ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی اپنے دفتر سے نجی مارکیٹنگ کمپنی کی تشہیر: ’سوری صاحب تشہیر کے لیے کوئی اور جگہ نہیں ملی‘

قاسم سوری

،تصویر کا ذریعہTwitter/Screengrab

    • مصنف, ثنا آصف ڈار
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

ایک طرف پاکستان کا جھنڈا اور پیچھے دیوار پر لگی محمد علی جناح کی تصویر، اور ساتھ کرسی پر براجمان ہیں قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم علی سوری۔

یقیناً یہ کسی سرکاری دفتر کا کمرہ ہے اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کے اس منظر کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ وہ پاکستانی عوام سے کسی اہم موضوع پر بات کرنے لگے ہیں یا کوئی اہم بیان دینے والے ہیں۔

لیکن ہوتا اس کے بالکل برعکس ہے کیونکہ انھوں نے جو کہا وہ پاکستانی عوام یا سیاست سے متعلقہ کوئی بیان نہیں بلکہ ایک نجی کمپنی کی تشہیر سے متعلق ہے۔

جی ہاں! قومی اسملبی کے ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری نے سنیچر کے روز اپنے دفتر سے ایک ایسا بیان جاری کیا جس کے بعد سوشل میڈیا پر وہ شدید تنقید کی زد میں ہیں۔

اپنی اس ویڈیو میں دیے گئے بیان میں قاسم خان سوری نے مارکیٹنگ کی نجی کمپنی ’فئیر ڈیل‘ پرائیویٹ لمیٹڈ کو اسلام آباد اور متحدہ عرب امارات کے بعد لاہور میں اپنا نیا دفتر کھولنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا تاہم بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے اپنی اس غلطی کو تسلیم کیا ہے۔

کیا سرکاری عہدے پر فائز شخص کے لیے نجی کمپنی کی تشہیر کرنا مناسب ہے؟

قاسم سوری

،تصویر کا ذریعہFacebook/ Qasim Khan Suri

قومی اسمبلی کے سابق سپیکر اور پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما ایاز صادق کہتے ہیں کہ اگر ڈپٹی سپیکر نے اپنے دفتر میں بیٹھ کر کسی نجی کمپنی کی تشہیر یا تعریف کی ہے تو یہ غیر مناسب ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایاز صادق نے کہا ’حکومت کا کوئی دفتر سنبھالنے پر ہم پر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور ڈپٹی سپیکر کا عہدہ وزیر مملکت کے برابر کا عہدہ ہوتا ہے۔‘

ایاز صادق نے مزید کہا ’اگر وہ (قاسم سوری) اس کمپنی کے دفتر جاتے یا جہاں وہ پروجیکٹ بن رہا ہے اور وہاں جا کر ایسی بات کرتے تو اس میں کچھ غلط نہیں کیونکہ ہمارے حلقوں میں اکثر لوگ ہمیں دکانوں، سکول اور ہسپتال کے افتتاح کے لیے بلاتے ہیں اور ہم جاتے رہتے ہیں۔ اگر ہم وہاں جا کر ان کی تعریف کریں تو یہ ایک مختلف چیز ہے کیونکہ ہمیں عوامی رابطے رکھنا ہوتے ہیں اور ووٹ لینا ہوتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا ’لیکن اگر میں سپیکر، ڈپٹی سپیکر ہوں اور اپنے دفتر میں بیٹھ کر ایسی بات کرتا ہوں تو یہ مناسب نہیں کیونکہ حلقے میں جا کر یا کسی کے دفتر میں جا کر، جو آپ کے حلقے میں ہو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہں لیکن سرکاری دفتر سے ایسا کرنا ٹھیک نہیں۔‘

ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ کمپنی نے ان سے اس ویڈیو کی درخواست کی تھی۔

’میں نے غلطی سے یہ ویڈیو اپنے دفتر سے ہی ریکارڈ کر لی۔ مجھے نہیں پتا تھا کہ اتنا ردعمل آئے گا۔ میں نے ان(کمپنی) کے لیے صرف نیک خواہشات کا اظہار کیا تھا۔‘

انھوں نے مزید کہا ’مجھے اس وقت احساس نہیں ہوا کہ مجھ سے غلطی ہو گئی۔‘

واضح رہے کہ ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے اب یہ ویڈیو ہٹا دی گئی ہے لیکن سوشل میڈیا پر ابھی بھی اس پر بحث جاری ہے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل: ’اگر آپ اپنے کاروبار کو فروغ دینا چاہتے ہیں تو قاسم سوری سے رابطہ کریں‘

اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد صارفین میں سے کسی نے قاسم علی سوری کو ’سرکاری پراپڑٹی ڈیلر‘ کہا تو کسی نے یہ سوال کیا کہ کیا سرکاری عہدے پر ہونے اور پھر اپنے دفتر میں بیٹھ کر کسی نجی کمپنی کی ایسی تشہیر کی جا سکتی ہے۔

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@DRMAHREENBHUTTO

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما ڈاکٹر مہرین بھٹو نے لکھا: ’ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری قومی اسمبلی کے سپیکر ہیں یا کوئی اسٹیٹ ایجنٹ؟

انھوں نے مزید لکھا: ’آخر پبلک آفس کو کیسے یہ کاروباری مقاصد کے لیے اور دوسروں کے کاروبار کو فروغ دینے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں؟‘

پیپلز پارٹی کے سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے لکھا: ’جب ادارے رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں مصروف ہو جائیں تو پھر اداروں سے منسلک افراد کو نجی پراپرٹی ڈیلز میں مصروف ہونے پر الزام نہیں لگایا جا سکتا۔‘

صحافی مطیع اللہ جان نے قاسم سوری کی یہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’سرکاری وسائل اور اختیار کا غلط اور ناجائز استعمال۔‘

علی آفتاب نے سوالیہ انداز میں ٹویٹ کیا کہ ’ریاستی عہدے داران کو برینڈ انڈورسمنٹ کی اجازت ہوتی؟‘

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@aliaftabsaeed

گوہر خان نامی صارف نے طنز کرتے ہوئے لکھا: ’اگر آپ اپنے کاروبار کو فروغ دینا چاہتے ہیں تو قاسم سوری سے رابطہ کریں۔ ان کا ایڈریس قومی اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر کا دفتر ہے۔‘

ایک اور صارف نے لکھا: ’خدا کا خوف کریں۔ ایک سرکاری دفتر سے کسی کسی نجی اسٹیٹ ایجنسی کی حمایت۔‘

صفدر علی نے لکھا: ’سوری صاحب تشہیر کے لیے کوئی اور جگہ نہیں ملی۔‘

ایک اور صارف نے لکھا: ’ایسے لوگ جنھیں پارلیمان کے تقدس کا علم نہیں، انھیں اس ملک میں انسٹال کر دیا گیا ہے۔‘

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Saf92dar

منصور چوہان نامی صارف نے لکھا: ’پاکستان کوئی رئیل اسٹیٹ نہیں، ان تمام لوگوں کو شرم آنی چاہیے جو اپنے سرکاری عہدوں کو منافع کمانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔‘

فواد احمد نے اس کمپنی کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے لکھا: ’یہ ایک ریئل اسٹیٹ مارکیٹنگ کمپنی ہے جو علیم خان کی پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹی کی مارکیٹنگ کرتی ہے۔‘