آئی ایم ایف شرائط سے گاڑیوں کی قیمتوں میں کیسے اضافہ ہوا؟

گاڑیاں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, تنویر ملک
    • عہدہ, صحافی، کراچی

’جون 2021 میں جب وفاقی بجٹ میں ٹیکس میں چھوٹ دے کر چھوٹی گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا گیا تو میں نے پیسے جمع کرنا شروع کر دیے تاکہ فیملی کے لیے ایک گاڑی خرید لوں۔‘

کراچی میں ایک نجی کمپنی میں آپریشن منیجر کے عہدے پر کام کرنے والے نوید احمد کہتے ہیں کہ ’حکومت کی جانب سے اعلان کے بعد جولائی 2021 میں گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی ہوئی جس سے امید ہوئی کہ میں بھی ایک گاڑی خرید لوں گا تاہم نومبر کے مہینے میں کار بنانے والی کمپنیوں نے خام مال کی قیمت میں اضافے پر گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا تاہم اس اضافے کو بھی میں نے برداشت کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ فیملی کے لیے کار خرید لوں۔

’اب حکومت کی جانب سے ٹیکس کے نفاذ کے بعد گاڑیوں کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے جس نے میری گاڑی لینے کی امید کو ختم کر دیا ہے۔‘

نوید احمد نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے کچھ پیسے اکٹھے کیے اور اس کے ساتھ اپنے دفتر میں قرض حاصل کرنے کے لیے بھی درخواست جمع کرائی تاکہ رقم اکٹھی کر کے کیش پر گاڑی خریدی جائے تاکہ ہر مہینے قسط کے جھنجھٹ سے بچا جائے۔

وہ 1000 سی سی گاڑی خریدنا چاہتے ہیں تاکہ ان کے بچے جو اب بڑے ہو رہے ہیں ان کو لانے جانے میں سہولت حاصل ہو۔ نوید احمد کا کہنا ہے کہ انھوں گاڑی کے لیے دس لاکھ روپے جمع کیے اور باقی رقم دفتر سے قرض لینے کے لیے درخواست بھی دے رکھی ہے تاہم اب انھیں مزید کچھ عرصہ انتظار کرنا پڑے گا کیونکہ نومبر اور جون میں قیمت بڑھنے سے گاڑی کی لاگت میں ڈیڑھ لاکھ روپے تک کا اضافہ ہو گیا ہے جس کا انتظام فی الحال وہ نہیں کر سکے۔

گاڑیاں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

محمد اسامہ بھی ایک نجی کمپنی میں کام کرتے ہیں اور ان کا ارادہ بینک سے قرض لے کر گاڑی خریدنے کا ہے۔ اسامہ نے بتایا کہ فی الحال ان کا گاڑی لینے کا خواب پورا نہیں ہو پا رہا کیونکہ پہلے تو ملک میں شرح سود میں اضافے کر کے بینکوں سے گاڑی لینے کو مہنگا کر دیا گیا ہے اور اب منی بجٹ میں گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے انھوں نے گاڑی خریدنے کا ارادہ ملتوی کر دیا ہے۔

اسامہ نے کہا منی بجٹ میں گاڑیوں کی قیمتوں بڑھنے کے ساتھ ابھی شرح سود کے مزید بڑھنے کی باتیں گردش کر رہی ہیں جس کی وجہ سے انھوں نے مزید کچھ عرصے کے لیے گاڑی خریدنے کا ارادہ تبدیل کر دیا ہے۔

نوید احمد اور محمد اسامہ پاکستان میں ان بہت سارے افراد میں شامل ہیں جو اپنے خاندان کے لیے چھوٹی گاڑی خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاہم ملک میں گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو پا رہے۔

پاکستان کی حکومت نے موجودہ مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے 1000 سی سی تک گاڑیوں پر ٹیکس کی مد میں کچھ چھوٹ دے کر ان گاڑیوں کی قیمتوں کو کچھ حد تک نیچے لائی تھی۔

تاہم ملک میں ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت کی وجہ سے درآمدی خام مال کی لاگت میں اضافے پر گذشتہ سال کے اختتامی مہینوں میں گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تو اس موجودہ حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کی شرائط پورا کرنے کے لیے منی بجٹ میں جہاں بہت سارے شعبوں میں ٹیکس کی چھوٹ کو ختم کیا گیا تو اس کے ساتھ گاڑیوں پر دی گئی ٹیکس مراعات کو بھی واپس لے لیا گیا۔

جس سے ملک میں گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور کار بنانے والی کمپنیوں کی جانب سے قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا گیا ہے۔

ملک میں گاڑیوں کے شعبے سے وابستہ افراد اور ماہرین حکومت کی پالیسی میں تسلسل کی کمی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہتے ہیں کہ صرف چھ ماہ میں اگر حکومت کی جانب سے دی جانے والی ٹیکس مراعات کو واپس لینا تھا تو اسے یہ اقدام بجٹ میں نہیں لینا چاہیے تھا۔

ان کے مطابق گاڑیوں خاص کر کم پاور کی گاڑیوں کی قیمتوں میں جو اضافہ ہوا ہے اس کا اثر آنے والے چند مہینوں میں نظر آئے گا کیونکہ ملک میں مڈل کلاس طبقے کی قوت خرید پہلے ہی کم ہو رہی ہے اور گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے چھوٹی گاڑی ان کے لیے خریدنا مسئلہ ہو گا۔

گاڑیوں کی قیمت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

گاڑیوں پر کون سی ٹیکس مراعات کا خاتمہ کیا گیا ہے؟

پاکستان کی وفاقی حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کے ساتھ معطل شدہ پروگرام کی بحالی کے لیے کچھ شرائط پر رضامندی اختیار کی گئی تاکہ بین الاقوامی ادارے کی جانب سے ایک ارب ڈالر کی قسط کی جاری ہو سکے۔

ان شرائط کے تحت حکومت کو اس مالی سال میں 350 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ کا خاتمہ کر کے ٹیکس وصولی کو بڑھانا ہے۔ منی بجٹ میں جن ٹیکس چھوٹ کو ختم کیا گیا ہے ان میں گاڑیوں پر دی جانے والی ٹیکس چھوٹ کا خاتمہ بھی شامل ہے۔

ڈارسن سکیورٹیز میں آٹو سیکٹر کے ماہر ولی نگریہ نے اس سلسلے میں بی بی سی اردو کو بتایا کہ موجودہ مالی سال کے بجٹ میں 1000 سی سی کار تک فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو زیرو کر دیا گیا تھا۔

تاہم اب منی بجٹ میں اسے دوبار نافذ کر دیا گیا اب 1000 سی سی کار تک پر 2.5 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی دوبارہ لگا دی گئی ہے۔

وفاقی بجٹ میں 1001 سے 1300 سی سی کار پر ڈیوٹی ڈھائی فیصد تھی جو اب بھی برقرار ہے۔ 1301 سے 2000 سی سی کار پر وفاقی بجٹ میں ڈیوٹی کم کر کے ڈھائی فیصد کر دی گئی تھی جسے منی بجٹ میں دوبارہ پانچ فیصد کر دیا گیا ہے۔

اسی طرح 2000 سی سی سے اوپر کی کاروں پر ڈیوٹی کم کر کے وفاقی بجٹ میں پانچ فیصد کر دی گئی تھی جسے منی بجٹ میں اب دس فیصد کر دیا گیا ہے۔

ولی نگریہ نے بتایا کہ اسی طرح سیلز ٹیکس کی شرح جسے وفاقی بجٹ میں کم گیا تھا اس کی شرح کو بھی دوبارہ منی بجٹ میں بڑھا دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ 850 سی سی سے نیچے کار پر سیلز ٹیکس کی شرح تو 12.5 فیصد برقرار رکھی گئی ہے تاہم اس سے اوپر کی گاڑیوں کی شرح سیلز ٹیکس کو 17 فیصد کر دیا گیا ہے۔

ٹیکس مراعات کے خاتمے سے گاڑیوں کی قیمتوں میں کتنا اضافہ ہوا؟

پاکستان میں موجودہ مالی سال کے بجٹ میں جب فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کی شرح کو گاڑیوں کی مختلف رینج پر کم کیا گیا تھا تو جولائی کے مہینے میں گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی تھی۔

مختلف اقسام کی گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کی مختلف شرح تھی جو 75000 سے 200000 لاکھ روپے تک کمی کی گئی تھیں۔ اگر 1000 سی سی تک گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی دیکھی جائے تو اس وقت 75000سے 120000 روپے تک کی کمی دیکھی گئی۔

پاکستان میں منی بجٹ کی منظوری کے بعد اگر گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کو دیکھا جائے تو اس میں مخلتف رینج کی گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ مختلف ہے۔

ولی نگریہ نے بتایا کہ اوسط اضافہ 80000 سے 90000 روپے بنتا ہے۔ 850 سی سی تک گاڑیوں کی قیمتوں میں 40000 روپے تک اضافہ ہوا ہے اور 1000 سی سی تک گاڑیوں کی قیمتوں میں 150000 کا اضافہ کر دیا گیا ہے اور گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کی جانب سے اس اضافے کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کار

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان میں گاڑیوں پر ٹیکس کی شرح کیا مناسب ہے؟

پاکستان میں گاڑیوں پر ٹیکس کی شرح کو وفاقی بجٹ میں گھٹانے اور منی بجٹ میں دوبارہ اضافے کی وجہ گاڑیوں کی قیمتوں میں جو تھوڑی بہت کمی اور اضافہ ہوا اس کے بارے میں انجینیئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے ہیڈ آف پالیسی اور ترجمان عاصم ایاز نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر گاڑیوں کے شعبے کو وفاقی بجٹ میں ٹیکس کے سلسلے میں مراعات دی گئی تھیں تو اسے چھ مہینے میں واپس نہیں لینا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ ٹیکس مراعات کی پالیسی کو کچھ عرصہ چلتے رہنا چاہیے تھا تاہم اب حکومت نے ٹیکس میں چھوٹ یا دی گئی کمی کو واپس لیا ہے تو اس کے بارے میں بھی جائزہ لینا چاہیے کہ پاکستان میں آٹو سیکٹر پر ٹیکس کی شرح کتنی ہے اور دنیا میں اس کی شرح کتنی ہے۔

عاصم کے مطابق پاکستان میں آٹو سیکٹر پر ٹیکس کی شرح 35 سے 45 فیصد ہے جو باقی دنیا کے مقابلے زیادہ ہے کیونکہ دنیا میں زیادہ تر ممالک میں آٹو سیکٹر پر ٹیکس کی شرح 10 سے 20 فیصد ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگرچہ حکومت کو مالی مسائل کی وجہ سے ٹیکس مراعات واپس لینا پڑیں تاہم یہ دیکھنا ہو گا کہ گروتھ کے لیے کیا یہ ٹیکس شرح صحیح ہے۔

عاصم کا کہنا ہے کہ 'ہمارے ٹارگٹ کے مطابق ملک میں سالانہ پانچ لاکھ گاڑیوں کی پیداوار ہونی چاہیے۔ تاہم چھ مہینے میں گاڑیوں کی پیداوار ڈیڑھ لاکھ تک رہی ہے اور اگر اس حساب سے دیکھا جائے تو یہ پورے سال میں پیداوار تین لاکھ گاڑیوں تک محدود رہے گی جس کے لیے سوچنا چاہیے کہ کیا ٹیکس کی بلند شرح تو گروتھ میں رکاوٹ تو نہیں ڈال رہی۔'

کیا ٹیکس چھوٹ میں خاتمے سے گاڑیوں کی فروخت میں کمی ہو گی؟

پاکستان میں موجودہ مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں گاڑیوں کی پیداوار میں 70 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم یہ اضافہ اس وقت دیکھا گیا جب جون میں وفاقی بجٹ میں ٹیکس میں رعایت اور ملک میں شرح سود نچلی سطح پر تھی۔

گاڑیاں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

آٹو شعبے کے ماہر مشہود علی خان نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ منی بجٹ میں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کی شرح کو بڑھانے کا اثر 2022 کی دوسری اور تیسری سہ ماہی میں نظر آ سکتا ہے کیونکہ گاڑیوں کی بکنگ دو تین ماہ پہلے ہوتی ہے۔

انھوں نے کہا 2021 کا سال گاڑیوں کی فروخت کے لحاظ سے زبردست رہا تاہم 2022 میں اس میں تھوڑی تبدیلی نظر آئے گی جو 1000 سی سی کی گاڑی کی فروخت میں نظر آئے گی کیونکہ بڑی گاڑیوں کی قیمتوں میں دو تین لاکھ کا اضافہ ان گاڑیوں کے خریداروں کی مالی صحت پر اثر انداز نہیں ہوتی جیسے کہ چھوٹی گاڑی کے خریداروں پر لاکھ سوا لاکھ کے اضافے سے اثر پڑتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ 850 سی سی سے کم کی گاڑی پر 2.50 فیصد ڈیوٹی کا زیادہ اثر نہیں پڑے گا تاہم 1000 سی سی پر ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کی شرح کا قیمت پر اچھا خاصا اثر پڑے گا جو ان کی فروخت کو متاثر کر سکتا ہے۔

مشہود علی خان نے کہا اسی طرح شرح سود میں ہونے والا اضافہ بھی گاڑیوں کی فروخت پر اثر ڈالے گا جو آنے والے دنوں میں نظر آئے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ ملک میں قوت خرید میں کمی، مہنگائی کو شرح سود کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو لگتا یہی ہے کہ 1000 سی سی تک کی گاڑیوں کی فروخت میں کچھ کمی آسکتی ہے۔