’دھمکی آمیز‘ مراسلے پر بیان: عمران خان کا مراسلہ لہرانے سے پاکستانی سفارتکاروں کے لیے مشکل پیدا ہوئی؟

،تصویر کا ذریعہPTV Screen Grab
- مصنف, عمر فاروق
- عہدہ, دفاعی تجزیہ کار
پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے 27 مارچ کو اسلام آباد میں لہرائے جانے والے ’دھمکی آمیز‘ سفارتی مراسلے (کیبل) اور 22 اپریل کو نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے منعقدہ اجلاس تک پاکستان کی سفارتکاری غیر یقینی دور سے گزری ہے۔
پاکستان کی اعلیٰ ترین پالیسی ساز نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس نے عمران خان کے دعوے کو مسترد کر دیا تھا کہ انھیں اقتدار سے نکالنے کے لیے کوئی سازش ہوئی اور اسی دعوے کا اعادہ منگل کے روز فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ترجمان نے ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔
پاکستانی سفارتکار حیران اور ششدر تھے کہ ایک خفیہ مراسلہ کیسے پاکستان کی سیاست کا قضیہ بن گیا۔ نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس تک سفارت کاروں کو یقین نہیں تھا کہ اگلی حکومت اس کیبل کو مانے گی یا پھر سیاسی طور پر بازو مروڑنے کے عمل میں اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دے گی۔
حکومت کی جانب سے کیبل کو تسلیم کرنے سے انکار دنیا بھر میں پاکستانی سفارت کاروں کی ساکھ پر سنگین نوعیت کے مسائل پیدا کر دیتا لیکن نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں آخر کار اس کیبل کو تسلیم کیا گیا اور اسے تحریر کرنے والے کو اجازت دی کہ وہ آ کر کمیٹی کو ان حالات کے بارے میں آگاہ کریں جن میں اس نے یہ کیبل لکھی تھی۔
دنیا کے اہم دارالحکومتوں میں تعینات پاکستانی سفیر خفیہ کیبلز یا سفارتی مراسلے بھجواتے ہیں، جنھیں اسلام آباد میں گنے چنے افراد ہی پڑھ سکتے ہیں۔
ان میں صدر پاکستان، وزیراعظم، چیف آف آرمی سٹاف اور ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) شامل ہیں۔ لہذا کیبل ملتے ہی خفیہ زبان (کوڈ لینگویج) سے اس کا مضمون تحریر کیا جاتا ہے اور پھر اس کی چار نقول (کاپیز) بنائی جاتی ہیں اور متعلقہ حکام کو پہنچا دی جاتی ہیں۔
ایک سینیئر حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ ’یہ خفیہ رابطہ ہوتا ہے اور صرف مخصوص حکام کی آنکھوں کے لیے ہوتا ہے۔ لہٰذا روایت یہی ہے کہ ان کیبلز اور ان میں لکھے ہوئے مواد پر عوام کے سامنے بات نہیں کی جاتی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
27 مارچ سے 22 اپریل 2022 تک کے عرصے میں دنیا کے اہم دارالحکومتوں میں تعینات پاکستانی سفارتکار غیر یقینی کی صورتحال سے دوچار رہے کیونکہ انھیں یقین نہیں تھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے اور کوئی اور نہیں بلکہ خود وزیراعظم عوامی اجتماع میں ایک تنازع کھڑا کر رہے تھے، جس کی بنیاد واشنگٹن جیسے اہم دارالحکومت میں تعینات پاکستان کے سفیر اسد مجید خان کا بھجوایا ہوا مراسلہ تھا۔
وزیراعظم عمران خان کے مطابق کیبل میں پاکستانی سفیر کے ساتھ امریکی سفارتکار نے دھمکی آمیز زبان استعمال کی تھی۔
کئی دہائیوں سے دفتر خارجہ کی رپورٹنگ کرنے والے سینیئر صحافی متین حیدر نے کہا کہ شاید یہ پہلی بار تھا کہ حکومت پاکستان کے ایک اعلیٰ ترین عہدیدار نے ایک خفیہ سفارتی مراسلہ اس طرح عوامی اجتماع میں منکشف کیا ہو۔
’اس انکشاف اور اس کے نتیجے میں جنم لینے والے تنازعے نے پاکستانی سفارتکاروں میں غیر یقینی پیدا کر دی کہ وہ حساس معاملات پر کیبلز لکھنا جاری رکھیں یا پھر انھیں مستقبل میں زیادہ محتاط ہو کر یہ فرض نبھانا ہو گا۔‘
سینیئر سرکاری عہدیداروں سے ہونے والی گفتگو ظاہر کرتی ہے کہ عمران خان کی حکومت جانے کے بعد پاکستانی سفارتکاروں میں غیر یقینی کی یہ صورتحال کئی درجے بڑھ گئی، اُن میں یہ شکوک بڑھ گئے کہ آنے والی نئی حکومت کیا سیکرٹ کیبل کو تسلیم کرے گی جو اُس وقت کے ملک کے بہترین تصور ہونے والے کریئر سفارتکار نے لکھی تھی۔
ایک سینیئر سرکاری عہدیدار نے کہا کہ ’22 اپریل کے نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیہ نے سفارتکاروں میں پائی جانے والی غیر یقینی کی صورتحال کچھ حد تک ختم کر دی، وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان کے اعلیٰ ترین سول ملٹری فیصلہ سازی ادارے نے نہ صرف کیبل کو تسلیم کیا بلکہ یہ بھی قرار دیا کہ کیبل سے متعلق کوئی سازش نہیں تھی۔‘
بعض تحفظات کے باوجود کہ آنے والی حکومت کیبل کے متن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرے گی، نیشنل سکیورٹی کمیٹی نے اجلاس کی کارروائی کے نکات (منٹس آف میٹنگ) کی منظوری دی جس میں اعلیٰ حکام نے فیصلہ کیا کہ امریکی سفارت کار کا لہجہ سفارتی سلیقے کے مطابق نہیں تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
یہ بھی کہا کہ ایسے لب و لہجے پر پاکستان احتجاج کرے۔ ان الفاظ کے استعمال سے دراصل امریکہ میں پاکستان کے سفیر اسد مجید خان درست ثابت ہو گئے جنھوں نے مراسلے میں امریکی سفارتکار کی طرف سے استعمال کی گئی غیر سفارتی زبان کو لکھ بھیجا تھا۔
نئی دہلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر رہنے والے سابق سینئیر سفارتکار عبدالباسط نے کہا کہ ’یہ معاملہ اب طے ہو چکا ہے۔ ہمارے سفارتکار اب معمول کے مطابق اپنا کام کر رہے ہیں۔ اسد مجید خان اب ایک اور سٹیشن پر ہیں اور معمول کے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔‘
’میرا نہیں خیال کہ اس سے ہمارے سفارتکاروں کے امور کار میں کوئی زیادہ مشکل پیدا ہوئی۔ اول تو یہ ایک عارضی مرحلہ ثابت ہوا، دوسری بات یہ کہ دنیا جانتی ہے کہ داخلی سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے یہ سب ہوا۔ اسد مجید خان اب ایک اور جگہ پر اپنے امور کار انجام دے رہے ہیں۔‘
سابق سفیر عبدالباسط نے کہا کہ اس شور شرابے کا سفارتی دنیا پر ایک مثبت نقش پیدا ہوا۔ ’دیکھیں کس طریقے سے (امریکہ نے) سفیر بھجوایا اور کس طرح وہ (پاکستانی) معاشرے اور حکومت تک رسائی حاصل کر رہے ہیں۔’
سابق سفیر عبدالباسط نے کہا کہ ’ساری دنیا اب جانتی ہے کہ دھمکی آمیز سفارتی مراسلے کے داخلی سیاسی بیانیے پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔‘
اسلام آباد کے سفارتی حلقوں میں عام طور پر یہ سمجھاجاتا ہے کہ عمران خان کی بیان بازی کا مقصد اپنے سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا اور انھیں ملوث کرنا تھا اور وہ پاکستان کے داخلی معاملات میں امریکی حکومت کی مداخلت کا الزام اپنے سیاسی بیانیے کے لیے لگا رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہPTI
ایک پاکستانی سفارتکار نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم دو نتائج اخذ کر سکتے ہیں کہ عمران خان کا یہ بیان کہ وہ امریکہ کے ساتھ دوستی چاہتے ہیں، اس امر کی عکاسی ہے کہ وہ اپنے لیے دروازہ کھلا رکھنا چاہتے ہیں۔
’جس کا مطلب ہے کہ وہ مکمل طور پر امریکہ کے خلاف نہیں جانا چاہتے۔ دوسری بات یہ کہ عمران خان کی آزاد خارجہ پالیسی کے لیے مہم پاکستانی عوام کے لیے ہے اور اسے امریکہ مخالف بیانیے کے طور پر لینا چاہیے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’سیاسی مخالفین کے ذریعے پیسے کے زور پر اپنی حکومت گرانے کا امریکہ پر الزام لگانے والا شخص کبھی بھی امریکہ کے ساتھ دوستی کرنا نہیں چاہے گا۔
’جو شخص واقعی یہ یقین رکھتا ہو کہ اقتدار سے بے دخل کرنے میں امریکہ نے اس کے سیاسی مخالفین کو استعمال کیا تو وہ کبھی بھی امریکہ کا دوست نہیں بننا چاہے گا یا یہ کہے گا کہ وہ امریکہ مخالف نہیں۔‘
سابق سیکریٹری خارجہ شمشاد احمد خان نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کیبل کے نکات کو ہرگز بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
’ماضی میں واشنگٹن سے میں ایسی کئی کیبلز موصول ہوئی تھیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ عمران خان پہلے حکمران ہیں، جنھوں نے اس پر احتجاج کا فیصلہ کیا۔‘
بین الاقوامی امور کے پروفیسر ڈاکٹر رفعت حسین نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں واشنگٹن سے بہت سارے دھمکی آمیز پیغامات اسلام آباد بھیجے گئے، یہ جوہری معاملے اور افغان تنازع سے متعلق تھے۔ ’لیکن یہ اس سے پہلے پاکستان میں کسی سابق حکمران نے کبھی خفیہ کمیونیکیشن کو اس طرح سیاسی مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا تھا۔‘
ڈاکٹر رفعت حسین نے کہا کہ ’اس کے منفی اثرات ہیں کیونکہ جس طرح ایک سیکرٹ کیبل اور دو سفارتکاروں کے درمیان ہونے والی گفتگو کو داخلی سیاسی صوتحال میں لایا گیا، اس سے پاکستانی سفارتکاروں اور ان کے کام کرنے سے متعلق غیر ملکی حکومتیں ہوشیار ہو جائیں گی۔‘
’تاثر یہ ہو گا کہ ہمارے سفارتکاروں کو ہیڈ کوارٹرز کی حمایت حاصل نہیں۔ افغانستان کی صورتحال اور جوہری معاملہ پر ڈیمارش (سفارتی احتجاجی مراسلے جاری) ہوتے رہے ہیں لیکن سابق حکومتوں نے عوام میں اس کا تذکرہ نہیں کیا۔’
اتحادی حکومت کی نئی وزیرمملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر نے حال ہی میں صحافیوں کے ایک گروپ کو سیکرٹ کیبل کے بارے میں آگاہ کیا۔
اس بریفنگ میں شریک ایک سینیئر صحافی نے بتایا کہ ’انھوں (حنا ربانی کھر) نے ہمیں آگاہ کیا کہ پاکستانی سفارتکار صورتحال سے بالکل خوش نہیں۔ دفتر خارجہ سمجھتا ہے کہ سفیر اور دفتر خارجہ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ زیادہ تر سفیر خوفزدہ ہیں کہ وہ ایسے حساس معاملات پر کیبل بھیجیں۔‘
سابق سیکریٹری خارجہ شمشاد احمد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات کی نوعیت میں امریکی تکبر ہمیشہ ہی جھلکتا ہے اور گذشتہ 70 سال میں ایسے سینکڑوں خفیہ کیبلز ہوں گے جن پر اب ریکارڈ میں دھول جم چکی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہماری سفارت کاری پر اس کا کوئی اثر نہیں ہو گا۔ یہ امریکہ کے غلام ہیں اور رہیں گے۔‘









