وفاقی کابینہ کا اعلان: محسن داوڑ کو وفاقی کابینہ میں کیوں شامل نہیں کیا گیا؟

،تصویر کا ذریعہFAROOQ NAEEM
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
وزیر اعظم شہباز شریف کی مخلوط حکومت کی کابینہ نے حلف اٹھا لیا ہے۔ تو کیا اس کابینہ میں شامل تمام سیاسی جماعتوں اور آزاد اراکین کو نمائندگی دی گئی ہے؟
کیا قومی اسمبلی میں وزیرستان اور وزیرستان کے لوگوں کے بارے میں ان کے موقف کی وجہ سے نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے راہنما محسن داوڑ کو کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا؟
مخلوط حکومت کے لیے یہ ایک مشکل مرحلہ ہے لیکن سیاسی جماعتوں اور اراکین اسمبلی حکومت سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ جس حمایت سے ان کی حکومت قائم ہوئی ہے اس میں ان اراکین اور سیاسی جماعتوں کو بھی اتنی نمائندگی ملنی چاہیے۔
کابینہ کے لیے ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان (سابقہ قبائلی علاقے) سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کا نام شامل تھا لیکن منگل کو کابینہ کے لیے جو نام سامنے آئے ہیں اس میں وہ شامل نہیں ہیں۔
اسی طرح بلوچستان نیشنل پارٹی نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ جبکہ عوامی نیشنل پارٹی نے پہلے ہی کابینہ میں شامل نہ ہونے کا اعلان کیا تھا۔
سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں اُس وقت کی حزب اختلاف کے ساتھ تمام جماعتیں اور اتحادی مل گئے تھے اور عدم اعتماد صرف چند ووٹوں سے کامیاب ہوئی تھی۔ وزیرستان سے تعلق رکھنے والے دو اراکین محسن داوڑ اور علی وزیر بھی عدم اعتماد تحریک میں شامل تھے لیکن انھیں کوئی وزارت نہیں دی گئی ہے۔
اس بارے میں محسن داوڑ سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا میاں شہباز شریف نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے کے بعد ان سے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ کابینہ کا جلد از جلد اعلان کر دیا جائے اور انھوں نے ’ہم سے بھی تجاویز مانگی تھیں اور کہا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ ہم لوگ بھی اس کابینہ میں شامل ہوں۔‘
محسن داوڑ نے کہا کہ اس بارے میں ان سے تجاویز مانگی گئی تھیں اور کہا تھا کہ پی ایم ایل این کی کمیٹی رابطہ کرے گی اور انھوں نے کابینہ کے حوالے سے اپنی تجاویز دی تھیں اور اپنا موقف بھی بتایا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے بتایا کہ 'اس کے بعد سوشل میڈیا پر کچھ سینیئر صحافیوں کی جانب سے بھی ایسی ٹویٹ آئیں کہ اسٹیبلشمنٹ نہیں چاہتی کہ محسن داوڑ کو کابینہ میں شامل کیا جائے۔ اس کے بعد پاکستان مسلم لیگ کے ایک سینیئر رہنما نے بتایا کہ کچھ اس طرح کے مسائل ہیں اور ساتھ ہی پی ڈی ایم میں شامل ایک سیاسی جماعت بھی نہیں چاہتی کہ مجھے کابینہ میں شامل کیا جائے۔'
یہ بھی پڑھیے
انھوں نے کہا کہ ’وہ سیاسی جماعت جو میری پی ڈی ایم میں شامل ہونے پر اعتراض کررہی تھی اسی جماعت کو میری کابینہ میں شمولیت پر بھی اعتراض ہے۔‘
محسن داوڑ نے مزید کہا کہ ’میں نے کمیٹی کے اراکین سے کہا کہ یہ میرا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ آپ سوچیں گے کیونکہ مجھے تو خود ہی کہا گیا تھا۔ ہم نے کوئی مطالبہ نہیں کیا تھا۔ میڈیا میں نام آئے تھے اور مسلم لیگ کے ساتھیوں نے کہا تھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ان کا اپنے علاقے اور قوم کے بارے میں ایک موقف ہے اور انھوں نے عدم اعتماد کی تحریک میں اتحادی جماعتوں کی حمایت کی جس پر ’ہمیں یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، اب وہ یقین دہانیاں کہیں نہیں ہیں۔'
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پی ڈی ایم میں محسن داوڑ کی شمولیت پر جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اس بنیاد پر اعتراض کیا تھا کہ پی ڈی ایم میں تمام سیاسی جماعتیں شامل ہیں جبکہ محسن داوڑ آزاد رکن کی حیثیت سے پی ڈی ایم کے اجلاس میں کیسے شریک ہو رہے ہیں۔
اس کے بعد محسن داوڑ کو پی ڈی ایم کے اجلاس میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی تھی۔ بعد میں محسن داوڑ اور ان کے ساتھیوں نے اپنی سیاسی جماعت نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ (این ڈی ایم) قائم کرلی تھی۔
محسن داوڑ سے جب پوچھا گیا کہ قومی اسمبلی میں ان کی تقریریں کیا ایک وجہ تھیں کہ انھیں کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا تو اس پر محسن داوڑ نے کہا کہ جب انھیں پاکستان سے متصل افغانستان کے علاقے میں بمباری کی رپورٹ ملی تو انھوں نے یہ مسئلہ پیر کے روز ایوان میں اٹھانے کا فیصلہ کیا تھا جس پر ان کے کچھ ساتھیوں نے کہا تھا کہ ’فی الحال اس بارے میں خاموش رہو‘ کیونکہ کابینہ کے سلسلے میں بات چیت جاری ہے۔ مگر انھوں نے کہا کہ وہ اپنی قوم اور علاقے کے حقوق پر ’سودے بازی‘ نہیں کر سکتے۔
محسن داوڑ کا دعویٰ ہے کہ افغانستان میں وزیرستان کے بے گناہ لوگ مارے گئے ہیں جس پر وہ خاموش نہیں رہ سکتے تھے، کیونکہ اس موقع پر اگر وہ خاموش رہتے ہیں تو وہ ایسا ہے جیسے وہ اپنے لوگوں کے ’خون کا سودا‘ کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزارت کی آفر تو تحریک انصاف کے دور میں بھی کی گئی تھی لیکن ان سے ایک اصولی اختلاف تھا اور اب بھی ان کی خواہش نہیں تھی کہ وہ ہر حالت میں کابینہ کا حصہ بنیں۔
محسن داوڑ نے کہا کہ ان کی تقریر پر کچھ صحافیوں اور پی ٹی آئی کے سابق وزراء نے تنقید کی تھی لیکن جو موقف انھوں نے بیان کیا تھا کہ اپنے علاقے میں ظلم اور بربریت کے علاوہ افغان پالیسی اور شدت پسندی کے بارے میں پالیسی پر انھیں تحفظات ہیں، اس بارے میں ان کی جماعت اور ان کا ایک موقف ہے جس پر وہ ’سودے بازی نہیں کر سکتے‘۔
اس بارے میں پاکستان مسلم لیگ کی نو منتخب وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب سے رابطہ کیا اور انھیں سوالات بھی بھیجے گئے ہیں لیکن اب تک ان کی جانب سے اس بارے میں کوئی جواب نہیں آیا ہے۔












