پاکستان کی معیشت: ملکی برآمدات بڑھنے کے باوجود تجارتی خسارے میں سو فیصد اضافے کے معیشت پر کیا منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟

پاکستانی روپیہ اور امریکی ڈالر

،تصویر کا ذریعہVitoria Holdings LLC

    • مصنف, تنویر ملک
    • عہدہ, صحافی، کراچی

پاکستان میں وزیر اعظم کے مشیر تجارت رزاق داؤد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ موجودہ مالی سال کے پہلے چھ مہینوں میں ملکی برآمدات 25 فیصد کی شرح سے بڑھتے ہوئے 15 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں جو گذشتہ سال 12 ارب ڈالر تھیں۔

ایک جانب ملک کی برآمدات میں اضافے کو بیرونی تجارت کے شعبے میں خوش آئند پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے مگر دوسری جانب رواں مالی سال کے پہلے چھ مہینوں میں ملک کا تجارتی خسارہ 100 فیصد بڑھ گیا ہے، ان چھ مہینوں میں تجارتی خسارہ تقریباً 25 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

تجارتی خسارے میں اس بے تحاشہ اضافے کی وجہ ملکی درآمدات میں ساٹھ فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہے جو چھ مہینوں میں تقریباً 40 ارب ڈالر ہو چکا ہے۔

پاکستان کے تجارتی خسارے میں 100 فیصد اضافہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ملک بیرونی ادائیگیوں کے توازن میں بگاڑ کی وجہ سے بے پناہ مشکلات کا شکار ہے اور اس کے باعث رقم کے حصول کے لیے اسے بیرونی ذرائع پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ جیسا کہ پاکستان کا بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے پروگرام ہے جو اپنی سخت شرائط کی وجہ سے پہلے ہی ملک میں مہنگائی کی لہر کو جنم دے چکا ہے۔

ان شرائط کے تحت حال ہی ملکی پارلیمان میں پیش کیے جانے والے منی بجٹ کے باعث مزید مہنگائی کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

بیرونی تجارت کے شعبے کے ماہرین ملکی برآمدات میں اضافے کو تو خوش آئند قرار دیتے ہیں اور حکومت کی جانب سے اسے بڑی کامیابی قرار دینے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تجارتی خسارے میں اضافہ اصل میں سب سے بڑا مسئلہ ہے جو حکومتی پالییسوں اور مرکزی بینک کی جانب سے لیے جانے والے اقدامات کے باوجود مسلسل بڑھ رہا ہے اور پاکستان کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہا ہے

تجارتی خسارہ کیوں بڑھ رہا ہے؟

موجودہ مالی سال کے پہلے چھ مہینوں میں تجارتی خسارے میں 100 فیصد اضافے کی وجہ برآمدات کے مقابلے میں درآمدات کا دو گنا سے سے بھی زیادہ شرح سے بڑھنا ہے۔ ان چھ مہینوں میں اگر برآمدات میں 25 فیصد اضافہ ہوا تو اس کے مقابلے میں درآمدات میں ہونے والا اضافہ 63 فیصد رہا۔

پاکستان، معیشت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بین الاقوامی تجارت کے شعبے کے ماہر اقبال تابش کا کہنا ہے کہ درآمدات میں زیادہ اضافہ پیٹرولیم، آٹو موبائل اور کھانے پینے کی اشیا کی زیادہ درآمد کی وجہ سے ہوا ہے۔ انھوں نے کہا خاص کر پیٹرولیم مصنوعات کی عالمی سطح پر زیادہ قیمتوں نے ملکی درآمدات میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ برآمدات میں بھی اضافہ ہوا ہے تاہم درآمدات میں ہونے والا اضافہ بہت زیادہ ہے جو ملک کے بیرونی تجارت کے شعبے کے لیے خطرے کی علامت ہے۔

اقبال تابش نے کہا اگرچہ ملکی برآمدی اشیا میں استعمال ہونے والے خام مال کی درآمد نے بھی درآمدات کو زیادہ بڑھایا ہے تاہم یہ دیکھنا ہو گا کہ کیا خام مال کی درآمد پر خرچ ہونے والے ڈالر اس خام مال سے تیار ہونے والے مال کی صورت میں ملک میں واپس آ رہے ہیں یا نہیں؟

عارف حبیب لمٹیڈ میں معیشت اور بیرونی تجارت کے اُمور کی ماہر ثنا توفیق کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم کی مصنوعات کی درآمدات نے تجارتی خسارے کو بڑھانے میں کردار ادا کیا تاہم اس کے ساتھ مشینری کی درآمد کا بھی اس میں ایک بڑا حصہ ہے۔

ثنا توفیق کا کہنا ہے کہ مشینری کی درآمد پیداواری شعبے میں توسیع کے لیے منگوائی جا رہی ہے تاہم فوڈ سیکٹر کی درآمد میں بھی بہت زیادہ اضافہ دیکھا گیا ہے جس کی وجہ گندم اور چینی کی بڑی مقدار میں درآمد ہے۔

ثنا نے بتایا کہ پاکستان کبھی ان چیزوں کو دنیا میں برآمد کرتا تھا تاہم اب ملکی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اور مقامی مارکیٹ میں قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے ان کی درآمد کی جاتی ہے جس کا نتیجہ تجارتی خسارے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ یہ ملک کے بیرونی تجارت کے شعبے اور جاری کھاتوں کے خسارے کو عدم توازن سے دوچار کر دیتا ہے۔

پاکستان، تجارت

،تصویر کا ذریعہcommoner28th

،تصویر کا کیپشنماہرین کے مطابق پٹرولیم، آٹو موبائل، سیلولر فون اور کھانے پینے کی چیزوں کی وجہ سے درآمدات بہت زیادہ بڑھی ہیں۔

ثنا کے مطابق ملک کے تجارتی خسارے میں گذشتہ دو سال میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ درآمدات کا زیادہ اور برآمدات کا کم ہونا ہے۔

برآمدات کیوں ضروری ہوتی ہیں؟

کسی ملک کے لیے برآمدات کیوں ضروری ہوتی ہے اور اس سے معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں اس کے بارے میں ثنا توفیق نے کہا کہ کسی بھی ملک میں بیرونی دنیا سے سرمایہ لانے کے تین ذرائع ہوتے ہیں۔

ان میں ایک برآمدات ہوتی ہیں یعنی ملک کے اندر تیار ہونے والی مصنوعات کو بیرونی منڈیوں پر بیچ کر سرمائے کو ملک میں لایا جائے۔ اس سلسلے میں دوسرے دو ذرائع براہ راست بیرونی سرمایہ کاری اور ترسیلات زر ہوتے ہیں۔ ان تینوں ذرائع میں برآمدات کو زیادہ اہمیت حاصل ہوتی ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ملک کے اندر تیار ہونے والی مصنوعات سرپلس ہوں اور انھیں بیرونی ملک بھی برآمد کیا جا سکے تو اس سے ایک طرف ملک میں باہر کی دنیا سے سرمایہ جو اس وقت عالمی کرنسی ڈالر کی صورت میں ملک میں لایا جاتا ہے تو اس کے ساتھ اس سے پیداواری شعبہ زیادہ متحرک ہوتا ہے اور اس میں کام کی رفتار بڑھنے سے ملکی معیشت کی شرح نمو بڑھتی ہے اور لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔

ثنا نے کہا کہ برآمدات میں اضافہ جب درآمدات سے زیادہ ہو جائے تو اس وقت تجارتی توازن سرپلس ہو جاتا ہے جو ملک کے لیے خوش آئند ہوتا ہے یعنی بیرون ملک جانے والے ڈالروں کے مقابلے میں باہر سے ڈالر زیادہ آ رہے ہیں۔

برآمدات میں بڑا اضافہ کیوں نہیں ہو رہا؟

پاکستان کی درآمدات کے زیادہ اور برآمدات کے کم ہونے کی وجہ سے تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے۔ برآمدات میں کسی بڑے اضافے کے نہ ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے ثنا نے کہا کہ برآمدی شعبے کے ساتھ ملک میں کچھ بنیادی مسائل رہے ہیں جس کی وجہ سے یہ شعبہ اس رفتار سے اپنی کارکردگی نہیں دکھا سکا جس کی بنیاد پر یہ درآمدات کے مقابلے میں زیادہ ہوتا۔

اسی طرح گیس اور بجلی کی قیمتوں نے بھی اس شعبے کی لاگت میں اضافہ کیا اور اسی کی بین الاقوامی مارکیٹ میں مسابقت کو کم کیا۔

گورننس کے مسائل نے بھی ان کی گروتھ میں زیادہ اضافہ نہیں کرنے دیا۔ مثلاً پہلے ان کے لیے فنانسنگ کی سہولت کا مسئلہ تھا کہ بینک انھیں پیسہ نہیں دیتے تھے تاہم پھر حکومت کی جانب سے ’ٹیمپوریری اکنامک ری فائنانسنگ فیسیلیٹی‘ کا اجرا ہوا جس کے بعد اس شعبے کو سہولت حاصل ہوئی۔

پاکستان ٹیکسٹائل

،تصویر کا ذریعہAmir Mukhtar

،تصویر کا کیپشنپاکستان کی درآمدات کے زیادہ اور برآمدات کے کم ہونے کی وجہ سے تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے

درآمدات کے بارے میں مشیر تجارت رزاق داؤد نے سماجی ویب سائٹ پر کہا کہ دسمبر میں درآمدات میں کمی واقع ہونا شروع ہو گئی ہے جو موجودہ مالی سال کے دسمبر میں گذشتہ مالی سال کے دسمبر کے مقابلے میں ایک ارب ڈالر کی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے کہا 25 فیصد ہونے والے اضافے کے بارے میں اس وقت صحیح طور پر پتا چلے گا جب مختلف شعبوں کی مصنوعات کی زیادہ برآمد اس کی تعداد میں زیادہ اضافے کی وجہ سے بڑھی ہیں یا پھر روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے یہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اقبال تابش نے درآمدات میں اضافے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم، آٹو موبائل، سیلولر فون اور کھانے پینے کی چیزوں کی وجہ سے درآمدات بہت زیادہ بڑھی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ چھ مہینوں میں تجارتی خسارہ 25 ارب ڈالر تھا اور اگر اس حساب سے دیکھا جائے تو یہ سال کے اختتام پر 48 سے 50 ارب ڈالر ہو سکتا ہے۔ تاہم اگر درآمدات میں کمی کا رجحان آیا ہے تو اس حساب سے بھی تجارتی خسارہ 40 ارب ڈالر تک جا سکتا ہے جو پاکستان کے بیرونی تجارت کے شعبے کے لیے بہت الارمنگ ہے۔

بڑھتے تجارتی خسارے کے کیا منفی اثرات مرتب ہوں گے؟

پاکستان کے بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کی وجہ سے ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ پر بہت زیادہ دباؤ ہے جو موجودہ مالی سال کے پہلے پانچ ماہ میں سات ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے۔

کرنٹ اکاؤنٹ میں برآمدات، ترسیلات زر اور بیرونی سرمایہ کاری کے تحت آنے والے ڈالروں کو اکٹھا کر کے دیکھا جاتا ہے کہ ان سے حاصل ہونے والے مجموعی ڈالر بیرون ملک درآمدات اور قرضے کی ادائیگیوں کی صورت میں جانے والے ڈالروں کے مقابلے میں کہاں کھڑے ہیں۔

اگر کم ڈالر آ رہے ہیں اور زیادہ جا رہے ہیں اور تو اس کا مطلب ہے ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں ہیں۔

اس سال پاکستان کو بیرونی ادائیگیوں کے لیے 23 ارب ڈالر کی ضرورت ہے جس کے لیے پاکستان نے آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر کی قسط کے اجرا کے لیے سخت شرائط پر رضامندی اختیار کی جس کے جاری ہونے کے بعد دوسرے بین الاقوامی مالیاتی اداروں جیسے عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے قرضے کی فراہمی کا سلسلہ شروع ہو گا۔

اقبال تابش نے کہا ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر اس وقت قابو پانے کی ضرورت ہے تاہم درآمدات میں بے تحاشا اضافے کی وجہ سے یہ خسارہ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔

ملکی درآمدات میں زیادہ اضافہ پاکستانی روپے پر بھی دباؤ ڈال رہا ہے جو امریکی کرنسی کے مقابلے میں اس مالی سال کے پہلے چھ مہینوں میں 155 روپے سے 178 روپے تک جا پہنچا ہے۔