گاڑیوں کی بڑھتی قیمتیں: عالمی سطح پر کاروں کی قیمتوں میں اضافے کی وجوہات کیا ہیں اور اس سے عالمی معیشت کیسے متاثر ہو رہی ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سیسیلیا باریا
- عہدہ, بی بی سی منڈو
کورونا وائرس کے دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لینے سے پہلے کاریں بنانے کی صنعت اور سپلائی چین بالکل درست انداز میں کام کر رہے تھے اور یہ وہ وقت تھا جب صارفین اپنی مرضی کے مطابق اور اپنی پسند کی کار اور ماڈل کا انتخاب کر سکتے تھے۔
اب عالمی سطح پر کاروں کی غیر معمولی کمی کے باعث گاڑیوں کے خریدار اپنی پسند کی گاڑی کے حصول کے لیے مہینوں انتظار کرنے اور لمبی ’ویٹنگ لسٹ‘ کا حصہ بننے پر مجبور ہیں۔
گاڑیوں کی اس کمی کے کے باعث کچھ نئے ماڈلز کی گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ سیکنڈ ہینڈ یا استعمال شدہ کاروں کی قیمتوں میں بھی ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔
گاڑیاں بنانے والی بڑی کمپنیاں مارکیٹ کی طلب سے کم گاڑیاں تیار کر پا رہی ہیں کیونکہ دنیا بھر میں کارساز اداروں کو کاروں میں استعمال ہونے والے سیمی کنڈکٹرز کی کمی کا سامنا ہے۔ سیمی کنڈکٹر کاروں کی پیداوار کا ایک لازمی حصہ ہیں۔
سیمی کنڈکٹرز کی طرح ’چپس‘ (ایک خاص ڈیوائس) حاصل کرنے کی کی دوڑ بھی لگی ہے جو گاڑیوں کے علاوہ گھریلو آلات، کمپیوٹر اور سیل فون سے لے کر ویڈیو گیم تک ہر چیز کی تیاری میں استعمال ہوتی ہیں۔
کولاراڈو سٹیٹ یونیورسٹی میں فیکلٹی آف بزنس کی پروفیسر سوسن گولیسک کہتی ہیں کہ ’سیمی کنڈکٹرز تیار کرنے والی صنعت مارکیٹ کی طلب کو پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود یہ صنعت ایسا کرنے میں کامیاب دکھائی نہیں دیتی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ماہرین کے مطابق چپس کی عدم موجودگی میں گاڑیاں بنانے والوں کو یہ انتخاب کرنا پڑتا ہے کہ کون سے ماڈل پروڈکشن لائن پر موجود رہیں گے اور کون سے نہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’اس وقت بہت سی بڑی کمپنیاں صرف وہ گاڑیاں تیار کر رہی ہیں جو کمپنیوں کے لیے زیادہ منافع کا باعث ہیں، جیسے سپورٹس یوٹیلیٹی کاریں (SUVs)، ٹرک یا لگژری کاریں، یہ معاملہ بہت سنجیدہ نوعیت اختیار کر گیا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہاورڈ یونیورسٹی بزنس سکول کی پروفیسر ولی شیہ نے بی بی سی منڈو کو بتایا سیمی کنڈکٹرز اور چپس کی کمی سے کاروں کی صنعت کا پوری مینوفیکچرنگ نظام متاثر ہوتا ہے۔ اس کا اثر پرزے بنانے والی تمام کمپنیوں پر پڑتا ہے۔
’اس کا اثر کاریں بنانے کی صنعت سے وابستہ تمام کاروباروں اور اس سے حاصل ہونے والی ملازمتوں پر پڑا ہے۔ اس لیے اس کے نتائج تیزی سے پھیل رہے ہیں۔‘
ٹویوٹا اور نسان جیسے برانڈز کے ملک جاپان میں کاروں کے پرزوں کی کمی کی وجہ سے ستمبر میں اس شعبے کی برآمدات میں گذشتہ برس کے مقابلے میں 46 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جو اس کی معیشیت کے لیے کاروں کی صنعتوں کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔
فلوریڈا اٹلانٹک یونیورسٹی سکول آف بزنس کے شعبہ آپریشنز مینجمنٹ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے پروفیسر ڈیوڈ میناچوف کے مطابق ’یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ آٹوموبائل مینوفیکچرنگ سے عالمی طور پر مجموعی جی ڈی پی کا تقریباً تین فیصد حاصل ہوتا ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
بی بی سی منڈو کو بتایا گیا کہ اس صورتحال کے باعث گذشتہ برس لگ بھگ 80 لاکھ گاڑیاں مارکیٹ میں نہیں آ سکیں۔ یہ صورتحال گاڑیوں کی صنعت کے لیے دو لاکھ ملین امریکی ڈالر کے قریب آمدن کے نقصان کا موجب بنی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نئی اور پرانی کاروں کی قیمت میں اضافہ
پروفیسر ڈیوڈ میناچوف نے بی بی سی منڈو کو بتایا کہ ’امریکہ میں کاریں اپنی اصل قیمت سے زیادہ قیمتوں پر فروخت کی جا رہی ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں لوگ کمپنی کی قیمت سے زیادہ قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں۔ کمپنی کی قیمت سے زیادہ قیمت پر گاڑیوں کی فروخت کو پاکستان میں ’اوون‘ کہا جاتا ہے۔
اور مارکیٹ میں کافی نئی مصنوعات دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے استعمال شدہ گاڑیوں کی طلب میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، جس سے امریکہ میں سیکنڈ ہینڈ کار کی اوسط قیمت 25,000 ڈالر سے زیادہ ہو گئی ہے۔
سوسن گولیسک کہتی ہیں کہ اصل میں ایک گاڑی کی اوسط قیمت ہر ماہ تقریباً 200 ڈالر تک بڑھ رہی ہے۔
دنیا کے دیگر ممالک میں بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔ میکسیکو کی ہی مثال لے لیں جو دنیا کا چوتھا بڑا کاریں برآمد کرنے والا اور ساتواں سب سے بڑا کاریں بنانا والا ملک ہے، مگر یہ صورتحال اس ملک کو بھی متاثر کر رہی ہے۔
میکسیکو اپنے ملک میں تیار ہونے والی گاڑیوں کا 80 فیصد بیرون ممالک کو برآمد کرتا ہے اور لاطینی امریکہ میں گاڑیوں کی صنعت میں دیگر ممالک پر سبقت رکھتا ہے، مگر یہ ملک بھی کاروں کی تیاری میں عالمی قلت کے اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔
میکسیکن ایسوسی ایشن آف آٹو موٹیو ڈسٹری بیوٹرز (اے ایم ڈی اے) کے صدر گیولیرمو پریتو کا کہنا ہے کہ نئی کاروں کی قیمتوں میں نو فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ پانچ سال سے زیادہ پرانی سیکنڈ ہینڈ کاروں کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے بی بی سی منڈو کو بتایا کہ ’کاروں کی طلب زیادہ ہے جبکہ رسد کم ہے جس کی وجہ سے صارفین کو بعض اوقات اپنی پسند کی کار خریدنے کے لیے پانچ یا چھ ماہ تک بھی انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔
ان کے مطابق ’طلب اور رسد میں فرق بہت زیادہ ہے، اور اس کا لیبر مارکیٹ پر بھی گہرا اثر پڑا ہے کیونکہ اس صنعت سے 20 لاکھ براہ راست ملازمتیں جڑی ہوئیں ہیں اور پرزے بنانے والی اور خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کی صورت میں بہت سی دوسری بالواسطہ ملازمتیں بھی اس صنعت کی مرہون منت ہیں۔‘
کاروں کی قلت میں ایک اضافی عنصر کا عمل دخل بھی شامل ہے اور وہ ہے امریکہ سے نام نہاد ’جنک کاروں‘ کے غیر قانونی داخلے میں اضافہ: خراب حالت میں گاڑیاں جنھیں دنیا کی سب سے بڑی معیشیت میں خریدار نہیں ملتے لیکن ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی ہے۔
لیبر اور معیشت پر اثرات
اگرچہ کاریں دنیا کے مختلف خطوں میں تیار کی جاتی ہیں لیکن زیادہ تر مینوفیکچرنگ امریکہ اور چین جیسے ممالک میں ہوتی ہے۔
لیکن دوسرے چھوٹے ممالک جیسے سلوواکیہ بھی اس سلسلے میں حصہ ڈالتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سلوواکیہ کی آبادی صرف 56 لاکھ سے کچھ زیادہ ہے مگر یہ بڑی بڑی کاروں جیسے پیجیوٹ، ووکس ویگن اور کِیا جیسی گاڑیوں کا مرکز ہے اور یہ ایک سال میں دس لاکھ کاریں پیدا کرتا ہے، جو اسے دنیا میں سب سے زیادہ فی کس پیداوار والا ملک بناتا ہے۔
مزید پڑھیے
آٹو انڈسٹری میں مسائل کی وجہ سے اس کی معیشت پر بھی گہرا اثر پڑا ہے۔
ڈیوڈ میناچوف کا کہنا ہے کہ عالمی تناظر میں کار کی صنعت کے سائز کی وجہ سے ایک ’ملٹی پلیئر اثر‘ (کثیرجہتی اثر) ہوتا ہے۔
ایک کمپنی جو 100 افراد کو ملازمت فراہم کرتی ہے اور 500 تک مزدوروں کی خدمات حاصل کرنے جیسے مواقع پیدا کرتی ہے اور ان تمام متعلقہ کمپنیوں کا بھی اس ساری سرگرمیوں پر انحصار رہتا ہے۔
اور جب کار مینوفیکچرنگ چین یعنی نظام میں ہر کوئی متاثر ہوتا ہے تو مقامی ملازمین اس سے متاثر ہوتے ہیں، خاص طور پر جب کچھ پلانٹس عارضی طور پر بند ہوتے ہیں۔
ڈیوڈ میناچوف کے مطابق ’تمام اندازوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ قلت 2022، یہاں تک کہ 2023 تک برقرار رہ سکتی ہے اور حقیقت میں ایک عام مارکیٹ کی صورتحال میں واپس آنے سے پہلے تک یہ قلت مزید بڑھے گی۔













