عمران خان حکومت کے خاتمے کی مبینہ امریکی سازش ایک مرتبہ پھر زیرِ بحث

،تصویر کا ذریعہReuters/GETTY IMAGES
پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی حکومت کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد آنے سے لے کر آج کے دن تک وہ مصر ہیں کہ اُن کی حکومت کو ایک ’بیرونی سازش‘ کے ذریعے ہٹایا گیا ہے۔
بجٹ، مہنگائی اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی دوران ’سازش‘ یا ’مداخلت‘ کے گرد ہونے والی اس بحث میں نئی جان منگل کو پڑی جب پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے سابق وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد کے ایک بیان کی تردید کی۔
شیخ رشید نے 10 جون کو پاکستانی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے پروگرام میں کہا تھا کہ آرمی چیف نے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں یہ نہیں کہا کہ سازش نہیں ہوئی۔
شیخ رشید کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ ’ایسا بالکل بھی نہیں ہے، (قومی سلامتی) اجلاس کے دوران تینوں سروسز چیفس میٹنگ میں موجود تھے۔ میٹنگ میں شرکا کو ایجنسیز کی طرف سے آگاہ کیا گیا۔‘
اُنھوں نے کہا کہ ’کسی قسم کی سازش کے شواہد نہیں ہیں۔ ایسا کچھ نہیں، میٹنگ میں کلیئر بتا دیا گیا تھا کہ سازش کے شواہد نہیں ملے۔‘
واضح رہے کہ فوجی ترجمان نے اس تردیدی بیان کے لیے اسی پروگرام کا انتخاب کیا تھا جس میں اُن سے کچھ دن قبل شیخ رشید نے اپنا بیان دیا تھا۔
فوجی ترجمان نے کہا کہ 'حقائق کو مسخ کرنے کا حق کسی کے پاس نہیں، پچھلے کچھ عرصے سے افواج اور قیادت کو پروپیگنڈے کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اپنی رائے کا سب کو حق ہے لیکن جھوٹ کا سہارا نہیں لینا چاہیے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
پھر بدھ کو پی ٹی آئی رہنماؤں اسد عمر اور شیریں مزاری نے بھی ایک پریس کانفرنس کی جس میں اسد عمر نے کہا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں عسکری قیادت کے کچھ نمائندوں کو بیرونی سازش کے شواہد نظر نہیں آئے تھے تاہم سویلین قیادت میں اکثریت کی رائے یہ تھی کہ سازش نظر آ رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اُنھوں نے کہا کہ ’سیاستدانوں کو آپس میں سیاسی معاملات طے کرنے دینا چاہیے۔ اگر بار بار ان سیاسی معاملات کی تشریح ڈی جی آئی ایس پی آر کرنا ضروری نہ سمجھیں تو یہ فوج اور ملک کے لیے اچھا ہوگا۔‘
اس کے بعد جنرل بابر افتخار نے نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’قومی سلامتی کے معاملے پر جب اعلیٰ سطحی اجلاس بلایا جاتا ہے تو اس میں ایجنڈا پہلے سے طے ہوتا ہے۔ اس میں شرکا خاص طور پر سروسز چیفس اور ڈی جی آئی ایس آئی انٹیلیجنس معلومات لے کر جاتے ہیں، یہ رائے نہیں ہوتی۔ کسی نے یہ بھی کہا کہ یہ ان کی رائے ہے، یہ ہماری رائے ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہPrime Minister's Office
اُنھوں نے اسد عمر کی جانب سے لفظ ’رائے‘ کے استعمال پر کہا کہ ’یہ رائے نہیں تھی، یہ انٹیلیجنس کی بنیاد پر معلومات تھی۔ اس کے مطابق وہاں یہیں بتایا گیا۔ اعلامیے میں بھی سازش کا لفظ شامل نہیں۔ اسے رائے نہیں کہا جاسکتا۔ یہ بریف اور موقف تھا۔‘
پھر سابق وزیرِ اعظم عمران خان خود اس بحث کا حصہ تب بنے جب سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے پلیٹ فارمز پر صارفین کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ پاکستانی فوج کے ترجمان یہ فیصلہ نہیں کرسکتے کہ سازش ہوئی یا نہیں۔
’کیا ڈی جی آئی ایس پی آر یہ فیصلہ کریں گے کہ یہ سازش تھی یا نہیں۔ یہ ان کی رائے ہوسکتا ہے، وہ فیصلہ تو نہیں کر سکتے۔‘

،تصویر کا ذریعہPTI
اس مبینہ سازش یا مداخلت کے بارے میں سیاسی اور عسکری قیادت کے سلسلہ وار اور جوابی بیانات کے بعد سوشل میڈیا پر صحافی طلعت حسین نے لکھا کہ شہباز گل، شیریں مزاری اور اسد عمر نے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کے اس مؤقف کو جھٹلایا ہے کہ ان کی حکومت کے خاتمے میں امریکی سازش کے ثبوت نہیں ملے۔
اُنھوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ پی ٹی آئی عدالتی کمیشن کا مطالبہ کر کے یہ باور کروانا چاہتی ہے کہ جیسے فوجی ہائی کمان یا جھوٹ بول رہی ہے، سچ چھپا رہی ہے، یا اس سے بھی کچھ برا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
چوہدری احسن نسیم بھٹہ نامی صارف نے لکھا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر اس خفیہ مراسلے کو ڈی کوڈ کریں اور اسے کھلی بحث اور 22 کروڑ عوام کی معلومات کے لیے شائع کروائیں تاکہ یہ تجسس اور تذبذب ختم ہو کہ امریکہ سستی توانائی کے لیے عمران خان کے دورے پر پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کی سازش میں شامل تھا یا نہیں۔
صحافی وسیم عباسی نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب جاری دو اہم بحثوں یعنی مہنگائی اور سازش کے بارے میں کہا کہ امریکہ نے سازش میں کہا تھا کہ عمران خان کو ہٹا دو پاکستان کو معاف کر دیں گے۔ مگر عمران خان ہٹ گئے، پھر امریکہ پاکستانیوں کو مزے کیوں نہیں کروا رہا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
سلمان مسعود نے لکھا کہ کیا ایک سیاسی جماعت کی جانب سے بار بار اپنی حکومت کے خاتمے پر (سازش کے) دعووں کے بعد پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان حتمی ٹکراؤ ناگزیر ہے؟
ٹی وی اینکر اور صحافی مبشر زیدی نے لکھا کہ اُن کی رائے میں ڈی جی آئی ایس پی آر کو روزانہ ٹی وی پر آ کر سیاسی بیانات کا جواب نہیں دینا چاہیے ورنہ اُنھیں فریق تصور کیا جائے گا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 4
سابق وفاقی وزیر حماد اظہر نے اس پورے معاملے پر ٹویٹ کی کہ یہ یاد رہے کہ پاکستان کو تاریخ میں کبھی ایسا سفارتی پیغام نہیں ملا۔ اس میں متعدد بار دھمکی آمیز انداز میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان کو ہٹانے کی واضح بات کی گئی تھی۔
اُنھوں نے لکھا کہ بعد کے واقعات کا تسلسل بالکل اس کی توقعات کے مطابق تھا۔













