ٹک ٹاک: وہ پلیٹ فارم جس نے پاکستان تحریک انصاف کی پنجاب کے ضمنی انتخابات میں کامیابی میں اہم کردار ادا کیا

،تصویر کا ذریعہPTI
- مصنف, سارہ عتیق
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
گانوں پر ناچتے نوجوان جب سیاسی نغموں پر جھومنے لگیں اور فلموں کے ڈائیلاگ پر اداکاری کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف، مریم نواز اور عمران خان کے بیانات پر ٹک ٹاک بنانے لگیں تو سمجھ جائیں ٹک ٹاک پر بھی تبدیلی آ گئی ہے۔
ملک کے سیاسی ماحول نے ٹوئٹر، واٹس ایپ اور فیس بک کے بعد بالآخر ٹک ٹاک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور اب سیاسی نعرے، بیان اور ہیش ٹیگ ٹک ٹاک پر ہر طرف نظر آتے ہیں۔
ایسا نہیں کہ ٹک ٹاک پر واحد سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف ہی ہے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ٹک ٹاک کے ذریعے لوگوں تک اپنا بیانیہ اور سیاسی پیغام پہنچانے کی دوڑ میں پی ٹی آئی باقی جماعتوں کے مقابلے میں سب سے آگے نظر آتی ہے۔
پی ٹی آئی کے آفیشل ٹک ٹاک اکاؤنٹ کے اس وقت دس لاکھ سے زائد فالوورز ہیں جو کسی بھی سیاسی جماعت کے اکاؤنٹ کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔
ایک زمانے میں عمران خان کو ’سوشل میڈیا کے وزیر اعظم‘ کا طعنہ دینے والے ان کے ناقدین بھی پنجاب کے ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کی حیران کن کامیابی کے بعد یہ ماننے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ اس کے پیچھے عمران خان کا بیانیہ اور سوشل میڈیا کے ذریعے اس کی تشہیر ہے۔
عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد جب ان کی پارٹی کی جانب سے #امپورٹڈ_حکومت_نامنظور کا بیانیہ سامنے آیا تو جہاں یہ ہیش ٹیگ کئی دن تک پاکستان میں ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ رہا وہیں ٹک ٹاک پر بھی اس ہیش ٹیگ اور بیانیے کے چرچے ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے اس ہیش ٹیگ کا استعمال کرنے والی ٹک ٹاک ویڈیوز کو ایک ارب سے زیادہ بار دیکھ لیا گیا۔
سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے لیے ڈیجیٹل میڈیا کے ترجمان ڈاکٹر ارسلان خالد کہتے ہیں کہ ٹک ٹاک پر عمران خان کے بیانیے کی مقبولیت نے انھیں مجبور کر دیا کہ وہ ٹک ٹاک کو باقاعدہ اپنی ڈیجیٹل حکمت عملی کا حصہ بنائیں۔
’ہمیں اس پلیٹ فارم کی اہمیت کا اندازہ تو کافی عرصے سے تھا مگر ہمارے دور حکومت میں مختلف وجوہات کی بنا پر اس پر کئی بار پابندی عائد کی گئی لیکن 9 اپریل کے بعد چلنے والی تحریک کی ٹک ٹاک پر کامیابی کو دیکھ کر ہم نے بطور پارٹی فیصلہ کیا کہ ہم ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کریں گے اور اس لیے پھر عمران خان نے ٹک ٹاکرز سے ملاقات بھی کی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہSharjil Awish
شرجیل آوش بھی ان ٹک ٹاکرز میں تھے جن کو عمران خان سے ملاقات کے لیے بلایا گیا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’میں عمران خان کا بچپن سے بہت بڑا فین ہوں۔ انھوں نے ہم سے ملاقات میں کہا کہ اب ٹی وی کا وقت چلا گیا اور پاکستان کے دور دراز علاقوں میں جہاں ٹی وی نہیں وہاں نوجوان شوق سے ٹک ٹاک دیکھتے ہیں لہٰذا آپ اس پلیٹ فارم کے ذریعے حق کا پیغام لوگوں تک پہنچائیں۔‘
اور شرجیل نے ویسا ہی کیا۔ انھوں نے اپنی ٹک ٹاک ویڈیوز کے ذریعے لوگوں کو پنجاب کے ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کو لازمی ووٹ دینے کی تلقین کی۔
’ٹک ٹاک کو ٹھیلے والا، دکاندار، حجام سب بڑے شوق سے دیکھتے ہیں اس لیے مجھے پتا ہے کہ ہم جتنے لوگوں تک ٹک ٹاک کے ذریعے پیغام پہنچا سکتے ہیں اتنا ٹوئٹر اور انسٹاگرام یا ٹی وی کے ذریعے نہیں کر سکتے۔ اسے پاکستان کے کونے کونے میں لوگ استعمال کرتے ہیں۔‘
شرجیل کی یہ بات درست ہے کہ ٹک ٹاک وہاں بھی مقبول ہے جہاں ٹی وی اور ٹوئٹر نہیں اور بلوجستان کے علاقے جھل مگسی سے تعلق رکھنے والے سجاد اور ان کے جڑواں بھائی اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTiktok
ایسا شاید ممکن نہ ہو کہ سوشل میڈیا باقاعدگی سے استعمال کرنے والوں نے شہباز شریف اور مریم نواز کی تقاریر پر بنی سجاد اور ان کے بھائی کی مزاحیہ ٹک ٹاک ویڈیوز نہ دیکھی ہوں۔
سجاد کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ٹک ٹاک ویڈیوز کے ذریعے صاحب اقتدار کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ مہنگائی نے عام عوام کی کمر توڑ دی ہے۔
’ہمارا تعلق بلوچستان کے ایک پسماندہ علاقے سے ہے۔ ہماری پہنچ حکومت میں بیٹھے لوگوں تک نہیں لیکن ہماری کوشش ہے کہ ہم اپنی ٹک ٹاک ویڈیوز کے ذریعے ان تک عوام کا درد پہنچا سکیں۔‘
سجاد کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر موجود ویڈیوز کو اب تک پانچ کروڑ 80 لاکھ سے زیادہ بار دیکھا جا چکا ہے جبکہ ان کی ویڈیوز پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سپورٹرز بڑے شوق سے ٹوئٹر پر شئیر کرتے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے ڈیجیٹل میڈیا کے سربراہ ڈاکٹر ارسلان خالد کا کہنا ہے کہ انھوں نے ٹک ٹاکرز کو اس مہم کے لیے کسی قسم کی رقم نہیں دی اور شرجیل اور سجاد نے بھی ڈاکٹر ارسلان کی اس بات سے اتفاق کیا۔
’شاید یہ پہلی مہم ہو گی جس کے لیے ٹک ٹاکرز نے ایک روپیہ بھی نہیں لیا۔‘
مناہل ملک کے ٹک ٹاک پر تقریباً آٹھ لاکھ فالوورز ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے لوگوں کو ضمنی الیکشن میں ’حق کا ساتھ دینے اور ووٹ ڈالنے‘ کا پیغام اس لیے دیا کیونکہ بطور ٹک ٹاک سیلیبرٹی ان کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ لوگوں کو آگاہی دیں۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہManahil
تاہم پی ٹی آئی سے پہلے بھی سیاسی و مذہبی جماعتوں نے اپنے بیانیے کو عام کرنے کے لیے ٹک ٹاک کا استعمال کیا جن میں مسلم لیگ نون اور تحریک لبیک شامل ہیں۔
مسلم لیگ نون کے کارکن سعود بٹ کی اپنی جماعت کے لیے ویڈیوز وائرل ہوئیں اور جب ان کو پولیس کی جانب سے ہنگامہ آرائی کے الزام میں اگست 2020 میں گرفتار کیا گیا تو ان کے مداحوں کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آیا۔
اسی طرح تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے جب پیغمبر اسلام کے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف فرانسیسی اشیا کے بائیکاٹ کی مہم چلائی گئی تو اسے ٹک ٹاک پر کافی پذیرائی ملی۔
لیکن ٹک ٹاک پر پی ٹی آئی کے حامی بیانیے اور پارٹی کی جانب سے اس کو باقاعدہ اپنی ڈیجیٹل حکمت عملی میں شامل کرنا ان کے لیے جتنا فائدے مند ثابت ہوا، شاید کسی اور سیاسی جماعت کے لیے نہیں ہوا۔











