جبری گمشدگیاں: پانچ سال قبل جبری طور پر لاپتہ اور پھر رہا کیے جانے والے بلاگرز بیرون ملک کیسی زندگی گزار رہے ہیں؟

- مصنف, سحر بلوچ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
’مجھے میرے والد صاحب نے ایک جملہ کہا تھا کہ مجھے ڈر ہے کہ میں تمھیں دوبارہ زندہ نہیں دیکھوں گا۔۔۔ اس لیے تم نکل جاؤ۔۔۔‘
’ان کی دھمکی ہوتی تھی کہ ہم صرف مولویوں کو بتا دیں گے کہ آپ وقاص کے ماں باپ ہیں، وہ آپ کا گھر خود ہی جلا دیں گے، ہمیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔۔۔‘
’جب تک جہاز پاکستان کی فضاؤں سے باہر نہیں نکل گیا، اس وقت تک دھچکا یہی تھا کہ نجانے کیا ہو جائے۔۔۔‘
یہ کہنا ہے لاپتہ ہونے کے بعد رہا کیے جانے والے اِن پاکستانی بلاگرز کا جنھیں آج سے پانچ سال قبل ’اپنی جان بچانے کے لیے‘ پاکستان چھوڑ کر بیرون ملک جانا پڑا۔
سنہ 2017 کا آغاز وسطیٰ پنجاب سے چار بلاگرز کی گمشدگی کی خبر سے ہوا تھا۔ اس واقعے نے لاپتا افراد کے معاملے کو خبروں کی زینت بنایا اور اس پر باقاعدہ طور پر عوامی احتجاج کے ساتھ ساتھ سوالات اٹھنے لگے، بات چیت اور تجزیے ہونے لگے تھے۔
اس سے پہلے ایسی تمام تر خبریں (لاپتہ افراد کا معاملہ) خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے ہی سُننے کو ملتی تھیں، جن کے بارے میں پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں زیادہ بات نہیں کی جاتی تھی۔
وسطی پنجاب سے لاپتہ ہونے والے پاکستانی بلاگرز کے لیے ہونے والے احتجاج کے دوران خفیہ اداروں کا نام سُننے کو ملا مگر اس دوران فوج کے شعبہ تعلقات عامہ اور انٹیلیجنس ذرائع نے متعدد مرتبہ اس تمام تر معاملے سے اظہار لاتعلقی کیا۔
پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے اُس وقت کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے اس حوالے سے 31 جنوری 2017 کو ایک پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ’پاکستانی فوج کا بلاگرز کی گمشدگی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل پاکستان کے اس وقت کے وزیر داخلہ چوہدری نثار کی جانب سے یہ بیان دیا گیا تھا کہ ’وہ بلاگرز کی بازیابی کے حوالے سے انٹیلیجنس سروسز سے رابطے میں ہیں اور حکومت کی یہ پالیسی نہیں ہے کہ وہ اظہارِ رائے کی آزادی کو دبائے۔‘
اس بیان کا حوالہ دیتے ہوئے جب ڈی جی آئی ایس پی آر سے ایک صحافی نے سوال کیا تو انھوں نے کہا کہ ’وزیرِ داخلہ کی جانب سے یہ کہا گیا کہ وہ بلاگرز کو ڈھونڈنے کے لیے متعلقہ اداروں یا جو ان کے پاس موجود وسائل ہیں ان کے ذریعے کارروائی کریں گے تو اس کی مزید وضاحت تو وزیر داخلہ ہی کر سکتے ہیں لیکن ان کا مطلب ہمارے نزدیک یہ ہرگز نہیں تھا کہ وہ ہمیں موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں اور اگر انھوں نے کہا کہ ہماری ریاست کی یہ پالیسی نہیں ہے تو فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی ریاست کا حصہ ہیں۔‘
تاہم اِن بلاگرز پر بعدازاں توہینِ مذہب کا الزام لگایا گیا جس کے بعد ان تمام افراد کو پاکستان چھوڑنا پڑا تھا۔
یاد رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ہائی کورٹ میں پروفیسر سلمان حیدر، احمد وقاص گورایہ، عاصم سعید، احمد رضا نصیر اور ثمر عباس کے خلاف درخواست دی گئی تھی جس میں اُن پر فیس بک اور ٹوئٹر پر ایسے صفحات چلانے کا الزام لگایا گیا تھا جس پر مبینہ طور پر توہین آمیز مواد شائع کیا گیا تھا۔
تاہم پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے اس مقدمے کی کارروائی کے دوران دسمبر 2017 میں عدالت کو بتایا گیا تھا کہ جن بلاگرز پر سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد شائع کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے ان کے خلاف کسی ایسے اقدام کے کوئی شواہد نہیں ملے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں جبری گمشدگی کے حوالے سے ایک واضح اقدام 2019 میں دیکھنے میں آیا جب پاکستان کی افواج کے جنرل ہیڈ کوارٹر یعنی جی ایچ کیو میں لاپتہ افراد کے لیے ایک خصوصی سیل قائم کیا گیا۔ اس کے بارے میں افوج کے اُس وقت کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ پاکستان میں تمام تر گمشدگیوں کو ’فوج سے نہیں جوڑا جا سکتا۔‘
ماضی میں جبری گمشدگیوں کے معاملے پر پاکستانی حکومت اور فوج کا ردِعمل اظہار لاتعلقی اور اظہار لاعلمی تک محدود رہا ہے۔
بی بی سی نے ان بلاگرز سے بات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ انھوں نے کب فیصلہ کیا کہ رہائی کے بعد انھیں پاکستان سے چلے جانا چاہیے اور اب ان کی زندگیاں کس ڈگر پر چل رہی ہیں؟
سلمان حیدر اس سے پہلے اسلام آباد کی فاطمہ جناح یونیورسٹی میں بطور پروفیسر پڑھاتے تھے اور اس وقت اُن کی شہرت پاکستان میں انسانی حقوق کی پامالی پر آواز بلند کرنے والی شخصیت کی تھی۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان سے جانے کا فیصلہ اُن کے لیے آسان نہیں تھا کیونکہ یہ ایسا فیصلہ تھا جو انھیں باامر مجبوری کرنا پڑا۔
’پاکستان میں توہینِ مذہب کا الزام ایک ایسی چیز ہوتی ہے کہ اگر آپ کی ذاتی طور پر کسی سے لڑائی ہو یا یونیورسٹی میں ساتھیوں کے درمیان حسد کا معاملہ ہو، تو یہ تلوار آپ کے سر پر لٹک رہی ہوتی ہے۔ کوئی بھی فرد کسی بھی وقت آپ کی گردن پر یہ تلوار رکھ سکتا ہے۔ میرے لیے یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں تھا کہ میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر پاکستان سے نکلوں، لیکن خطرہ بہت تھا اس لیے میں نے طے کیا کہ بہتر یہی ہے کہ میں پاکستان سے نکل جاؤں۔‘
احمد وقاص گورایہ اپنے اغوا سے دو ماہ قبل ہی ہالینڈ سے پاکستان آئے تھے جہاں وہ 2007 سے مقیم تھے۔ وہ بلاگز کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار اور تنقید کرنے کے ساتھ ساتھ ایک آئی ٹی فرم میں ملازمت کرتے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ ان کو غیر قانونی حراست سے رہائی کے بعد گھر آ کر پتا چلا کہ انھیں اگلے دس منٹ میں اپنا سامان سمیٹنا ہے اور ملک چھوڑنا ہے۔
’میں نے سب سے پہلے اپنے ابو کو فون کیا تھا، کہ مجھے چھوڑ دیا گیا ہے۔ تو ابو نے کہا کہ گھر مت آنا، یہاں حالات بہت خراب ہیں۔ میں صرف امی سے ملنے گیا اور دس منٹ کے اندر اندر گھر چھوڑ کر چلا گیا۔ مجھے کہا گیا کہ (لوگ) آپ کا چہرہ نہ پہچان لیں، تو گھر آنے کے بعد 24 گھنٹے صرف جان بچانے کے لیے محفوظ جگہ پر پہنچنے میں گزر گئے۔'
عاصم سعید جب رہائی کے بعد گھر پہنچے تو اُن کو اس وقت یہ اندازہ نہیں تھا کہ ان تمام بلاگرز پر توہینِ مذہب کا الزام لگ چکا ہے۔
عاصم نے بتایا کہ وہ چھوٹنے کے بعد سب سے پہلے اپنی داڑھی اور بال کٹوانا چاہتے تھے۔ لیکن گھر والوں نے انھیں ایسا کرنے سے روک دیا۔
’میرے والدین انتہائی پریشان تھے، انھوں نے مجھے کہا کہ آہستہ بات کرو کوئی سُن نہ لے۔ میں نے پوچھا کہ پہلے مجھے یہ تو بتائیں کہ میں نے کیا کیا ہے؟‘
ان تمام افراد نے بتایا کہ اس واقعے کا اُن پر اور ان کے خاندان والوں پر کافی گہرا اثر پڑا۔
احمد وقاص نے دعویٰ کیا کہ ان کے جانے کے بعد ان کے خاندان والوں کو ہراساں کیا جانے لگا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میرے بھائی کا نام بلیک لسٹ میں ڈال دیا گیا تاکہ وہ پاکستان سے باہر نہ نکل سکے، وہ سوئیڈن جانا چاہتا تھا۔ میرے خاندان کے ایک اور فرد کو مجھ سے تعلق ہونے کی بنا پر سرکاری ملازمت سے نکال دیا گیا۔ میرے والد کو کہا گیا کہ ہم مولویوں کو بتا دیں گے کہ آپ احمد وقاص کے والدین ہیں۔ وہ خود ہی آپ کے گھر کو آگ لگا دیں گے۔ میں نے جب والدین کو اپنے پاس بلا لیا، تو پاکستان سے ہماری غیرموجودگی میں جعلی دستاویزات بنا کر مقدمہ بنا دیا گیا کہ یہ (احمد وقاص کا خاندان) ہم سے زمین کے پیسے لے کر چلا گیا ہے، اُن کی زمین ہمارے نام کر دیں۔ یعنی مقصد یہ تھا کہ جو بھی ہمارے نام پر ہے اس کو ضبط کر لیا جائے۔‘
یہ بھی پڑھیے
عاصم نے بتایا کہ ان کے جانے کے بعد ان کے والد سے کچھ لوگ ملنے آتے رہے۔ ’ابتدا میں پاکستان کی سرکاری ایجنسی کے اہلکار ہر دوسرے ہفتے یا مہینے بعد گھر کا چکر لگاتے رہے۔ میرے والد صاحب سے ملتے رہے پوچھتے رہے کہ آپ کا بیٹا ٹھیک ہے؟ یعنی یہ جتانے کے لیے کہ ہم آپ پر نظر رکھ رہے ہیں۔‘

ان تمام بلاگرز نے کہا کہ اس واقعے کا اور پھر پاکستان چھوڑنے کا اُن پر اور اُن کے خاندان پر کافی گہرا اثر پڑا ہے۔
سلمان حیدر بتاتے ہیں کہ ان کا نو سال کا بیٹا شروع میں نفسیاتی مسائل کا شکار رہا، اور اب بھی ایسی صورتحال ہے۔ ’جب میرا بیٹا میرے ساتھ پاکستان سے نکلا تھا تب اس کی عمر ساڑھے پانچ سال تھی۔ اگر کبھی بات ہو جائے کہ ہم سب کچھ عرصے میں پاکستان واپس چلے جائیں گے، تو اس کا کہنا ہوتا ہے کہ نہیں آپ واپس نہیں جائیں گے، صرف امی اور میں واپس جائیں گے۔‘
اپنے بارے میں انھوں نے بتایا کہ پاکستان سے جانے کے بعد ان میں پوسٹ ٹرامیٹک ایپلپسی کی تشخیص ہوئی، جو بنیادی طور پر سر پر لگنے والی کسی چوٹ کی وجہ سے تھی۔
انھوں نے کہا کہ ’سر پر چوٹ لگنے کی وجہ شدید تشدد تھا جو دورانِ حراست مجھ پر کیا گیا تھا۔ اسی طرح مجھے منھ پر مکے اور تھپڑ لگنے کی وجہ سے اپنے دانت نکلوانے پڑے اور دوبارہ نئے دانت لگوانے پڑے۔‘
پاکستان میں عام تاثر یہی ہے کہ یہاں سے بیرونِ ملک جانے والے افراد کے معاملات بہتر ہو جاتے ہیں اور پھر وہ خطرہ نہیں رہتا جس کے ڈر سے آپ وطن چھوڑنے پر مجبور کر دیے جاتے ہیں۔
لیکن احمد وقاص اور ان سمیت دیگر بلاگرز کے کیس میں ملک سے باہر جانے کے بعد آزمائشوں میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔
فروری 2020 میں احمد وقاص گورایہ پر نیدرلینڈز میں ان کے گھر کے سامنے حملہ کیا گیا۔ پھر 28 جون 2021 کو لندن کی میٹروپولیٹن پولیس کے انسدادِ دہشتگردی یونٹ نے ایک پاکستانی نژاد برطانوی شہری کو گورایہ کو ’قتل کرنے کا منصوبہ بنانے‘ کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ جس کا ٹرائل 11 جنوری 2022 سے شروع ہونے والا ہے۔
ان واقعات کے رونما ہوتے ہی پاکستان سے مختلف ممالک میں پناہ لینے والے افراد میں بھی خوف بڑھ گیا۔ اور سوال اٹھنے لگے کہ کیا بیرونِ ملک پاکستانی ان ممالک میں محفوظ ہیں؟
احمد وقاص نے کہا کہ پاکستان چھوڑنے کے ایک سال بعد تک انھیں ایسا لگتا تھا کہ وہ محفوظ ہیں لیکن اب ایسا نہیں لگتا۔
’مجھے فروری میں ایک رات پولیس نے آ کر بتایا کہ تمہاری جان کو خطرہ ہے اور جلد از جلد گھر چھوڑنے کو کہا۔ تو ایک بار پھر میرے اغوا ہونے والا واقعہ میرے ذہن میں گردش کرنے لگا۔ یہ جو دہشت ہے، اس دہشت سے اس دنیا میں ہم کہیں محفوظ نہیں ہیں۔‘
سلمان حیدر کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ’ظاہر ہے کہ یہ ہمارے لیے بھی پیغام تھا کہ واضح خطرہ ہے۔ جو لوگ اس سارے عمل کے پیچھے تھے، وہ آج بھی نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔‘
سوشل میڈیا پر صارفین احمد وقاص گورایہ پر ہونے والے حملے اور قتل کے منصوبے کے واقعے کی کڑی سوئیڈن میں بلوچستان ٹائمز کے صحافی ساجد حسین کے 2020 میں لاپتہ ہونے اور پھر سوئیڈن کے شہر اُپسالہ سے کچھ دور ندی کے کنارے ان کی لاش ملنے سے جوڑنے لگے۔
ساجد کی لاش ملنے کے بعد ان کے خاندان کی جانب سے کسی قسم کی قیاس آرائی نہ کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔ اس واقعے کے چند ماہ بعد کینیڈا کے شہر ٹورونٹو میں ایک ندی سے بلوچ علیحدگی پسند تحریک کی ایک اہم رکن کریمہ بلوچ کی لاش ملی تھی۔ تاہم ان دونوں واقعات میں سوئیڈن اور کینیڈا کے حکام کی تفتیش کے بعد بتایا گیا تھا کہ ان دونوں افراد کی موت کی وجہ ’ڈوب کر ہلاک ہونا‘ تھی۔
بلاگرز اپنے مستقبل کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟
اب سوال بنتا ہے کہ ان واقعات کے پسِ منظر میں یہ تمام بلاگرز اپنے مستقبل کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اور کیا یہ کبھی پاکستان واپس جا سکیں گے؟
عاصم نے کہا کہ وہ کہیں دور جانا چاہتے ہیں۔ ’میں سوچ رہا ہوں کہ کسی ایسی جگہ چلا جاؤں جہاں مسلمان اور پاکستانی آبادی نہ ہونے کے برابر ہو۔ پاکستان تو اب میں نہیں آ سکوں گا اور اس بات کا اندازہ مجھے اسی دن ہو گیا تھا جب میں گھر واپس لوٹا تھا۔‘
جبکہ وقاص نے کہا کہ پولیس کے مطابق اُن کی جان کو اب بھی خطرات لاحق ہیں۔ ’میں وہ ہی کروں گا جو یہ تمام باتیں ہونے سے پہلے بیچ میں چھوڑ چکا تھا۔ میری بیوی اپنی پی ایچ ڈی مکمل کرنا چاہتی ہیں۔ میں اپنا آئی ٹی کا کام پھر سے شروع کرنا چاہتا ہوں۔ لیکن اگر سچ پوچھیں تو مجھے یہ نہیں پتا کہ یہ انٹرویو شائع ہونے تک میں زندہ بچوں گا یا نہیں۔'
سلمان حیدر کہتے ہیں کہ وہ پاکستان ضرور آنا چاہیں گے اور اُن کا وطن واپسی کا ارادہ بالکل ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ جس نہج پر پاکستان میں معاملات چل رہے ہیں اس میں ظاہر ہے کہ اُن کے ایسا کرنے کے امکانات کم ہیں۔











