کنڑ کے ڈپٹی گورنر پشاور سے اغوا

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
افغانستان کے صوبہ کنڑ کے ڈپٹی گورنر محمد نبی احمدی کو پشاور کے ڈبگری گارڈن کے علاقے سے نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا ہے جس کی اطلاع افغان قونصل خانے کے حکام نے اسلام آباد میں دفتر خارجہ کو دی ہے۔
یہ واقعہ گزشتہ روز ڈبگری گارڈن کے علاقے میں پیش آیا ہے ۔ افغان قونصل خانے کے حکام نے بتایا کہ صوبہ کنڑ کے ڈپٹی گورنر محمد نبی احمدی پشاور میں علاج کے غرض سے آئے تھے ۔ گزشتہ روز ڈبگری گارڈن میں ڈاکٹر کے پاس جانے کے لیے جب اپنی گاڑی سے اتر رہے تھے تو اس وقت کالے شیشوں والی ایک گاڑی سے نامعلوم افراد اترے اور ڈپٹی گورنر کو زبردستی اپنی گاڑی میں بٹھا کر ساتھ لے گئے ۔
پشاور میں تعینات افغان قونصل جنرل معین مرستیال نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں اغوا کی اطلاع محمد نبی احمدی کے رشتہ داروں نے دی ہے جس کے بعد انھوں نے دفتر خارجہ کو بتایا دیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ محمد نبی احمدی جب ڈبگری گارڈن اپنی گاڑی میں پہنچے تو اس وقت ان کے رشتہ دار ان کے ساتھ تھے۔
انھوں نے کہا کہ یہ معلوم نہیں ہے کہ کون لوگ ڈپٹی گورنر کو اغوا کرکے ساتھ لے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ موقع پر موجود نبی احمدی کے رشتہ دار بھی ان افراد کو نہیں پہنچان سکے ۔ انھیں یہ اطلاع دی گئی ہے کہ گاڑی کے شیشے کالے تھے جس میں محمد نبی احمدی کو بٹھا کر نامعلوم مقام کی جانب لے گئے ہیں ۔
اس بارے میں پشاور کے شرقی تھانے کے پولیس اہلکاروں سے رابطہ قائم کیا تو ان کا کہنا تھا کہ انھیں بھی ذرائع ابلاغ سے اطلاع ملی ہے اور وہ اس بارے میں تحقیق کر رہے ہیں تاہم ان کے پاس کوئی باقاعدہ رپورٹ درج نہیں ہوئی ہے ۔
محمد نبی احمدی کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ ان کی عمر پچاس برس کے لگ بھگ تھی اور وہ گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے ۔ محمد نبی احمدی پشاور میں ڈاکٹر سے طبی معائنے کے لیے آئے تھے۔



