تحریک عدم اعتماد اور سپریم کورٹ کا فیصلہ: کیا ڈپٹی سپیکر کے خلاف کوئی کارروائی ہو سکتی ہے؟

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK/ QASIM KHAN SURI
- مصنف, ثنا آصف
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کی تین اپریل کی رولنگ کو آئین سے متصادم قرار دیے جانے کے بعد سیاسی حلقوں اور سوشل میڈیا پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا ایسا کرنے کی وجہ سے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ان کی رولنگ کو غیر آئینی تو قرار دیا لیکن کوئی کارروائی تجویز نہیں کی۔
پاکستان کی اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کے اتحاد نے جمعے کے روز ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروا دی ہے۔ تحریک عدم اعتماد میں کہا گیا ہے کہ ڈپٹی سپیکر نے بارہا قواعد، پارلیمانی طور طریقوں، جمہوری روایات اور یہاں تک کہ آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔
قرارداد میں ڈپٹی سپیکر کی جانب سے تین اپریل کی رولنگ کے ذریعے تحریکِ عدم اعتماد مسترد کرنے، اور سات اپریل کو سپریم کورٹ کے فیصلے سے اسمبلی کی بحالی کا حوالہ دیا گیا ہے۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ڈپٹی سپیکر نے جان بوجھ کر اور بدنیتی سے آئین کی خلاف ورزی کی ہے اور اُن کا یہ اقدام آئین کی شق 6 کے زمرے میں آتا ہے۔ اگر یہ قرارداد اکثریت سے منظور ہو جاتی ہے تو ڈپٹی سپیکر اپنے عہدے پر برقرار نہیں رہیں گے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سینٹ کے سابق چیئرمین نیئر بخاری نے بی بی سی کو بتایا کہ اپوزیشن کا بنیادی مقصد موجودہ حکومت کو ہٹانا تھا۔ قاسم سوری کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’ان کے خلاف ایکشن کی جہاں تک بات ہے تو اپوزیشن اس پر ضرور غور کرے گی لیکن ابھی ہمارا پہلا مقصد تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ میں کامیابی حاصل کرنا اور اس کے بعد نئے وزیراعظم کا انتخاب کرنا ہے۔‘
نیئر بخاری نے واضح کیا کہ ‘ڈپٹی سپیکر کے خلاف کارروائی کے لیے تمام جماعتوں سے مشاورت کے بعد اپنے وکلا سے قانونی نقطہ نظر مانگا جائے گا۔‘
اس حوالے سے پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما مریم اورنگزیب نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ بہت واضح ہے، جو سپیکر، ڈپٹی سپیکر اور پارلیمان کے عملے کو اس پر عمل درآمد کا پابند کرتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم مریم اورنگزیب نے بھی نیئر بخاری کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ’سپریم کورٹ کا فیصلہ واضح کرتا ہے کہ ڈپٹی سپیکر کا اقدام غیر آئینی تھا اور متحدہ اپوزیشن مشاورت کے بعد ہی یہ فیصلہ کرے گی کہ اب آگے اس پر کیسے بڑھنا ہے۔‘
یاد رہے کہ ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے متحدہ اپوزیشن کی وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کو مسترد کر دیا تھا جس کے بعد وزیر اعظم نے صدر مملکت کو اسمبلیاں تحلیل کرنے کی تجویز بھیجی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیا سپریم کورٹ اپنے تفصیلی فیصلے میں ڈپٹی سپیکر کے خلاف کارروائی کا حکم دے سکتی ہے؟
اس بارے میں بات کرتے ہوئے آئینی امور کے ماہر ایڈوکیٹ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں ڈپٹی سپیکر کے خلاف کسی کارروائی کی توقع کرنا قیاس آرائی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’سپریم کورٹ کا فوکس ڈپٹی سپیکر کے اقدام کی آئینی حیثیت پر تھا۔ سپریم کورٹ نے کہہ دیا ہے کہ یہ عمل غیر آئینی تھا اور اسے کالعدم قرار دیا گیا۔‘
’عدالت کے تفصیلی فیصلے میں بھی اس حوالے سے عدالت اپنی وجوہات ہی بیان کرے گی۔ میرا نہیں خیال کہ ڈپٹی سپیکر کے خلاف کسی کارروائی سے متعلق کوئی حکم جاری کیا جائے گا۔‘
اپوزیشن ڈپٹی سپیکر کے خلاف کیا اقدام کر سکتی ہے؟
اس سوال کا جواب دیتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر رولنگ کو ’انتہائی بھونڈی اور غیر آئینی حرکت‘ قرار دیا تاہم ان کے مطابق اپوزیشن کے پاس اس اقدام کو چیلنج کرنے کا کوئی آئینی یا قانونی طریقہ موجود نہیں۔
انھوں نے کہا ’آئین تقاضہ کرتا ہے کہ اگر ایوان کے 20 فیصد اراکین کی جانب سے عدم اعتماد کی تحریک آتی ہے تو اسے ووٹنگ کے لیے پیش کیا جائے۔ اس میں کوئی پیچیدگی نہیں کہ آپ کسی پر الزام لگا کر اس قراردار پر ووٹنگ کو روک دیں گے یا آپ کسی کی وفاداری پر شک کر کے اسے ووٹ ڈالنے سے روک دیں یا پوری قرار دار کو ہی مسترد کر دیں۔‘
’یہ تمام باتیں چالاکی کے زمرے میں آتی ہیں بلکہ بیوقوفانہ قسم کی چالاکی۔ اب جو آئین کا تقاضہ ہے اس پر عمل ہونا چاہیے اور اس کے مطابق معاملات آگے بڑھنے چاہیے۔‘
یہ بھی پڑھیے

سلمان اکرم راجہ نے مزید واضح کیا کہ اپوزیشن حکومت میں آنے کے بعد تحریک انصاف کے ڈپٹی سپیکر پر آئین کی پامالی اور آئین کو سبوتاژ کرنے پر آرٹیکل چھ کے تحت مقدمہ ہی دائر کر سکتی ہے۔
’ایسا ہونے کی صورت میں یہ معاملہ پھر عدالت میں جائے گا۔ ڈپٹی سپیکر یا تحریک انصاف مؤقف اختیار کر سکتے ہیں کہ یہ آئین شکنی نہیں تھی بلکہ ہم نے آئین کی غلط تشریح کی۔ ہم نے بغاوت نہیں کی۔‘
لیکن سلمان اکرم راجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈپٹی سپیکر کے خلاف کارروائی کے بجائے اب چیزوں کو آگے بڑھنا چاہیے۔
’بغاوت ایک بہت بڑی چیز ہوتی ہے، میرا مشورہ ہو گا کہ ایسی کوئی بات نہ کی جائے، ایک بات غلط ہوئی، اسے سپریم کورٹ نے غلط کہہ دیا، اب آگے بڑھنا چاہیے۔‘
کیا 28 مارچ کو سپیکر عدم اعتماد کی قرارداد کو مسترد کر سکتے تھے؟
تحریک انصاف کے سپیکر اسد قیصر نے 28 مارچ کو اپوزیشن کی جانب سے عمران خان کے خلاف پیش ہونے والی تحریک عدم اعتماد کو قبول کر لیا تھا اور اس پر تین اپریل کو ووٹنگ ہونا تھی۔
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے واضح کیا کہ 28 اپریل کو بھی سپیکر یا ڈپٹی سپیکر کے پاس عدم اعتماد تحریک کو مسترد کرنے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔
’لیکن نکتہ یہ ہے کہ اگر تب (28 مارچ) اس تحریک عدم اعتماد میں کوئی برائی نظر نہیں آئی، ممبران میں کوئی برائی نظر نہیں آئی کہ یہ غدار ہیں اور معاملہ چلنے دیا گیا لیکن ووٹنگ کے لیے ہونے والے اجلاس کے دن آ کر معاملے کو روک دیا۔ اگر پہلے دن بھی تحریک عدم اعتماد کو رد کیا گیا ہوتا تو تب بھی معاملہ عدالت میں ہی جاتا اور فیصلہ یہ ہی آتا کہ سپیکر کو ایسا کرنے کا اختیار نہیں۔‘
کیا ماضی میں کسی سپیکر یا ڈپٹی سپیکر نے ایسا کوئی اقدام کیا؟
سلمان اکرم راجہ کے مطابق سپیکر یا ڈپٹی سپیکر کی جانب سے ایسے اقدام کی مثال پاکستان میں تو کیا دنیا کی تاریخ میں بھی نہیں ملتی۔
’یہ اتنی بے وقوفانہ حرکت تھی کہ اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ یہ بس بے وقوفیوں کی فہرست میں ایک نمایاں ترین بے وقوفی تھی۔‘











