بلقیس ایدھی: ہزاروں لاوارث بچوں کی ’ممی‘ جن کے بغیر ایدھی کا مشن پورا ہونا ناممکن تھا

بلقیس ایدھی

،تصویر کا ذریعہSocial Media

    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

مسجد میں نکاح کے لیے لوگ جمع ہیں اور گھر میں دلہن سرخ جوڑے میں تیار بیٹھی ہے۔ جیسے ہی رخصتی کا وقت آیا تو دولہے کو اطلاع ملی کہ ایک بچہ قریب المرگ ہے اور اسے فوری طور پر ہسپتال نہ پہنچایا گیا تو وہ دم توڑ دے گا۔

دولہے کو یہ بھی ہوش نہ رہا کہ ان کی دلہن ان کا انتظار کر رہی ہوگی۔ وہ وہاں سے روانہ ہو گئے۔ دلہن نے رات رشتے داروں میں اور دولہے نے ہسپتال میں گزاری۔

پاکستان کے نامور سماجی کارکن عبدالستار ایدھی اور ان کی بیگم بلقیس ایدھی کی زندگی کا یہ پہلا واقعہ نہیں تھا، مگر پھر ان کی زندگی کی کتاب ایسے واقعات سے بھر گئی۔

بیوہ ماں اور شرارتی بلقیس

بلقیس ایدھی کی والدہ رابعہ تقسیم ہند کے بعد 19 سال کی عمر میں بیوہ ہو گئی تھیں۔ بلقیس ایدھی کے علاوہ ان کے دو بیٹے تھے۔ رابعہ اپنی والدہ، بہن اور بھائی کے ہمراہ پاکستان آئیں۔ یہاں بلقیس کے ماموں نے کاوبار شروع کیا لیکن کامیاب نہیں ہوئے۔ بلقیس کی والدہ نے دوسری شادی نہیں کی اور ایک خاتون ٹیچر کے پاس 20 روپے کی نوکری کرلی۔ یہ خاندان کراچی کے علاقے کھارادر میں دو کمروں میں رہائش پذیر تھا۔

عبدالستار ایدھی کی سوانح حیات ’اے مِرر ٹو دی بلائنڈ‘ میں تہمینہ درانی لکھتی ہیں کہ بلقیس کو فلمیں دیکھنے کا شوق تھا اور وہ اپنی سہیلیوں کے ہمراہ دوپہر کا شو دیکھتی تھیں۔ اس کے علاوہ کھارادر اور میٹھادر کی گلیوں سے چھابڑی والوں سے کچھ نہ کچھ خرید کر کھاتی تھیں۔

سکول میں اگر کوئی نوٹس نہیں دیتا تو اس کی کاپیاں اٹھا کر پھینک دیتی تھیں، کبھی لڑکیاں تکرار کرتیں تو وہ ان کے قلم، چشمے اور پنسل بکس اٹھا کر پھینک دیتیں اور استانیاں روز ان کے کان کھینچتیں اور کلاس سے باہر نکال دیتی تھیں۔

بلقیس ایدھی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ایدھی ڈسپینسری میں نرس

بلقیس کی عمر 16 سال تھی جب ان کی خالہ اُنھیں ایدھی کی ڈسپینسری میں کام کے لیے لے گئی تھیں۔ اپنی سوانح حیات میں ایدھی نے تہمینہ درانی کو بتایا کہ اُنھوں نے بلقیس کی خالہ سے سوال کیا تھا کہ اس لڑکی کی عمر تو چھوٹی ہے کیا یہ سکول نہیں جاتی؟ تو خالہ نے کہا تھا کہ پورے 16 سال کی ہے لیکن اس کو پڑھنے سے رغبت نہیں، یہ بس کام کرنا چاہتی ہے۔

بلقیس ایدھی نے بتایا تھا کہ ڈاکٹروں نے ایدھی صاحب کو مشورہ دیا تھا کہ نرسنگ سکول شروع کریں، اس کی اشد ضرورت ہے، جس کے بعد اُن سمیت کئی لڑکیوں نے وہاں داخلہ لیا۔

وہ بتاتی تھیں ’میں سلائی سیکھنے جاتی تھی۔ ایک روز ٹیچر نے مجھے مارا جس کے بعد میں نے کہا کہ اب وہاں نہیں جاؤں گی اور پھر میں یہاں نرسنگ میں آ گئی۔‘

بلقیس کا رشتہ

عبدالستار ایدھی شوخ، چنچل اور حسین بلقیس کے سامنے بے بس ہو گئے۔ کتاب میں اُنھوں نے بتایا تھا کہ کئی نرسوں نے ان کا رشتہ قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا، اس لیے ہمت نہیں ہوتی تھی، بالاخر اُنھوں نے بلقیس سے بات کی اور انھوں نے رضامندی ظاہر کی جس کے بعد بلقیس کی والدہ تک پیغام پہنچایا جنھوں نے مالی حالات پر فکرمندی کا اظہار کیا کہ ’میری بیٹی کھائے گی کیا۔‘

ایدھی نے جواب بھیجا کہ ’میں نہ تو کسی کے بھروسے پر زندہ ہوں اور نہ ڈسپینسری سے کچھ لے رہا ہوں، ذاتی آمدن سے پورے خاندان کو سنبھال سکتا ہوں۔‘

بلقیس ایدھی نے بتایا تھا کہ’ایدھی صاحب اور میری عمر میں کافی فرق تھا۔ کئی لڑکیوں نے منع کر دیا تھا کہ اُن کی داڑھی ہے۔ میری والدہ نے مجھ سے پوچھا تو میں نے کہا کہ اُن سے شادی کروا دیں۔‘

والدہ نے بلقیس کو نئے کپڑوں کے لیے 500 روپے اور 15 تولہ سونا جہیز دیا جبکہ باورچی خانے کا ضروری سامان پہلے سے جمع تھا لیکن ایدھی نے یہ سب لینے سے انکار کر دیا اور یوں 9 اپریل 1966 کو دونوں کی شادی ہو گئی۔

بلقیس ایدھی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

لاوارثوں کی ماں

عبدالستار ایدھی کو لوگوں نے کہا تھا کہ اگر وہ اس لڑکی ’بلقیس‘ سے شادی کریں گے تو ان کا مشن ختم ہو جائے گا لیکن بعد میں اسی شرارتی و چنچل لڑکی نے ان کے ساتھ ان کے مشن کو بھی اپنایا اور اپنا مقام بنایا۔

بلقیس ایدھی نے بتایا تھا کہ جب اُنھوں نے کراچی میں دواخانہ قائم کیا تو لوگوں سے اپیل کی کہ ’بچوں کو کچرے میں نہ پھینکیں بلکہ ایسے بچوں کو ہمارے حوالے کردیں‘۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے دواخانے میں ایک جھولا لگایا تھا۔ پھر پاکستان کے تمام سینٹروں میں ایسے جھولے لگائے گئے جہاں لوگ بچوں کو چھوڑ جاتے ہیں اور ان سے کوئی سوال نہیں کرتا۔

بلقیس ایدھی کے یوں تو پانچ بچے ہیں مگر ان کی حیثیت ان ہزاروں بچوں کی ماں کی سی تھی جنھیں ان کے اپنے کسی گندگی کے ڈھیر یا ایدھی سینٹر کے پالنے میں چھوڑ گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

ایدھی ہومز میں ہم نے معذور بچے بھی دیکھے جنھیں ان کے رشتے دار چھوڑ جاتے تھے جن کی پرورش بلقیس ایدھی کرتی تھیں۔ وہ کہتی تھیں کہ ’مجھے ایسا کبھی محسوس نہیں ہوا کہ یہ میرے بچے نہیں ہیں، جب یہ بچے مجھے ماں پکارتے ہیں تو دل بڑا ہوجاتا ہے۔‘

تمام بچے اور ایدھی سٹاف اُنھیں ’ممی‘ کہہ کر مخاطب کرتا تھا۔ اتنی ممتا میں ان کے حقیقی بچے بھی شامل تھے۔ بلقیس کا کہنا تھا کہ ان کے پانچوں بچوں نے کبھی شکایت نہیں کی کہ میں اُنھیں وقت نہیں دیتی، وہ تو خود میرا ہاتھ بٹاتے ہیں۔‘

بلقیس ایدھی بچوں کے ساتھ ان بے سہارا اور یتیم لڑکیوں کی بھی ماں تھیں جو ایدھی ہومز میں رہتی تھیں۔ ان کی شادی اور تعلیم کو بھی وہ اپنا فرض سمجھتی تھیں۔ ان کے جب بھی رشتے آتے تو ان لڑکوں اور خاندانوں کو ان کی کڑی پوچھ گچھ سے گزرنا پڑتا تھا۔ وہ لڑکیوں کی بھی ان سے ملاقات کرواتی تھیں تاکہ وہ بھی اُنھیں دیکھ کر جواب دیں۔

بلقیس ایدھی کہتی تھیں کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ لڑکا شریف ہو اور کام کاج کرتا ہو۔ ہم لڑکی کو لڑکا اور اس کا گھر دکھاتے ہیں اگر وہ ہاں کرتی ہے تو بات آگے بڑھائی جاتی ہے۔‘

بلقیس ایدھی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ان لڑکیوں کی جب بھی شادی ہوتی تو مہندی مایوں سے لے کر تمام رسمیں ادا کی جاتی تھیں، لڑکیاں ڈھول بجاتی تھیں اور اپنی سکھی کی خوشی میں شریک ہوتیں اور اس میں بزرگ بلقیس بھی شامل ہوتیں تھیں۔

اپنے گھر کی خواہش

بلقیس ایدھی اسی ڈسپینسری کے کمرے میں رہتی تھیں جہاں وہ کام سیکھنے آئیں تھیں۔ تین منزلہ عمارت میں پہلی منزل پر انتظامی دفتر اور مردوں کا دواخانہ ہے، دوسری منزل پر میٹرنٹی ہوم اور بلقیس ایدھی کا کمرہ جبکہ تیسری منزل پر پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کے کمرے، کلاس روم اور کچن ہے۔

بلقیس ایدھی کو ایک ارمان تھا اپنے گھر کا، وہ کہتی تھیں کہ اُنھوں نے بار بار ایدھی کو کہا کہ اپنا گھر دلا دو جو تین کمروں کا ہو، جہاں گیلری ہو تاکہ وہ اُس میں کپڑے دھو کر سکھا سکیں لیکن انھوں نے کبھی بات نہیں مانی۔

’شادی کے بعد میں اکثر لڑتی جھگڑتی تھی کیونکہ ایدھی صاحب نے کبھی نارمل گھریلو زندگی نہیں اپنائی، اپنا گھر لے کر نہیں دیا۔ میں اُن کے پاس رہتی تو ہمارے بچے میری والدہ کے گھر رہتے تھے۔‘

بلقیس بتاتی تھیں کہ ابتدا میں وہ ڈسپینسری کی چھت پر رہتے تھے۔ ان کے تین بچے ہوئے تو ایدھی صاحب نے وہاں ہی ٹی بی وارڈ کھول لیا۔ ڈاکٹرز نے کہا کہ آپ کے بچے چھوٹے ہیں، اب یہاں ٹی بی وارڈ کھل گیا ہے، آپ یہاں سے چلے جاؤ تو انھوں نے مجھے میری ماں کے پاس بھیج دیا۔‘

ایمبولینس میں گھومنا پھرنا

لاغر و بیمار لوگ، لاوارث بچے اور لاوارث لاشیں جن کو کوئی نہیں اپناتا یا سنبھالتا تھا، ان کو یہ خاندان سنبھالتا آیا۔ بلقیس ایدھی بتاتی تھی کہ ایدھی صاحب جب بھی کراچی سے باہر ایمبولینس میں میت چھوڑنے جاتے تھے تو انھیں ساتھ لے جاتے تھے۔

’یہی ہمارا گھومنا پھرنا ہوتا تھا، اس کے علاوہ زیادہ کہیں نہیں آتے جاتے تھے، اُن دنوں مجھے میں اتنی سمجھ بوجھ نہیں تھی کہ میت کے ساتھ بچوں کو نہیں بٹھاتے لیکن ہم بے پرواہ ہوتے تھے۔‘

بلقیس ایدھی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بلقیس ایدھی نے مشکلات کے باوجود عبدالستار ایدھی کا ساتھ نہیں چھوڑا، جب اُنھوں نے دوسری شادی کی اور بعد میں ختم کر دی تب بھی ان میں تلخی نہیں آئی تھی۔

گذشتہ سال بلقیس ایدھی سے ملاقات ہوئی تھی۔ وہ پاکستانی ڈرامے بڑے شوق سے دیکھتیں اور تبصرے بھی کرتی تھیں، اس روز ان سے ملنے ایک خاتون آئی تھی جس کی اُنھوں نے پرورش کی اور شادی کی تھی اور وہ اپنے بیٹے کے لیے رشتہ چاہتی تھی۔

بلقیس ایدھی نے اُنھیں صاف کہا کہ چاہے تمہارا بیٹا ہو، لیکن کردار ٹھیک ہو گا، کام کاج کرتا ہو گا، تو ہی میں ’اپنی‘ لڑکی کی شادی کرواؤں گی۔

اُن کی شرائط میں ایک شرط یہ بھی ہوتی تھی کہ لڑکی کو مہینے میں ایک بار سمندر پر لے جائے گا اور آئس کریم کھلائے گا یا کولڈ ڈرنک پلائے گا۔

ایسا محسوس ہوا کہ وہ چاہتی ہیں کہ جو محرومیاں انھوں نے دیکھیں، وہ دوسروں کو نہ ملیں۔