پشاور ہائی کورٹ نے ٹک ٹاک پر سے پابندی ہٹا دی، ٹک ٹاک انتظامیہ کا خوشی کا اظہار

ٹک ٹاک

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پشاور ہائی کورٹ نے جمعرات کے روز ٹک ٹاک پر لگائی گئی پابندی اس شرط پر ہٹا دی ہے کہ غیر اخلاقی ویڈیوز اپ لوڈ نہیں کی جائیں گی۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی، پی ٹی اے، کے حکام نے عدالت کو بتایا کہ کہ انھوں نے بڑی تعداد میں اس ایپ سے غیر اخلاقی مواد ہٹا دیا ہے اوراس کے علاوہ وہ ٹاک ٹاک انتظامیہ کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں۔

چیف جسٹس قیصر رشید کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے ٹک ٹاک پر پابندی ہٹانے سے متعلق ایک مختصر فیصلہ جاری کیا ہے جس کا ٹاک ٹاک انتظامیہ کی جانب سے خیر مقدم کیا گیا ہے۔

درخواست گزاروں کی جانب سے وکیل سارہ علی خان نے بی بی سی کو بتایا کہ آج عدالت میں سماعت شروع ہوئی تو پی ٹی اے کی جانب سے وکیل جہانزیب محسود نے عدالت کو بتایا کہ پی ٹی اے نے بڑی تعداد میں غیر اخلاقی مواد ٹک ٹاک سے ہٹا دیا ہے اور یہ کہ وہ اس بارے میں مزید اقدامات کر رہے ہیں تاکہ ایسے مواد پر نظر رکھی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیے

پی ٹی اے کے وکیل نے کہا کہ ٹک ٹاک انتظامیہ نے ایک فوکل پرسن تعینات کیا ہے جو حکام سے رابطے میں رہے گا اور یہ کے ایسے غیر اخلاقی مواد کی نگرانی کے لیے 400 ماڈریٹرز بھی موجود ہوں گے۔

ٹک ٹاک سماعت کا احوال

چیف جسٹس قیصر نے دوران سماعت ڈی جی پی ٹی اے سے کہا کہ ’اب تک کیا کارروائی کی گئی ہے، جس پر انھوں نے کہا کہ ’ٹک ٹاک انتظامیہ کے ساتھ دوبارہ اس مسئلے کو اٹھایا ہے اور ٹک ٹاک انتظامیہ نے فوکل پرسن بھی تعینات کر دیا ہے‘۔

انھوں نے بتایا کہ جتنا بھی غیر اخلاقی اور غیر قانونی مواد اپ لوڈ ہو گا اس کو دیکھا جائے گا۔

سارہ علی خان نے بتایا کہ جسٹس قیصر رشید نے کہا ’ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ لوگوں میں ہی اچھے برے کی تمیز ہوتی اور وہ اس میں تفریق کر سکتے۔ انھوں نے کہا کہ اگر پی ٹی اے کارروائی کرے گی تو لوگ پھر ایسی ویڈیوز اپلوڈ نہیں کریں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ اگر لوگوں کو معلوم ہو گا کے ان کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے تو لوگ پھر ایسا مواد اپ لوڈ نہیں کریں گے۔ اس پر ڈی جی پی ٹی اے نے بتایا کہ ٹک ٹاک انتظامیہ کے ساتھ بات کی ہے کہ جو بار بار ایسی غلطی کرتے ہیں انھیں بلاک کر دیا جائِے۔

عدالت نے اس موقع پر کہا کہ یہ بس ایک ہی مرتبہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد روکنے کے لیے مزید اقدمات کیے جائیں۔

عدالت نے پی ٹی اے حکام سے کہا ہے کہ ٹک ٹاک کھول دیں لیکن غیر اخلاقی ویڈیوز روکنے کے لیے اقدامات ضرور کیے جائیں اور یہ کہ آئندہ سماعت پر تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔

ٹک ٹاکرز

،تصویر کا ذریعہInstagram

عدالتی فیصلے پر ٹک ٹاک انتطامیہ کا ردعمل

آج کے عدالتی فیصلے کو ٹک ٹاک انتظامیہ نے سراہا ہے۔ ٹک ٹاک کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 'ہمیں خوشی ہے کہ ٹک ٹاک ایک بار پھر ہماری کمیونٹی کے لیے پاکستان میں دستیاب ہے۔ یہ ٹک ٹاک کا محفوظ اور مثبت آن لان کمیونٹی کو فروغ دینے کے عزم کا ثبوت ہے۔ کمیونٹی کی تخلیقی صلاحیتوں اور جذبے نے پاکستانی عوام کو خوشی فراہم کی ہے۔‘

انتظامیہ نے مزید کہا کہ ٹک ٹاک کو اس بات پر خوشی ہے کہ وہ پاکستانیوں کی آواز کو مؤثر بنانے اور پاکستان کی کامیابی کی کہانی بتانے کے قابل ہے۔ ٹک ٹاک نے پی ٹی اے سمیت پاکستان سے ملنے والے تعاون کا اعتراف کرتے ہوئے ملک میں مزید سرمایہ کاری کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

خیال رہے کہ ٹک ٹاک پاکستان میں نہایت مقبول ہے اور پاکستان میں ہزاروں افراد روزانہ اس ایپ پر ویڈیوز اپ لوڈ کرتے ہیں۔

ٹک ٹاک نے ایسے بے شمار لوگوں کو اپنا ہُنر دکھانے کا موقع فراہم کیا، جنھیں شاید کوئی جانتا تک نہ تھا اور دیکھتے ہیں دیکھتے ان میں سے کئی افراد راتوں رات سٹار بن گئے اور بیرونِ ملک ہونے والے شوز میں انھیں بلایا جانے لگا۔

لیکن جیسے جیسے پاکستانی نوجوانوں میں اس ایپ کی مقبولیت بڑھی، اس سے جڑے تنازعات نے بھی سر اٹھایا اور بات تنبیہ سے ہوتی ہوئی پابندی تک جا پہنچی ہے۔

فواد چوہدری، ٹوئٹر

،تصویر کا ذریعہTwitter/@fawadchaudhry

گذشتہ سماعت کا احوال

اس سے پہلے گیارہ مارچ کو پشاور ہائی کورٹ نے اس مقدمے کی سماعت کے دوران کہا تھا کہ ٹک ٹاک ویڈیوز سے معاشرے میں 'فحاشی' پھیل رہی ہے اور پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو حکم دیا تھا کہ وہ اس ایپ پر پابندی عائد کر دے۔

بعد ازاں پی ٹی اے نے عدالتی حکم پر عملدرآمد کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے کہا کہ ٹک ٹاک تک رسائی کو مکمل طور پر روک دیا جائے۔

'نامناسب' مواد کو ہٹانے کے لیے پُرعزم ہیں: پی ٹی اے

ٹک ٹاک نے عدالت کے فیصلے کے بعد اپنے بیان میں کہا ہے کہ اُنھوں نے پاکستان میں مواد کی نگرانی کی صلاحیت کو 250 فیصد تک بڑھایا ہے اور وہ پاکستان کے مقامی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے 'نامناسب' مواد کو ہٹانے کے لیے پُرعزم ہیں۔

مگر ٹک ٹاک کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اس پلیٹ فارم پر اپنی پالیسیز کے مطابق صارفین کی جانب سے تخلیقی اظہار کے حق کو بھی یقینی بنائیں گے۔

ویڈیو شیئرنگ ایپ کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ وہ حکام کے ساتھ تعاون کر کے ایک ایسے حل تک پہنچ سکتے ہیں، جس سے پاکستان کے 'لاکھوں صارفین' ٹک ٹاک سے مستفید ہوتے رہیں گے۔

پی ٹی اے کے مطابق ٹک ٹاک پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کے ساتھ مل کر قابلِ اعتراض مواد کو ریگولیٹ کرنے میں تعاون کر رہی ہے۔

خیال رہے کہ ویڈیوز شیئرنگ والی اس مقبول ایپ ٹک ٹاک پر پابندی ہٹانے کے لیے یہ درخواست 40 سے زیادہ شہریوں کی جانب سے نازش مظفر ایڈووکیٹ اور سارہ علی خان نے دائر کی تھی۔

گذشتہ سماعت کے دوران چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس قیصر رشید نے کہا تھا کہ ٹک ٹاک ویڈیوز سے معاشرے میں فحاشی پھیل رہی ہے اور اس کی روک تھام کے لیے کوئی اقدامات نظر نہیں آ رہے ۔ انھوں نے سماعت کے دوران کہا کہ ٹک ٹاک پر جو ویڈیوز اپ لوڈ ہوتی ہیں وہ ہمارے معاشرے کو قبول نہیں ہیں۔

پی ٹی اے، ٹک ٹاک اور فاقی وزیر سائنس ٹیکنالوجی

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

ٹک ٹاک پر پابندی کے عدالتی فیصلے پر وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد احمد چوہدری نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ وہ جانتے ہیں کہ زیادہ تر ججز ٹیکنالوجی کے کام کرنے کے ماڈلز سے ناواقف ہیں، وہ چیف جسٹس پاکستان سے مداخلت کی درخواست کریں گے اور وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی عدلیہ کے ساتھ مل کر اس پر کام کرے گی۔

فواد چوہدری نے ٹک ٹاک پر پابندی کے عدالتی حکم پر کہا تھا کہ یہ ’ایک اور ایسا فیصلہ ہے جس کی پاکستان کے عوام بڑی قیمت چکائیں گے۔‘

آج کے فیصلے پر فواد چوہدری نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بات سچ ثابت ہوئی ہے۔

فواد چوہدری نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی درخواست بس اتنی ہی تھی کہ ہمیں ایسے فیصلے دیتے ہوئے محتاط رہنے کی ضرورت ہے جو مستقبل میں پاکستان کے معاشی مفادات کو نقصان پہنچا سکتے ہوں۔

انھوں نے کہا کہ ہمیں ایک ایسا فریم ورک بنانے کی ضرورت ہے کہ غیر ملکی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دی جا سکے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی پاکستانی حکام نے مختصر دورانیے کی ویڈیوز کی اس ایپ ٹک ٹاک پر’غیر اخلاقی مواد‘ کی شکایات موصول ہونے کے باعث پابندی عائد کی تھی۔

پاکستان میں مواصلات کے ریگولیٹری ادارے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے ایپ پر پابندی لگاتے ہوئے کہا گیا کہ 'معاشرے کے مختلف طبقات' کی جانب سے ایپ پر موجود مواد کے خلاف شکایات کی گئی تھیں۔