عمران خان کے حامی ماضی میں فوج سے خوش لیکن اب ناراض

قمر باجوہ

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@PTIOFFICIAL

    • مصنف, ترہب اصغر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

’عمران خان اور فوج ایک پیج پر ہیں‘

گزشتہ کئی برسوں سے یہ جملہ ہم عمران خان سمیت ان کے حکومتی نمائندوں اور پی ٹی آئی کے حمایتوں سے سنتے آئے ہیں۔ لیکن حالیہ کچھ دنوں میں یہ جملہ ایک سوال میں تبدیل ہو گیا ہے کہ ’ایسا کیا ہوا جو عمران خان اور فوج ایک پیج پر نہیں رہے؟‘

اس سوال کا جواب مختلف حلقوں سے مختلف انداز میں دیا جا رہا ہے۔ ان حلقوں میں ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جن کے مطابق شاید عمران خان کے عہدے سے ہٹائے جانے میں پاکستان کی اپوزیشن کے علاوہ فوج بھی شامل ہے۔

اس کے نتیجے میں بظاہر عمران خان کے حامی معلوم ہونے والوں کی جانب سے گزشتہ دو دن سے ٹوئٹر پر افواج پاکستان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ خصوصی طور پر آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کے خلاف چلائے جانے والے ٹوئٹر ٹرینڈ، ٹاپ ٹرینڈ میں شامل ہیں۔

ان ٹرینڈز کے ردعمل پر اب ادارے بھی حرکت میں آ گئے ہیں۔ بی بی سی گفتگو کرتے ہوئے ایف آئی اے کے سیئنر افسر نے بتایا کہ ایسے ٹرینڈ چلانے والے لوگوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا گیا ہے۔

اس وقت تک ایف آئی اے کی جانب سے کئی اکاونٹس کی لوکیشن کی معلوم کر لی گئی ہے جس کے بعد اب تک ایسے دس بارہ لوگوں کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے جن پر آرمی چیف کے خلاف ٹرینڈ چلانے کا الزام ہے جو وہ مبینہ طور پر کئی اکاونٹس کے ذریعے کر رہے تھے۔

حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ’آج ہی ایک شخص کو لاہور سے سبزہ زار سے گرفتار کیا گیا ہے اور اس کا تعلق ایک سیاسی جماعت سے ہے۔ وہ شخص اکیس سو سے زیادہ اکاؤنٹس کے ذریعے پاک فوج اور ان کے سربراہ کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلا رہا تھا۔ ان لوگوں کو پکڑنے سے متعلق ہمیں خصوصی ہدایات دی گئی ہیں۔‘

دو روز قبل جب سابق وزیر اعظم عمران خان کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ان کے عہدے سے ہٹایا گیا تو اس کے فوری بعد یہ ٹرینڈز سامنے آئے۔ پی ٹی آئی کے کارکنوں اور رہنماؤں کی جانب سے بھی یہ بیانات اور ٹویٹس کی گئیں کہ انھیں خدشہ ہے کہ ان کے کارکنان کے خلاف کریک ڈاون کیا جا رہا ہے۔

پی ٹی آئی کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے دو روز قبل ایک ٹویٹ بھی کی گئی جس میں کہا گیا کہ ’ایک انتہائی پریشان کن خبر سامنے آئی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے سابق ڈیجیٹل میڈیا کے فوکل پرسن ڈاکٹر ارسلان خالد کے گھر پر چھاپہ مارا گیا اور ان کے گھر والوں سے تمام فون چھین لیے گئے‘۔

ٹویٹ میں یہ صفائی بھی دی گئی کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر ’کبھی کسی کو گالی نہیں دی اور نہ ہی کسی ادارے پر حملہ کیا‘۔

اس واقعے پر ردعمل میں ڈاکٹر شہباز گِل نے کہا ’صرف آپ کو یہ بتانا ہے کہ ارسلان خالد محب وطن ہے اور اس نے اسی وطن میں رہنا ہے۔ ہمیں امید تھی آپ یہ کریں گے اس لیے کل رات ہی میں نے اس سے بات کر کے اسے اس کے گھر سے کسی اور جگہ بھیج دیا تھا۔ جو لیپ ٹاپ اور موبائل آپ لے کر گئے ہیں اس میں سوائے پروفیشنل کاموں کے اور کچھ نہیں، شکریہ۔‘

عمران خان کے حق میں مظاہرے

،تصویر کا ذریعہAnadolu Agency

گزشتہ چند دنوں میں اس سارے معاملے میں جو چیز سب سے زیادہ دیکھنے کو ملی وہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی سے وابستہ بعض لوگوں کے خیالات میں ایک دم سے تبدیلی آئی ہے۔ اتوار کو سابق وزیر اعظم عمران خان کے حق میں نکالی گئی ریلیوں میں لوگوں میں فوج کے خلاف شدید غصہ دیکھا گیا۔ ریلیوں میں امریکہ اور فوج مخالف نعرے بھی لگائے گئے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے بعض کارکنوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ’عمران خان کو عہدے سے ہٹانے والے باجودہ صاحب ہیں‘۔

جب ہم نے ان سے سوال کیا کہ پہلے آپ کی پارٹی کی جانب سے ہی کہا جاتا تھا کہ فوج اور عمران خان ایک پیج پر ہیں؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ ’ہم پوری فوج کی بات نہیں کر رہے ہیں۔‘

بعض لوگ یہ قیاس آرائی کر رہے ہیں کہ یہ سب اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ آرمی چیف مزید ایکسٹینشن لینا چاہتے تھے جس پر عمران خان نے انکار کیا۔ ان خیالات کا اظہار لوگوں نے پوسٹرز کے ذریعے بھی کیا۔ کئی پوسٹرز ایسے تھے جن میں باقاعدہ طور آرمی چیف کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ جیسے کہ ’باجوہ کھل کر سامنے آ‘ وغیرہ۔

سوشل میڈیا

،تصویر کا ذریعہNurPhoto

یہ رویہ صرف یہاں تک ہی محدود نہیں بلکہ ہم نے جب ان ٹرینڈز میں حصہ لینے والے سوشل میڈیا اکاونٹس کا جائزہ لیا تو ان میں کچھ ایسے تھے جنھوں نے دو دن کے اندر اندر تین ہزار سے زیادہ ٹوئٹس کیں۔ یہی نہیں بلکہ ری ٹوئیٹس کرنے کا سلسلہ بھی بڑی تعداد میں جاری ہے۔

پی ٹی آئی سے وابستہ لوگوں پر یہ تنقید بھی کی جا رہی ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں جو پہلے فوج اور آرمی چیف کے بارے میں مثبت باتیں کرتے تھے اور اب یہی وہ لوگ ہیں جو ان کے خلاف باتیں کر رہے ہیں۔

اس پہلو کو دیکھنے کے لیے ہم نے ایسے اکاونٹس کا جائزہ لیا جو ماضی میں تو فوج کے حق میں بات کرتے تھے لیکن اب فوج کے خلاف بات کر رہے ہیں۔

ایک ٹوئٹر صارف نے ماضی میں لکھا تھا ’کوئی بھی جو یہ دلیل دیتا ہے کہ عمران خان اور فوج ایک پیج پر نہیں ہیں اسے ذرا بھی معلوم نہیں کہ فوج کیسے کام کرتی ہے۔ پاک فوج آدمی کی قدر اچھی طرح جانتی ہے۔‘

جبکہ اسی صارف نے اب وزیراعظم شہباز شریف کی تقریب حلف برداری میں جنرل باجوہ کی غیر موجودگی سے متعلق لکھتے ہوئے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’قوم ان لوگوں کو کبھی نہیں بھولے گی جنہوں نے عمران خان کو اس وقت تنہا چھوڑ دیا جب ملکی خودمختاری پر حملہ ہوا۔‘

یہ بھی پڑھیے

ایک خاتون صارف نے بھی ماضی میں عمران خان کی فوج کے بارے میں کی گئی تقریر شیئر کر کے لکھا کہ ’یہ ان تمام لوگوں کو جو پاکستان کی فوج اور حکومت کو ایک پیج پر ہوتے دیکھنا ہضم نہیں کر سکتے۔ عمران خان آپ پر بہت فخر ہے، جناب وزیراعظم آپ ہم سب پاکستانیوں کی آواز بن گئے ہیں۔‘

جبکہ اب انھوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کی حلف کی تقریب کی تصویر شیئر کی جس میں مریم نواز اور فوج اور دیگر سکیورٹی اداروں کے افسران ایک ہی صف میں بیٹھے تھے۔ اس پر اظہار خیال کرتے ہوئے انھوں نے لکھا کہ ’اگلی صف میں بیٹھی خاتون نے ڈان لیکس کی صورت میں پاک فوج پر خودکش حملہ کیا تھا اور پھر اس خاتون کو بے گناہ قرار دیا گیا تھا۔ مجھے بھی یہ پوچھنے کا حق ہے کہ ہمارے شہیدوں کا خون اتنا سستا کیوں ہے؟‘

اس معاملے پر ڈیجیٹل میڈیا کے ماہر اسامہ خلجی نے ٹویٹ کیا کہ ’پاکستان میں کل 3.3 ملین ٹوئٹر صارفین ہیں، لیکن پی ٹی آئی کے ہیش ٹیگز 3 ملین سے زیادہ ٹویٹس دکھا رہے ہیں۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ان کے پاس ٹویٹ کرنے والے زیادہ لوگ نہیں ہیں، لیکن اس حد تک نہیں جو دکھایا جا رہا ہے۔‘

ان کے مطابق یہ یہ ہیش ٹیگ بڑے پیمانے پر ہیرا پھیری کا نتیجہ ہیں۔

انھوں نے اپنی پہلی ٹویٹ کے جواب میں آنے والے ردعمل کے بعد مزید لکھا کہ ’ہاں، ٹرینڈز ری ٹویٹس سے بنتے ہیں، مخصوص لوگوں کی جانب سے متعدد ٹوئٹس کے علاوہ سمندر پار پاکستانی۔‘

اس کے ساتھ انھوں نے تسلیم کیا کہ اس معاملے میں ’آبادی ایسا پیمانہ نہیں جس پر انحصار کیا جا سکے۔ تاہم، پھر بھی ہیرا پھیری ہے جو نان آرگینک سرگرمی کے ذریعے ہوتی ہے۔‘