کیا پاکستان کی نئی حکومت آئی ایم ایف سے پروگرام بحال کروا سکے گی؟

- مصنف, تنویر ملک
- عہدہ, صحافی، کراچی
’اس ملک میں عام آدمی کی کوئی حیثیت نہیں۔ اس لیے اس کے بارے میں کبھی نہیں سوچا جاتا۔‘
ملک کے معروف ماہر معیشت اور سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے یہ الفاظ بی بی سی نیوز سے اس وقت کہے جب پاکستان کی نئی حکومت کی جانب سے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے نئے قرض کے حصول کے لیے مذاکرات اور اس قرضے کے لیے شرائط کے عام آدمی پر اثرات کے سلسلے میں پوچھا گیا۔
پاکستان مسلم لیگ نواز کی سربراہی میں مخلوط حکومت کے نئے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل آئی ایم ایف سے مذاکرات کے لیے واشنگٹن روانہ ہو چکے ہیں۔ آئی ایم ایف سے مذاکرات کے لیے روانگی سے قبل مفتاح اسماعیل نے ایک پریس کانفرنس میں آئی ایم ایف کی ان شرائط کے بارے میں آگاہ کیا جن پر عمل کرنے سے قرضے کی اگلی قسط مل سکتی ہے۔
واضح رہے پاکستان تحریک انصاف کی گذشتہ حکومت نے آئی ایم ایف سے چھ ارب ڈالر قرض کے حصول کے لیے ایک پروگرام کیا تھا جس میں تین ارب ڈالر ملک کو وصول ہو چکے ہیں۔ تاہم گذشتہ حکومت کی جانب سے کچھ شرائط پورے نہ کرنے جیسے کہ تیل پر سبسڈی کے خاتمے اور تنخواہ دار طبقے پر مزید ٹیکس کے بارے میں واضح یقین دہانی نہ کرانے پر یہ پروگرام کچھ مہینوں سے تعطل کا شکار تھا۔
پاکستان میں قائم ہونے والی نئی حکومت کو ایک بڑے بجٹ خسارے کے ساتھ تیل پر دی جانے والی سبسڈی اور اس کے لیے درکار ماہانہ اربوں روپے کی رقم اور زرمبادلہ کے تیزی سے کم ہوتے ذخائر کی وجہ سے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑ رہا ہے تاکہ بیرونی ادائیگیوں کے شعبوں کو سہارا دیا جا سکے۔
موجودہ پروگرام کے تحت آئی ایم ایف سے تین ارب ڈالر ابھی ملنے ہیں۔ ماہرین معیشت کے مطابق موجودہ حکومت سے آئی ایم ایف کے کسی نئے پروگرام کی توقع نہیں اور موجودہ پروگرام کی بحالی پر بھی بات ممکن ہو۔
انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی مدت بظاہر ایک سال کے لگ بھگ ہے اس لیے عالمی ادارہ کسی نئے پروگرام کی بجائے موجودہ پروگرام کو ہی بحال کر سکتا ہے۔ تاہم ماہرین آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل کرنے کی صورت میں ملک میں مہنگائی کے ایک نئے طوفان کی وجہ سے عوام کے متاثر ہونے کے بارے میں خدشات کا اظہار کرتے ہیں۔
آئی ایم ایف کی شرائط کیا ہیں؟
پاکستان کے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ایک پریس کانفرنس میں آئی ایم ایف کی شرائط پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے پروگرام کی بحالی کے لیے کچھ شرائط رکھی گئی ہیں جن میں ڈیزل و پیٹرول پر دی جانے والی سبسڈی کا خاتمہ، صنعتوں کے لیے ٹیکس ایمنسٹی سکیم کا خاتمہ، بجلی کے نرخوں میں اضافہ، ٹیکس وصول کی شرح میں اضافہ اور مالیاتی خسارہ کم کرنے کی شرائط شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے بجلی کے نرخ میں پانچ روپے فی یونٹ کمی کے ساتھ ساتھ پیٹرول و ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں دس، دس روپے کمی کرتے ہوئے قیمتوں کو اگلے مالی سال کے بجٹ تک منجمد کر دیا تھا۔
معاشی امور کے سینیئر صحافی شہباز رانا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تیل کی مصنوعات پر حکومت کو سبسڈی ختم کرنا ہوگی اور اس کے ساتھ انڈسٹری کے لیے ٹیکس ایمنسٹی سکیم کو بھی ختم کرنا پڑے گا کیونکہ آئی ایم ایف ان دونوں کا خاتمہ چاہتا ہے۔
شہباز رانا نے بتایا کہ ملک کے معاشی حالات کافی خراب ہیں اور اس وقت ریلیف سے زیادہ پروگرام کی بحالی حکومت کی ترجیح ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیا نئے وزیر خزانہ آئی ایم ایف سے کوئی رعایت لے سکتے ہیں؟
وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل آئی ایم ایف سے مذاکرات کے ذریعے پروگرام کی بحالی کے تحت رُکے ہوئے تین ارب ڈالر حاصل کرنے کے ساتھ کیا ملک کے لیے کوئی رعایت بھی حاصل کر سکتے ہیں اس کے بارے میں سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا کسی امکان کو مسترد کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایسا مشکل دکھائی دیتا ہے کیونکہ معاشی حالات بہت زیادہ خراب ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ہماری ضرورت ہے کہ ہم آئی ایم ایف کے پاس جائیں اور ملک کی خراب معاشی صورتحال کی وجہ سے آئی ایم ایف کڑی شرائط رکھے گا تاکہ ہمارا مالیاتی خسارہ کم ہو اور بیلنس آف پیمنٹ کو سپورٹ مل سکے۔ انھوں نے کہا کہ یہ تو حققیت ہے کہ ملک کے معاشی حالات خراب ہیں اور انھیں ٹھیک کرنا ہوگا ورنہ مزید تباہی ہو گی۔
انسٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کراچی میں معیشت کے استاد صائم علی نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک تو کسی نئے پروگرام کا امکان نہیں اور اسی پروگرام کی بحالی ہو گی کیونکہ اس حکومت کی مدت کم ہے اور آئی ایم ایف کا اس کے ساتھ کسی نئے پروگرام میں جانا مشکل دکھائی دیتا ہے۔
’اس حکومت کی کوشش ہو گی کہ پہلے تو موجودہ پروگرام کے تین ارب ڈالر وصول کرنے کے لیے کام کیا جائے اور اس کے لیے آئی ایم ایف شرائط کو پورا کرنا پڑے گا کیونکہ آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی اور اس کے تحت فنڈنگ کے وصول کے بعد ہی عالمی بینک اور ایشائی ترقیاتی بینک پاکستان کو قرض فراہم کرے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ اس وقت غیر معمولی حالات ہیں۔ ’اندرون ملک معاشی حالات خراب ہیں تو عالمی سطح پر بہت غیر معمولی واقعات ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے شاید آئی ایم ایف تھوڑی بہت نرمی دکھائے۔‘
انھوں نے کہا کہ بجلی مہنگی کرنا اور نئے ٹیکس لگانا ایک مشکل کام ہے اور ان سے متعلق شرائط کی تکمیل پر ہی بات آگے بڑھ سکتی ہے تاہم صائم کچھ نرمی کی توقع کرتے ہیں۔ تاہم ان کے مطابق پاکستان کو دوسری شرائط پر عمل کرنا ہوگا کیونکہ آئی ایم ایف اپنے ٹارگٹس کی کارکردگی دیکھتا ہے اور اس کی مانیٹرنگ کرتا کہ ایک ملک کس حد تک اس پر عمل کر رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images
آئی ایم ایف معاہدے سے عام آدمی کس طرح متاثر ہو گا؟
سابقہ حکومت کی جانب سے عوام کو دیے جانے والے ریلیف پیکج کے تحت بجلی کے نرخوں میں پانچ روپے فی یونٹ کمی اور پٹرول و ڈیزل کی قیمت میں دس دس روپے کی کمی کے بعد ان کی قیمتوں کو بجٹ تک منجمد کر دیا گیا تھا
پاکستان میں مارچ کے مہینے کے اختتام تک مہنگائی کی شرح بارہ فیصد ریکارڈ کی گئی جو خطے کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اس وقت انڈیا میں مہنگائی کی شرح تقریباً سات فیصد اور بنگلہ دیش میں 6.2 فیصد پر ہے۔
آئی ایم ایف کی شرائط میں اس ریلیف پیکج کا خاتمہ شامل ہے اس کے ساتھ ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ بھی شامل ہے۔
ڈاکٹر پاشا نے کہا کہ عام آدمی یقینی طور پر متاثر ہوگا۔ انھوں نے کہ اس ملک میں ایک عام آدمی ہی متاثر ہوتا ہے کیونکہ امیر طبقات تو مراعات یافتہ ہیں اور نہ ہی ٹیکس ادا کرتے ہیں۔
انھوں نے واضح کیا کہ ملک میں زرعی شعبے کی آمدنی تیرہ سو ارب ہے اور اس کا سالانہ انکم ٹیکس دوارب روپے جب کہ پورے میں سالانہ پراپرٹی آمدن چھ سو ارب ہے اور ٹیکس چھ ارب ادا کیا جاتا ہے۔ انھوں نے ڈائریکٹ ٹیکسوں میں کم آمدنی کی وجہ سے ان ڈائریکٹ ٹیکس لگایا جاتا ہے جس کا نشانہ عام آدمی بنتا ہے۔
صائم علی نے اس بارے میں کہا کہ یقینی طور پر اس وقت مہنگائی کی ایک نئی لہر آئے گی جب آئی ایم شرائط کے تحت تیل کی مصنوعات پر سبسڈی ختم اور بجلی کے نرخ بڑھیں گے۔
انھوں نے کہا کہ دنیا کے غیر معمولی حالات کی وجہ سے امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں تیل، گیسں، خوردنی تیل کی قیمتیں مزید بڑھیں گے تو روپے کی قدر پر بھی مزید اثر پڑنے والا ہے اور ایسی صورت میں جب آئی ایم ایف شرائط کے تحت سبسڈی ختم ہوگی تو اس کا لازمی طور پر اثر پاکستان کی عوام پر زیادہ مہنگائی کی صورت میں نکلے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابقہ حکومت کا آئی ایم ایف سے ٹریک ریکارڈ کیا اثر ڈال سکتا ہے؟
پاکستان کی سابقہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ جولائی 2019 میں چھ ارب ڈالر کا معاہدہ کیا تھا جس کے تحت کچھ شرائط کو پورا کیا گیا جس میں بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا اور اس کے ساتھ ٹیکسوں کی شرح میں بھی اضافہ کیا گیا۔
انہی شرائط کے تحت سٹیٹ بینک کی خود مختاری کا بل بھی پارلیمان سے پاس ہوا۔
دنیا میں کورونا کی وبا کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ بھی یہ پروگرام کچھ عرصے معطل رہا اور اس کی بحالی کے بعد ملک میں منی بجٹ بھی لایا گیا جس کے تحت سیلز ٹیکس کی شرح کو بہت ساری چیزوں پر بڑھا دیا گیا۔
تاہم سابق حکومت کی جانب سے پٹرول و ڈیزل پر سبسڈی، بجلی کے نرخوں میں پانچ روپے کمی اور تنخواہ دار طبقے پر مزید ٹیکس کی شرح بڑھانے پر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی جس کی وجہ سے مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکے اور پھر ملک میں سیاسی بحران کی وجہ سے آئی ایم ایف نے نئی حکومت کا انتظار کیا۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شہباز رانا نے اس سلسلے میں کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کریڈیبلٹی (ساکھ) کا ہے اور پاکستان کو اس بحران سے نکلنا ہوگا جس کے تحت نئی حکومت کو یقین دہانی کرانی ہو گی کہ وہ معاہدے کی شرائط پر عمل کرے گی۔
انھوں نے کہا آئی ایم ایف تحریک انصاف اور نواز لیگ کی حکومتوں کو نہیں دیکھتا وہ ان شرائط پر عمل درآمد کی رفتار دیکھتا ہے جو قرضے کے ساتھ منسلک ہوتی ہیں۔
موجودہ حکومت کی مدت کے بارے میں شہاز رانا نے کہا امکان یہی ہے کہ یہ حکومت نئے آرمی چیف کی تعیناتی تک تو اقتدار میں رہے گی۔
ڈاکٹر حفیظ پاشا نے اس سلسلے میں بتایا کہ نرم رویہ اس وقت اپنایا جاتا ہے جب مشکل حالات نہ ہوں۔ ’جب ملک زرمبادلہ کے ذخائر ہی منفی ہوں کیونکہ جو اس وقت ذخائر ہیں وہ دوست ملکوں کے ڈیپازٹس ہیں تو اس صورت میں کیسے ممکن ہے کہ آئی ایم ایف کوئی نرمی دکھائے۔‘
پاکستان مسلم لیگ نواز کی ماضی کی حکومت کے آئی ایم ایف پروگرام کے ٹریک ریکارڈ پر ماہر معاشی امور ڈاکٹر اکرام الحق نے بی بی سی کو بتایا کہ نواز لیگ کا ٹریک ریکارڈ دوسری حکومتوں کے مقابلے میں اس لیے اچھا ہے کہ اب تک آئی ایم ایف ہے ساتھ ہونے والے 22 پروگراموں میں سے صرف ایک ہی پروگرام صحیح معنوں میں پایہ تکمیل تک پہنچا جو نواز لیگ کی گذشتہ حکومت میں اسحاق ڈار نے سٹرکچرل ریفارمز کی صورت میں مکمل کیا۔
ڈاکٹر اکرام نے کہا اگر نواز لیگ حکومت کے آئی ایم ایف کے ساتھ ٹریک ریکارڈ کو دیکھا جائے تو ممکن ہے کہ سخت شرائط میں تھوڑی سی نرمی ہو کہ جس سے مالیاتی ڈسپلن بھی بہتر ہو اور عوام پر بہت زیادہ بوجھ بھی اکٹھا نہ ڈالا جائے۔
انھوں نے کہا کہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے واپس لینے پر تو حکومت کو شاید کوئی اعتراض نہ ہو تاہم تیل پر سبسڈی میں حکومت کچھ ریلیف شاید مانگے کہ اسے مرحلہ وار کیا جائے نہ کہ ایک دم سے ختم کر دیا جائے۔













