نایاب چنکارا ہرنوں کے شکار کی ویڈیو وائرل، لوگوں کے غم و غصے کے بعد تحقیقات کا حکم

،تصویر کا ذریعہSOCIAL MEDIA
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے صوبہ سندھ کے محکمہ جنگلی حیات نے دو نایاب چنکارا ہرنوں کا غیر قانونی شکار کرنے کی تحقیقات کا حکم جاری کر دیا ہے۔ تحقیقاتی کمیٹی اس بات کا بھی تعین کرے گی کہ یہ واقعہ صوبہ سندھ میں پیش آیا بھی ہے یا نہیں۔
سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایسی ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں جن میں بعض افراد ان ہرنوں کا شکار کر رہے ہیں۔
وائرل ویڈیو میں کیا ہے؟
ٹوئٹر پر شیئر ہونے والی ویڈیو میں نظر آتا ہے کہ ایک لانگ رینج رائفل سے ایک شخص گاڑی میں بیٹھ کر ویرانے میں موجود ایک ہرن کا نشانہ لگاتا ہے اور فائر ہوتے ہی ہرن زخمی ہو کر زمین پر گر پڑتا ہے، اس کے بعد ایک دوسرے ہرن کا نشانہ لیا جاتا ہے اور وہ بھی گولی لگنے کے فوراً بعد گر کر کراہنے لگتا ہے۔
اس پورے منظر کی شکاری کے ساتھ موجود دوسرا شخص ویڈیو بنا رہا ہے اور جیسے ہی زوم آؤٹ ہوتا ہے تو نظر آتا ہے کہ ایک پہاڑی علاقہ ہے اور میدان کے عقب میں دور پہاڑ بھی موجود ہیں۔
ایک منظر میں ایک شخص بظاہر گولی مارنے والے سے پوچھتا ہے کہ ’مار رہا ہے‘، جس کے جواب میں دوسرا شخص کہتا ہے ’یس‘۔ اس کے بعد گولی چلتی ہے اور ہرن زمین پر گر جاتا ہے۔ اس کے بعد شاباشی کی آوازیں آتی ہیں جس میں ایک شخص کہہ رہا ہے کہ ’واٹ اے شاٹ، ڈیڈ شاٹ۔‘
دوسرے منظر میں گولی چلنے کے بعد سوال ہوتا ہے کہ ’گِرا؟‘ جواب آتا ہے ’یس۔‘
ایک شخص کہتا ہے ’گِر گیا، گِر گیا‘، دوسرا کہتا ہے ’ادھر ہی ہے، وہ پڑا ہوا ہے، چیخ رہا ہے۔‘
پھر کیمرہ ہرن کی جانب زوم اِن ہوتا ہے اور زخمی ہرن کو کراہتے ہوئے دیکھا اور سنا جا سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک منظر میں گاڑی میں بیٹھے ایک شخص کا چہرا بھی نظر آتا ہے۔
ملزمان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

،تصویر کا ذریعہSOCIAL MEDIA
سوشل میڈیا پر صارفین نے اس ویڈیو پر شدید ناراضی کا اظہار کیا اور بعض نے ناظم جوکھیو کے قتل کا بھی حوالہ دیا جنھوں نے عرب شکاریوں کو شکار سے روکا تھا اور بعد میں اس کی تشدد کے باعث موت واقع ہوگئی تھی۔
ٹوئٹر پر فاروق سومرو لکھتے ہیں ’کیسے انسان ہیں جن کو کائنات کی حسین تخلیق مارتے ہوئے مزا آ رہا ہے۔‘
ریحان قریشی لکھتے ہیں کہ ’کوئی پرندوں کے لیے بندوق تو کوئی پینے کا پانی رکھتا ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
حسنین علی لکھتے ہیں کہ ’اگر یہ سچ ہے تو اس ظالم کو سلاخوں کے پیچھے بھیجنا چاہیے، ویسے بھی کتنے درد کے ساتھ مارا گیا ہے۔‘
وحید علی لکھتے ہیں ’کیا ملا ہوگا اس کو اس طرح اس نایاب ہرن کی نسل کشی کر کے۔‘
نور محمد گگو لکھتے ہیں کہ ’ميری توبہ، اپنے شوق کی خاطر کسی بے زبان کی جان لینا سمجھ سے باہر ہے۔‘
ویڈیو کے فورنزک اور تحقیقات کا حکم
سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے اور عوامی دباؤ کے بعد سندھ کے محکمہ جنگلی حیات نے تحقیقات کا حکم جاری کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر آنے والی ویڈیو میں کراچی کے رہائشی نے دو ہرنوں کا شکار کیا ہے۔
سندھ میں جنگلی حیات کے قانون کے تحت جنگلی جانوروں اور پرندوں کو تحفظ حاصل ہے، ان میں سے بعض کے شکار کے اجازت نامے جاری کیے جاتے ہیں، جبکہ چنکارا ہرن ان جنگلی حیات میں شامل ہے جن کی نسل خطرے سے دوچار ہے اور اس کے شکار پر مکمل پابندی ہے۔
تحقیقاتی کمیٹی کے ٹرمز آف ریفرنسز کے مطابق ویڈیو کا فورنزک تجزیہ کرایا جائے گا، ویڈیو میں نظر آنے والے شخص کی مزید تفصیلات حاصل کی جائیں گی اور ان کا بیان ریکارڈ ہو گا، اس بات کا تعین کیا جائے گا اور شواہد اکٹھا کیے جائیں گے کہ کیا یہ شکار سندھ کی حدود میں کیا گیا ہے۔
تحقیقاتی حکم نامے کے مطابق اگر شکاری پر الزام ثابت ہوتا ہے تو سندھ میں جنگلی حیات کے تحفظ کے قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔
پاکستان میں 585 جنگلی چنکارا ہرن
پاکستان کے جنگلات میں اس وقت کل 585 چنکارا ہرن موجود ہیں، اس کا انکشاف پاکستان کی وزارت موسمیاتی تبدیلی کی جانب سے کرائے گئے سروے میں کیا گیا تھا۔
اس سروے میں بتایا گیا تھا کہ منگلوٹ (خیبر پختونخوا)، کالاباغ، صحرائے چولستان (پنجاب) سے لے کر کھیرتھر کی پہاڑیوں (سندھ) کے علاقوں میں چنکارا ہرن دیکھے گئے ہیں۔ سروے کے مطابق سبی کے میدانی علاقوں مکران، تربت اور لسبیلہ (بلوچستان) میں بھی چنکارا ہرن پائے گئے ہیں۔
ماحول کے بقا کے لیے کام کرنے والے ادارے ڈبلیو ڈبلیو ایف کے معاون محمد معظم خان کے مطابق چنکارا ہرن ریتیلے اور پہاڑی و میدانی علاقوں میں پائے جاتے ہیں اور ان کی تعداد میں واضح کمی ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق ’1983 میں میری تعیناتی بلوچستان میں تھی، ہر دورے پر پسنی اور اوڑماڑہ کے درمیان دس سے بارہ چنکارا ہرن نظر آ جاتے تھے۔ بعد میں اس قدر شکار کیا گیا کہ 1988 کے بعد مشکل سے ہی کوئی ایک آدھا نظر آتا تھا۔‘











