پی ٹی آئی کے استعفے: اسمبلی کی قانونی حیثیت کیا ہو گی اور فیصلے کے تحریک انصاف کی سیاست پر کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہPTI
- مصنف, عمردراز ننگیانہ، زبیر اعظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
پیر کے روز پارلیمنٹ میں ہونے والے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب متحدہ اپوزیشن پاکستان میں مخلوط حکومت قائم کرنے میں کامیاب رہی ہے اور شہباز شریف پاکستان کے نئے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھال چکے ہیں۔
ایسے میں سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا تحریک انصاف کی قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کی حکمت عملی سیاسی طور پر اس جماعت کے لیے فائدہ مند ہو گی یا نقصان دہ؟ سوال یہ بھی کیا جا رہا ہے کہ درجنوں اراکین کے مستعفی ہونے کے بعد قومی اسمبلی کی قانونی حیثیت کیا ہو گی اور آیا الیکشن کمیشن اتنے بڑے پیمانے پر ضمنی الیکشن کروا بھی پائے گا یا نہیں۔
واضح رہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے قومی اسمبلی سے استعفے دینے کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے پہلے سنہ 2014 میں بھی تحریک انصاف نے قومی اسمبلی سے اجتماعی طور پر استعفے دیے تھے۔ اس وقت کے سپیکر ایاز صادق نے ان استعفوں کو منظور نہیں کیا تھا اور مستعفی ہونے والے اراکین اسمبلی کو تاکید کی تھی کہ وہ ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر اپنے اپنے استعفے کی تصدیق کریں۔
سپیکر کی جانب سے بتائے گئے طریقہ کار پر عمل نہیں ہوا اور آخرکار مستعفی ہونے کے اعلان کے باوجود تحریک انصاف پارلیمان کا حصہ رہی اور سنہ 2018 کے عام انتخابات تک اپوزیشن کا کردار ادا کرتی رہی۔

،تصویر کا ذریعہCourtesy PTI
استعفوں کا اعلان اور تحریک انصاف میں اختلافات
گذشتہ روز اسمبلی سے مستعفی ہونے کا فیصلہ سابق وزیرِاعظم عمران خان کی صدارت میں ہونے والے پی ٹی آئی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے دوران کیا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں پارٹی چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی اور استعفی نہ بھی دے، تب بھی وہ اکیلے مستعفی ہو جائیں گے۔
صحافی نصرت جاوید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’آخری اطلاع تھی کہ استعفے ابھی پی ٹی آئی کے چیف وہپ (عامر ڈوگر) کے پاس تھے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف میں استعفوں کے معاملے پر فی الحال اختلافات موجود ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’تحریک انصاف کی اکثریت چاہتی ہے کہ سسٹم میں رہتے ہوئے مقابلہ کیا جائے۔ قومی اسمبلی میں بھی رہیں اور ساتھ ساتھ جلسے ہوں، عوامی اجتماعات ہوں۔ میرا نہیں خیال کہ پارٹی کے بیشتر اراکین کو استعفوں کی جلدی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’استعفے منظور ہو چکے ہیں‘
اسمبلی قواعد کے مطابق کسی بھی سیاسی جماعت کے چیف وہپ ممبران کے استعفے سپیکر قومی اسمبلی کے پاس جمع کرواتے ہیں جو ان کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کرتے ہیں کہ انھیں منظور کرنا ہے یا نہیں۔
سپیکر کی طرف سے استعفے منظور ہونے کے بعد ہی پی ٹی آئی کے اراکین کو مستعفی تصور کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اسد قیصر سپیکر قومی اسمبلی کی سیٹ سے مستعفی ہو چکے ہیں لیکن ڈپٹی سپیکر قاسم سوری اب تک اس عہدے سے مستعفی نہیں ہوئے ہیں۔
پیر کی رات تک پی ٹی آئی اراکین کے استعفے قائم مقام سپیکر کی طرف سے منظور ہونے کی تصدیق نہیں ہو پائی تھی۔ یہ بھی سامنے نہیں آیا کہ کتنے پی ٹی آئی کے اراکین نے استعفے جمع کروائے ہیں۔
تحریک انصاف کے سینئیر رہنما فواد چوہدری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت کے 135 اراکین کے استعفے جمع ہو چکے ہیں۔
واضح رہے کہ حال ہی میں حکومت کھونے والی پاکستان تحریکِ انصاف قومی اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت ہے۔ قومی اسمبلی کی ویب سائٹ کے مطابق اُن کی کل نشستوں کی تعداد 155 ہے جن میں جنرل نشستوں پر کامیاب ہو کر آنے والوں کی تعداد 122 ہے۔
فواد چوہدری نے بی بی سی سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی ایم این ایز کے استعفے ڈپٹی سپیکر منظور بھی کر چکے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
’دو ماہ کے اندر ضمنی الیکشن ہونا ہیں‘
اگر قومی اسمبلی سے ایک بڑی تعداد میں نشستیں خالی ہو جائیں تو قانون کے مطابق الیکشن کمیشن کو ان تمام نشستوں پر ضمنی انتخابات کروانا ہوں گے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اگر پی ٹی آئی کے اراکین مستعفی ہوتے ہیں اور ان کے استعفے منظور کر لیے جاتے ہیں تو الیکشن کمیشن 60 روز کے اندر خالی ہونے والی نشستوں پر ضمنی انتخابات کروائے گا۔
استعفے منظور ہونے کے پانچ دن کے اندر ضمنی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کر دیا جائے گا اور پھر 60 دن کے اندر انتخابات کا عمل مکمل کر لیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ضمنی انتخابات کے لیے نئی حلقہ بندیوں کی ضرورت نہیں کیونکہ ضمنی انتخابات پرانی حلقہ بندیوں ہی کے مطابق ہوں گے۔
لیکن فواد چوہدری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے تحریک انصاف کا مطالبہ عام انتخابات ہیں کیوںکہ ’اتنی زیادہ نشستوں پر ضمنی انتخابات کروانا ممکن نہیں۔‘
جب ان سے سوال کیا گیا کہ اگر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تحریک انصاف کی خالی کی گئی نشستوں پر ضمنی انتخابات کا اعلان کیا تو ایسی صورت میں کیا حکمت عملی ہو گی تو انھوں نے جواب دیا کہ ’ہم ضمنی الیکشن نہیں ہونے دیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@FaisalJaved
’ضمنی انتخابات کسی صورت نہیں رُک سکتے‘
الیکشن کمیشن کے اہلکار کے مطابق قانون کے مطابق ضمنی الیکشن میں کسی قسم کی تاخیر نہیں کی جا سکتی اور الیکشن کمیشن پابند ہے کہ خالی ہونے والی سیٹوں پر 60 روز کے اندر انتخابات کروائے۔
انھوں نے کہا کہ صرف ایسی صورت میں جب کوئی قدرتی آفت آئی ہو جیسا کہ سیلاب یا طوفان وغیرہ تو الیکشن کمشنر ضمنی انتخابات میں کچھ تاخیر کر سکتا ہے تاہم اس کے علاوہ کسی بھی صورتحال میں ضمنی انتخابات میں تاخیر نہیں کی جا سکتی۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے جو اراکین استعفٰی دے کر نشستیں خالی کریں گے صرف انھی پر ضمنی انتخابات کروائے جائیں گے۔ استعفٰی نہ دینے والے اراکین بدستور اسمبلی کے ممبر رہیں گے۔
اسمبلی کی قانونی حیثیت کیا ہو گی؟
قومی اسمبلی کے 342 کے ایوان سے اگر کم و بیش 155 اراکین مستعفی ہو جاتے ہیں تو اسمبلی کی قانونی حیثیت کیا رہ جائے گی؟
اس سوال کا جواب دیتے ہوئے غیر سرکاری تنظیم پلڈیٹ کے سربراہ اور پارلیمانی امور کے ماہر احمد بلال محبوب نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اسمبلی بالکل قانونی طور پر کام کرتی رہے گی۔ اس کی حیثیت بالکل قانونی ہو گی۔‘
انھوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے اراکین اگر مستعفی ہو جاتے ہیں تو اس کے بعد سے لے کر ضمنی انتخابات ہونے تک قومی اسمبلی میں حزبِ اختلاف نہیں ہو گی اور ایسا پاکستان میں پہلی مرتبہ نہیں ہو گا۔
احمد بلال محبوب کے مطابق ’اس سے قبل بلوچستان کی ایک اسمبلی ایسی بھی رہی ہے جس میں ایک کو چھوڑ کر تمام اراکین کابینہ کے ممبر تھے۔ اور وہ اسمبلی چلتی رہی تھی۔ اس میں نہ تو کوئی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی تھی اور نہ ہی دیگر کوئی کمیٹیاں بنائی گئی تھیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
اس فیصلے کا پی ٹی آئی کو نقصان ہو گا یا فائدہ؟
پاکستان تحریکِ انصاف کے استعفے دینے اور ضمنی الیکشن کا حصہ نہ بننے کے بعد ایک ایسی ممکنہ صورتحال جنم لے سکتی ہے جس میں موجودہ حکمراں جماعتوں کے پاس یہ موقع ہو گا کہ وہ ضمنی انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے دو تہائی اکثریت کے ساتھ اسمبلی میں واپس آ جائیں۔
ایسی صورت میں ان کے پاس مکمل اختیار ہو گا کہ وہ کوئی بھی قانون سازی کرنا چاہیں تو انھیں روک ٹوک یا مزاحمت کا سامنا نہیں ہو گا۔
پلڈیٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب کے خیال میں ’ضروری نہیں ہے کہ پی ٹی آئی ضمنی انتخابات کا بھی بائیکاٹ کر دے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ دوبارہ ضمنی انتخابات میں حصہ لے اور ان کے اراکین منتخب ہو کر ایوان میں آ جائیں۔‘
تاہم احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ اس کا تمام تر دارومدار اس بات پر ہو گا کہ آنے والے دنوں میں ملک کے سیاسی حالات کیا رُخ اختیار کرتے ہیں۔ پی ٹی آئی اس کے مطابق فیصلہ کرے گی۔
تاہم اگر وہ انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کرتی ہے تو احمد بلال محبوب کے مطابق ایسا ہو سکتا ہے کہ حکومت میں موجود جماعتوں کی پوزیشن مزید مضبوط ہو جائے اور اسمبلی میں حزبِ اختلاف نہیں ہو گی۔
صحافی نصرت جاوید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’آہستہ آہستہ تحریک انصاف کو سمجھ آئے گی کہ استعفے دینا مناسب نہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ استعفے واپس لے لیں۔‘
جب ان سے سوال کیا گیا کہ تحریک انصاف رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ بحران کا حل صرف عام انتخابات ہیں تو نصرت جاوید نے کہا کہ ’میرا نہیں خیال کہ اس طرح کی تحریک کے ذریعے وہ الیکشن کروا سکیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی سے استعفوں کے بعد تحریک انصاف عبوری حکومت کے قیام میں بطور اپوزیشن کوئی کردار ادا نہیں کر سکے گی۔ ’اُن کو سسٹم میں رہنا ہو گا۔‘













