وفاقی بجٹ 2022-2023: زیادہ تنخواہ، بلز اور ٹیکسز میں کمی یا سستا گوشت اور پھل۔۔۔ ایک عام شہری نئے بجٹ سے کیا چاہتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
ہارون خان جدون کی ماہانہ آمدن چالیس ہزار روپے سے کم ہے۔ وہ ایک سرکاری محکمے میں کلاس فور کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی اور پاکستان میں ان جیسے لاکھوں، کروڑوں افراد کی ماہانہ آمدن چالیس اور پچاس ہزار روپے سے کم ہے۔
’میں تو سرکاری ملازم ہوں لیکن دیہاڑی دار مزدوروں اور مستریوں کی آمدن کا جائزہ لیں تو وہ بھی پچاس ہزار سے کم بنتی ہے۔ اگر مزدور یومیہ ایک ہزار لیتا ہے اور مستری 1500 کماتا ہے اور اگر وہ بغیر چھٹی پورا مہینہ کام بھی کریں جو ممکن نہیں تو پھر بھی ان کی آمدن پچاس ہزار سے کم بنتی ہے۔‘
ہاروں خان کہتے ہیں کہ اس وقت ملک بھر میں پبلک اور گھروں میں ڈرائیور کے فرائض انجام دینے والوں کو 20 ہزار تک اوسط تنخواہ دی جاتی ہے۔
’کئی تو ایسے ہیں جن کو بیس ہزار روپے بھی نہیں ملتے۔ اس کے مقابلے میں مہنگائی میں پانچ سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔‘
’پہلے بچوں کو ہفتے میں ایک دو بار گوشت کھلاتے تھے اب تو یہ بھی ممکن نہیں‘
ہاروں خان کا تعلق خیبرپختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد سے ہے، اور وہ کہتے ہیں کہ پہلے گوشت اگر تین چار سو روپے کلو ملتا تھا تو اب پانچ چھ اور سات سو روپے کلو میں بھی کوئی نہیں دے رہا۔
’پہلے اگر لوکل ٹرانسپورٹ کا کرایہ دس، پندرہ روپے تھا تو اب یہ تیس، چالیس روپے ہے۔ پہلے بجلی کا بل اگر چار، پانچ سو آتا تھا تو اب دو، تین ہزار آ رہا ہے۔ دالوں، سبزیوں کی قیمتیں آسمان تک پہنچ چکی ہیں۔‘
ہارون خان کے مطابق وہ پہلے اپنے بچوں کو ہفتے میں ایک دو بار گوشت اور پھل کھلاتے تھے لیکن اب تو شاید قرض لے کر بھی یہ ممکن نہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہارون خان کا کہنا تھا کہ وہ ملک کے پچاس فیصد سے زائد لوگوں کی نمائندگی کرتے ہیں لہذا حکومت بجٹ میں ایسے اقدامات کرے جس سے اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی آ سکے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’ہمارے بچے بھی مناسب خوراک استعمال کر سکیں۔ اس آمدن میں اس ملک کے پچاس فیصد یا اس سے زائد لوگوں کے لیے اب یہ ممکن نہیں کہ اپنے بچوں کو مناسب خوراک دے سکیں۔‘
’جتنی تنخواہ ہے، اس میں یوٹیلٹی بل ادا نہیں ہو سکتے‘
ان کا کہنا تھا کہ حکومت آنے والے بجٹ میں اس ملک کے اکثریتی لوگوں کے لیے بجٹ بنائے۔
’جتنی میری آمدن اور تنخواہ ہے اس سے یوٹیلٹی بل ادا نہیں ہو سکتے ہیں۔ حکومت ان بلز کو کم کرے اور اگر کم نہیں کر سکتی تو اس میں کم آمدن والوں کو خصوصی چھوٹ دی جائے۔‘
ہارون خان کا کہنا تھا کہ مزدوروں کی دیہاڑ اور کلاس فور کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے۔ ’ایک مزدور، ڈرائیور اور کلاس فور کی آمدن کسی بھی صورت چالیس، پچاس ہزار روپے سے زیادہ نہیں ہوتی۔ اس میں خاندان نہیں چل سکتا۔ بچوں کو مناسب تعلیم و تربیت نہیں دی جا سکتی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ہم لوگ لوکل ٹرانسپورٹ پر سفر کرنے والے ہیں۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے سب سے زیادہ نقصان ہمیں اٹھانا پڑتا ہے کیونکہ کرایوں میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا ہے۔
’مثال کے طور پر میں روزانہ کام اور میرے بچے سکول اور کالج آتے جاتے ہیں تو اس کے لیے ہمیں روزانہ اب چار، پانچ سو روپے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس آمدن میں ہم وہ کسی بھی صورت میں افورڈ نہیں کر سکتے ہیں۔ اس میں کمی ہونی چاہیے۔‘

،تصویر کا ذریعہMalik Safdar, Haroon Khan, Amjad Saeed
’بجلی اور گیس کے بل چھوٹے تاجر اور دکاندار کا سارا منافع کھا رہے ہیں‘
محمد صفدر ملک کراچی میں گیسٹ ہاؤس کے کاروبار سے منسلک ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک وقت تھا جب گیسٹ ہاوس کا کاروبار اچھا تھا لیکن اب ایسا نہیں۔
’لوگ آتے تھے، یہاں رہتے تھے اور اخراجات کرتے تھے۔ اب تو ہر کوئی کوشش کرتا ہے کہ وہ پیسے بچائے۔ مہنگائی ہی اتنی ہو گئی ہے کہ کسی کے لیے بھی مناسب رہائش بھی ایفورڈ کرنا ممکن نہیں رہا۔‘
محمد صفدر ملک کہتے ہیں کہ اب صرف کراچی میں صورتحال یہ ہے کہ کئی گیسٹ ہاؤس بند ہو چکے ہیں۔
’اس سے بے روزگاری میں بھی اضافہ ہوا، گیسٹ ہاوسز کے بند ہونے سے کئی لو گ بے روزگار ہو چکے ہیں۔‘
محمد صفدر ملک کہتے ہیں کہ کراچی جیسے شہر میں اس وقت عام تاجر اور دکاندار اس وقت تباہی کا شکار ہے۔
’کاروبار ختم ہے، منافع کم سے کم ہو رہا ہے بلکہ خسارہ ہو رہا ہے۔ اس میں بنیادی عوامل بجلی اور گیس کے بل ہیں، جو اتنے بڑھ چکے ہیں کہ وہ چھوٹے تاجر اور دکاندار کا سارا منافع کھا رہے ہیں۔‘
محمد صفدر ملک کہتے ہیں کہ زیادہ تر ہوٹل اور گیسٹ ہاوس کرایے کے مکانوں میں بنائے گئے ہیں۔ مالک مالکان نے کرایوں میں ہوش ربا اضافہ کردیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’اس وقت نہ صرف کراچی بلکہ پورے ملک میں چھوٹے اور درمیانے ہوٹلوں اور گیسٹ ہاوسز کے کرایوں میں دو سو فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ آمدورفت کے اخراجات اتنے زیادہ بڑھ چکے ہیں کہ لوگوں نے سفر کرنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ ’لوگ سفر نہیں کریں گے تو گیسٹ ہاوسز اور ہوٹلوں کا کام کیسے چلے گا؟‘
’ٹیکس کم کیے جائیں اور بغیر سود قرضے فراہم کیے جائیں‘
محمد صفدر ملک کہتے ہیں کہ اس وقت ہمارا کاروبار آخری ہچکیاں لے رہا ہے۔
’ہم حکومت سے بجٹ سے پہلے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے کاروبار کو ختم ہونے سے بچایا جائے۔ اس کے لیے ہم پر عائد کردہ ٹیکسوں جن میں ایک سال کے اندر پچاس فیصد سے زائد اضافہ ہوا، کمی کی جائے۔
’لوگ کاروبار ہی نہیں کریں گے تو حکومت ٹیکس کس سے لے گئی۔ اس لیے کہتے ہیں کہ اس بجٹ میں ٹیکسز میں خاطر خواہ کمی کی جائے۔‘
محمد صفدر ملک کہتے ہیں کہ کاروبار ختم ہیں اور کاروبار کو چلتے رہنے کے لیے بھی سرمایے کی ضرورت ہے۔
’حکومت اس بجٹ میں چھوٹے کاروبار کرنے والوں کو بغیر سود کے قرضے فراہم کرے تاکہ اپنے کاروبار کو بچا سکیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یوٹیلٹی بلوں پر عائد کردہ ٹیکس ختم کیے جائیں اور اشیائے خوردونوش اور ضرورت کی چیزوں میں کمی لائے جائے۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
یہ بھی پڑھیے
’پٹرول اور تیل کا خرچہ بس سے باہر ہو چکا ہے‘
امجد سعید آل ٹیچرز ایسوسی ایشن ضلع مانسہرہ کے صدر ہیں۔ 35 سال ملازمت کے بعد اب ان کی تنخواہ ایک لاکھ روپے سے زائد ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’میں اس سے قبل موٹر سائیکل استعمال کرتا تھا لیکن اب موٹر سائیکل کے پٹرول اور تیل کا خرچہ میرے بس سے باہر ہو چکا ہے اور میں پبلک ٹرانسپورٹ اور سائیکل کے استعمال پر غور کر رہا ہوں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ گھر کریانے کا سامان ایک ماہ میں اکھٹا لے کر جاتے تھے لیکن اب ایسا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
’کریانے کا وہ سامان جو پہلے دس سے بارہ ہزار اور کچھ دن پہلے پندرہ ہزار تک پہنچا تھا اب وہ خرچہ 25 اور تیس ہزار روپے تک پہنچ چکا ہے۔ تعلیم حاصل کرنے والے ایک بچے کا خرچہ تیس ہزار سے زائد ہو چکا ہے۔ ان حالات میں تو اپنا سر پیٹنے کا دل چاہتا ہے۔‘
امجد سعید کہتے ہیں کہ ہاتھ کھینچ کر رکھا ہوا ہے اور کوئی فضول اخراجات بھی نہیں کرتے مگر اس تنخواہ میں انتہائی سفید پوشی میں اخراجات کر کے بھی گزارہ نہیں ہو رہا۔
’ہم حکومت سے کہتے ہیں کہ مہنگائی میں کمی کے انتظامات کریں اور عام آدمی کے بارے میں سوچیں۔‘
آل پاکستان انجمن تاجران کے مرکزی صدر اجمل بلوچ کہتے ہیں کہ مہنگائی نے ہمیں تباہ حال کر دیا ہے۔
’میں نے خود اپنی گاڑی کھڑی کر دی ہے۔ اب اپنے بیٹے سے کہتا ہوں کہ صبح مجھے گھر سے دکان پر موٹر سائیکل میں لے کر جائے۔ اگر کہیں جانا ہو تو بیٹے ہی سے کہتا ہوں کہ وہ موٹر سائیکل پر لے جائے۔ میری اور اس ملک کے ایک کروڑ سے زائد دکانداروں کی حالت پتلی ہو گئی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
’ٹیکس دینے والے کا پنکھا نہیں چل رہا جبکہ ٹیکس لے کر خرچ کرنے والوں کے ایئر کنڈیشن بند نہیں ہو رہے‘
ان کا کہنا تھا کہ اس مہنگائی اور اس طوفان کا واحد حل ایک ہی ہے کہ ہمارے حکمران ہم سے جمع کیا ہوا ٹیکس صرف ملک و قوم کی ترقی، تعلیم اور تحقیق پر خرچ کریں۔
’ظلم کی انتہا ہے کہ بیس بیس لاکھ تنخواہیں ہیں۔ سرکاری افسران کے پاس پانچ پانچ گاڑیاں اور تنخواہوں کو چھوڑ کر پتا نہیں کیا کیا مراعات ہیں۔‘
اجمل بلوچ کا کہنا تھا کہ اگر وزیروں، مشیروں، حکومتی افسران کے تمام مراعات ختم نہ بھی کریں اور ان میں صرف پچاس فیصد تک کمی لے آئیں تو بھی یہ ملک بہت زیادہ ترقی کر سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دوسرا اہم مسئلہ کرپشن ہے۔ ’یہاں پر اتنی زیادہ کرپشن ہے کہ جس کی کوئی حد نہیں۔‘
’میرا ٹیکس میں دیا گیا پیسہ اور قرضے پر لیا گیا پیسہ بھی کرپشن میں کھا لیا جاتا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ اس وقت ٹیکس دینے والے دکاندار کا پنکھا نہیں چل رہا جبکہ ٹیکس لے کر خرچ کرنے والوں کے ایئر کنڈیشن بند ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ ان ایئر کنڈیشنز پر پابندی لگائی جائے کہ دکاندار کا پنکھا چلے۔‘
اجمل بلوچ کہتے ہیں کہ مہنگائی نے عام آدمی کی قوت خرید ختم کر دی ہے اور اس کا براہ راست اثر دکانداروں پر پڑ رہا ہے۔
ہمارا مطالبہ ہے کہ مذکورہ بجٹ میں دکانداروں پر فکس ٹیکس کا نظام نافذ کیا جائے۔
’عام دکاندار کو موجودہ ٹیکس کا نظام سمجھ ہی میں نہیں آتا، جس وجہ سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ کرپشن ہوتی ہے اور اگر حکومت فکس ٹیکس کا نظام نافذ کر دے تو اس ملک میں بہت زیادہ ٹیکس جمع ہو گا۔‘












