شادی نہ کرانے پر بیٹا تھانے پہنچ گیا، والد نے پولیس کو وضاحت دے دی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
جوان بیٹے کی شادی کرانا میرا فرض ہے اور میں اس سے آگاہ ہوں لیکن اگر بیٹا نا فرمان ہو، غیر ذمہ دار ہو تو کوئی اپنی بیٹی میرے بیٹے کو کیوں دے گا کیسے میں کسی کی بیٹی کو مشکل میں ڈال دوں؟
یہ مؤقف ہے ایک والد معین گل کا جسے گذشتہ روز پولیس نے وضاحت کے لیے طلب کیا تھا۔ آپ یقیناً سوال کریں گے کہ اس میں پولیس کا کیا کام وہ کیوں کسی والد کو طلب کر سکتی ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایک بیٹے نے پولیس کو درخواست دی ہے کہ میرا والد میری شادی نہیں کرانا چاہتا۔
یہ کہانی ہے خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو کا جہاں 28 برس کے نوجوان نے ضلعی پولیس افسر کو درخواست دی ہے کہ اس کی شادی کرائی جائے۔
میں گناہ سے بچنا چاہتا ہوں؟
یہ درخواست محمود اللہ ولد معین گل نے پولیس افسر کو دی ہے جس میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس کی عمر 28 سال ہے اور یہ کہ وہ ٹیوب ویل آپریٹر ہے۔ اس نے گھر میں شادی کے لیے والدین کو کہا ہے لیکن اس کی شنوائی نہیں ہو رہی ہے۔
اس درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ اس عمر میں وہ گناہ سے بچنا چاہتا ہیں۔
درخواست میں محمود اللہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ اس بے حیائی کے دور میں گناہ سے بچ رہا ہے لیکن کب تک اور دوسری جانب اس کے والدین کو اس کی فکر نہیں ہے اور اس کے مطالبے پر بھی کوئی کوشش نہیں کی جا رہی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس درخواست میں ضلعی پولیس افسر سے کہا گیا ہے کہ میرے والد سخت مزاج ہیں اور میری بارہا کوششوں کے باوجود میری شادی نہیں کرائی جا رہی اس لیے میرے والد سے کہا جائے کہ میری شادی کرائے۔
اس بارے میں محمود اللہ سے رابطے کی کوشش کی گئی لیکن درخواست میں موجود فون نمبر مسلسل بند آ رہا تھا جس وجہ سے ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
محمود اللہ کے والد سے رابطہ ہوا ہے ان کا مؤقف تھوڑی دیر بعد بیان کیا جائے گا اس سے پہلے جانتے ہیں کہ پولیس نے کیا کوششیں کی ہیں۔
پولیس کیسے شادی کرائے گی؟
ضلعی پولیس افسر ہنگو نے درخواست ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس آصف خان کو بھیج دی تاکہ اس پر کارروائی کی جا سکے۔ اس بارے میں آصف خان سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے محمود اللہ اور ان کے والد معین گل کو اپنے دفتر میں بلایا تھا اور ان سے تفصیلی بات ہوئی ہے۔
ڈی ایس پی آصف خان نے بتایا کہ ان کے والد نے تمام شواہد اور ثبوتوں کے ساتھ بتایا کہ محموداللہ نافرمان ہے اور غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا ہے جس وجہ سے اس کی شادی ابھی تک نہیں کرائی جا سکی۔
انھوں نے بتایا کہ معین گل نے کہا ہے کہ اگر محمود اللہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرے تو وہ ایک ماہ کے اندر اس کے شادی کرانے کو تیار ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مجھ پر فرض ہے کہ بیٹے کی شادی کراؤں لیکن؟
اس بارے میں معین گل سے رابطہ ہوا تو ان کا کہنا تھا کہ بات اتنی سیدھی نہیں ہے میرا بیٹا ہے اور مجھے معلوم ہے۔ معین گل نے پہلے اپنے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ان کی عمر کوئی 68 سال ہے اور انھوں نے 37 سال ابو ظہبی میں مزدوری کی ہے جو کچھ کمایا ہے اپنے بچوں کے لیے بھیجتا رہا ہوں۔
میرے تین بیٹے ہیں، محمود اللہ سب سے چھوٹا ہے، بڑی دونوں بیٹیوں کی شادیاں ہو چکی ہیں ایک کے سات بچے ہیں اور دوسری کے پانچ بچے ہیں۔
معین گل نے بتایا کہ محمود اللہ نے مختلف طریقوں سے پریشانیاں پیدا کی ہیں کبھی دوستوں کے ساتھ مل کر مجھ سے رقم لے لیتا ہے اور پھر خرچ کر دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
انھوں نے پولیس کو بتایا تھا کہ ایک مرتبہ اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر اغوا کا ڈرامہ کیا تھا اور ایک مرتبہ گرفتار بھی ہوگیا تھا۔ اس کے علاوہ بھی ایسے مسائل پیدا کیے جس سے میرے لیے مشکلات پیدا ہو گئی تھیں۔
انھوں نے بتایا کہ انھں نے اپنی زمین ٹیوب ویل کے لیے دی ہے جہاں ایک سرکاری ملازمت میں انھوں نے محمود اللہ کو تعینات کرایا ہے اب وہ تنخواہ لے رہا ہے لیکن والدین کو کچھ نہیں دیتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں وہ کیسے کسی کی بیٹی کا ہاتھ اپنے بیٹے کے لیے مانگ سکتے ہیں اور کون والدین ہوں جو اپنی بیٹی کا ہاتھ دیں۔ انھوں نے کہا کہ میں نے بیٹے سے کہا ہے کہ وہ سدھر جائے، ذمہ داری کا مظاہرہ کرے تو میں کسی کی منت کرکے اس کی شادی کرادوں گا۔
انھوں نے مذید کہا کہ بچوں کی شادی والدین پر فرض ہے اور مجھے اس کا احساس ہے
ڈی ایس پی آصف خان کے مطابق محمود اللہ نے اب سُدھرنے کا وعدہ کیا ہے اور اگر محمود اللہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا ہے تو ان کے والد بیٹے کی شادی کے لیے کوششیں ضرور کریں گے۔









