فوج مخالف بیان: وفاق کی ایمان مزاری کے خلاف مقدمہ ختم کرنے کی مخالفت

ایمان مزاری

،تصویر کا ذریعہSCREEN GRAB

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستانی وفاق، اور فوج کی قانونی برانچ (جیگ) نے سابق وفاقی وزیر شریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری ایڈووکیٹ کے خلاف مقدمے پر عدالتی کارروائی کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

فوج کی جیگ برانچ نے ایمان مزاری کے خلاف فوج اور اس کی قیادت کے خلاف بیان دینے پر مقدمہ درج کروا رکھا ہے۔

وفاق اور جیگ برانچ نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں مؤقف اپنایا ہے کہ ایمان مزاری کی طرف سے اس واقعے پر پشیمان ہونے کا جواز بنایا گیا، جو اس مقدمے کے ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتا۔

ایمان مزاری کی طرف سے گذشتہ سماعت کے دوران جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا تھا کہ ’ان کی والدہ شیریں مزاری کو کچھ اہلکار اغوا کر کے لے گئے تھے اور وہ ذہنی دباؤ میں تھیں جس کی وجہ سے انھوں نے فوج کی قیادت کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے۔‘

واضح رہے کہ ایمان مزاری اس مقدمے میں ضمانت پر ہیں اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے انھیں ایک ہزار روپے کے ضمانتی مچلکے پر ضمانت قبل از گرفتاری دی تھی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے جمعرات کو اس مقدمے کے اخراج سے متعلق درخواست کی سماعت کی تو عدالت نے جیگ برانچ کے وکیل سے استفسار کیا کہ پٹیشنر نے جو بیان دیا ہے اس کے بعد اس مقدمے میں کیا رہ جاتا ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ’بادی النظر میں یہ کوئی جرم نہیں بنتا۔‘

اس پر ایڈشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست دہندہ کی طرف سے اس واقعے پر جس ندامت کا اظہار کیا گیا، وہ اس مقدمے کی تفتیش میں اب تک ہونے والی پیشرفت سے مطابقت نہیں رکھتا۔

انھوں نے کہا کہ اس معاملے کی تفتیش ابھی ہو رہی ہے اور اس موقع پر مقدمے کے اخراج کے بارے میں کوئی فیصلہ دینا ان کی نظر میں خلاف قانون ہو گا۔

شیریں مزاری

،تصویر کا ذریعہSCREEN GRAB

وفاق کی طرف سے عدالت میں رپورٹ جمع

ایمان مزاری ایڈووکیٹ کے خلاف درج ہونے والے مقدمے سے متعلق رپورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کروا دی گئی ہے اور اس رپورٹ میں سپریم کورٹ کے مختلف فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تفتیش کے مرحلے پر کسی مقدمے کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ درخواست دہندہ یعنی ایمان مزاری نے فوج اور بالخصوص اس کی قیادت پر الزامات لگائے اور درخواست دہندہ کی طرف سے یہ اقدام جان بوجھ کر اور سوچ سمجھ کر کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملزمہ نے آئین کے آرٹیکل پانچ کی خلاف ورزی کی، جو تمام شہریوں کو ریاست پاکستان کے ساتھ وفاداری کا پابند بناتا ہے۔

اس رپورٹ میں ایمان مزاری کی طرف سے جمع کروائے گئے جواب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انھوں نے اس بیان میں جو مؤقف اپنایا، وہ حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔

اس رپورٹ کے مطابق ایمان مزاری نے اپنی والدہ شیریں مزاری کی گرفتاری کے واقعے کو فوج کی کمانڈ کے ساتھ جوڑا جو کہ ان کی بدنیتی کو ظاہر کرتا ہے جبکہ شیریں مزاری کی گرفتاری قانون کے مطابق عمل میں لائی گئی۔

اس رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ’ایمان مزاری نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے کہا کہ ان کی والدہ شیریں مزاری نے انھیں بتایا تھا کہ ان کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے کسی معاملے پر تلخ کلامی ہوئی تھی جس کے بعد ان کی والدہ کی گرفتاری کا واقعہ رونما ہوا۔‘

ایمان مزاری

،تصویر کا ذریعہTwitter

اس رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ درخواست گزار نے فوج کی قیادت کو متنازع بنانے کی کوشش کی جو کہ ملک کو شدت پسندی سے پاک کرنے کے لیے برسر پیکار ہے۔

وفاق کی طرف سے جمع کروائی گئی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایمان مزاری کے خلاف جو مقدمہ درج کیا گیا ہے اس میں کافی شہادتیں موجود ہیں جو یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ درخواست گزار نے جرم کا ارتکاب کیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کروائی گئی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایمان مزاری عدالتی حکم پر اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم کے سامنے پیش ہوئیں لیکن انھوں نے تفتیشی افسران کی طرف سے پوچھے گئے سوالوں کے جواب نہیں دیے۔

اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایمان مزاری کچھ دیر شامل تفتیش رہنے کے بعد یہ کہہ کر پولیس سٹیشن سے چلی گئیں کہ وہ تحریری شکل میں ان سے پوچھے گئے سوالوں کا جواب دیں گی۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایمان مزاری کے اس دعوے میں کوئی حقیقت نہیں کہ انھوں نے فوج اور اس کی قیادت کے خلاف بیان پرشانی کے عالم میں دیا۔

وفاق کی طرف سے اس رپورٹ میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ مقدمے کے اخراج سے متعلق دائر درخواست کو جرمانے کے ساتھ مسترد کر دے۔

عدالت نے ایمان مزاری کی وکیل کو اس رپورٹ کی روشنی میں دلائل دینے کا حکم دیتے ہوئے اس درخواست کی سماعت 20جون تک ملتوی کر دی ہے۔