دعا زہرا اوکاڑہ پولیس کی تحویل میں، ویڈیو پیغام منظرِ عام پر: ’بالغ ہوں، مرضی سے شادی کی‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کراچی سے دس دن قبل لاپتہ ہونے والی لڑکی دعا زہرا کے معاملے نے ایک نیا رُخ اختیار کر لیا ہے اور اب صوبہ پنجاب کے ضلع اوکاڑہ کی پولیس کا کہنا ہے کہ دعا اور ان کا شوہر ہونے کے دعویدار لڑکا ان کی تحویل میں ہیں۔
اوکاڑہ پولیس کی جانب سے ایک تصویر بھی جاری کی گئی ہے جس میں اس جوڑے کو پولیس اہلکار کے ہمراہ کھڑا دیکھا جا سکتا ہے۔
اوکاڑہ کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر فیصل گلزار کے مطابق دعا اور اُن کے مبینہ شوہر اس وقت تھانہ حویلی لکھا پولیس کی تحویل میں ہیں۔ ڈی پی او کا کہنا تھا دعا زہرا نے اپنے اہلخانہ کے خلاف لاہور میں ہراسانی کی درخواست بھی دائر کر رکھی ہے اور اسی لیے انھیں ابھی کراچی پولیس کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔
ادھر لاہور پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ دعا زہرا اور ظہیر کو ڈی پی او آفس اوکاڑہ سے لاہور پولیس کی ٹیم کی حفاظت میں لاہور لایا جا رہا ہے جبکہ اس حوالے سے کراچی پولیس کو بھی مطلع کر دیا گیا ہے اور آئی جی کی ہدایات کے مطابق کراچی پولیس سے تعاون کیا جا رہا ہے۔
ڈی پی او اوکاڑہ فیصل گلزار کے مطابق دعا نے ایک ویڈیو بیان بھی جاری کیا ہے۔ اس بیان میں دعا کا موقف ہے کہ وہ اپنی مرضی سے گھر چھوڑ کر آئی تھیں اور انھوں نے ظہیر نامی لڑکے سے کورٹ میرج کی ہے۔
فیصل گلزار کا مزید کہنا ہے کہ تین سال قبل پب جی ویڈیو گیم کے ذریعے دعا زہرا اور ظہیر کی دوستی ہوئی تھی۔
پولیس کی جانب سے ریلیز کی گئی ویڈیو میں دعا بتا رہی ہیں کہ ان کے والدین زبردستی ان کی شادی کسی اور سے کروانا چاہ رہے تھے جس پر وہ راضی نہیں تھیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ انھیں گھر میں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے جس کے بعد وہ اپنی مرضی سے اپنے گھر سے آئی ہیں۔
'مجھے کسی نے اغوا نہیں کیا تھا۔ میں اپنے گھر سے کوئی قیمتی سامان نہیں لائی تھی۔ میرے گھر والے میری عمر غلط بتا رہے ہیں۔ میں بالغ ہوں، میری عمر 18 سال ہے۔ میں نے اپنی مرضی سے ظہیر احمد سے کورٹ میرج کی ہے۔ کسی کی کوئی زور زبردستی نہیں ہے۔ خدارا مجھے تنگ نہ کیا جائے، میں اپنے گھر میں اپنے شوہر کے ساتھ بہت خوش ہوں۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہCourtesy Zafar Abbas
تاہم دوسری جانب دعا کے والد مہدی کاظمی نے منگل کی صبح ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کی بیٹی کی عمر 18 برس ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ ان کی شادی کو ابھی 18 برس نہیں ہوئے۔
مہدی کاظمی کا کہنا تھا کہ ان کی شادی سات مئی 2005 کو ہوئی تھی اور اس حساب سے دعا کی عمر ہرگز 18 برس نہیں ہو سکتی۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ ان کی بیٹی کا جعلی نکاح نامہ تیار کروایا گیا۔
دعا کے والد نے درخواست کی کہ ان کی بیٹی کو واپس کراچی لایا جائے اور یہاں بیشک انھیں چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں رکھا جائے۔ انھوں نے اس معاملے کی شفاف تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
خیال رہے کہ دعا زہرا کراچی کے علاقے الفلاح سے 16 اپریل کو پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئی تھیں۔
یہ بھی پڑھیے
یاد رہے کہ گذشتہ روز دعا کا ایک مبینہ نکاح نامہ سامنے آیا تھا اور اس دستاویز میں اُن کی عمر 18 سال لکھی ہوئی ہے جبکہ دعا کے والد کا دعویٰ ہے کہ ان کی بیٹی کی عمر رواں ماہ کو 14 سال ہو گی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل کراچی پولیس کی جانب سے یہ اطلاع دی گئی تھی کہ دعا زہرا کو لاہور سے بازیاب کروا لیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہ@CcpoLahore
اُس وقت سندھ پولیس کے اعلیٰ افسر ڈپٹی انسپکٹر جنرل کریمنل انویسٹی گیشن ایجنسی کریم خان نے بی بی سی اُردو کو بتایا تھا کہ دعا زہرا اپنی مرضی سے گئی تھیں، انھیں اغوا نہیں کیا گیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ دعا کاظمی کو لاہور سے تلاش کر لیا گیا ہے اور تاحال وہ لاہور پولیس کی حفاظتی تحویل میں ہیں اور جلد انھیں کراچی پولیس کے حوالے کیا جائے گا۔
‘پولیس جلسے میں مصروف تھی‘
کراچی کے علاقے نمائش چورنگی پر ماہِ رمضان میں فلاحی تنظیم جعفریہ ڈزاسٹر سیل کی جانب سے روزہ داروں کے لیے سحری اور افطاری کا بندوبست کیا جاتا ہے۔
ادارہے کے سربراہ ظفر عباس نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اس شب وہ لوگوں کو سحری کرانے کے بعد بیٹھے تھے کہ دعا زہرا کے والد سید مہدی علی کاظمی، ان کی والدہ اور خالہ آئیں اور بتایا کہ ان کی بیٹی لاپتہ ہے لیکن پولیس ان کی نہیں سن رہی اور کہہ رہی ہے کہ وہ پاکستان تحریکِ انصاف کے جلسے میں مصروف ہے۔
اس کے بعد ظفر عباس نے لڑکی کے والد کے ساتھ ایک ویڈیو بنائی جس میں آئی جی سندھ، ڈی جی رینجرز اور دیگر حکام سے اپیل کی گئی اور کہا گیا کہ آپ بھی بیٹی والے ہوں گے، ان کا درد محسوس کریں جس کے بعد یہ ویڈیو وائرل ہو گئی اور حکام نے نوٹس لے لیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
تین تحقیقاتی ٹیمیں
یہ واقعہ کراچی کے الفلاح تھانے کی حدود میں پیش آیا اور مہدی کاظمی کے مطابق اس سے قبل تو پولیس ان کی بات سننے کو تیار نہیں تھی تاہم بعدازاں رینجرز، انٹیلیجنس سمیت تمام ادارے متحرک ہیں اور یہ سب اس وقت ممکن ہوا جب ظفر عباس کی ویڈیو وائرل ہوئی۔
انھوں نے کہا کہ ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن اور دیگر حکام مہدی کاظمی کے گھر پر گئے تھے اور تعاون کی یقین دہانی کروائی۔
ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ پولیس پر اعتماد کا فقدان ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ یہ پولیس کا عدم تعاون ہے بلکہ ’یہ ایک فطری عمل ہے کہ ایسے کیسز میں فیملی اور والدین تو یہی چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ جلد از جلد واپس آئے لیکن پولیس اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔
’اس وقت تین ٹیمیں کام کر رہی ہیں اس کے علاوہ ایس ایس پی ’اینٹی وائلنٹ کرائم سیل‘ اس کی نگرانی کر رہے ہیں۔











