ایرانی سفارت کار بازیاب کرا لیے گئے
پاکستان کے صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ تقریباً ڈیڑھ سال قبل پشاور سے اغوا ہونے والے ایرانی سفارت کار حشمت اطہر زادے کو بازیاب کرا لیا گیا ہے۔

منگل کو پشاور میں ایران کے قونصل جنرل عباس علی عبدالحی نے بتایا ہے کہ ایرانی قونصلیٹ کے کمرشل اتاشی حشمت اطہر زادے بازیابی کے بعد ایران پہنچ چکے ہیں۔
خیال رہے کہ تیرہ نومبر دو ہزار آٹھ کو پشاور میں <link type="page"><caption> ایرانی قونصلیٹ کے کمرشل اتاشی حشمت اطہر زادے </caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2008/11/081113_iranina_kidnap_as.shtml" platform="highweb"/></link>کو پشاور کے ماڈرن علاقے حیات آباد سے نامعلوم مسلح افراد نے بندوق کے نوک پر اغوا کیا تھا جبکہ اس واقعہ میں ان کے ایک محافظ کو گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔
نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کا کہنا ہے کہ قونصل جنرل عباس علی عبدالحی نے یہ نہیں بتایا کہ مغوی اہلکار کو کب اور کس نے بازیاب کرایا۔ تاہم ایرانی نیوز نیٹ ورک چینل (آئی آر آئی این این) کے مطابق اطہرزادے کو ایرانی ایجنٹوں نے ایک ’پیچیدہ انٹیلی جنس آپریشن‘ کے بعد بازیاب کرایا ہے۔
بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ مغوی اہلکار کو دو دن قبل بازیاب کرا لیا گیا تھا۔
قونصل جنرل نے کہا کہ ’ انھیں صرف یہ معلوم ہے کہ حشمت اطہرزادے بازیاب ہوگئے ہیں اور وہ ایران بھی پہنچ چکے ہیں۔‘انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ انھیں اور کچھ معلوم نہیں۔
ابھی تک پاکستان نے سرکاری طور پر اس سلسلے میں کچھ نہیں کہا ہے۔
خیال رہے کہ ایرانی سفارت کار تقریباً سولہ ماہ تک لاپتہ رہے اور اس دوران کسی نے ان اغوا کے ذمہ داری قبول نہیں کی۔ تاہم صوبہ سرحد میں پولیس کے سربراہ ملک نوید خان نے گزشتہ سال دسمبر میں کہا تھا کہ پشاور سے اغواء ہونے والے ایرانی سفارت کار کے اغوا میں ملوث منصوبہ سازوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ سفار کاروں کو ایسے علاقوں میں رکھا گیا ہے جہاں پولیس کو رسائی حاصل نہیں ہے۔



