حناربانی کھر: انتخابی پوسٹرز پر تصویر نہ چھپنے سے وزیرِ خارجہ بننے تک کا سفر

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, احمد اعجاز
- عہدہ, صحافی، مصنف
یہ 26 جولائی 2011 کی ایک دوپہر ہے۔ پاکستان کی تاریخ کی پہلی خاتون وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر نیلے رنگ کے لباس میں جب نئی دہلی کے ہوائی اڈے پر قدم رکھتی ہیں تو انڈین میڈیا کی ساری توجہ ان کی پُرکشش شخصیت پر مرکوز ہو جاتی ہے۔
انڈین میڈیا ان کی ’سحرانگیز‘ شخصیت کو اپنے اپنے عنوانات دیتا ہے۔ اس وقت میڈیا کی طرف سے پذیرائی اور توجہ کے نیچے، پاکستانی وزیرِ خارجہ کے دورے کے سیاسی پہلو بظاہر دب کر رہ جاتے ہیں، نیز ان کو اس وقت وزارتِ خارجہ کا منصب ملنے پر بعض حلقوں کی جانب سے جس ’کم عمر اور کم تجربے‘ کی آڑ میں تنقید کی گئی تھی، وہ تنقید بھی دب گئی۔
یہ تنقید خصوصی طور پر اس وقت تو بالکل ہی اپنا جواز یکسر کھو دیتی ہے، جب حنا ربانی کھر اپنے انڈین ہم منصب کے ساتھ پریس کانفرنس کرتی ہیں اور اس میں ان کا اعتماد اپنی بلندی کو چھو رہا ہوتا ہے۔
پاکستان میں آنے والی نئی حکومت میں حنا ربانی کھر کو وزیر مملکت برائے خارجہ اُمور کا عہدہ سونپا گیا ہے۔
آئیے اس موقعے پر نظر ڈالتے ہیں کہ اپنے بطور وزیرِ خارجہ گذشتہ دور میں نومنتخب وزیر کو منصب سنبھالنے پر کس تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا اور انڈیا کا دورہ کس حد تک کامیاب ہوا اور اس دورے کے دونوں ملکوں کی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوئے تھے؟
نیز اِن کی بطور وزیرِ خارجہ کارکردگی کیسی رہی تھی؟ اس سارے ذکر سے پہلے حنا ربانی کھر اور ان کی فیملی کے سیاسی پسِ منظر سے مختصراً آگاہی ضروری ہے۔
حنا ربانی کھر اور اِن کے خاندان کی سیاست
نومبر 1977 کو ملتان میں پیدا ہونے والی حنا ربانی کھر نے عملی سیاست کا آغاز سنہ 2002 کے انتخابات سے مسلم لیگ ق کے پلیٹ فارم سے کیا تھا۔ وہ مظفر گڑھ کے حلقہ این اے 177 سے کامیاب ہو کر پارلیمنٹ کا حصہ بنی تھیں۔
اس الیکشن میں ان کو مجبوری کے تحت اُتارا گیا تھا، وجہ یہ تھی کہ اِن کے والد غلام نور ربانی کھر انتخابات میں حصہ لینے کے لیے بی اے کی ڈگری کی شرط پر پورا نہیں اترے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس الیکشن کی انتخابی مہم ان کے والد نے ہی چلائی تھی، حتیٰ کہ انتخابی پوسٹروں پر اِن کی تصویر تک نہیں چھاپی گئی تھی۔ مظفرگڑھ کا یہ حلقہ ان کے خاندان کا آبائی حلقہ ہے۔ یہاں سے غلام نور ربانی کھر نے 1990 کے انتخابات میں کامیابی سمیٹی تھی۔
دوسری بار وہ 1997 میں منتخب ہوئے تھے۔ سنہ 2002 اور 2008 کے انتخابات میں حنا ربانی کھر نے حصہ لیا اور ایم این اے منتخب ہوئیں۔ سنہ 2013 کے انتخابات میں غلام نور ربانی کھر کی پارلیمانی سیاست کی طرف دوبارہ واپسی ہوئی، مگر وہ الیکشن ہار گئے۔
تاہم وہ پھر ضمنی الیکشن میں سیٹ جیتنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ سنہ 2018 کے الیکشن میں ان کے بیٹے اور حنا ربانی کھر کے بھائی رضا ربانی کھر ایم این اے منتخب ہوئے۔
سنہ 2002 میں جب حنا ربانی کھر پہلی بار پارلیمان کا حصہ بنیں تو اِن کی عمر لگ بھگ پچیس برس تھی۔ یہ سنہ 2003 میں پارلیمانی سیکرٹری برائے اقتصادی امور و شماریات تعینات ہوئیں اور سنہ 2004 میں وزیر مملکت برائے اقتصادی اُمور بن گئیں۔

،تصویر کا ذریعہPRAKASH SINGH
سنہ 2008 کے الیکشن میں جب وہ پارلیمنٹ کا حصہ بنیں تو اِن کو وزیر مملکت برائے خزانہ و اقصادی اُمور بنایا گیا۔ 18 جولائی 2011 کو وہ پاکستان کی پہلی خاتون وفاقی وزیرِ خارجہ بن گئیں اور 19 جولائی کو اس عہدے کا حلف اُٹھایا۔
یہاں ان کے دورۂ انڈیا کی طرف واپس جاتے ہیں۔
حنا ربانی کھر کا دورۂ انڈیا
حنا ربانی کھر کو وزارت ِخارجہ کا منصب سنبھالنے کے چند دن بعد 27 جولائی 2011 کو انڈیا کا دورہ کرنا تھا، نومنتخب اور نوجوان خاتون وزیرِ خارجہ کو انڈیا میں پاک انڈیا وزرائے خارجہ اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کرنا تھی۔
جب وہ 26 جولائی 2011 کی دوپہر کو نئی دہلی کے ہوائی اڈے پر اُتریں تو اِن کے نیلے لباس کی نیلاہٹ نے گویا پورے بھارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان کے ملبوسات اور زیورات، میک اپ اور ہیئر سٹائل کے انڈین میڈیا میں چرچے ہونے لگے۔ اخبارات اور جرائد کے صفحات ان کی تصویروں سے مزین ہو گئے۔
انڈیا میں ان کی شہرت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ انڈیا کے روزنامہ ’انڈیا ٹوڈے‘ نے ستمبر 2012 میں دنیا بھر کی ’مسحور کن شخصیات‘ کی حامل خواتین سیاست دانوں کی فہرست تیار کی تو اس فہرست میں حنا ربانی کھر کا نام سرفہرست تھا۔
ان کے دورے کے موقع پر انڈین میڈیا میں اس امید کا اظہار بھی کیا گیا کہ پاکستان کی وزیرِ خارجہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہی اس لیے ان کے دورے سے دونوں ممالک کے مابین کشیدگی کم ہوگی اور نئے تعلقات اُستوار ہوں گے۔
اس دورے میں دونوں وزرائے خارجہ کی ملاقات میں کشمیر کے مسئلے پر مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے اور تجارت کو فروغ دینے کا فیصلہ ہوا تھا۔
ان مذاکرات کے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ انڈین وزیرِ خارجہ آئندہ برس کے ابتدائی مہینوں میں پاکستان کا دورہ کریں گے۔ حنا ربانی کھر اور اِن سے لگ بھگ پینتالیس سال بڑے اور تجربہ کار ایس ایم کرشنا کے اعتماد میں کوئی فرق محسوس نہیں کیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈین وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان
پھر سات ستمبر 2012 کو انڈین وزیرِ خارجہ ایس ایم کرشنا نے پاکستان کا دورہ کیا۔ آٹھ ستمبر 2012 کو اسلام آباد میں پاک انڈیا مذاکرات ہوئے تھے۔
ان مذاکرات کے بعد پاکستانی وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر اور اِن کے انڈین ہم منصب ایس ایم کرشنا نے مشترکہ پریس کانفرنس کی تھی جس میں دونوں ملکوں کے مابین باہمی تعلقات میں اَمن اور تعاون کا نیا باب رقم کرنے کا عزم جھلکتا ہوا پایا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہPRAKASH SINGH
حنا ربانی کھر کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ’ہم نے اُن قوتوں کو غیر مسلح کرنا ہے، جو ہم دونوں ممالک کو تقسیم کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں۔ ماضی کی تلخیوں کو فراموش کر کے آگے بڑھنا ہو گا۔‘
ان مذاکرات میں دونوں ممالک کے مابین نیا ویزا معاہدہ بھی طے پایا تھا، جس میں ویزا اجرا کی سہولتوں میں نرمی کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
اس نئے ویزا معاہدے کے تحت تاجر برادری، سیاحوں اور فنکاروں کے لیے خصوصی ویزے کا اجرا ہونا تھا۔
حنا ربانی کھر نے صحافیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’دسمبر 2012 میں پاک انڈیا تجارتی تعلقات مکمل بحال ہو جائیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاک امریکہ تعلقات اور حنار بانی کھر
حنا ربانی کھر کے لیے بطور وزیرِ خارجہ ایک بڑا چیلنج پاک امریکہ تعلقات میں توازن رکھنا تھا۔ پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت 2008 سے 2013 کے درمیان چند ایسے بڑے واقعات ہوئے تھے، جنھوں نے دونوں ملکوں کے تعلقات میں تلخی کو جنم دیا تھا۔
حنا ربانی کھر کے وزیرِ خارجہ بننے کے بعد نومبر 2011 میں سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو افواج کے حملے کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں کم از کم 20 پاکستانی فوجی ہلاک بھی ہوئے تھے۔
اس کے ردِعمل میں حکومت کی جانب سے نیٹو سپلائی بند کر دی گئی تھی۔ اس واقعے سے پاک امریکہ تعلقات میں شدید بگاڑ پیدا ہوگیا تھا۔
نیٹو سپلائی بند ہونے سے افغانستان میں موجود نیٹو فوج شدید مشکلات کا شکار ہو گئی تھی۔ پاکستان سے اس قدر شدید ردِعمل دیا گیا کہ تین جولائی 2012 کو ہیلری کلنٹن نے اُس وقت کی پاکستانی وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر کو فون کیا اور معذرت کی۔
ستمبر 2012 میں حنار بانی کھر نے امریکہ کا پہلا دورہ کیا اور ہیلری کلنٹن سے ملاقات کی۔ اس دورے کی بابت کہا گیا تھا کہ یہ دورہ دونوں ملکوں کے مابین تعلقات میں ’بہتری کے اشارے لایا‘۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
14 مارچ 2013 کو حنا ربانی کھر نے دفتر خارجہ میں اپنے الوداعی پریس کانفرنس میں اپنی حکومت کی خارجہ پالیسی کی اہم کامیابیوں کی بابت کہا تھا کہ ’امریکہ، انڈیا اور افغانستان سے دوطرفہ تعلقات میں بہتری اور روابط میں نمایاں پیش رفت سامنے آئیں۔‘
حنا ربانی کھر نے اپنے دور میں بنگلہ دیش کا دورہ بھی کیا تھا اور روس کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینے کی بات بھی کی تھی۔
حنا ربانی کھر اس وقت وزیر مملکت برائے خارجہ اُمور کام شروع کر چکی ہیں۔ پاکستان کو سفارتی سطح پر کئی چیلنجز کا سامنا ہے اور ملکی سیاست میں استحکام پر بھی سوالیہ نشان ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ حنا ربانی کھر اس منظر نامے میں کس طرح کی کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔













