ٹک ٹاک پر پابندی: وزیرِ سائنس فواد چوہدری کی پشاور ہائی کورٹ کے حکم پر تنقید

فواد چوہدری، ٹک ٹاک

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے ٹک ٹاک پر پابندی کے عدالتی حکم پر کہا ہے کہ یہ ’ایک اور ایسا فیصلہ ہے جس کی پاکستان کے عوام بڑی قیمت چکائیں گے۔‘

یاد رہے کہ جمعرات کو پشاور ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ ٹک ٹاک ویڈیوز سے معاشرے میں ’فحاشی‘ پھیل رہی ہے اور پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو حکم دیا تھا کہ وہ اس ایپ پر پابندی عائد کر دے۔

بعد ازاں پی ٹی اے نے عدالتی حکم پر عمل درآمد کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے کہا کہ ٹک ٹاک تک رسائی کو مکمل طور پر روک دیا جائے۔

اپنے ٹوئٹر بیان میں فواد چوہدری نے مزید کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ زیادہ تر ججز ٹیکنالوجی کے کام کرنے کے ماڈلز سے ناواقف ہیں، وہ چیف جسٹس پاکستان سے مداخلت کی درخواست کریں گے اور وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی عدلیہ کے ساتھ مل کر اس پر کام کرے گی۔

یہ بھی پڑھیے

ٹک ٹاک نے عدالت کے فیصلے کے بعد اپنے بیان میں کہا ہے کہ اُنھوں نے پاکستان میں مواد کی نگرانی کی صلاحیت کو 250 فیصد تک بڑھایا ہے اور وہ پاکستان کے مقامی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے ’نامناسب‘ مواد کو ہٹانے کے لیے پُرعزم ہیں۔

مگر ٹک ٹاک کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اس پلیٹ فارم پر اپنی پالیسیز کے مطابق صارفین کی جانب سے تخلیقی اظہار کے حق کو بھی یقینی بنائیں گے۔

ویڈیو شیئرنگ ایپ کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ وہ حکام کے ساتھ تعاون کر کے ایک ایسے حل تک پہنچ سکتے ہیں جس سے پاکستان کے ’لاکھوں صارفین‘ ٹک ٹاک سے مستفید ہوتے رہیں گے۔

دوسری جانب اس حوالے سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے بتایا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے احکامات کا پاسداری کرتے ہوئے سروس پرووائیڈرز کو ٹک ٹاک ایپ تک رسائی فوراً بلاک کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔

پی ٹی اے کے مطابق ٹک ٹاک پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کے ساتھ مل کر قابلِ اعتراض مواد کو ریگولیٹ کرنے میں تعاون کر رہی ہے۔

فواد چوہدری، ٹوئٹر

،تصویر کا ذریعہTwitter/@fawadchaudhry

پابندی کی درخواست کس نے دی؟

ویڈیوز شیئر کرنے کی مقبول ایپ ٹک ٹاک پر پابندی کے لیے یہ درخواست 40 سے زیادہ شہریوں کی جانب سے نازش مظفر ایڈووکیٹ اور سارہ علی خان نے دائر کی تھی۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس قیصر رشید نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ ٹک ٹاک ویڈیوز سے معاشرے میں فحاشی پھیل رہی ہے اور اس کی روک تھام کے لیے کوئی اقدامات نظر نہیں آ رہے۔

انھوں نے سماعت کے دوران کہا کہ ٹک ٹاک پر جو ویڈیوز اپ لوڈ ہوتی ہیں وہ ہمارے معاشرے کو قبول نہیں۔

جمعرات کو عدالت میں سماعت شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ عدالت کے حکم کے مطابق رپورٹ پیش کر دی گئی ہے۔ اس پر وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل نے اس رپورٹ کی تفصیل فراہم کی۔

اٹارنی جنرل نے اس دوران کہا کہ اس پابندی سے اظہار رائے پر پابندی کا تاثر پایا جا سکتا ہے اس لیے پابندی ایک ہفتے کے لیے ہونی چاہیے، جس پر نازش مظفر نے کہا کہ آزادی اظہار کی آزادی آئین کے مطابق ہونا چاہیے اور دعویٰ کیا کہ یہ آزادی آئین اور مذہبی روایات کے خلاف ہے۔

اس سے پہلے اس پٹیشن کی سماعت 10 فروری کو ہوئی تھی جس میں پی ٹی اے، ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام عدالت میں پیش ہوئے تھے جس میں حکام سے کہا گیا تھا کہ ایسی رپورٹ پیش کریں جس میں اس ایپلیکیشن کو کنٹرول کرنے کا طریقہ کار بتایا جائے۔

پی ٹی اے، ٹک ٹاک،

،تصویر کا ذریعہTwitter/@PTAofficialpk

اپنی رپورٹ میں حکام نے بتایا کہ اس وقت ٹاک ٹاک پر یومیہ بڑی تعداد میں ویڈیوز اپ لوڈ ہوتی ہیں جبکہ یہاں متعلقہ اداروں کے پاس محدود وسائل ہیں جس وجہ سے تمام ویڈیوز کو چیک کرنا اور ان کو روکنے کے لیے اقدامات کرنا مشکل ہے۔

نازش مظفر کا مؤقف یہ تھا کہ وہ اس پر مکمل پابندی نہیں چاہتے لیکن اُس مواد پر پابندی ہونی چاہیے جو اُن کے مطابق ’فحاشی اور عریانی کے زمرے میں آتا ہے‘۔

کارروائی کے دوران چیف جسٹس نے پی ٹی اے کے حکام سے پوچھا کہ ٹک ٹاک ایپ بند کرنے سے کیا کمپنی کو نقصان ہوگا جس پر پی ٹی اے کے حکام نے اثبات میں جواب دیا، جس پر عدالت نے کہا کہ ان کو نقصان ہوتا ہے تو پھر اس کو بند کیا جائے, ’نقصان ہوگا تو وہ آپ کی درخواست پر عمل کریں گے۔‘

ٹک ٹاک

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس سے پہلے اکتوبر 2020 میں بھی پی ٹی اے نے اس ایپ پر ’غیر اخلاقی مواد‘ شائع ہونے کی وجہ سے پابندی عائد کر دی تھی لیکن پھر یہ پابندی اٹھا دی گئی تھی۔

ٹک ٹاک پاکستان میں نہایت مقبول ہے اور پاکستان میں ہزاروں افراد روزانہ اس ایپ پر ویڈیوز اپ لوڈ کرتے ہیں۔

ٹک ٹاک نے ایسے بے شمار لوگوں کو اپنا ہنر دکھانے کا موقع فراہم کیا جنھیں شاید کوئی جانتا تک نہ تھا اور دیکھتے ہیں دیکھتے ان میں سے کئی افراد راتوں رات سٹار بن گئے اور بیرونِ ملک ہونے والے شوز میں انھیں بلایا جانے لگا۔

لیکن جیسے جیسے پاکستانی نوجوانوں میں اس ایپ کی مقبولیت بڑھی، اس سے جڑے تنازعات نے بھی سر اٹھایا اور بات تنبیہ سے ہوتی ہوئی پابندی تک جا پہنچی ہے۔