شمالی وزیرستان میں پاکستانی فوج کے قافلے پر حملہ اور ٹی ٹی پی کا ’آپریشن البدر‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عزیزالله خان
- عہدہ, بی بی سی اردو، پشاور
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں جمعرات کو فوجی قافلے پر حملے میں سات اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حملے کے وقت سکیورٹی اہلکاروں نے جوابی کارروائی میں چار شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔
یہ واقعہ دتہ خیل کے علاقے میں اس وقت پیش آیا جب سکیورٹی اہلکار ایک کانوائے کی شکل میں جا رہے تھے۔
یہ حملہ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں اپریل کے مہینے میں مسلسل جاری حملوں میں سے ایک ہے۔ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے ماہ رمضان میں اپنی کارروائیوں میں اضافہ کرتے ہوئے آپریشن البدر شروع کیا ہے جس کے بعد تنظیم کے ترجمان نے سکیورٹی فورسز کو بھاری جانی نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔
گذشتہ روز ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل بابر افتخار نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ اس سال کے پہلے تین ماہ کے دوران سکیورٹی فورسز کے افسران سمیت 97 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 128 شدت پسند ہلاک اور 256 کو گرفتار کیا گیا ہے۔
رواں سال اپریل کے مہینے میں ہونے والی ہلاکتیں اس مجموعی تعداد میں شامل نہیں ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان کے نومنتخب وزیرِ اعظم شہباز شریف نے گذشتہ روز ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’کوئی کسی مغالطے میں نہ رہے، ہم ذمہ داران کے خلاف کارروائی کریں گے۔‘
ادھر عسکریت پسند تنظیم تحریک طالبان کی جانب سے جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کی تنظیم کی کارروائیوں میں سکیورٹی فورسز کا جانی نقصان کہیں زیادہ ہوا ہے جبکہ ٹی ٹی پی کے کارکنوں کا نقصان بہت کم ہوا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیبرپختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی علاقوں میں تشدد کے واقعات معمول سے پیش آ رہے ہیں اور ان میں شمالی اور جنوبی وزیرستان اہم ہیں جہاں آئے روز سکیورٹی فورسز پر حملوں، جھڑپوں اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کی اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کالعدم تنظیم کے ترجمان محمد خراسانی نے ان 13 دنوں میں لگ بھگ ایک درجن سے زیادہ حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے اور ترجمان کے مطابق ان حملوں میں سکیورٹی فورسز کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
ان حملوں میں بنوں میں پولیس اہلکاروں کو ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ہلاک کرنے کے دعوے کے علاوہ شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان میں فوجی کانوائے کے ساتھ ساتھ چوکیوں اور کیمپس پر حملے شامل ہیں۔
ان حملوں میں جنوبی وزیرستان کے علاقے شکتوئی میں فوجی چیک پوسٹ پر حملہ، جنوبی وزیرستان کے علاقے لدھا میں حملہ، مہمند ایجنسی کی پولیس پر حملہ، شمالی زیرستان کی تحصیل دوسلی میں گشت کرتی فوجی ٹیم پر حملہ، جنوبی وزیرستان کے علاقے سپین وام میں سیکیورٹی فورسز پر حملہ، ضلع خیبر میں جمرود کے علاقے میں پولیس پر حملہ شامل ہیں۔
ان کے علاوہ مہمند ضلع میں پولیس پوسٹ پر حملہ، شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی میں سکیورٹی فورسز پر حملہ، ضلع کرک میں احمد آباد میں پولیس گاڑی پر حملہ، ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے قریب کلاچی میں ڈپٹی سپرانٹینڈنٹ پولیس کے ساتھ پولیس کی گاڑی پر حملہ اور جنوبی وزیرستان میں انگور اڈا کے قریب سکیورٹی فورسز پر حملے بھی شامل ہیں۔
انگور اڈا حملے میں ٹوبہ ٹیک سنگھ سے تعلق رکھنے والے میجر شجاعت اور بلوچستان کے علاقے نصیر آباد سے تعلق رکھنے والے سپاہی عمران ہلاک ہو گئے تھے۔
اس طرح کے 14 واقعات ایسے ہیں جن کے دعوے ٹی ٹی پی کے ترجمان نے کیے ہیں۔
کن واقعات کی تصدیق ہو سکی ہے؟
کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے دعوے اپنی جگہ لیکن سرکاری سطح پر ان دعوؤں کی تصدیق فوج کے شعبہ تعلق عامہ کی جانب سے کم ہی ملتی ہے۔
ضلع ٹانک میں 30 مارچ کو ایف سی لائن پر حملے کی تصدیق کی گئی تھی جس میں چھ اہلکار ہلاک ہو گئے تھے اور یہ حملہ ٹی ٹی پی کے ’البدر آپریشن‘ سے پہلے کیا گیا تھا۔
آئی ایس پی آر نے جن حملوں اور فوجی آپریشنز کی تصدیق کی ہے وہ چند ایک ہی ہیں۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے اس مہینے کے پہلے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے کلاچی میں خفیہ اطلاع پر آپریشن کیا تھا جس میں تین شدت پسند ہلاک ہو گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے ایک اور بیان میں کہا ہے کہ 11 اور 12 اپریل کی درمیانی شب جنوبی وزیرستان کے انگور اڈا کے علاقے میں شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپ ہوئی جس میں دو مسلح شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ ’اس شدید جھڑپ میں فوج کے میجر شجاعت اور سپاہی عمران مسلح افراد سے بہادری سے لڑتے ہوئے ہلاک ہو گئے ہیں۔‘
گذشتہ روز بھی آئی ایس پی آر کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شمالی وزیرستان کے علاقے اشام میں شدت پسندوں کے ساتھ ایک جھڑپ ہوئی ہے جس میں سکیورٹی اہلکار عصمت اللہ بہادری سے لڑتے ہوئے ہلاک ہوا ہے۔
عصمت اللہ کا تعلق صوبہ پنجاب کے علاقے میانوالی سے بتایا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹی ٹی پی سے مذاکرات میں ’مثبت پیش رفت نہ ہو سکی‘
افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد سے کالعدم تحریک طالبان کی جانب سے ان حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
پاکستان حکومت اور ٹی ٹی پی کے درمیان افغان طالبان کی ثالثی میں مذاکرات بھی گذشتہ سال شروع ہو گئے تھے اور اس بارے میں پیش رفت کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں جس میں ایک ماہ کی جنگ بندی کا اعلان شامل تھا لیکن اس ایک ماہ میں دونوں فریقین کسی حتمی فیصلے تک نہیں پہنچ سکے تھے۔
یہی وجہ تھی کہ ٹی ٹی پی نے ایک مرتبہ پھر اپنی کارروائیاں شروع کر دی تھیں۔ اس جنگ بندی کے بعد شروع ہونے والی کارروائیوں میں شدت پہلے کی نسبت کہیں زیادہ رہی ہے۔
خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں 30 مارچ کو ایف سی لائن میں گھس کر اہلکاروں پر حملہ کیا گیا تھا اور یہ کارروائی نیم شب سے صبح تک جاری رہی تھی جس میں صوبیدار میجر سمیت چھ اہلکار ہلاک ہو گئے تھے جبکہ سکیورٹی فورسز کے مطابق جوابی کارروائی میں تینوں حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔
ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کے لیے شمالی اور جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے قبائلی رہنماؤں نے بھی کوششیں کیں اور اس سلسلے میں اس سال فروری اور مارچ کے مہینے میں قبائلی رہنما افغانستان گئے تھے۔
اس دورے کے دوران قبائلی رہنماؤں کی ملاقات افغان طالبان سے ہوئی تھی جو ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں لیکن ایسی اطلاعات تھیں کہ ٹی ٹی پی کے قائدین نے قبائلی رہنماؤں سے ملاقات نہیں کی تھی۔
اس وفد میں شامل قبائلی رہنما ملک خان مرجان نے کہا تھا کہ ان کی کوششیں کامیاب ہوں گی اور بہت جلد اس میں پیش رفت ہو گی لیکن اب تک اس بارے میں کوئی مثبت اشارے نہیں مل رہے۔












