سوشل میڈیا پر جاری پروپیگنڈہ مہم کے خلاف ایف آئی اے کی کارروائی میں مزید گرفتاریاں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سوشل میڈیا پر پاکستان کی اہم شخصیات کے خلاف نازیبا زبان کے استعمال اور پروپیگینڈہ مہم کے خلاف کارروائی میں ایف آئی اے کے انسداد دہشت گردی ونگ نے 12 سوشل میڈیا کارکنان کو گرفتار کر لیا ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق گرفتار افراد میں سے آٹھ کا تعلق پنجاب جب کہ چار ملک کے مختلف علاقوں سے گرفتار ہوئے۔
بدھ کے دن ایف آئی اے کے مطابق مزید گرفتاریوں کے بعد اب تک حراست میں لیے جانے والے افراد کی تعداد 12 ہو چکی ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق سوشل میڈیا ٹرینڈ سیٹر اور ٹرینڈ یوزرز کی گرفتاری کے لیے اب بھی مختلف جگہوں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں جب کہ چار ہزار ٹرينڈ سيٹر اور ٹرينڈ يوزر کے اکاؤنٹ بلاک کروانے کيلئے پی ٹی اے سے رابطہ بھی کیا گیا ہے۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ تقریباً چار ہزار سوشل میڈیا اکاونٹس، جو اس مہم کا حصہ بنے، ان کو بھی پی ٹی اے سے شیئر کیا گیا ہے تاکہ کارروائی کی جا سکے۔
ایف آئی اے کے سائبرکرائم ونگ نے پی ٹی اے کو ان افراد کي تفصيلات بھی فراہم کر دی ہیں۔
’فوج کو بدنام کرنے کے لیے چلائی جانے والی مہم‘ کا نوٹس

،تصویر کا ذریعہISPR File Photo
واضح رہے کہ منگل کو پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی سربراہی میں ہونے والے فارمیشن کمانڈرز کانفرنس میں بعض حلقوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر پاکستانی ’فوج کو بدنام کرنے کے لیے چلائی جانے والی پروپیگنڈہ مہم‘ کا سختی سے نوٹس لیا گیا کہ اس طرح کی مہم ’ادارے اور سوسائٹی کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی ایک کوشش ہے‘۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ پاکستانی افواج ہمیشہ ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑی رہی ہیں اور وہ کسی سمجھوتے کے بغیر اپنے دفاع کے لیے ایسا کرتی رہیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بیان میں کہا گیا کہ آرمی چیف نے افسران سے خطاب میں کہا ہے کہ پاکستانی فوج اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے اور سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اندرونی اور بیرونی خطرات کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فورم نے فوجی کی قیادت اور اس کی ہر قیمت پر آئین اور قانون کی حکمرانی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
فوج پر عدلیہ کے خلاف مہم: ایف آئی اے کی کارروائی
وفاقی تحققیاتی ادارے ایف آئی اے نے منگل کی دن ہی آرمی چیف اور اعلیٰ عدلیہ کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے کے الزام میں متعدد افراد کو حراست میں لیا تھا اور ان کے خلاف تحققیات کا اغاز کر دیا گیا تھا۔
لیکن بدھ کے دن بھی سوشل میڈیا پر ایسے ٹرینڈز نمایاں رہے۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق لاہور سے گرفتار کیے گئے ملزم کا تعلق ایک سیاسی جماعت سے بتایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ گجرات، پشاور اور کراچی سے بھی گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق سائبر کرائم وِنگ نے سوشل میڈیا پر دو ہزار سے زائد اکاؤنٹس کا سراغ لگایا ہے، جہاں سے پاکستانی فوج اور اس کے سربراہ کے خلاف مم چلائی جا رہی تھی۔
ایف آئی اے کے حکام کے مطابق سوشل میڈیا پر یہ اکاؤنٹس گذشتہ چھ ماہ کے دوران بنائے گئے ہیں اور حساس اداروں کے خلاف مہم کے 50 ہزار پیجز کو شارٹ لسٹ کرلیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کے حکام کے مطابق حساس اداروں نے اس ضِمن میں ایف آئی اے کو ان اکاؤنٹس کی تفصیلات اور جن علاقوں سے ان اکاؤنٹس کو آپریٹ کیا جارہا ہے، اس بارے میں آگاہ کیا تھا۔
ایف آئی اے کے ایک اہلکار کے مطابق اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے خلاف بھی سوشل میڈیا پر مہم چلائی جارہی تھی اور سوشل میڈیا پر چلنے والی اس مہم میں تیزی چند روز قبل عدالتی فیصلے کے بعد آئی جس میں سپریم کورٹ نے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیراعظم شہباز شریف کا عہدہ سنبھالتے ہی کارروائی کا حکم
وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق شہباز شریف نے اتوار کو وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اس کا نوٹس لیتے ہوئے متعقلہ حکام کو اس بارے میں واضح ہدایات جاری کی تھیں کہ ایسے افراد کے خلاف فوری طور پر کریک ڈاؤن شروع کیا جائے، جو ملک کے حساس اداروں اور ان کے سربراہوں کے علاوہ اعلیٰ عدلیہ کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلا رہے ہیں۔
ڈی جی ایف آئی اے کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں ان معاملات پر غور کیا گیا اور حساس اداروں کی طرف سے ایسے اکاؤنٹس کی تفصیلات ملنے کے بعد ان پر تادیبی کارروائی کو تیز کردیا گیا۔
اہلکار کے مطابق اسلام آباد، لاہور، کراچی اور پشاور کے ڈائریکٹرز اور سائبر کرائم وِنگ کو اس بارے میں ٹاسک دیا گیا کہ وہ اس بارے میں فوری کارروائی کرتے ہوئے ذمہ داروں کا تعین کر کے قانونی کارروائی عمل میں لائیں۔
یہ بھی پڑھیے
ان کے مطابق ابتدائی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ حراست میں لیے جانے والے افراد نے سوشل میڈیا پر سینکٹروں مختلف ناموں سے اکاؤنٹس بنائے ہوئے تھے، جہاں سے ملک کے حساس اداروں اور ان کے سربراہوں کے خلاف مہم چلائی جارہی تھی۔
حکام کے مطابق حساس اداروں کے خلاف سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی مہم میں تیزی اس وقت آئی جب گذشتہ ماہ متحدہ اپوزیشن کی طرف سے اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی تھی۔
سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے مطابق حساس اداروں کے خلاف مہم چلانے میں ان کی جماعت کا کوئی کردار نہیں ہے بلکہ اس وقت کی حکومت نے نہ صرف اس کی مذمت کی بلکہ ان کے دور میں ایف آئی اے کے سربراہ کو یہ ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ وہ ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کریں۔
سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد ان کی جماعت کی سوشل میڈیا ٹیم کے سربراہ ارسلان خالد کے گھر پر چھاپہ مارا گیا اور حکام ان کے گھر سے کمپیوٹر اور دیگر سامان اٹھا کر لے گئے۔
تاہم ایف آئی اے حکام کی طرف سے ایسی کسی کارروائی کی کوئی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
ایف آئی اے کے ایک اہلکار کے مطابق حساس اداروں اور ان کے سربراہوں کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے والے کچھ ایسے اکاؤنٹس کا بھی پتہ چلایا گیا ہے جو کہ بیرون ممالک سے آپریٹ کیے جا رہے ہیں۔











