آئی ایم ایف معاہدہ: خراب ملکی معیشت کی وجہ سابقہ حکومت کا شرائط پوری نہ کرنا یا موجودہ حکومت کی بد انتظامی؟

پیٹرول

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, تنویر ملک
    • عہدہ, صحافی، کراچی

پاکستان اس وقت مشکل معاشی حالات کا شکار ہے جس کا اثر مہنگائی کی صورت میں عوام پر نکل رہا ہے۔ موجودہ حکومت کی جانب سے حالیہ عرصے پر پٹرول، ڈیزل کی قیمتوں میں 60 روپے فی لیٹر کے حساب سے ہونے والے اضافے کے ساتھ یکم جولائی 2022 سے بجلی کے نرخوں میں آٹھ روپے فی یونٹ اور گیس کی قیمت میں 45 فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا ہے۔

ملک کی خراب معاشی صورتحال اور اس کی وجہ سے عوام کے لیے بڑھتی ہوئی مشکلات پر موجودہ اتحادی حکومت جس کی سربراہی پاکستان مسلم لیگ نون کر رہی ہے اور پاکستان تحریک انصاف کی سابقہ حکومت کے درمیان الزام تراشی کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے جس میں ایک دوسرے کو ملک کی خراب معاشی صورتحال کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔

موجودہ حکومت کی جانب سے سابقہ حکومت پر بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ کیے جانے والے وعدوں کی پاسداری نہ کرنے کا الزام عائد کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے عالمی ادارے نے ابھی تک پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی قسط جاری نہیں کی جس نے پاکستان کے لیے بیرونی ادائیگیوں کے شعبے کو سنگین مشکلات سے دوچار کر دیا اور ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں تسلسل سے کمی دیکھی جا رہی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے موجودہ حکومت پر صرف دو ماہ کی حکمرانی میں معیشت کو خراب کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہے جس کی وجہ سے عام فرد مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے۔

موجودہ حکومت کی جانب سے سابقہ حکومت پر پٹرول، ڈیزل و بجلی پر دی جانے والی سبسڈی کے لیے بجٹ میں فنانسنگ نہ رکھنے کا الزام لگایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ملک کا مالیاتی خسارہ بڑھ گیا اور آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت اس خسارے کو نیچے لانا ہے۔

دوسری جانب تحریک انصاف نے پٹرول و ڈیزل اور بجلی پر دی جانے والی سبسڈی کی وجہ سے بجٹ خسارہ بڑھنے اور اس کی وجہ سے آئی ایم ایف پروگرام میں تعطل کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سابقہ حکومت نے سبسڈی دینے کے لیے مناسب فنانسنگ کا انتظام کر رکھا تھا۔

پاکستان میں معاشی ماہرین موجودہ اور سابقہ حکومت کی جانب سے ایک دوسرے پر ملک کی اقتصادی صورتحال کو خراب کرنے پر رائے دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ دونوں حکومتوں کی پالیسیوں کے ساتھ ملک میں موجود غیر یقینی صورتحال معیشت کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن کر ابھری، جس کا خمیازہ ایک عام فرد کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

آئی ایم ایف

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کیا آئی ایم ایف شرائط پورے نہ کرنے کی وجہ سے پاکستانی معیشت اس نہج کو پہنچی؟

موجودہ حکومت تواتر سے تحریک انصاف کی سابقہ حکومت پر آئی ایم ایف سے کیے جانے والے وعدوں سے انحراف کا الزام لگاتی ہے، جس میں حکومت کے مطابق سب سے بڑا عنصر پٹرول و ڈیزل پر سبسڈی دینا ہے جبکہ معاہدے کے مطابق وعدہ کیا گیا تھا کہ پٹرول و ڈیزل کی قیمت بڑھائی جائے گی۔

پاکستان کے سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما شاہد خاقان عباسی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف حکومت نے آئی ایم ایف سے معاہد کیا تھا اور جب معاہدہ کیا جاتا ہے تو اس کی پاسداری کرنا پڑتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’جب قرض لیا جاتا ہے تو پھر قرض دینے والے کی شرائط پر عمل کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا کیونکہ اس میں چوائس نہیں ہوتی۔‘

شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف جب قرض دیتا ہے تو وہ دوسرے عالمی اداروں اور ملکوں سے فنڈنگ کی راہ کھولتا ہے، جس میں نیا قرض بھی ہوتا ہے اور پرانے قرضوں کو رول اوور بھی کیا جاتا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ سابقہ حکومت کے معاہدے کو موجودہ حکومت کیوں جاری رکھنا چاہتی ہے تو انھوں نے کہا ’یہ ملک کا معاہدہ ہوتا ہے نہ کہ کسی جماعت کا نہ حکومت کا۔‘

انھوں نے کہا کہ اس وقت ملک کے پاس کوئی چوائس نہیں کہ وہ آئی ایم ایف پروگرام سے باہر نکلے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’سابقہ حکومت نے آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھائی جائیں گی جب پٹرولیم لیوی 30 روپے فی لیٹر اور 17 فیصد جنرل سیلز ٹیکس لگانے کی یقین دہانی آئی ایم ایف کو کرائی گئی تھی، جس کا ثبوت بجٹ میں موجود ہے جس میں پٹرولیم لیوی کی مد میں پیسے اکٹھے کرنے کا کہا گیا ہے۔‘

’پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی سے بجٹ خسارہ نہ بڑھنے کا بتایا تھا‘

پاکستان تحریک انصاف کے معاشی امور کے ترجمان اور سابقہ حکومت میں وزارت خزانہ کے ترجمان مزمل اسلم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جہاں تک آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام کی بات ہے تو سابقہ حکومت کے ساتھ تو یہ چل رہا تھا اور ہمارے مذاکرات بھی ہو رہے تھے تاہم اب صورتحال یہ ہے کہ آئی ایم ایف موجودہ حکومت کے ساتھ پروگرام جاری کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا جس کی وجہ یہ ہے کہ اس حکومت میں شامل جماعتوں نے اقتدار میں آنے سے پہلے آئی ایم ایف کے ساتھ کیے جانے والے معاہدوں کو توڑنے کی بات کی تھی جس کی وجہ سے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل دو بار آئی ایم ایف کے ساتھ جا چکے ہیں تاہم ابھی تک انھیں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔‘

مزمل اسلم نے کہا کہ ’آئی ایم ایف سے پٹرول و ڈیزل پر دی جانے والی سبسڈی کا ورکنگ پیپرز شیئر کیا گیا تھا جس میں ہم نے بتایا تھا کہ سبسڈی کے لیے پیسوں کا کیسے انتظام کیا گیا ہے اور یہ بھی بتایا کہ سبسڈی پر دی جانے والی رقم سے بجٹ خسارہ نہیں بڑھے گا۔‘

انھوں نے آئی ایم ایف کے ساتھ کیے جانے والے وعدوں سے انحراف کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اصل میں تو آئی ایم ایف اس حکومت کے ساتھ ماضی کے بیانات کی وجہ سے پروگرام نہیں کر رہا۔

ایکسچينج

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images

’خراب معاشی صورتحال کی وجہ سیاسی غیر یقینی‘

پاکستان کی خراب معاشی صورتحال اور سابقہ اور موجودہ حکومت کی جانب سے ایک دوسرے پر الزام تراشی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ماہر معیشت ڈاکٹر اشفاق حسن کا کہنا ہے خراب معاشی صورتحال کی سب سے بڑی وجہ سیاسی غیر یقینی رہی اور اس کے ساتھ نئے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی جانب سے بروقت ایکشن نہ لیے جانا تھا۔

انھوں نے کہا کہ کئی ہفتوں تک لگتا تھا کہ ملک کی معیشت کا کوئی کپتان ہی نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اس اِن-ایکشن کی وجہ سے ڈالر کی قیمت بڑھی اور اس نے پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا اور اس پر دی جانے والی سبسڈی کی لاگت بڑھ گئی۔ ورنہ سابقہ وزیر خزانہ نے اس کے لیے فنانسنگ کا انتظام کر رکھ تھا اور آئی ایم ایف کو بھی بتا دیا تھا۔‘

ماہر معیشت ڈاکٹر فرخ سلیم نے کہا کہ چند ہفتوں کی حکومت کو موجودہ خراب معاشی صورتحال کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا، جس کا مطلب ہے کہ سابقہ حکومت کی معاشی پالیسی نے حالات کو اس سطح پر پہنچایا۔

انھوں نے کہ بد قسمتی سے سبسڈی دینے کا سابقہ حکومت کا فیصلہ بھی سیاسی تھا اور موجودہ کی طرف سے کئی ہفتوں تک اسے برقرار رکھنے کا فیصلہ بھی معاشی سے زیادہ سیاسی تھا، جس کے تباہ کن نتائج ملک کی پوری معیشت پر پڑے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

سبسڈی دینے کے باوجود خسارے پر کیسے قابو پایا جاتا؟

پاکستان میں وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق موجودہ مالی سال کے پہلے نو ماہ میں بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 3.8 فیصد ہے جبکہ گذشتہ سال یہ تین فیصد تھا تاہم اس کے باوجود سابقہ حکومت نے یکم مارچ سے 30 جون 2022 تک 496 ارب روپے کی سبسڈی پٹرول، ڈیزل اور بجلی پر دینی تھی۔

مزمل اسلم نے کہا کہ بجٹ خسارہ ہر سال ہوتا ہے اور ہدف سے سال کے اختتام پر ایک آدھ فیصد ہی بند ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بجٹ خسارے کا ہدف چار ہزار ارب روپے رکھا گیا ور ایک آدھ فیصد زیادہ ہونے کے حساب سے یہ 4200 ارب کے قریب بند ہو سکتا ہے تاہم انھوں نے جو سبسڈی دی اس کے لیے 496 ارب روپے کا انتظام ترقیاتی بجٹ پر سو ارب کا کٹ لگا رہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ’اسی طرح صوبوں سے 140 ارب لینے کا ارادہ تھا کیونکہ این ایف سی کے تحت انھیں اس سال 700 ارب روپے اضافی ملنے ہیں۔ اسی طرح ایف بی آر نے اضافی محصولات کی صورت میں 150 ارب ٹیکس دینے کا کہا۔ او جی ڈی سی ایل اور پی پی ایل کے منافع سے ڈیوڈنڈ کی صورت میں حکومت کو ملنے والے منافع سے یہ سبسڈی کو پورا کیا جاتا ہے، جس سے خزانے پر نہ بوجھ پڑتا ہے اور نہ ہی خسارہ بڑھتا ہے۔‘

شاہد خاقان عباسی نے تحریک انصاف کی جانب سے سبسڈی کے لیے پیسوں کے انتظام کرنے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ دستاویز میں کسی ایسی سبسڈی اور اس کے لیے پیسوں کا اتنظام کرنے کا کوئی ذکر نہیں اور اس سبسڈی کو حکومت کے خزانے سے دے کر ملکی خسارہ بڑھایا جا رہا تھا۔

معیشیت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف کی شرائط پر کیوں تاخیر سے عمل درآمد کیا؟

موجودہ حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف شرائط کے تحت پٹرول و ڈیزل پر سبسڈی کے خاتمے کے سلسلے میں جب شاہد خاقان عباسی سے پوچھا گیا کہ حکومت نے اس کام میں کیوں تاخیر کی جبکہ یہ کام لازمی طور پر کرنا تھا تو انھوں نے جواب دیا کہ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے ہر پہلو سے اس پر غور کیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں کہ ہم موجودہ حکومت کی جانب سے کیے جانے والے معاہدے کے تحت اس سبسڈی کا خاتمہ کریں۔

جب ان سے تحریک انصاف کے دور میں مسلم لیگ ن کے مہنگائی مارچ اور اب حکمران جماعت کے طور پر پٹرول، ڈیزل، گیس و بجلی کی قیمتیں بڑھانے پر سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا مارچ سابقہ حکومت کی کوتاہیوں اور ناقص پالیسیوں کے خلاف تھا۔‘

انھوں نے کہا عام آدمی کے ریلیف کے لیے حکومت نے چالیس ہزار ماہانہ سے کم آمدنی والے افراد کے لیے ماہانہ دو ہزار روپے کی امدادی رقم کا اعلان کیا ہے۔ ان کے مطابق اس کے ساتھ کمزور طبقات کو مالی فائدہ پہنچانے کے اور بہت سارے طریقے ہیں۔