہبی انتہا پسندی تو نہ سکھائیں۔ یہ آپ کی آنے والی نسلوں کو تباہ کردے گی۔ ہندو برادری کو مطالعہ پاکستان میں کافر کہا جاتا ہے۔ جب ایک مسلمان بچہ یہ پڑھتا ہے کہ کسی ہندو کے مندر کو فتخ کرنا اصل فتح ہے تو آپ سوچیں آپ کس قسم کے نقطہ نظر کو فروغ دے رہے ہیں۔ ایک بچے کو لگے گا کہ کسی کی عبادت گاہ کو مسمار کرنا اس پر فتح کے مترادف ہے۔‘

ورشہ نے کہا کہ وہ اگلے 25 سال میں ’ایک سیکولر ریاست دیکھنا چاہتی ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’اس بات سے قطع نظر کے کسی کا مذہب کیا ہے، ہر فرد کو مذہبی آزادی ملنی چاہیے۔‘

’احساس دلایا جاتا ہے کہ ہم بطورِ شہری برابر نہیں‘

رحیم داوڑ

،تصویر کا ذریعہRahim Dawar

شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے رحیم داوڑ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’سنہ 1947 سے لے کر آج تک وزیرستان میں رہنے والے پاکستان کا حصہ تو ہیں لیکن ریاست نے ہم سے ویسا رویہ نہیں رکھا جیسا رکھنا چاہیے تھا۔ ہر دور میں میں ہمیں یہ باور کرایا گیا کہ آپ لوگ غدار ہیں، وفادار نہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’قومی دھارے میں شامل نہ کیے جانے کا اگر اندازہ لگانا ہو تو اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پچھلے کئی روز سے وزیرستان میں ٹارگٹ کلنگ کے خلاف احتجاج جاری ہے لیکن اس کی کوریج کوئی نیوز چینل نہیں کر سکتا۔ اس لیے بھی کیونکہ پختونوں کا خون کافی سستا ہے۔‘

رحیم داوڑ نے کہا کہ ’رواں سال عید سے پہلے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے حامی اینکر عمران ریاض کو گرفتار کیا گیا۔ ہمارے جنوبی وزیرستان کے ممبر نیشنل اسمبلی پر بھی بالکل اسی طرح کا مقدمہ ہے۔گزشتہ دسمبر میں علی وزیر کو جیل گئے ہوئے دو سال مکمل ہو چکے ہیں لیکن چونکہ ان کا ڈومیسائل خیبر پختونخوا کا ہے اسی لیے وہ جیل میں ہیں اور عمران ریاض کو جلدی ضمانت کے ساتھ رہائی مل گئی کیونکہ ان کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے۔‘

رحیم داوڑ نے کہا کہ حالیہ دنوں میں پاکستان کی فوج کے خلاف سب سے زیادہ ٹرینڈز صوبہ پنجاب سے بنے۔

پاکستان کے 75 برس

’اگر پنجاب میں رہنے والے پاکستان کی فوج اور اداروں کو برا بھلا کہتے ہیں، تو انھیں کوئی کچھ نہیں کہتا لیکن اگر ہم چھوٹی سی بھی غلطی کردیں تو ہمیں جیلوں میں ڈالا جاتا ہے اور احساس دلاتے ہیں کہ آپ لوگ بطورِ شہری ہمارے برابر نہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ ’ایسا پاکستان چاہتے ہیں کہ جس میں ہر شہر میں رہنے والوں کے ایک جیسے حقوق ہوں۔ پشاور اور لاہور میں رہنے والوں کو اگر کوئی چیز آپس میں جوڑتی ہے تو وہ ہے پاکستان کا آئین۔ اگر پاکستان اپنے آئین پر عمل کرے تو بہتر طریقے کے ساتھ ہم ایک دوسرے کے ساتھ چل سکتے ہیں۔‘

’احمدی جماعت پر حملوں کے بعد لوگوں کو باقاعدہ جشن مناتے دیکھا‘

لاہور کے ایک گھر میں جب احمدی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک فرد سے ملاقات کی تو بات شروع ہونے سے پہلے ہی انھوں نے اپنی شناخت چھپانے کا کہا۔

میرا ان سے پہلے سوال بھی یہی تھا کہ انھیں اپنی شناخت مختلف ہونے کا احساس پہلی بار کب ہوا؟ انھوں نے کہا کہ یہ احساس انھیں اٹھارہ سال کی عمر میں ہوا تھا۔

’جب تک شناختی کارڈ نہیں بنوایا تھا، تب تک میرے لیے احمدی ہونا ایسا ہی تھا جیسے میں پاکستان کا عام شہری ہوں لیکن جب میں ہائیر ایجوکیشن کے لیے لاہور آیا تو میں نے اپنا شناختی کارڈ لاہور سے ہی بنوایا۔ میں نے فارم بھرنے سے پہلے اسے مکمل طور پر پڑھنے کا سوچا۔ میں نے دیکھا کہ مذہب کے خانے میں احمدی جماعت کا نام غیر مسلم افراد کی فہرست میں تھا۔ مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ قانونی طور پر میں مسلمان نہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’ایک احمدی جو اسلام آباد یا لاہور میں بڑا ہوتا ہے اس کا اس احمدی بچے سے تجربہ بالکل مختلف ہو گا، جس کی پرورش ربوہ میں ہوئی۔ ربوہ ہماری جماعت کا ہیڈ کوارٹر ہے جہاں باقی شہروں کی نسبت اچھا ماحول ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’28 مئی 2010 میں جب ہماری بیت الذکر پر گڑھی شاہو اور ماڈل ٹاؤن لاہور میں حملہ کیا گیا (ان حملوں میں 94 افراد ہلاک جبکہ 124 زخمی ہوئے تھے) تو تب میں نے پہلی بار لاہور میں عام شہریوں کا رویہ دیکھا جس نے مجھے بہت ٹھیس پہنچائی تھی۔‘

’میں نے لوگوں کو باقاعدہ جشن مناتے دیکھا۔ میں نے ٹی وی پر اس واقعے کی جس قسم کی کوریج دیکھی اور سیاستدانوں کے بیانات سنے اس وقت مجھے احساس ہوا کہ ہم صرف سوتیلے یا الگ نہیں بلکہ ہم سے باقاعدہ طور پر نفرت کی جاتی ہے اور ہمارے مرنے پر خوشی منائی جاتی ہے۔‘

احمدی جماعت پر ہونے والے بیشتر حملوں کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ’پہلے مجھے لگتا تھا کہ کوئی خاص طبقہ ہے علما کا جو ہمارے خلاف ہے۔ اب یہ لگتا ہے کہ ہر طبقے کے لوگ ہمارے خلاف ہیں اور جو ہم سے تھوڑا اچھا سلوک کرتے ہیں یا نرم گوشہ رکھتے ہیں وہ بھی ڈر گئے ہیں۔ وہ ہمیں عوام کے سامنے کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’میرا ذاتی خیال ہے کہ ہماری مخالفت مذہبی بنیاد پر کی گئی تھی، جسے بعد میں سیاسی رنگ دے دیا گیا۔ ہمارے مذہبی عقائد کے بارے میں گمراہ کن باتیں کی جاتی ہیں، میں ان کے بارے میں صفائی دینے کی کوشش کروں گا لیکن اگر آپ یہ پوچھیں کہ وہ کونسے عقائد ہیں تو میں وہ بتا نہیں پاؤں گا کیونکہ قانوناً ان کو دہرانے پر بھی پابندی ہے اور پرچہ کٹ سکتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ان کی دعا ہے کہ اگلے 25 سال میں پاکستان کے حالات بہتر ہوں اور تمام اقلیتوں بشمول احمدیوں کے لیے بھی حالات بہتر ہوں۔

بلوچستان
،تصویر کا کیپشنبالاچ قادر

’سوال اٹھانے والوں کو نہ اٹھائیں‘

بالاچ قادر کا تعلق بلوچستان کے علاقے مکران سے ہے۔ بالاچ ان تمام احتجاجی مظاہروں میں شامل ہوتے ہیں جو بلوچستان کے جبری طور پر گمشدہ افراد کے لواحقین منعقد کرتے ہیں۔

یونیورسٹی آف بلوچستان میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’1947 سے آج تک بلوچستان میں رہنے والوں کو یہ احساس نہیں دلایا گیا کہ ہم ایک آزاد ماحول میں رہ رہے ہیں۔ بولنے کی آزادی ہے نہ سوچ کی آزادی، بس ایک گھٹن زدہ ماحول ہے جو یہاں نوجوان محسوس کرتے ہیں۔‘

بالاچ کے ساتھ ان کے دوست شکور بلوچ بھی موجود تھے۔ 28 سال کے شکور کا تعلق کوئٹہ سے ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اپنے بچپن کے بارے میں شکور نے بتایا کہ ’میں جب چھوٹا تھا تب مجھے لگتا تھا کہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی چیک پوسٹیں ہوتی ہوں گی، ان پر تعینات اہلکاروں کی جانب سے روکنے والوں کی یونہی تذلیل ہوتی ہو گی، وہاں پر بھی نوجوان لڑکوں کو بائیک سے اتار کر ان کے لمبے بال، جو بلوچی ثقافت کی نشانی ہے، کاٹ دیے جاتے ہوں گے اور بڑے گھیر والی شلواروں کو کاٹا جاتا ہو گا لیکن جب میں پہلی بار لاہور گیا تو کوئی بھی غیر ضروری چیک پوسٹ نظر نہیں آئی۔‘

’تب مجھے احساس ہوا کہ نہیں، پنجاب اور بلوچستان کے شہریوں میں فرق ہے۔ ریاست کا برتاؤ دونوں خطے کے لوگوں سے مختلف ہے۔‘

بلوچستان
،تصویر کا کیپشنشکور بلوچ

بالاچ نے کہا کہ ’بلوچستان میں اب بھی کافی تعداد میں طلبا اور پڑھا لکھا طبقہ لاپتہ ہے۔ اس کے لیے ہم سڑکوں پر نکلتے ہیں اور احتجاج کرتے ہیں لیکن پھر بھی کسی کی شنوائی نہیں ہوتی۔‘

بالاچ نے کہا کہ وہ ’جمہوری نظام کے تحت چلنے والا بلوچستان دیکھنا چاہتے ہیں جہاں سوال اٹھانے والوں کو اٹھایا نہ جائے بلکہ ان کے خدشات کا جواب دیا جائے۔ مساوات و برابری کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ملک کے آئین کی پاسداری کی جائے اور ہر کسی کو بولنے اور لکھنے کی آزادی دی جائے۔‘

شکور نے کہا کہ وہ ایک ایسا بلوچستان دیکھنا چاہتے ہیں ’جہاں ریاست کے اختیارات صرف ریاست کے پاس ہوں۔ ایسا نہ ہو کہ جو جب چاہے کسی کے بھی گھر میں گھس جائے اور کسی کو بھی اٹھا لے۔‘

اسی طرح ورشہ نے اپنے انٹرویو کے آخر میں کہا کہ ’ہمیں تو اقلیت کہہ کر کونے میں دھکیل دیا جاتا ہے لیکن ریاست یہ بتائے کہ کیا اس ملک کی اکثریت محفوظ ہے؟‘