عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر آئینی بحران: تنبیہی مراسلہ، قومی سلامتی کمیٹی، امریکہ اور چند سوال

عمران

،تصویر کا ذریعہReuters

    • مصنف, فرحت جاوید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے بری فوج کے ترجمان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وضاحت کریں کہ کیا قومی سلامتی کمیٹی نے حزبِ اختلاف سے تعلق رکھنے والے 197 اراکین قومی اسمبلی کو ’غدار‘ قرار دیا ہے اور یہ بھی کہ ’کیا وہ (اراکین اسمبلی) کسی غیر ملکی سازش کا حصہ ہیں؟‘

پیپلز پارٹی کے سربراہ کے ٹوئٹر پر جاری ہونے والے اس بیان کا پس منظر وزیراعظم پاکستان کی جانب سے اتوار کو دیے جانے والا بیان کو قرار دیا جا رہا ہے جس میں وزیراعظم پاکستان نے اپنا یہ دعویٰ زیادہ وضاحت کے ساتھ دہرایا تھا کہ انھیں عہدے سے ہٹانے کے لیے حزب اختلاف نے امریکہ کہ کہنے پر تحریک عدم اعتماد پیش کی۔

عمران خان نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ میں تیار ہونے والی یہ ’سازش‘ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بے نقاب کی گئی جہاں فوجی سربراہوں کی موجودگی میں اس سازش کی تفصیل بتائی گئی۔ انھوں نے کہا کہ ’نیشنل سکیورٹی کمیٹی کی میٹنگ کے مِنٹس میں یہ بات لکھی گئی کہ یہ جو عدم اعتماد آئی ہے اس کی سازش باہر تیار ہوئی۔‘

بلاول بھٹو زرداری نے اسی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بارے میں وضاحت فوجی ترجمان سے طلب کی ہے۔

پیپلز پارٹی کے سربراہ نے سوال کیا ہے کہ کیا دفتر خارجہ یا وزارت دفاع مارچ سات سے مارچ 27 کے درمیان ہونے والی کسی بھی قسم کی خط و کتابت کا ریکارڈ پیش کر سکتے ہیں؟

بلاول بھٹو کی جانب سے اٹھائے گئے ان سوالات کے علاوہ حکومت گرانے کی اس مبینہ سازش کے بارے میں کئی دیگر سوالات بھی ہیں جو اسلام آباد میں گردش کر رہے ہیں لیکن ان کے جواب بظاہر دستیاب نہیں ہیں۔

مثال کے طور پر یہ کہ:

  • کیا یہ مراسلہ امریکہ میں پاکستانی سفیر کی ذاتی رائے اور تجزیے پر مبنی ہے، جیسا کہ عموماً اس طرح کی سفارتی کیبلز میں ہوتا ہے یا اس مراسلے میں امریکی حکام کی رائے بھی موجود ہے؟
  • اگر امریکہ پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کی ’سازش‘ کر رہا تھا تو اس نے یہ خبر پاکستانی سفیر کو بلا کر کیوں دی؟
  • اگر حکومت کو سات مارچ کو اس سازش کا علم ہو گیا تھا تو اس کے تدارک کے لیے کیا کوئی اقدامات کیے گئے؟
  • کیا اتنے بڑے واقعے کی حکومت نے کوئی تحقیقات کیں؟
  • اگر سول حکومت نے اس بارے میں کوئی تحقیقات نہیں کیں تو کیا فوج کے زیرانتظام قومی سلامتی کے اداروں نے، جو بیرون ملک سلامتی کے امور کے بھی ذمہ دار ہوتے ہیں، اس معاملے میں تحقیقات کیں؟
  • کیا ان اداروں نے وزیراعظم کو اپنی تحقیقات سے آگاہ کیا؟
  • قومی سلامتی کے اتنے سنگین معاملے پر فوج اور قومی سلامتی کے اداروں سے کیا کوئی سوال پوچھا گیا یا ان کا احتساب کیا گیا؟
  • قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں اگر اس مبینہ سازش کی تفصیل بتائی گئیں تو اعلامیہ میں سازش، دھمکی یا اندرونی معاونت کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا؟
  • کیا امریکہ میں پاکستانی سفیر اور امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ ڈونلڈ لو کے درمیان سات مارچ کو ہونے والی میٹنگ کا پاکستانی حزب اختلاف سے کوئی تعلق ثابت ہوتا ہے؟ اگر ہوتا ہے تو وہ تعلق کس نوعیت کا ہے؟
  • کیا وزیراعظم کے بیان سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری آف سٹیٹ ڈونلڈ لو نے ان کی حکومت گرانے کی سازش کی؟
  • اگر یہ درست ہے تو وزیراعظم نے ان کے خلاف امریکی صدر یا کسی عالمی ادارے میں شکایت درج کروائی؟
  • اگر یہ سازش حزب اختلاف نے حکومت ختم کرنے کے لیے ہی کی تھی تو قومی اسمبلی سے عدم اعتماد کی تحریک مسترد ہونے کے باوجود وزیراعظم نے اپنی حکومت کیوں برطرف کی؟
  • اتنی بڑی مبینہ سازش پر ایک روایتی سفارتی احتجاج کیا مناسب اور کافی ردعمل ہے؟
  • وزیراعظم اس سازش کا اور اس سلسلے میں فوجی قیادت کا بھی بار بار ذکر کر رہے ہیں۔ لیکن اتنے اہم قومی سلامتی کے معاملے میں فوج خاموش کیوں ہے؟

یہ وہ چند سوالات ہیں جو لوگوں کے ذہنوں میں گردش کر رہے ہیں مگر جن کے جواب فی الحال کہیں سے نہیں مل رہے۔ لیکن کیا مسقبل میں بھی یہ سوال جواب طلب ہی رہیں گے؟

بینر

پاکستان میں سیاسی صورتحال کی لمحہ بہ لمحہ کوریج بی بی سی لائیو پیج پر

لائن