’تقسیم کے زخم کی چبھن 70 برس بعد بھی کم نہ ہو سکی‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, اینڈریو وائٹ ہیڈ
- عہدہ, تاریخ دان و صحافی
چند ہفتے ہوئے پاکستان اور انڈیا آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی کے حصول کے لیے کرکٹ کے میدان میں ایک دوسرے کے مقابل آئے۔
دونوں ممالک کے لیے یہ ایک ایک بہت ہی اہم میچ تھا کیونکہ کرکٹ کا جنون دونوں ممالک میں انتہا کو پہنچا ہوا ہے۔ جنوبی ایشیا کے ان دونوں ممالک میں جو بہت سی اقدار مشترک ہیں ان میں کرکٹ کا شوق سرِفہرست ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ کرکٹ کا یہ اہم میچ انڈیا یا پاکستان میں نہیں بلکہ لندن میں کھیلا گیا کیونکہ یہ دونوں ملک آج کل ایک دوسرے کی سرزمین پر کرکٹ نہیں کھیلتے۔ ان دونوں نے اپنے خطے میں آخری ٹیسٹ میچ کوئی دس برس قبل کھیلا تھا۔
دونوں ممالک میں باہمی اعتماد کا شدید فقدان ہے اور اگرچہ دونوں ایک مشترکہ تاریخ اور ثقافت کے وارث ہیں لیکن ایک دوسرے کو دشمن کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ آزادی کے بعد کے سات عشروں میں انڈیا اور پاکستان کم از کم تین جنگیں لڑ چکے ہیں اور اگر 1999 کی جھڑپوں کو بھی شمار کر لیا جائے تو گویا چار جنگیں ہو چکی ہیں۔
دونوں ملکوں کے مابین جاری یہ چپقلش عالمی نقشے پر ایک ایسی خطرناک دراڑ کی مانند دکھائی دیتی ہے جس نے آرپار کے دونوں ممالک کو جوہری ہتھیار تیار کرنے پر اکسایا ہے۔ چنانچہ بظاہر دو ملکوں کا باہمی جھگڑا دکھائی دینے والے اس قضیئے کے باطن میں ایک وسیع تر خطرے کے جراثیم موجود ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہKeystone/Getty Images
ہندوستان برطانوی راج کی سب سے بڑی نوآبادی تھی اور اگست 1947 کے وسط میں کئی ماہ کے سیاسی تعطل کے بعد برطانیہ بالاخر اس امر پر رضامند ہوگیا کہ ہندوستانی مسلمانوں کے اس خدشے کو خاطر میں لایا جائے کہ ہندو اکثریت والے آزادی ہندوستان میں مسلمانوں کو خسارے کا سامنا رہے گا۔
چنانچہ ملک کو تقسیم کر کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن قائم کر دیا گیا۔اس عمل میں برطانوی ہند کے دو بڑے صوبوں پنجاب اور بنگال کو بھی تقسیم کا سامنا کرنا پڑا۔ آزادی کے دو ہی دن بعد اعلان کر دیا گیا کہ بین الاقوامی سرحد کی لکیر کہاں کہاں سے گزرے گی۔
ملک کی تقسیم نے آلام و مصائب کا ایک ایسا طوفان کھڑا کر دیا جس کی مثال حالیہ عالمی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔ کہا جاتا ہے کہ قحط اور جنگ کی صورتحال کے سوال کبھی لوگوں نے اتنی بڑی تعداد میں اپنا گھر بار نہیں چھوڑا۔
اس تعداد کا درست تعین تو آج تک نہیں ہو سکا لیکن محتاط اندازے کے مطابق تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ افراد پناہ کی تلاش میں در بہ در ہوئے۔ محفوظ ٹھکانوں کی جانب کُوچ کی کوششوں کے دوران پانچ سے دس لاکھ تک افراد مارے گئے جن میں مسلمان، ہندو اور سکھ سبھی شامل تھے۔ 80 ہزار سے زیادہ عورتیں، مخالف مذہب کے مردوں نے اغوا کر لیں۔
پنجاب کی حالت خاص طور پر ناگفتہ بہ تھی جہاں ہندو، سکھ، مسلمان صدیوں سے مل جل کر رہتے تھے اور ایک ہی زبان بولتے تھے لیکن اب مسلمان جان بچا کر پاکستان کی جانب بھاگ رہے تھے اور ہندو اور سکھ انڈیا کی طرف۔۔۔ لیکن ایک دوسرے کے خون کی پیاس تھی کہ بجھنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔

،تصویر کا ذریعہKeystone Features/Getty Images
یہ ان معانی میں خانہ جنگی نہیں تھی کہ متحارب افواج آمنے سامنے صف باندھے کھڑی ہوں لیکن اسے محض چند مشتعل لوگوں کی کارروائی کہہ کر بھی ٹالا نہیں جا سکتا کیونکہ دونوں جانب کے مسلح جتھے باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ ایک دوسرے کے علاقوں پر حملہ آور ہوتے تھے۔
اس مار کاٹ کے زخم آج تک مندمل نہیں ہوئے اور نہ ہی کسی نے ان زخموں پر مرہم لگایا۔ نہ کسی قاتل کو سزا ملی، نہ کسی مقتول کی داد رسی ہوئی بلکہ عرصۂ دراز تک ظلم و ستم کی ان داستانوں پر چپ کی چادر پڑی رہی۔
برسوں بعد کچھ کہانی کاروں نے ان دہشت ناک فسادات پر اپنے قلم کو حرکت دی اور کچھ فلمسازوں نے اپنے کیمروں کا رخ ان روح فرسا مناظر کی طرف موڑا۔
سینہ بہ سینہ چلنے والی زندہ تاریخ کو ریکارڈ پر لانے کا اہم کام بھی حالیہ دنوں میں ہی شروع ہوا ہے اور فسادات کا آنکھوں دیکھا حال سنانے والے چند بچے کھچے بزرگوں کے انٹرویو ریکارڈ کرنے کے کئی منصوبے اس وقت جاری ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
1947 کے فسادات میں مرنے والوں کی کوئی یادگار کہیں تعمیر نہیں کی گئی اور تقسیمِ ہند کی یادگاریں محفوظ کرنے کے لیے پہلا عجائب گھر اب جا کر امرتسر میں کھُلا ہے۔
تقسیمِ ہند کی تلخ یادیں پاکستان اور انڈیا کے باہمی تعلقات میں ایک زہر کی طرح گھُلی ہوئی ہیں اور خطے کا سیاسی جغرافیہ گذشتہ 70 برس میں کاملاً بدہیئت ہو چکا ہے۔
1947 میں جس تصفیے کے تحت پاکستان بنا تھا وہ 25 برس بھی پورے نہ کر سکا اور ملک کا دایاں بازو جو انڈیا کے پار دو ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر تھا، 1971 میں الگ ہوگیا۔ مشرقی پاکستان نے انڈین فوج کی مدد سے آزادی حاصل کر لی اور بنگلہ دیش کے نام سے ایک نیا ملک وجود میں آ گیا۔
تقسیمِ ہند کے غیر تصفیہ شدہ معاملات میں سرفہرست کشمیر کا مسئلہ ہے۔ ہمالیہ کے دامن میں قائم اس راجواڑے میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ تقسیم کے وقت ہندو مہاراجہ نے انڈیا سے الحاق کا اعلان کیا لیکن جلد ہی پاکستان اور ہندوستان کی افواج کشمیر کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے مدِمقابل آ گئیں۔

،تصویر کا ذریعہIIFA
یہ تنازعہ آج تک طے نہیں ہو سکا اور پاک و ہند تعلقات میں کشیدگی کی سب سے بڑی وجہ بنا رہا ہے۔
انڈیا پاکستان پر یہ الزام بھی لگاتا ہے کہ وہ اس کے مختلف شہروں میں دہشت گردی کرنے والے شدت پسند گروہوں کی مدد کرتا ہے جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ انڈیا بلوچستان جیسے علاقوں میں علیحدگی پسند تحریکوں کی حمایت کرتا ہے۔
دونوں ممالک کے رہنما وقتاً فوقتاً ملاقاتیں بھی کرتے رہے ہیں جن سے حالات بہتر ہونے کی امید بھی پیدا ہوتی رہی ہے لیکن اس وقت باہمی تعلقات کی صورتحال نہایت مایوس کن ہے جس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ انڈیا کا تجارتی لین دن بیلجیئم، جنوبی افریقہ یا نائجیریا جیسے دوردراز ممالک سے تو بہت زیادہ ہے لیکن اپنے ہمسایہ ملک پاکستان کے ساتھ انتہائی کم۔
جنوبی ایشیا کے ممالک نے ایک تنظیم برائے علاقائی تعاون تو قائم کر رکھی ہے لیکن وہ انتشار کا شکار رہتی ہے اور افریقی یا یورپی یونین یا 'آسیان' کی طرح فعال نہیں ہے۔
اگرچہ انڈین فلمیں پاکستان میں بےحد مقبول ہیں اور پاکستان کے ٹی وی ڈرامے انڈیا میں شوق سے دیکھے جاتے ہیں لیکن دونوں ممالک میں باقاعدہ ثقافتی تعلقات موجود نہیں بلکہ جب کشیدگی بڑھتی ہے اور معاشرتی اور ثقافتی تعلقات بھی خراب ہو جاتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ابھی پچھلے دنوں ہی شدت پسندوں کے مطالبے پر انڈیا کے معروف فلمساز کرن جوہر کو یہ اعلان کرنا پڑا کہ وہ آئندہ کسی پاکستانی فنکار کو اپنی فلموں میں کاسٹ نہیں کریں گے۔
صحافیوں کا آزادانہ تبادلہ بھی آج کل بند ہے اور خطے کے اہم خبری اداروں کے نمائندے ایک دوسرے کے ملکوں میں موجود نہیں ہیں۔
اسی طرح دوسرے ملک کا سفر بھی آسان نہیں ہے خواہ اس مقصد قریبی رشتہ داروں سے ملاقات ہی کیوں نہ ہو۔ مسئلہ صرف ویزے کا حصول ہی نہیں بلکہ سفر میں دیگر مشکلات بھی بہت ہیں۔ مثلاً دونوں ملکوں کے درمیان گنتی کی چند پروازیں چلتی ہیں اور وہ بھی دہلی اور اسلام آباد کے درمیان براہِ راست نہیں ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان ایک طویل سرحد ہے لیکن سرحد پار کرنے کے مراکز موجود نہیں۔
پاکستان میں فوج کئی بار اقتدار پر قابض رہ چکی ہے۔ آج بھی فوج اور اس کا خفیہ ادارہ، پاکستان کے مقتدر ادارے ہیں۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک بڑے اور طاقتور ہمسائے کی جانب سے کسی بھی وقت حملہ ہو جانے کے اصلی یا فرضی خطرے کے نتیجے میں پاکستانی فوج کو پھلنے پھولنے کا موقع ملتا رہا ہے جبکہ جمہوریت پختگی کی منزل تک پہنچنے سے محروم رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی آبادی 20 کروڑ سے زیادہ ہے جن میں سے 96 فیصد مسلمان ہیں۔ انڈیا کی آبادی ایک ارب 30 کروڑ ہے اور ہر ساتواں شخص مسلمان ہے۔گویا انڈیا میں بھی مسلمانوں کی تعداد کم از کم پاکستانیوں جتنی تو ضرور ہے۔
ایک اندازے کے مطابق سنہ 2050 تک انڈیا دنیا میں سب سے زیادہ مسلم آبادی والا ملک بن جائے گا لیکن وہاں پارلیمان اور سرکاری اداروں میں مسلمانوں کی نمائندگی آبادی کے تناسب سے کہیں کم ہے۔ کچھ مبصرین کے نزدیک اس تعصب اور بدسلوکی کا سبب یہ تاثر ہے کہ انڈین مسلمان پاکستان سے ہمدردی رکھتے ہیں۔
پاکستانی اور انڈین باشندے حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہیں اور جب دونوں ملکوں کی ٹیمیں کھیل کے میدان میں آمنے سامنے آتی ہیں تو حبِ وطن کا یہ جادو سر چڑھ کر بولتا ہے لیکن اس کا کیا علاج کہ تقسیم کے حادثے کا وہ زخم آج تک ہرا ہے جس نے آزادی کے جشن کو صفِ ماتم میں تبدیل کر دیا تھا اور جس کی چبھن 70 برس بعد کم نہیں ہوئی۔
اور ہاں جس کرکٹ میچ سے بات شروع ہوئی تھی اس میں پاکستان کو زبردست فتح حاصل ہوئی تھی۔ انڈیا نے بظاہر یہ صدمہ برداشت کر لیا لیکن سوشل میڈیا پر انڈین عوام دل کی بھڑاس نکالتی رہی کیونکہ اپنے 'پرانے دشمن' سے یوں شکست کھا جانا عام انڈیا کے لیے کوئی معمولی صدمہ نہ تھا۔
(اینڈریو وائٹ ہیڈ انڈیا میں بی بی سی کے سابق نامہ نگار رہ چکے ہیں اور وہ ایک ایسے تاریخ دان ہیں جن کی تقسیمِ برصغیر پر خاص توجہ رہی ہے۔)







