دعا منگی: ’اغوا کاروں کو لباس و انداز سے غلط فہمی ہوئی کہ وہ امیر خاندان سے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہAijaz Mangi
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
’صبح ساڑھے دس بجے کا وقت تھا سارے گھر والے ٹیلیفون کال کے انتظار میں تھے کہ دروازے پر بیل بجی ایک فرد اٹھا اور باہر جا کر دیکھا تو دعا منگی موجود تھیں۔ کراچی کے علاقے کورنگی کراسنگ میں رہائشی ڈاکٹر نثار منگی کا خاندان تقریباً سات روز سے ذہنی اذیت کا شکار رہا تھا۔
دعا منگی کو 30 نومبر کی شب خیابان بخاری سے کار میں سوار چار مسلح افراد نے اغوا کر لیا تھا جبکہ اس دوران دعا کے دوست حارث سومرو کو گولی مار کر زخمی کر دیا گیا تھا۔
درخشاں پولیس کے مطابق آٹھ بجے کے قریب خیابان بخاری میں چائے کے ڈھابے کے قریب دعا منگی اپنے دوست حارث سومرو کے ساتھ واک کر رہی تھیں، مسلح افراد حملہ آور ہوئے۔
دعا کے والد نثار منگی ڈاکٹر ہیں اور حال ہی میں جناح ہسپتال سے ریٹائر ہوئے ہیں، ان کی پانچ بیٹیاں ہیں جن میں سے دو ڈاکٹر ہیں۔ دعا ان میں چھوٹی ہیں۔ وہ دو سال امریکہ میں زیر تعلیم رہیں اس کے بعد واپس کراچی آ کر نجی یونیورسٹی میں قانون کے شعبے میں داخلہ لیا جہاں وہ دوسرے سال کی طالبہ ہیں۔
کراچی کی سڑکوں اور سندھ اسمبلی کے ایوانوں میں دعا منگی کی بازیابی کے لیے احتجاج کیے گئے جبکہ سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئٹر پر دو روز دعا منگی ٹاپ ٹرینڈ رہا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دعا منگی کے ماموں اعجاز منگی کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے مسلسل سست رفتاری رہی اور کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی جس کے بعد فیملی نے اپنے طور پر اس کیس کو سنبھالا۔

،تصویر کا ذریعہLaila Mangi
’دعا نے اپنے خاندان کو بتایا کہ انہیں سات روز تک ہاتھ اور پیر میں زنجیر باندھ کر رکھا گیا جبکہ آنکھوں پر بھی پٹی بندھی ہوئی تھی تاہم ان پر کوئی تشدد نہیں کیا گیا، ملزمان آپس میں اردو زبان میں بات کرتے تھے اور وہ پیشہ ور مجرم لگتے تھے۔
اغوا کاروں نے دعا منگی کے خاندان سے واٹس ایپ پر رابطہ کیا تھا اور بھاری تاوان طلب کیا، خاندان کے ایک رکن نے بی بی سی کو بتایا کہ دعا کی بہن نے واٹس ایپ کال پر ہی ملزمان کو اپنا گھر اور علاقہ دکھایا اور بتایا کہ وہ مڈل کلاس خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جس کے بعد دو کروڑ سے معاملہ 20 لاکھ روپے تک آیا۔
کراچی میں بدامنی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کے بعد ڈیفینس کے علاقہ خیابان بخاری میں کیفے اور مختلف ناموں سے چائے کے ڈھابے مقبول ہوئے جہاں شہر بھر سے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں آ کر آلو کے پراٹھے، قیمہ پراٹھا، چاکلیٹ پراٹھے سمیت چائے کی مختلف اقسام سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ یہ سلسلہ رات گئے تک جاری رہتا تھا۔
دعا کے ماموں اعجاز منگی کا کہنا ہے کہ یہاں پر لڑکیوں کی ریکی کی جاتی ہے جس کے بعد انھیں ٹارگٹ کیا جا رہا ہے جبکہ پولیس کا گشت اور سراغ رساں نیٹ ورک کمزور نظر آتا ہے۔
ملزمان نے دعا منگی کو کہا تھا کہ ہم تمہارے لباس اور انداز سے غلطی فہمی کا شکار ہوئے کہ کسی امیر خاندان سے تعلق رکھتی ہو۔
کراچی پولیس نے دعا منگی کیس کو بسمہ کیس سے تشبیہ دی تھی بسمہ کو ڈیفینس سے اغوا کیا گیا تھا اس کی واپسی بھی تاوان کی بھاری رقم ادا کرنے کے بعد ہوئی، دعا منگی کا اغوا اور پھر تاوان کے بدلے رہائی کا انداز بھی وہی رہا۔
دونوں میں پولیس کی کوئی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔ دعا منگی کا بھی خیال ہے کہ یہ وہی گینگ تھا جس نے بسمہ کو اغوا کیا۔

دعا منگی کے خاندان کا کہنا ہے کہ ملزمان صفوراں چورنگی سے حسن اسکوائر کے درمیان کہیں ٹھکانہ رکھتے ہیں دعا منگی کے والد کو بھی اسی علاقے میں بلایا گیا تھا۔ دعا منگی کو جب رہا کیا گیا تو ملزمان نے متنبہ کیا کہ کراچی میں اغوا کرنا مشکل ہے لیکن ٹارگٹ کلنگ بھی آسان ہے۔ جس کی وجہ سے وہ خوفزدہ ہیں۔
دعا منگی کے اغوا کے وقت زخمی حارث سومرو اس وقت شہر کے نجی ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں، دعا کے ماموں اعجاز منگی کا کہنا ہے کہ حارث نے ایک ہیرو کی طرح مزاحمت کی تھی حکومت اور اداروں کی جانب سے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے نجی ہپستال میں علاج کی وجہ سے یہ خاندان کافی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔
حارث سومرو جس پستول سے زخمی ہوئے اس گولی کے خول کی فارنسک رپورٹ کے مطابق یہ اسلحہ پہلے کبھی استعمال نہیں کیا گیا تھا لیکن اعجاز منگی کا کہنا ہے کہ حال ہی میں وفاقی اردو یونیورسٹی کے قریب ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں وہاں سے ملنے والوں خول حارث پر استعمال کیے گئے اسلحے سے مشابہت رکھتے ہیں۔
دوسری جانب پولیس حکام دعا کے خاندان پر تعاون نہ کرنے کا شکوہ کرتے رہے ہیں تاہم دعا کی واپسی کے بعد بھی پولیس یا دیگر کسی ادارے کی کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ کراچی آپریشن کے نکات میں ایک نکتہ اغوا برائے تاوان بھی تھا، اس آپریشن کا مرکزی کردار رینجرز کو دیا گیا تھا۔








