گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی: کیا پاکستان میں موٹر سائیکل چلانے والے گاڑی کے مالک بن پائیں گے؟

موٹر سائیکل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
    • مصنف, تنویر ملک
    • عہدہ, صحافی، کراچی

’موٹر سائیکل چلاتے ایک عرصہ ہو گیا، گاڑی لینے کی خواہش تو ہے لیکن مالی وسائل اس کی اجازت نہیں دیتے۔ گھریلو اخراجات کے بعد کچھ بچتا ہی نہیں جس سے اس خواہش کی تکمیل ہو سکے۔‘

یہ الفاظ 40 برس کے فرید صدیقی کے ہیں جو ایک نجی ادارے میں ملازم ہیں۔ فرید گھر سے دفتر اور دفتر سے گھر آنے جانے کے لیے موٹر سائیکل استعمال کرتے ہیں۔ گھر کے تمام چھوٹے بڑے کاموں کا انحصار بھی اسی بائیک پر ہے۔

خاندان، عزیز و اقارب اور دوستوں کے ہاں شادی بیاہ اور دوسری تقریبات میں شرکت کے لیے وہ اسی موٹر سائیکل پر اپنے خاندان کو لے جاتے ہیں جو تین افراد پر مشتمل ہے جس میں وہ خود، ان کی بیوی اور ایک بچی شامل ہے۔

ٹریفک جام میں گاڑیوں کی قطار سے باآسانی نکل جانا اپنی جگہ، مگر فرید صدیقی نے گاڑی لینے کی جس خواہش کا اظہار کیا ہے وہ موٹر سائیکل پر سفر کرنے والے بہت سارے افراد کی ہے کہ ان کے پاس بھی چھوٹی سی گاڑی ہو جس میں وہ آرام سے سفر کر سکیں۔ تاہم ان کی یہ خواہش مالی وسائل کی عدم دستیابی کی وجہ سے پوری نہیں ہو پاتی۔

فرید اور ان جیسے بہت سے لوگوں کی اس خواہش میں وفاقی حکومت نے بھی اپنی آواز ملائی ہے کہ موٹر سائیکل پر سفر کرنے والے اپنی گاڑی کے مالک بن جائیں۔

وفاقی وزیر صنعت و پیداوار مخدوم خسرو بختیار نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ موٹر سائیکل پر سفر کرنے والے ترقی کر کے اپنی گاڑی کے مالک بن جائیں۔

وفاقی وزیر نے ان اقدامات کا ذکر بھی کیا جس کے ذریعے اس طبقے کو گاڑی خاص کر چھوٹی کار کا مالک بنایا جا سکے گا۔

حکومت نے کن اقدامات کا اعلان کیا؟

وفاقی وزیر نے اپنی پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ نئی آٹو پالیسی کے تحت جہاں گاڑیوں کی صنعت کو فروغ دیا جائے گا تو اس کے ساتھ کچھ ایسے اقدامات بھی اٹھائے گئے ہیں کہ جس کے ذریعے گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی لائی جائے اور خاص کر کم پاور کی گاڑیوں کو اس طبقے کی پہنچ میں لایا جا سکے جو موٹر سائیکل پر سفر کرتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ سب سے پہلے تو ’اپ فرنٹ پیمنٹ‘ یعنی ڈاؤن پیمنٹ کو 20 فیصد تک کر دیا گیا ہے۔ یہ وہ کم سے کم رقم ہے جو قسطوں پر کار خریدنے کے لیے ادا کرنا لازم ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ چھوٹی گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی لائی گئی ہے اور آخر میں گاڑیوں کی لیز پر حصول کے طریقہ کار کو آسان بنایا جائے گا۔

گاڑیاں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وفاقی وزیر کے مطابق گاڑیوں خاص کر چھوٹی گاڑیوں پر حکومتی ٹیکسوں میں کمی سے ان کی قیمتیں نیچے آئی ہیں اور نئی قیمتوں کا اطلاق بھی ایک دو دن میں ہو جائے گا جس سے یہ گاڑیاں متوسط طبقے کی قوت خرید میں آ جائیں گی۔

حکومت کی جانب سے بجٹ میں گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کی مد میں رعایت دی گئی خاص کر کم پاور کی کاروں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم اور سیلز ٹیکس کی شرح میں کمی کی گئی تاکہ ملک میں کاروں ک قیمت میں کمی آ سکے۔

ٹیکس کی مد میں رعایت سے جو تخمینے سامنے آئے ہیں ان کے مطابق 850 سی سی گاڑی کی قیمت میں سوا لاکھ تک کمی ہو گی اسی طرح اس سے اوپر ایک ہزار سی سی گاڑی کی قیمت میں ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ کمی واقع ہو گی۔

کیا قیمتوں میں کمی موٹر سائکل سوار کو گاڑی کا مالک بنا پائے گی؟

وفاقی وزیر کے گاڑیوں کی قمیتوں میں کمی کے ذریعے موٹر سائیکل سوار کو گاڑی کا مالک بنانے کے عزم کے بارے میں فرید صدیقی اور آٹو سیکٹر کے شعبے کے ماہرین پُرامید نہیں۔

فرید صدیقی نے بتایا کہ ان کی تنخواہ پچاس ہزار روپے کے لگ بھگ ہے جس میں گھریلو اخراجات بمشکل پورے ہوتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ابھی تو انھیں یہ سہولت حاصل ہے کہ وہ اپنے گھر میں رہتے ہیں ورنہ مکان کے کرائے کی ادائیگی تو اس تنخواہ میں بہت مشکل ہو جاتی۔

آٹو سیکٹر کے ماہر مشہود علی خان نے کہا کہ ٹیکسوں میں کمی کے باوجود گاڑیوں خاص کر چھوٹی کاروں کی قیمت انتی کم نہیں ہوئی کہ موٹر سائیکل پر سفر کرنے والا گاڑی کا مالک بن جائے۔

گاڑیاں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انھوں نے کہا پاکستان میں جو طبقہ موٹر سائیکل کی سواری کرتا ہے اس کی اگر زیادہ سے زیادہ تنخواہ بھی لی جائے تو وہ ستر ہزار ماہانہ بنتی ہے جس میں اسے گھریلو اخراجات کے بعد کچھ ایسا خاص نہیں بچتا کہ وہ دس بارہ لاکھ کی گاڑی خرید سکے۔

مشہود علی خان نے اگرچہ حکومت کی جانب سے ٹیکسوں میں کمی کے اقدامات کو سراہا تاہم ان کے مطابق یہ قیمت ابھی بھی اس طبقے کی قوت خرید سے بہت زیادہ ہے جو موٹر سائیکل استعمال کرتا ہے۔

آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایچ ایم شہزاد نے بھی اس امکان کو مسترد کیا کہ گاڑیوں پر ٹیکس میں کمی سے قیمتیں اتنی زیادہ نیچے گر جائیں گی کہ وہ موٹر سائیکل پر سواری کرنے والوں کو گاڑی کا مالک بنا دیں گی۔

انھوں نے کہا کہ اول تو موٹر سائیکل پر سواری کرنے والے کے مالی وسائل ایسے نہیں ہوتے کہ وہ پاکستان میں گاڑی چاہے چھوٹی ہی کیوں نہ ہو وہ اسے خرید سکے اور اگر ایک بار خرید بھی لے تو اس کے اخراجات اور اس کی مرمت اس کے بس کی بات نہیں۔

ایچ ایم شہزاد نے کہا اگر کوئی بینک سے بھی گاڑی لینا چاہے تو بلند شرح سود میں اس کے لیے مالی طور پر ممکن نہیں کہ وہ ماہانہ قسط ادا کر سکے۔

گاڑیوں کی قیمتیں کیا ابھی بھی زیادہ ہیں؟

ایچ ایم شہزاد کے مطابق ملک میں گاڑیوں کی قیمتیں ابھی بھی بہت زیادہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر گاڑیوں کی قیمتوں میں تھوڑی بہت کمی واقع ہوئی ہے تو وہ بھی حکومتی اقدامات سے جن کے ذریعے ٹیکسوں میں چھوٹ دی گئی۔

وہ کہتے ہیں ’دوسری جانب ملک میں گاڑیاں اسمبل کرنے والے اداروں کی جانب سے تو کوئی کمی نہیں کی گئی۔‘

انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سب سے کم پاور کی گاڑی سوزوکی آلٹو ہے جس کا آٹو میٹک ورژن ساڑھے 16 لاکھ میں دستیاب ہے اور اگر ٹیکسوں میں کمی کی وجہ سے اس کی قیمت میں ایک سوا لاکھ کی کمی واقع ہوئی بھی ہے تو وہ پھر بھی بہت زیادہ ہے اور متوسط طبقے کی پہنچ سے باہر ہے۔

گاڑیاں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انھوں نے کہا کہ اسی ورژن کی سوزوکی ماروتی انڈیا میں اگر پاکستانی روپے میں لی جائے تو وہ تقریباً آٹھ لاکھ روپے میں آتی ہے جبکہ یہاں اس کی قیمت بہت زیادہ ہے اور اس کے سکیورٹی فیچر بھی پاکستانی آلٹو سے بہت زیادہ اچھے ہیں۔

انھوں نے کہا پاکستان میں چھوٹی گاڑی دس لاکھ روپے سے زیادہ کی نہیں ہونی چاہیے لیکن لوکل اسمبلروں نے آپس میں مل کر ایسا کارٹل بنایا ہوا ہے کہ قیمتیں کم نہیں ہو رہیں۔

مشہود علی خان نے بھی ٹیکسوں میں رعایت کے باوجود گاڑیوں کی قیمتوں کو بہت زیادہ قرار دیا۔

انھوں نے کہا حکومت نے تو اپنا کام کر دیا کہ ٹیکسوں میں کچھ ریلیف دے دیا تاہم صرف اس سے قیمتیں اس سطح تک نہیں آ سکتیں کہ موٹر سائیکل پر سفر کرنے والا بھی گاڑی کا مالک بن سکے۔

گاڑیوں کی قیمتیں کم کرنے کے لیے اور کیا کرنا چاہیے؟

مشہود علی خان نے کہا ٹیکسوں میں رعایت کے ساتھ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے شرح سود میں بھی کمی لائی جائے۔

انھوں نے کہا کہ کائی بور اور بینک چارجز کے ساتھ گیارہ فیصد شرح سود پر بینک سے گاڑی لیز کرانا کم آمدنی والے افراد کے لیے ممکن نہیں۔ انھوں نے کہا ’یہ بھی حکومتی ادارے سٹیٹ بینک کا کام ہے کہ وہ اسے پر کام کرے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ گاڑیوں کی قیمتیں اس وقت تک کم نہیں ہو سکتیں جب تک لوکل اسمبلرز لوکلائزیشن پر نہ جائیں یعنی انھیں مقامی طور پر خام مال میسر نہ ہو۔

’گاڑی بنانے کے لیے پارٹس اور باڈی کے لیے سٹیل کی چادروں سے لے کر پلاسٹک کا سارا سامان تو باہر سے منگوانا پڑتا ہے ایسی صورت میں یہ کیسے ممکن ہے کہ گاڑی کی قیمت نیچے آئے۔‘

ایچ ایم شہزاد نے اس سلسلے میں کہا کہ گاڑی کی قیمت کم ہونے کا ایک ہی حل ہے کہ جب اس شعبے میں مقابلہ ہو جو درآمدی کاروں کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ تجارتی بنیادوں پر کاروں کی درآمد کی اجازت دی جائے تو پانچ سال پرانی گاڑی یہاں آٹھ لاکھ میں دستیاب ہو گی جو ’اپنی خصوصیات میں مقامی طور پر تیار ہونے والی گاڑی سے لاکھ درجے بہتر ہوتی ہے۔‘