عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر فیصلہ: کیا سپریم کورٹ کے فیصلے نے پارلیمان کے اندرونی معاملات میں عدالتی مداخلت کے دروازے کھول سکتا ہے؟

قاسم سوری

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK/ QASIM KHAN SURI

،تصویر کا کیپشن'یہ فیصلہ اُن غیر معمولی حالات میں آیا، جب آئینی منصب پر بیٹھا ایک شخص پارلیمان کی کارروائی کو خوش اسلوبی سے چلانے میں رکاوٹ بن گیا تھا'
    • مصنف, عمر فاروق
    • عہدہ, صحافی

پاکستان کی قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کی سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر تین اپریل کو دی جانے والی رولنگ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کی حمایت میں ملک بھر کے بیشتر قانون دان متفق ہیں۔

تاہم تحریک انصاف سے منسلک قانونی ماہرین اس رائے کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ مستقبل میں پارلیمان کی بالادستی میں عدالتی مداخلت کے لیے بطور نظیر (مثال) استعمال ہو سکتا ہے۔

پارلیمان کی بالادستی کے حامی اب یہ دیکھنے کے منتظر ہیں کہ عدالت عظمیٰ اپنے تفصیلی فیصلے میں اس آئینی اصول کی کس تک وضاحت و صراحت کرتی ہے جس کے تحت پارلیمان اپنا انتظام و انصرام چلانے میں پوری طرح سے بالادست یا سپریم ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سینیئر آئینی ماہرین نے اپنے مؤقف میں اس توقع کا اظہار کیا کہ عدالت اپنے تفصیلی فیصلے میں دستور کی شق 69 کو واضح کرے گی، اس کے دائرہ عمل اور اطلاق کی واضح تشریح کرے گی کہ پارلیمان اپنے اُمور کار چلانے میں پوری طرح سے بالادست ہے۔

بظاہر سپریم کورٹ کے فیصلے نے قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کو ’آئین سے منافی‘ قرار دیتے ہوئے یہ واضح رہنمائی فراہم کی کہ پارلیمان میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر ایوان کی کارروائی کو کیسے چلایا جائے۔

سپریم کورٹ نے نہ صرف اجلاس کے انعقاد کے وقت کا فیصلہ کیا بلکہ اس مدت کا بھی واضح تعین کیا جس میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں بحث اور عدم اعتماد کی تحریک پر رائے شماری منعقد کی جانی تھی۔

اس عمل نے کئی قانونی ماہرین، خاص طور پر تحریک انصاف سے منسلک وکلا، کو بظاہر ورطہ حیرت اور سوچ میں مبتلا کر دیا۔

’مستقبل میں اس فیصلے کے غلط استعمال کا کوئی امکان نہیں‘

سپریم کورٹ
،تصویر کا کیپشن’3 اپریل 2022 کے دن سپیکر کے منصب سے دی جانے والی رولنگ ملک میں غیرمعمولی حالات پیدا کرنے کا سبب بنی‘

آئین و قانون کے چند ماہرین کا استدلال ہے کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے نے مستقبل میں پارلیمان کے اندرونی معاملات میں عدالتی مداخلت کے دروازے کھول دیے ہیں۔ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ یہ فیصلہ ملک میں آئینی پیشرفت کے مستقبل کے لیے ایک عدالتی نظیر (مثال) قائم کرے گا۔

اس عدالتی فیصلے پر زیادہ تر تنقید سابق حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے ہو رہی ہے۔ پی ٹی آئی کے وکلا نے عدالت میں دوران سماعت اصرار کیا کہ عدالت کے پاس سپیکر کی ’رولنگ‘ پر جرح کرنے کا یا پارلیمان کی کارروائی پر فیصلہ دینے کا اختیار نہیں۔

سابق چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس (پی ٹی آئی کا موقف) سے اتفاق نہیں کرتے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’مستقبل میں اس فیصلے کے غلط استعمال کا کوئی امکان نہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ فیصلہ اُن غیر معمولی حالات میں آیا، جب آئینی منصب پر بیٹھا ایک شخص پارلیمان کی کارروائی کو خوش اسلوبی سے چلانے میں رکاوٹ بن گیا تھا۔ اس صورتحال میں عدالت نے مداخلت کی۔‘

رضا ربانی نے اس توقع کا اظہار کیا کہ سپریم کورٹ آئین کے آرٹیکل 69 کی تفصیلی تشریح کرے گی۔ یہ شق پارلیمنٹ کی بالادستی سے متعلق ہے اور ایوان میں اس کے امور چلانے کی تفصیل بیان کرتی ہے۔

رضا ربانی نے کہا کہ پارلیمنٹ کی بالادستی سے متعلق ان کا مؤقف یہ ہے کہ پارلیمان کے اپنے اُمور چلانے سے متعلق کسی معاملے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

انھوں نے کہا کہ ’پارلیمان کی بالادستی پر میرا مؤقف اور آرٹیکل 69 پر تشریح، میرے چیئرمین سینٹ کے دور سے اب تک ویسی ہی ہے، اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’تین اپریل 2022 کے دن سپیکر کے منصب سے دی جانے والی رولنگ ملک میں غیرمعمولی حالات پیدا کرنے کا سبب بنی جس میں ایک آئینی منصب پر براجمان شخص یعنی سپیکر ہی پارلیمان اور آئین کی عملداری اور اس کی کارروائی میں رکاوٹ بن گیا تھا۔‘

پارلیمان

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن’ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ پارلیمنٹ کو کام کرنے سے روک دیں اور کوئی آپ کو روکنے والا ہی نہ ہو‘

انھوں نے توقع کا اظہار کیا کہ سپریم کورٹ اپنے تفصیلی فیصلے میں اس نوع کے غیرمعمولی حالات میں آرٹیکل 69 کی تشریح اور وضاحت کرے گی۔

سابق اٹارنی جنرل اور ممتاز قانون دان شاہ خاور نے رضاربانی کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے بتایا کہ انھیں بھی توقع ہے کہ عدالت اپنے تفصیلی فیصلے میں پارلیمان کی کارروائی میں مداخلت نہ کرنے کے آئینی حکم کے بارے میں وضاحت کرے گی۔

شاہ خاور نے کہا کہ ’یہ نکتہ عدالتی سماعت کے دوران زیربحث آیا تھا۔‘

انھوں نے حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’جب (حکومتی وکیل) بابراعوان نے اصرار کیا کہ عدالت اس (دستوری شق اور اس کے نتیجے میں دی گئی رولنگ) کو چُھو نہیں سکتی تو جسٹس منیب نے قرار دیا تھا کہ آئین کی خلاف ورزی پارلیمنٹ کا اندرونی معاملہ نہیں۔‘

’عدالت پارلیمان کے فیصلے کرنا شروع کرے گی تو پھر تصادم ہوگا‘

تحریک انصاف رہنما اور اس کیس میں صدر پاکستان کی نمائندگی کرنے والے بیرسٹر علی ظفر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے آئین میں ایک بنیادی اصول پرنسپل آف ٹرائیکوٹومی یعنی آئین، عدلیہ اور ایگزیکٹیو کے درمیان توازن کا ہے جس کے تحت ہر ادارے کی حد کا تعین کر دیا گیا ہے۔

’یہ ریاست کے تین ستون ہیں اور آئین کہتا ہے کہ ایک ستون دوسرے کے کام میں مداخلت نہ کرے۔ عدالت کے معاملات میں پارلیمان مداخلت نہیں کر سکتی، ویسے ہی پارلیمان کے کام میں عدالت مداخلت نہیں کر سکتی جیسے یہ کہنا کہ اسمبلی کا اجلاس کیوں بلایا یا یہ فیصلہ کیوں کیا۔‘

علی ظفر کے مطابق ’اگر عدالت پارلیمان کے فیصلے کرنا شروع کرے گی تو پھر تصادم ہو گا اور جب تصادم ہو گا تو پھر ریاست کو نقصان ہو گا، ایک ادارہ کمزور ہو گا، دوسرا طاقت ور ہو گا اور یہ نہیں ہو سکتا کہ جو ادارہ کمزور ہو وہ سٹرائیک بیک نا کرے۔‘

’جہاں جہاں ایک دوسرے کے کام پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی اس کا اثر ہوا۔ اس لیے میرا کیس میں موقف تھا کہ یہ نہیں ہونا چاہیے۔‘

بیرسٹر علی ظفر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’لوگ کہتے ہیں کہ پارلیمان اصول اور قوانین سے ہٹ کر فیصلے کرے اور پارٹیاں آپس میں لڑ پڑیں تو کسی ادارے کو تو فیصلہ کرنا ہو گا، تو میرا جواب یہ ہوتا ہے کہ ادارے کو خود ہی اپنے آپ کو ٹھیک کرنا ہوتا ہے۔‘

’اگر پارلیمان اتنا نیچے گر گیا ہے کہ وہ اپنے قوانین فالو نہیں کر رہا، تو پھر لوگوں کو فیصلہ کرنے دیں کہ یہ پارلیمان رہنا چاہیے یا نہیں۔ پارلیمان کا فیصلہ عوام نے کرنا ہے، وہی جج ہیں۔‘

سپیکر کی رولنگ: پارلیمنٹ کو کام کرنے سے روکنے کی سازش؟

قانون دان طبقے میں مکمل اتفاق ہے کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ مستقبل میں پارلیمنٹ کے اندرونی یا داخلی اُمور میں عدالتی مداخلت کے دروازے نہیں کھولے گا اور یہ کہ سپیکر کی رولنگ پارلیمنٹ کو کام کرنے سے روکنے کی سازش تھی۔

آئینی ماہر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ’ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ پارلیمنٹ کو کام کرنے سے روک دیں اور کوئی آپ کو روکنے والا ہی نہ ہو۔‘

سلمان اکرم راجہ نے واضح کیا کہ سپریم کورت اور پارلیمنٹ آئین کے تحت وجود میں آنے والے دو ریاستی ادارے ہیں جو اپنے اپنے آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کے اختیارات میں مداخلت نہیں کر سکتے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’سپریم کورٹ نے ٹھوس وجوہات کی بنا پر اس مؤقف کو مسترد کر دیا جو ڈپٹی سپیکر نے درحقیقت اپنے عمل سے اختیار کیا تھا۔‘

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے کہ جب پارلیمانی عمل سبوتاژ کر دیا گیا تو وہ مداخلت کرے۔ آئینی ڈھانچے کی رگوں میں رکاوٹ بننے والے عوامل کو صاف کرنے کے لیے عدالت کو کارروائی کرنا پڑی۔ آئین کے تحت پارلیمنٹ کی عزت و وقار اور اس کی بالادستی دائمی رہنمائی کی متقاضی ہے جو صرف سپریم کورٹ فراہم کر سکتی ہے۔‘

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کی ’سپیکنگ رولنگ‘ (وجوہات پر مبنی واضح فیصلہ) پر سپریم کورٹ کے واضح فیصلہ کی مثال موجود ہے۔

’قومی اسمبلی کی سپیکر ڈاکٹر فہیمدہ مرزا نے رولنگ دی تھی جس میں انھوں نے قرار دیا تھا کہ (سابق وزیر اعظم اور پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما) سید یوسف رضاگیلانی نااہل نہیں ہوئے۔ سپریم کورٹ نے سپیکر کی اس رولنگ کو کالعدم کر دیا تھا۔‘

سابق اٹارنی جنرل اور قانون دان عرفان قادر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے اس مقدمے میں بہت شائستگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

عرفان قادر نے کہا کہ ’میرے خیال میں سپریم کورٹ کو سپیکر اور ان کے مددگاروں کو ’ہائی ٹریژن‘ (غداری) کا مرتکب قرار دینا چاہیے تھا۔ یہ غیرمعمولی حالات تھے جس میں سپریم کورٹ کا مداخلت کرنا جائز اور ضروری تھا۔‘